300 Million Mechanical Part Found In Russian Coal In Urdu

روس میں تیس کروڑ سال قدیم ’پرزہ‘ دریافت

روس میں کوئلے کی کان میں خام کوئلے سے ایک ایسا ’پرزہ‘ ملا ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ’پرزہ‘ تیس کروڑ سال قدیم ہے۔ جی ہاں تیس کروڑ سال پہلے زمین پر ڈائنوسارز کا وجود تک نہیں تھا اور ماہرین کے مطابق خشکی کے اولین جانوروں کو ’ارتقاء‘ کے عمل کا آغاز کرنا تھا۔ اس صورت میں اس گراری کی جو کم از کم تیس کروڑ سال قدیم ہے کیا وضاحت کی جا سکتی ہے؟ کیا زمین پر کئی ارب سال پہلے متعدد جدید ترین تہذیبیں گزر کر تباہ و برباد ہو چکی ہیں یا یہ گراری کسی انتہائی قدیم غیر ارضی مخلوق کے خلائی جہاز کا کوئی ٹوٹا ہوا حصہ ہے؟ کومسومولاسکیا پراڈا کے مطابق چین اور شمالی کوریا کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع ٹاؤن ولادی ووسٹوک کے رہائشی ڈیمٹری کو کوئلے کے اس ٹکڑے سے ایک عجیب سے چیز ملی جو وہ اپنے گھر کے آتش دان میں جلانے کے لیے لائے تھے۔ یہ عجیب سے شے دیکھنے میں ایک پتلی سے راڈ کی طرح تھی۔ ڈیمٹری کو اس شے کی کوئلے میں موجودگی نے حیرت میں ڈال دیا اور بالآخر انہوں نے تجسس سے مجبور ہر کر قریبی ساحلی علاقے میں ویلری برائیر نامی ایک ماہر حیاتیات سے رجوع کیا۔ ابتدائی تجربات اور تحقیق کے بعد محققین نے اس شے کو مصنوعی طور پر تراشیدہ دندانے دار سلائی قرار دیا۔

روسی جریدے کومسومولاسکیا پراڈا کے مطابق یہ ایک اس طرح کا پرزہ تھا جو آج کل خرد بینوں اور دیگر برقی آلات میں استعمال ہوتے ہیں۔ روس کی بین الاقوامی براڈکاسٹنگ سروس وائس آف رشیا کے مطابق یہ پرزہ خاکاسس نامی کان کنی کے علاقے سے ملا ہے جہاں موجود کوئلے کے ذخائر کم از کم تیس کروڑ سال قدیم ہیں۔ چناں چہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انوکھا پرزہ بھی کم از اتنا ہی پرانا ہے۔ وائس آف رشیا کے مطابق یہ پرزہ جن دھاتوں سے ’بنایا‘ گیا ہے وہ نرم اور ہلکی ہیں۔ اس کی تیاری میں اٹھانوے فی صد الومینیئم اور دو فی صد میگنیزیئم استعمال ہوا ہے۔ ماہرین یہ راز سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس پرزے کی شکل جدید گراری کی طرح کیوں ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ تیس کروڑ سال پہلے اسے اس دنیا میں تیار کیا جا سکے کیوں کہ باقاعدہ چھ دندانوں اور مقررہ شکل کی صورت میں ایسے کسی چیز کا قدرتی طور پر وجود میں آنا ممکن نہیں اور نیچر میں آج تک ایسا نہیں دیکھا گیا۔ مگر اس تجزیے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پرزہ کسی غیر ارضی مخلوق کا تیار کردہ ہے کیوں کہ اس وقت دنیا میں کم از کم انسانوں کا کوئی وجود نہیں تھا جب کہ اس دور میں ترقی یافتہ انسانی تہذیب کے تصور سے ہی دور جدید کے دانش وروں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے کیوں کہ ایسا کوئی بھی ثبوت کثیر مذہبی تعلیمات کے حق میں ہے۔ چناں چہ ایک نام نہاد ماہر ارضیات شیرون ہل نے بغیر کسی تجزیے اور مشاہدے کے دنیا کو ’مشورہ‘ دیا ہے کہ چوں کہ ان کی رائے میں یہ تمام کہانی صرف ایک لطیفہ ہے اس لیے اس پر مزید تحقیق یا تجربات کی کوئی ضرورت نہیں۔ غالباً مذکورہ ماہر ارضیات کا کبوتروں کے اس قبیل سے تعلق ہے جو بلی کو دیکھ کر آنکھ موندنے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔ نظریہ ارتقاء کے ماننے والوں کا المیہ یہ ہی ہے کہ وہ جب چاہیں خرد کا نام جنوں اور جنوں کا نام خرد رکھ سکتے ہیں کیوں کہ آج تک اس بت کی جسے ارتقاء کا نام دے کر جدید سائنس کے مذہب میں پوجا کی جاتی ہے نہ سر ملا ہے نہ پیر مگر یہ بھر بھی ’قانونِ فطرت‘ ہے۔ تاہم وائس آف رشیا کے مطابق روسی سائنس دان اس پرزے پر تمام تر تحقیق اور تجربات کے بعد ہی حتمی رائے دیں گے۔


اس دریافت کو سات سال گزرنے کے باوجود روسی حکومت یا دیگر ماہرین نے اس ’پرزے‘ پر کوئی رائے دینا تو درکنار ایک نوعیت کی پراسرار چپ سادھ رکھی ہے – ادرہ