A Detailed Urdu Report on Mysterious Ghost Lights of Japan

کیا آپ جاپان کی آسیبی روشنیوں کے راز جانتے ہیں؟

پُراسرار اور ناقابلِ وضاحت روشنیوں کا دیکھا جانا تمام دنیا میں ایک عام سی بات ہے مگر کوئی بھی ان کی حقیقت سے واقف نہیں جب کہ یہ ایسا معمہ ہے جہاں آج بھی سائنس کے پر جلنے لگتے ہیں۔

ان روشنیوں کو عام زبان میں ’اسپوک لائٹس‘ یا ’آسیبی روشنیاں‘ کہا جاتا ہے ۔

دنیا بھر میں اسپوک لائٹس کے بارے میں طرح طرح کے افسانے، قیاسات، داستانیں اور سازشی نظریات مشہور ہیں۔

جاپان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بہت بڑے پیمانے پر ان آسیبی روشنیوں کو دیکھا جاتا ہے جن سے طرح طرح کی لوک داستانیں وابستہ ہیں۔

مشرقِ بعید کے اس ملک میں ان پُراسرار روشنیوں کی سب سے عام قسم کو مقامی زبان میں ’ہیٹو ڈاما‘ کہا جاتا ہے جس کے معنی ’انسانی روح‘ کے ہیں۔

جاپانی روایات کے مطابق یہ روشنیاں دراصل فوت شدہ انسانوں کی روحیں ہیں جو رات کے وقت آسمان پر جگنوؤں کی طرح جھلملاتی ہیں کیوں کہ موت نے انہیں ان کے جسموں سے جدا کر دیا ہے۔

جاپان بھر میں ان روشنیوں کے الگ الگ نام ہیں جو عموماً نیلے، اورنج اور سرخ رنگ میں دکھائی دیتی ہیں جب کہ کبھی کبھار یہ اپنے پیچھے کسی دم دار ستارے کی طرح ایک دم بناتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔


جاپانیوں کے مطابق یہ روشنیاں زیادہ تر بدھ عبادت گاہوں، نومولود بچوں یا پھر حاملہ لڑکیوں کے اردگرد منڈلاتی ہیں جب کہ برسات کی سرد راتوں میں ان کی ’سرگرمیوں‘ کی شدت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔


ہیٹوڈاما صرف روایتی کہانیوں ہی تک محدود نہیں بلکہ جاپان کے پیرانارمل حلقوں میں ان پر کھل کر بات کی جاتی ہے۔

بعض اوقات کچھ خاص روشنیوں کے نمودار ہونے سے پہلے ’جان جان‘ جیسی آوازیں بھی سنائی دینے کے دعوے موجود ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ان محبت کرنے والوں کی روحیں ہیں جنہوں نے جدائی کے خوف سے خودکشی کر لی۔ پریشان نہ ہوں اس ’جان جان‘ کا اردو کے لفظ ‘جان‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خواہ یہ روشنیاں اپنی اصلیت میں کچھ بھی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ سائنس آج تک ان کی کوئی بھی معقول وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہے۔

بسا اوقات یہ روشنیاں نہایت مسحور کن زرد شعلوں کی شکل میں بھی نمودار ہوتی دیکھی گئی ہیں۔

یہ روشنیاں موسمِ گرما میں زیادہ نظر آتی ہیں جن کی تعداد ایک وقت میں ہزاروں تک محسوس ہوتی ہے۔

یہ روشنیاں اپنی فطرت میں انسانوں کے لیے نقصان دہ باور کی جاتی ہیں کیوں کہ مسافروں کو راہ سے بھٹکانا ان کا محبوب مشغلہ مانا گیا ہے، نیز اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ ان کے قریب جانے سے بخار یا اسی طرح کے دوسرے مرض لاحق ہو سکتے ہیں۔

جاپان کے کیوشو نامی جزیرے پر ان پُراسرار روشنیوں کو سمندر سے فضاء میں لاکھوں کی تعداد میں بلند ہوتے دیکھا گیا ہے۔ اس جزیرے پر انہیں ’نامعلوم آگ‘ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

جاپانی رویات کے مطابق اگر کوئی ان روشنیوں کا تعاقب کرتے تو یہ اس سے دور ہوتی جاتی ہیں جب کہ عمررسیدہ جاپانی انہیں برا شگون سمجھتے ہیں چناں چہ انہیں دیکھے جانے کی صورت میں ماہی گیر اس رات مچھلیاں پکڑنے سمندر میں نہیں اترتے۔

لاکھوں سالوں سے جاپان کی خلیج شمابارا میں یہ پُراسرار مظہر سال میں دوبار رونما ہوتا ہے جس میں آدھی رات کے وقت ایک پُراسرار روشنی کا گولہ سمندر کی تہہ سے نکل کر ہوا میں قریب 60 فٹ تک بلند ہوتا ہے۔


صدیوں سے سیکڑوں لوگوں نے بشمول ’سائنس دانوں‘ کے اس گولے کا راز جاننے کی کوشش کی ہے مگر ہنوز ان کے ہاتھ سوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں لگا تاہم آج کل کے کچھ نام نہاد عقلیت پسند اس آنکھوں دیکھے گولے کو کسی قسم کا بصری فریب کہہ کر جان چھڑاتے نظر آرہے ہیں جو بقول ان کے کسی نوعیت کے ماحولیاتی اثر کے تحت رونما ہوتا ہے مگر یہ ماحولیاتی اثر آخر ہے کیا فی الحال اس بات کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔


کہا جاتا ہے بعض اوقات یہ روشنیاں اتنی خطرناک ہوتی ہے کہ گھروں میں داخل ہو کر وہاں آگ لگا دیتی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مقامی روایات کے مطابق اس آگ کو کبھی بھی پانی سے نہیں بجھایا جا سکتا تاہم اگر آپ اپنے سر پر جوتے رکھ لیں تو یہ آگ فوراً بجھ جاتی ہے۔

کیا یہ روشنیاں اپنی حقیت میں کچھ ہیں یا نہیں یا پھر ہم صرف لوک داستانوں کی باتیں کر رہے ہیں؟

اگر یہ روشنیاں حقیقت ہیں تو پھر کیا ہیں؟

اس سوال کا جواب تو شاید مستقبلِ قریب میں نا ملے مگر سرزمینِ جاپان پر جہاں سورج طلوع ہوتا ہے صدیوں تک یوں ہی ان پُراسرارترین روشنیوں کو آسمان پر جھلملاتے دیکھا جاتا رہے گا جس طرح زمانۂ قدیم سے تاحال ان روشنیوں کو جاپان کے جنگلات میں دیکھا جاتا رہا ہے۔