18 Thousand Years Old Creature Read in Urdu

اٹھارہ ہزار سال قدیم ’مخلوق‘ – کتّا، بھیڑیا یا غیرارضی؟

 دنیا کے پُراسرار اور سردترین مقام سائبریا سے ایک نامعلوم مخلوق ملی ہے جس نے ماہرین کو شدید حیرت میں ڈال دیا ہے اور وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کتّا ہے، بھیڑیا یا پھر کوئی ’غیرارضی مخلوق‘ – تاہم فی الحال مغربی میڈیا اسے ’پلّے‘ کے نام سے پکار رہا ہے۔

جی ہاں دنیا کے سرد ترین علاقوں میں سے ایک یعنی سائبیریا سے قریب اٹھارہ  ہزار سال قدیم ایک ’پِلّا‘ دریافت ہوا ہے جس کے متعلق محققین جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بھیڑیا ہے یا کتا یا پھر اور ہی کچھ؟ ماہرین کے مطابق اس ’مخلوق‘  کی موت تقریباً دو ماہ کی عمر میں ہوئی تھی اور یہ روس کے برفانی میدانوں میں حیرت انگیز طور پر صدیوں سے اس طرح محفوظ رہا ہے کہ اس کی بالوں سے بھری جلد، ناک اور دانت تک ہنوز محفوظ ہیں۔


اصل پُراسرارترین بات یہ ہے کہ سائنس دانوں نے اس کے ڈی این اے کا موازنہ تمام دیگر معلوم جانوروں سے کیا ہے مگر وہ تاحال اس کی نوع کا پتا لگانے میں ناکام رہے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس نے سازشی نظریات پر یقین رکھنے والے حلقوں میں اس کے امکانی غیرارضی ماخذ پر ایک زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔


 فی الوقت مین اسٹریم سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ’جانور‘ بھیڑیوں اور جدید کتوں کے درمیان کی مبینہ ’ارتقائی‘ نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی تکنیک کے ذریعے سائنس دانوں نے تصدیق کر لی ہے کہ مرنے کے وقت اس کی عمر کیا تھی اور اس کو منجمد ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے جب کہ اس کے جینیاتی تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک نر تھا۔

سوئیڈن کے سینٹر فار پیلیوجینیٹکس میں محقق ڈیو سٹینٹن نے سی این این سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا  کہ ڈی این اے سیکوئنسنگ میں ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانور کتوں اور بھیڑیوں کے مشترکہ جد کی آبادی سے تعلق رکھتا ہو۔

انھوں نے کہا ’ہمیں اس سے پہلے ہی بہت ڈیٹا حاصل ہو چکا ہے اور اتنے زیادہ ڈیٹا کے ساتھ امید ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ کتا ہے یا بھیڑیا۔‘

تاہم سینٹر کے ایک اور محقق لوڈیلن نے ایک سوال ٹویٹ کیا کہ کیا یہ جانور ایک بھیڑیے کا پِلّا ہے یا ’ممکنہ طور پر آج تک دریافت ہونے والا قدیم ترین کتا؟‘

چناں چہ سائنس دان اس کی ڈی این اے سیکوئنسنگ جاری رکھیں گے اور ان کا ماننا ہے کہ نتائج کتوں کے ’ارتقاء‘ کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔


محققین نے اس نامعلوم مخلوق کو ’ڈوگور‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے معنی روس میں بولی جانے والی یاکوٹ زبان میں ’دوست‘ کے ہیں مگر ساتھ ہی یہ ’ڈوگ آر وولف؟‘ (کتا یا بھیڑیا؟) سوال کا ابتدائی حصہ بھی ہے۔


خیال رہے کہ جدید کتوں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ بھیڑیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس بات پر بحث کی جاتی رہی ہے کہ کتوں کو انسان نے سُدھا کر اپنے کام میں لانا کب شروع کیا۔

سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے بقول انسانوں نے یہ عمل 20 سے 40 ہزار سال پہلے کیا ہو گا۔