1700 Year Old Roman Egg | Read in Urdu

سترہ سو سال پرانے مگر بدبودارترین انڈوں کی دریافت

ماہرینِ آثاریات کو کھدائی کے دوران سترہ سو سال پرانے رومی دور کے انڈے ملے ہیں مگر یہ اتنے متعفّن ہیں کہ انہیں دنیا کے قدیم ترین ’بدبو بم‘ کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔

امریکی ٹی وی فوکس نیوز کے مطابق برطانوی ماہرین کو برطانیہ میں بکھنگم شائر کے آئلیسبری نامی قصبے سے ایک باسکٹ میں سترہ سو سال قدیم انڈے ملے ہیں تاہم جب ان میں سے ایک حادثاتی طور پر ٹوٹ گیا تو اتنی شدید بدبو خارج ہوئی کہ مجبوراً انہیں دنیا کے قدیم ترین بدبو پھیلانے والے بموں کا نام دینا پڑا۔ فوکس ٹی وی نے یورپی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا کہ انڈے بکھنگم شائر میں گدلے پانی سے بھرے ایک کنویں نما گڑھے سے ملے ہیں جسے ماہرین کے مطابق کبھی ماضی میں ’خواہشوں کے کنویں‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو گا۔


’وشنگ ویل‘ یا خواہشوں کا کنواں مغرب میں ایک ایسے کنویں کو کہا جاتا ہے جس میں کچھ سکّے ڈال کر اپنی کسی خواہش کے پوری ہونے کی آرزو کی جاتی ہے۔ غالباً یورپی اقوام نے یہ تصور قدیم رومن بت پرستوں سے لیا ہے – نیرنگ (دیکھیے)


تاہم جب ماہرین نے ان انڈوں کو اس کنویں سے نکلا تو کھلی ہوا میں بکھر جانے کے بعد ان سے شدید ناگوار بو خارج ہوئی۔ غالبا ان انڈوں کو رومی دور میں تدفین کی رسومات کے مطابق اس گھڑے یا کنویں میں ڈالا گیا ہو گا۔ آثاریات سے متعلق اس پروجیکٹ کے ڈائرکٹر اسٹیورٹ فورمین کا کہا ہے کہ یہ برطانیہ میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہے مگر اس میں حیرت کی بات نہیں کیوں کہ ہزاروں سال سے پانی سے بھرے گڑھے میں بہت سے ایسی چیزیں صحیح وسالم رہ سکتی ہیں جن کا خشک ماحول میں طویل عرصے تک بچنا محال ہوتا ہے۔


ان میں سے تین انڈے ٹوٹ گئے جن سے نہایت ناگوار بو خارج ہوئی مگر خوش قسمتی سے ہم نے ان نازک ترین انڈوں میں سے ایک کام یابی سے بچا لیا – فورمین


فوکس نیوز کے مطابق ماہرین کو اس مقام سے ان انڈوں کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں سکّے، جوتے، لکڑی کے اوزار، بیلٹ کا کنڈا، گھوڑے کا ٹوٹا ہوا ساز، دریائے ٹیمز پر لکڑی سے بنے پل کے شواہد اور ’انتہائی نادر‘ قرار دی گئی ایک باسکٹ بھی ملی ہے جب کہ رومی دور کے ایک آئینے اور متعدد ہنڈیوں کے بقایاجات ان کے سوا ہیں۔


ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ’خواہشوں کے کنویں‘ کا اس دور میں بھی وہ ہی مصرف تھا جو آج باور کیا جاتا ہے۔


ماہرین کے مطابق رومی دور میں راہ گیر ایسے کنویں کے پاس سے گزرتے وقت ٹہر کر اس میں ’آبی دیوتاؤں‘ کے نام اپنی خواہشوں کے پورا ہونے کی آرزو میں نذرانے ڈالتے ہوں گے مگر انہوں نے ایسے کسی کنویں میں انڈوں کی موجودگی کو انتہائی ’پیرانارمل‘ یا انوکھا قرار دیا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قدیم رومی انڈوں کو زرخیزی اور حیاتِ نو کی علامت سمجھتے تھے اور اس تصور میں ظاہر ہے حیرت کی بات نہیں کیوں کہ ماہرین کو اس سے قبل برطانیہ میں رومی دور کے قبرستانوں سے  مرغیوں کی ہڈیاں اور انڈوں کے چھلکے ملتے رہے ہیں مگر ثابت انڈے اور وہ بھی اتنی تعداد میں پہلی بار ملے ہیں۔


مزید دل چسپ امر یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اس گڑھے میں کبھی شراب بنانے کے لیے اناج کو بھی دَلا جاتا رہا ہے۔


دریں اثناء صحیح و سالم بچ رہنے والے واحد انڈے کو اس وقت تیزابی اثرات سے پاک ٹشو میں لپیٹ کر پلاسٹک کے بکس کے اندر آکسفورڈ یونی ورسٹی کے محکمہ آثاریات میں حفاظت سے رکھا گیا ہے مگر اسے ساتھ پائے گئے دیگر نوادرات کے ساتھ جلد ہی بکھنگم شائر کاؤنٹی میوزیم منتقل کر دیا جائے گا۔ خیال رہے ماہرین نے مذکورہ مقام پر 2007ء سے لے کر 2016ء کے درمیانی عرصے میں تحقیقی طور پر کھدائی کی تھی اور تب سے ماہرین یہاں سے دریافت ہونے والی چیزوں کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔