58K Online Petitioners Ask France To Take Over Lebanon For 10 Years

’فرانس لبنان کو کنٹرول کرے‘، ناامید عوام کی پٹیشن

تقریباﹰ 58 ہزار افراد نے ایک ایسی آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں فرانس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اگلے دس برسوں کے لیے لبنان کا کنٹرول سنبھال لے۔

اطلاعات کے مطابق ویب سائٹ ‘آواز‘ پر لبنانی شہریوں کی جانب سے اس ہفتے منگل کو بیروت میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد یہ آن لائن عرضی ڈالی گئی تھی۔ بیروت میں رونما ہوئے اس سانحہ کے نتیجے میں تقریباﹰ 140  افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس پٹیشن کے مطابق، ” لبنانی حکام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کو سکیورٹی فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں، ایک ناکام نظام، مالی بدعنوانیوں، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے باعث لبنان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔‘‘

پٹیشن میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے، ” لبنان کو فرانس کے زیر کنٹرول کر دیا جانا چاہیے تاکہ ایک شفاف اور پائیدار نظام حکومت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

 لبنانی عوام ناامیدی کا شکار

ڈی ڈبلیو عربی کی مدیر دیما تارہینی کا کہنا ہے کہ یہ پٹیشن سوشل میڈیا پر کافی زیادہ شیئر کی جارہی ہے،” لبنانی عوام بہت زیادہ ناامید ہو چکے ہیں، جہاں پہلے ہی کمی تھی وہاں سے مزید چھین لیا گیا ہے، گھر تباہ ہوگئے، وہ اپنے بچے بچا نہیں پائے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔‘‘

 واضح رہے کہ  پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک مینڈیٹ کے تحت مشرق وسطیٰ کا یہ ملک  1920ء سے 1945ء تک فرانس کے زیر انتظام رہا تھا۔

 ماکروں کا دورہء بیروت

فرانس کے صدر ماکروں وہ پہلے غیر ملکی رہنما ہیں، جنہوں نے بیروت دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کیا ہے۔ ماکروں نے اس دورے کے دوران لبنانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ لبنانی قیادت سے کہیں گے کہ وہ ایک نئے سیاسی منظر نامے کی طرف بڑھیں۔

ماکروں کی جانب سے بیروت کی سڑکوں پر دورے کے دوران لبنان کی کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔ ایسے میں غصے اور غم سے متاثرہ لبنانی عوام نے ماکروں سے مطالبہ کیا کہ فرانس کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد کو ملکی قیادت کے بجائے غیر سرکاری تنظیموں کو دیا جائے۔

لبنان کی حکومت نے کہا ہے کہ اس دھماکے کی تفتیش کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جائے گی تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کسی تفتیش پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ پر زور انداز میں پوری سیاسی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادھر فرانس میں استغاثہ نے بھی اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق بیروت دھماکے میں ایک فرانسیسی شہری ہلاک اور اکیس شہری زخمی ہوئے تھے۔

بیروت دھماکے اور کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے اس ملک کی معیشت کافی سست روی کا شکار تھی اور عوام حکومت سے  غیر مطمئن تھے۔ لبنان کی کرنسی کی حالیہ گراوٹ کے باعث لبنان کے کئی شہریوں کو مالی طور ہر نقصان پہنچا۔