A Horror Story about Banshee In Urdu

پچھل پیری – دیوار کے پیچھے کون تھا؟

میرے دادا نے مجھ سے کہا۔ وہ اپنی جھولنے والی کرسی پر بیٹھے اپنے ٹخنے کو دبا رہے تھے۔ ان کی جینز پر مٹی لگی ہوئی تھی اور ان کے اس ٹخنہ میں ہمیشہ درد رہتا تھا۔ ’دیوار کی پیچھے فلوریڈا کا یہ علاقہ بالکل محفوظ نہیں ہے اور خاص طور پر رات کے وقت‘ انہوں نے مزید کہا۔ ’اوکے‘ میں نے جواب میں کہا۔ میری عمر اس وقت نو سال تھی مگر میں کبھی بھی اپنے دادا کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی۔ وہ مجھے ہمیشہ مختلف قسم کی ’خطرناک‘ چیزوں کے بارے میں خبردار کرتے رہتے تھے۔ تالاب کے اس کنارے پر نہیں تیرنا کیوں کہ وہ بہت گہرا ہے اور تم وہاں ڈوب جائو گی۔ ہمیشہ تیز دوڑنے سے پرہیز کیا کروں کیوں کہ اگر پیر پھسل گیا تو گرنے سے تمہاری گردن ٹوٹ جائے گی اور اسی طرح کی بے شمار دیگر وارننگز مجھے ملتی رہتی تھیں۔ چناں جب ایک رات میں نے گھر کی عقبی دیوار کے پیچھے سے ایک آواز سنی تو میں بالکل بھی خوف زدہ نہیں تھی۔ میں گھر کے پچھلے صحن میں گھاس پر بیٹھی اکیلی کھیل رہی تھی جہاں چاروں طرف موسمی کے پیڑ لگے ہوئے تھے کہ یکا یک میرے کانوں میں وہ آوازآئی۔ وہ آواز ایک عورت کی تھی جس میں نرمی اور دھیمے پن کا امتزاج گندھا ہوا تھا مگر وہ صحن کی پچھلی دیوار سے ٹکرا کر ایک نوعیت کی بازگشت پیدا کر رہی تھی۔ ’ہیلو؟ میں نے اپنی متجسسانہ فطرت سے مجبور ہو کر اس آواز کو مخاطب کیا مگر کوئی جواب نہ ملنے پر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں دوڑتی ہوئی دیوار کے پاس چلی گئی مگر میں نے اسے پھلانگنے کی جرات نہیں کی۔ اگر چہ مجھے اپنے دادا کی ’وارننگ‘ پر ذرا بھی یقین نہیں تھا مگر مجھے ان کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا۔ پھر بھی میرے نو سالہ ذہن نے سوچا کہ صرف چھپ کر ایک نظر دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ چناں چہ میں پتھر کے بنے پرانے فوارے پر چڑھی۔ دیوار کی طرف ہاتھ بڑھائے اور خود کو ہاتھوں کے بل تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور پھر نیچے جھک کر دیکھا ۔ ۔ ۔ مگر نیچے شاہ بلوط اور ہسپانوی کائی کی الجھی ہوئی شاخوں کے بیچ صرف گہری تاریکی تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں کو بھینچ کو نیچے مٹی پر بکھرے دھندھلکوں میں کسی وجود کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ہو سکتا ہے وہ آواز میرا وہم تھی ۔ ۔ ۔ مگر اچانک درختوں کے درمیان سے ایک آواز ابھری ’ہیلو ۔ ۔ ۔ ‘ میں نے بھی جواب میں ہیلو کہا اور پھر شاخوں میں ایک سرسراہٹ اور نرم قدموں کی آہٹ سنی اور اس آواز نے کہا ’کون ہے؟ ’سوزن ۔ ۔ ۔‘ میں نے جواب میں کہا۔ دھندھلکوں نے اپنی جگہ تبدیل کی اور اس آواز نے مجھ سے کہا ’میں الزبتھ ہوں۔ کیا تم میری مدد کرو گی؟ میں نے تاریکی میں دیکھنے کی کوشش کی مگر میری آنکھوں کچھ نہیں دیکھ سکیں۔ ’ہاں میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں‘ میں نے کہا۔ ’میں پیاسی ہوں‘ اس نے کہا۔ یک لخت ہوائیں تیز ہو کر پیڑوں کی شاخوں کو ہلانے لگیں اور نیچے زمین پر موجود سائے تھرکنے لگے۔ ’میں بہت ہی پیاسی ہوں ۔ ۔ ۔‘ ’میں تمہارے لیے پانی لے کر آتی ہوں‘ میں نے سوچے سمجھے بغیر جواب دیا۔ ’سوزن میں تمہاری ممنون ہوں‘ اس نے جواب دیا۔ میں فوارے سے نیچے کود کر گھر کے اندر بھاگی اور فریج سے پانی کی ایک سرد بوتل نکالی۔ دادا نے میری اس حرکت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ ٹی وی پر دوسری جنگ عظیم پر بنی ایک نہایت بور مووی دیکھ رہے تھے مگر ابھی بھی وہ اپنے ہاتھ سے اپنے ٹخنے کو مسل رہے تھے۔ میں دوبارہ فوارے کی دیوار پر چڑھی اور ذرا بلند آواز میں کہا ’میں تمہارے لیے پانی لے آئی ہوں۔ کیا میں بوتل نیچے پھینک دوں؟ ’نہیں نہیں یہ میرے سر پر گر سکتی ہے۔ تم ایسا کرو دیوار سے اتر کر نیچے آ جائو اور بوتل مجھے پکڑا دو۔ ۔ ۔ ‘ میری سانس رک گئی۔ فلوریڈا کی گرم ہوا کا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور میرے نتھنوں میں ایک غلیظ سی بو آئی۔ ۔ ۔ میٹھی اور کھٹی۔ چند سال پہلے ہمارا فریج خراب ہونے سے اس میں رکھے گوشت کے سڑنے سے اسی طرح کی بد بو اٹھ کر سارے گھر میں پھیل گئی تھی۔ ’مجھے اس دیوار کو پار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘ میں نے دھیرے سے جواب دیا ۔ ۔ ۔ مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ ’ہیلو‘ میں نے پھر آواز دی۔ ’پلیز میں بہت پیاسی ہوں‘ اس نے دوبارہ کہا۔ میں نے پتھر سے بنی دیوار کو بغور دیکھتے ہوئے سوچا اگر میں تھوڑا سا اوپر کو اٹھ جائوں تو دوسری طرف ذرا سا جھک کر اسے پانی کی بوتل تھما سکتی ہوں۔ چناں چہ میں نے اچھل کر اپنی ٹانگ دیوار کے دوسری طرف لٹکائی اور پھر دیوار پر گھوڑے کی طرح بیٹھ گئی۔ پھر میں آہستہ سے دوسری طرف جھکی اور گھنی شاخوں کے بیچ اپنا ہاتھ نیچے کیا جس سے میں نے بوتل پکڑی ہوئی تھی مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ’ہیلو۔‘ میں نے پھر پکارا مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ ۔ ۔ نیچے کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں ایک بار اور ہیلو کہہ کر پکارتی یک لخت کسی نے میرا ٹخنہ پکڑ کر مجھے بری طرح نیچے کھینچنے کی کوشش کی اور ہرطرف وہ ہی مکروہ بد بو اور زیادہ پھیل گئی۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے ٹخنے کو لوہے کے دہکتے ہوئے زنبور میں جکڑ لیا ہے مگر میں نے پوری طاقت سے اپنی ٹانگ کو اوپر کھینچا اور اس دوران پانی کی بوتل میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری کیوں کہ میں دونوں ہاتھوں سے دیوار کو پکڑنا چاہ رہی تھی۔ اچانک چٹ چٹ ک آواز سنائی دی۔ یہ آواز جھینگر کی طرح تھی اور نیچے جھاڑیوں میں سے آ رہی تھی۔ اسی اثنا ٔ میں پیڑوں کی شاخوں کے درمیان سے گہری سیاہ اور بہت لمبی لمبی انگلیاں نمو دار ہوئیں جو سانپ کی طرح تھرکتی میری جانب آ رہی تھیں۔ میں بری طرح چلائی اور جبلی طور پر اپنی جان بچانے کے لیے دیوار کو دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیا مگر میری انگلیاں دیوار سے پھسلی جا رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ’سوزن ۔ ۔ ۔ ‘ میں نے دادا کی آواز سنی اور ان کے کھردرے مگر مضبوط ہاتھوں نے مجھے شانوں سے پکڑ کر ایک ہی جھٹکے میں دیوار سے نیچے صحن میں گھسیٹ لیا۔ ’میں نے تم سے کیا کہا تھا؟ دادا غصے میں بری طرح چلائے۔ ’میں نے تمہیں دیوار کے اس طرف جانے سے منع کیا تھا مگر تم نے میری بات کیوں جھٹلائی؟ دادا بری طرح مجھ پر برس پڑے۔ ’دادا دیوار کے اس طرف ایک عورت تھی اور وہ کہہ رہی تھی کہ ۔ ۔ ۔ ‘میں نے سسکیوں کے ساتھ ہکلاتے ہوئے کہنے کی کوشش کی۔ مگر دادا نے میری بات پوری نہیں ہونے دی۔ وہ مجھے گھر کے اندر لے گئے اور صوفے پر بٹھا کر کہا ’سوزن تم اس طرف سے کچھ بھی سنو یا خیال کرو کہ تم نے کچھ سنا ہے مگر کبھی بھی اس پار جانے کی حماقت نہیں کرنا۔‘ انہوں نے میری ٹانگ اٹھا کر میز پر رکھی اور میں نے دیکھا کہ میرے ٹخنے پر چار لمبی انگلیوں اور ایک انگوٹھے کا سرخ جلن آمیز نشان ثبت تھا۔ انگلیاں اتنی لمبی تھی کہ وہ سانپ کی طرح میری پوری پنڈلی کے گرد لپٹی ہوئی تھیں بلکہ ان کی طوالت شاید اس سے بھی زیادہ تھی۔ ’دادا وہ کون تھی؟ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اس کے بجائے انہوں نے اپنے ٹخنے پر سے پینٹ اونچی کر دی جہاں میرے ٹخنے ہی کی طرح کسی پرانے زخم کا سفید نشان ثبت تھا اور ایسی ہی لمبی لمبی انگلیوں کے نشانات ان کی پنڈلی کے گرد بنے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ 


امریکی ریاست فلوریڈا کے جنگلات میں بنشی نامی اس افسانوی مخلوق کی کہانیاں بہت عام ہیں جنہیں ہم اپنی زبان میں پچھل پیری یا چڑیل کہہ سکتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دے گئے لنک پر کلک کریں


 

ختم شد