A lovely Western Horror Story Read in Urdu

میرا ٹیڈی بیئر ٹیڈی بیئر ہی تھا یا پھر کوئی اور مخلوق؟

 میرے بچپن میں میرا بھالو آرچی ہر جگہ میرے ساتھ رہتا تھا۔ وہ ایک عام سا بھالو تھا جس کے اندر روئی بھری ہوئی تھی۔ دراصل اس کھلونے کا رنگ سرمئی تھا اور یہ بھالو نہیں بلکہ ایک کتا تھا جسے نہ جانے کیوں میں بھالو کہتی تھی۔ میں نے اس کا نام آرچی رکھا ہوا تھا۔ ہم دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے۔ ساتھ سوتے تھے اور ساتھ کھیلتے تھے اور حد تو یہ ہے کہ میں اسے اپنے ساتھ باتھ روم بھی لے جاتی تھی۔ اسی طرح ناشتے کی میز پر وہ میرے برابر میں بیٹھتا تھا اور میرے بیگ میں میرے ساتھ اسکول بھی جاتا تھا۔ آرچی کی ایک آنکھ نہیں تھی مگر وہ بہت صاف ستھرا تھا۔ میرے لیے محبت کا ایک استعارہ۔ مگر ایک روز آرچی گم ہو گیا۔ ۔ ۔ مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کیسے ہوا کیوں کہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتا تھا۔ وہ رات کو میرے ساتھ بستر میں سویا تھا مگر جب صبح میں اٹھی تو آرچی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ میں نے اسے ہر ممکن جگہ پر ڈھونڈا مگر وہ مجھے نہیں ملا۔ میرے دکھ کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ میری ما اور پا نے مجھے بہلانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر میں پہروں روتی رہی یہاں تک کہ میری آنکھیں سوج کر سرخ ہو گئیں۔ میرا خیال ہے میں اس وقت روتے روتے سو گئی تھی۔ میری ما اور پا نے میرے ساتھ مل کر گھر کا کونا کونا چھان مارا مگر آرچی کہیں نہیں تھا۔ ما اور پا بھی میری طرح شدید حیران تھے اور ہماری سمجھ میں یہ ہی آیا کہ یقیناً اسے ہمارا پالتو بلا کہیں لے جا کر پھینک آیا ہے۔ آج سوچنے پر یہ ایک نہایت ہی بچکانہ سی وضاحت لگتی ہے۔ میرا بلا سنامون میرے موزے ضرور گھسیٹ لے جاتا تھا مگر میرے کھلونوں کو اس نے کبھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ دوسرے آرچی اتنا موٹا تھا کہ سنامون کبھی اسے اپنے منہ میں نہیں پکڑ سکتا تھا۔ مگر ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسری وضاحت نہیں تھی۔ آرچی گویا ہوائوں میں گم ہو گیا تھا۔ ہم نے اسے گھر سے باہر بھی تلاش کیا اور پڑوسیوں سے بھی پوچھا مگر اس کا کچھ سراغ نہیں مل سکا اور مجھے زندگی کی اس تلخ حقیقت کو قبول کرنا ہی پڑا کہ آرچی ہمیشہ کے لیے جا چکا ہے۔ اس سے پہلے بھی میرے کچھ کھلونے گم ہوئے تھے مگر میں آرچی کو کبھی نہ بھلا سکی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ عجیب طرح سے گم ہوا تھا۔ میرے پا نے مجھے اسی طرح کا ایک اور روئی کا کتا لا کر دیا مگر میرے لیے وہ آرچی کا متبادل نہیں تھا۔ وہ کبھی میرے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔ وقت گزرتا گیا اور اب ہم کبھی کبھار ہی آرچی کا تذکرہ کرتے تھے۔ میں بڑی ہو کر کالج چلی گئی اور پھر جاب حاصل کرنے کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر منتقل ہو گئی۔ ہمیں بچوں سے دل چسپی نہیں تھی اس لیے ہم نے کتے پالنے کا فیصلہ کیا۔ ہم دونوں کو جانوروں سے لگائو تھا اور خاص طور پر کتوں سے۔ اس سلسلے میں ہم بے گھر کتوں کے ایک ادارے میں گئے جہاں ہمیں ایک کتا پسند آ گیا۔ مگر جب میں اس کے پنجرے کے پاس گئی تو میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ پنجرے کے اندر تین خوب صورت کتے تھے جو مجھے دیکھ کر اپنی دمیں ہلا رہے تھے مگر ان میں سے ایک پر میرا دل آ گیا۔ وہ ایک بھاری بھرکم سائبیرین ڈاگ تھا۔ اس کا رنگ مخصوص سرمئی اور سفید تھا جب کہ اس کی آنکھ گہری نیلی تھی ۔ ۔ ۔ اس کی صرف ایک آنکھ تھی۔ اسے دیکھ کر ایسا لگا جیسے آرچی زندہ ہو گیا ہو۔ ہم اسے لے کر گھر لوٹ گئے۔ میرے شوہر کو آرچی کی کہانی پتہ تھی اس لیے اس نے اس کا نام آرچی تجویز کیا۔ وہ ایک بہت نفیس کتا ثابت ہوا۔ اسے اگر چہ ہمارے ساتھ بستر پر سونے کی اجازت نہیں تھی مگر ہم نے اس کے لیے اپنے کمرے میں ایک اور بڑا بیڈ ڈال دیا تھا جس پر وہ کمبل تلے گھنٹوں پڑا رہتا تھا۔ آرچی کو پا کر ایسا لگتا تھا جیسے ہماری فیملی مکمل ہو گئی ہو۔ ہم مزید پالتو جانور رکھنا چاہتے تھے مگر پہلے ہم آرچی کو پال کر دیکھ رہے تھے کہ ہمیں یہ کام کیسا لگتا ہے۔ اس دوران ہماری زندگی آرچی کے ساتھ اچھی بھلی گزر رہی تھی مگر ہمارے ایک پڑوسی نے نہ جانے کیوں اس کتے کے ساتھ بیر پال لیا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کیوں۔ کیوں کہ آرچی صرف ڈاک کی آمد اور پٹاخوں کی آواز پر ہی بھونکتا تھا۔ وہ کبھی کسی پڑوسی کے باغ میں جا کر گندگی نہیں کرتا تھا اور زیادہ تر خاموش رہا کرتا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں ہمارے پڑوسی سیموئل کوپر کو اس سے نفرت کیوں ہو گئی۔ وہ ہم سے کہا کرتا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ اس کتے کو زندگی کے آزار سے نجات دلا دیں۔ کوپر کے خیال میں ایک کانے کتے کو دنیا میں جینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ فطری طور پر ہمارے اور کوپر کے درمیان اس بات پر کئی بار تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا مگر ہم نے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی کیوں کہ محلے میں ایک نہ ایک ’سنکی‘ ہر جگہ ہوتا ہی ہے۔ مگر نومبر کے وسط میں سب کچھ بدل گیا۔ ایک دن ہمیں اپنے صحن میں ایک مردہ بلی ملی جو ایک نزدیکی ہم سائے کے ہاں پلی ہوئی تھی۔ جب اس کا مالک اسے لے کر جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو انکشاف ہوا کہ بلی کو زہر دیا گیا ہے۔ چوں کہ اس ہم سائے کو ہماری جانوروں سے محبت کا علم تھا اس لیے سارا شبہ کوپر پر گیا۔ البتہ ہم اس وقت اس بات کو ثابت نہیں کر سکے؛ مگر ہمیں اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ اسی کمینے کی حرکت ہے جب کہ کوپر کی شعلہ برساتی نگاہوں سے ہمیں یہ بھی اندازہ تھا کہ وہ آرچی کو بھی ہلاک کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اور کچھ مہینوں بعد وہ اپنی اس کوشش میں کام یاب بھی ہو گیا۔ چوں کہ ہم نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا تھا اس لیے ایک دن اس نے موقع پا کر ہمارے صحن میں مرغی کے گوشت کا ایک ٹکڑا پھینک دیا جس کے اندر زہر کے کپسول ٹھنسے ہوئے تھے۔ آرچی نے اسے کھا لیا اور جانوروں کے ڈاکٹر کو اسے موت کا ٹیکا لگا کر جاں کنی کی اذیت سے نجات دلانی پڑی۔ اس بار بھی ہم ثابت نہیں کر سکے کہ یہ کوپر کی حرکت تھی مگر ہمارا دکھ سے برا حال تھا اور خاص طور پر میرا کیوں کہ میں نے آرچی کو دو مرتبہ کھونے کا صدمہ سہا تھا اور اس بار آرچی ایک جیتا جاگتا وجود تھا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد جب میرا شوہر باغ بانی کر رہا تھا تو کوپر یکایک گرجتا برستا ہمارے باغیچے میں داخل ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارا ’نیا کتا‘ ساری رات صحن میں بھونکتا رہتا ہے اور اگر ہم نے اسے لگام نہ دی تو وہ اینیمل کنٹرول والوں سے اس بات کی شکایت کرے گا۔ میرے شوہر نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیوں کہ ہم نے آرچی کے بعد کوئی دوسرا کتا یا جانور نہیں لیا تھا۔ مگر اس نے ہماری بات کا یقین نہیں کیا۔ میرے شوہر نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ ہمارا خیال تھا کہ سیموئل کوپر ایک ذہنی مریض ہے یا پھر اس کے ضمیر پر اس کے جرم کا بوجھ غالب آ گیا ہے۔ بہر حال ہم نے اس بات کو مکمل طور پر اپنے اذہان سے جھٹک دیا اور ہمارا خیال تھا کہ جلد ہی کوپر کو پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس کوئی نیا کتا نہیں ہے مگر ہمارا خیال مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ کچھ دنوں بعد ایک رات دو بجے کے قریب کوپر نے ہمارا دروازہ اس طرح پیٹنا شروع کر دیا جیسے کوئی اسے توڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس دوران وہ مسلسل چلا رہا تھا ’اس منحوس کتے کو خاموش کرائو۔‘ میں نے اپنے شوہر کو دروازے پر نہیں جانے دیا مگر وہ اس پاگل شخص سے تنگ آ چکا تھا۔ میرا شوہر غصے سے بھاگتا ہوا نیچے گیا اور گھر کا دروازہ کھول کر کوپر سے وہاں سے دفع ہوجانے کے لیے کہا۔ میرے شوہر کی اس بات کے جواب میں اس نے مزید چلانا اور چیخنا شروع کر دیا۔ کوپر کے مطابق ہمارا کتا مسلسل بھونک رہا تھا۔ میرے شوہر نے بھی اس سے چیخ کر کہا کہ ہمارے گھر میں اب کوئی کتا نہیں ہے۔ اس کے بعد میرے شوہر نے دروازہ اس کے منہ پر کھینچ مارا اور اوپر واپس آ گیا مگر وہ کوپر کی اس بات پر نہایت حیران اور متعجب تھا۔ کوپر ایک دو منٹ ہمارے دروازے پر کھڑا رہا مگر پھر خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔ ہم نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر اس نے ایسا دوبارہ کیا تو ہم ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر پولیس کو بلا لیں گے۔ دن نکلنے پر جب میں جاگنگ کے لیے باہر نکلی تو میں نے دیکھا کہ کوپر اپنی کار میں کہیں جا رہا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا؍ اس کی آنکھیں بوجھل اور رنگت زرد ہو رہی تھی مگر اس نے پھر بھی مجھے دیکھ کر نفرت سے منہ سکوڑا۔ میں نے سوچا اسے اس حالت میں کار چلانے سے منع کروں مگر میں ایک دیوانے کے منہ لگنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس کے تیوروں سے لگ رہا تھا کہ وہ بلا تاخیر میرے اوپر جیپ چڑھا دے گا۔ اس رات کوپر گھر واپس نہیں آیا۔ ہم نے سوچا ممکن ہے وہ کہیں اور چلا گیا ہو یا کہیں بیٹھا شراب نوشی کر رہا ہو۔ میں نے سوچا اس حالت میں اسے ہر گزر ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہیے۔ اگلے روز بھی کوپر کا کچھ پتہ نہیں تھا مگر ہمارا وہ پڑوسی ہماری طرف آ رہا تھا جس کی بلی کو کوپر نے زہر دے دیا تھا۔ ’تمہیں پت چلا؟ اس نے پوچھا۔ میں نے پوچھا کس بات کا؟ ’ارے تمہیں واقعی نہیں پتہ!‘ وہ چونک پکڑا اور اس کے رد عمل میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ ’گزشتہ رات سیموئل کوپر کا ایکسی ڈینٹ ہو گیا۔ وہ کام سے گھر واپس آ رہا تھا کہ اس دوران اسے نیند آ گئی۔ اس کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں نے اسے کوما میں ڈال دیا ہے کیوں کہ ان کا خیال میں اس کا بچنا ایک معجزہ ہی ہو گا۔‘ اس نے آہستگی سے مجھے بتایا۔ میں احمقوں کی طرح کوپر کے گھر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بلا شبہ اس رات کوپر کی حالت ہر گز گاڑی چلانے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے اپنے پڑوسی کو اس بات سے مطلع کیا۔ اس نے سر ہلاتے ہوئے اس حادثے کو کوپر کے کرموں کا پھل قرار دیا۔ آخر اس نے بے سبب دو معصوم جانیں لی تھیں۔ مجھے اس کی بات تسلیم کرتے ہوئے عجیب سا لگا مگر میں اس سے متفق تھی۔ کوپر ایک ظالم اور بے رحم انسان تھا۔ میں نے سوچا مجھے اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے اور اس کے بعد میں نے محض یہ خبر اپنے شوہر کو بتانے پر اکتفا کیا۔ اس رات میرے شوہر کی نائٹ تھی اور میں گھر پر اکیلی تھی۔ ڈنر کے بعد میں اپنے بستر پر ایک کتاب لے کر لیٹ گئی کہ یکایک مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بیڈ روم کے دروازے کو کھرچ رہا ہے۔ پہلے میں نے اس بات کو اپنا وہم قرار دیا اور سوچا شاید آرچی کو یاد کر کے میرا ذہن مجھے فریب دے رہا ہے؛ مگر وہ آواز پھر سنائی دی۔ میں نے سوچا شاید کوئی آوارہ بلی گھر میں گھس آئی ہے اور اسے بھگانے کے لیے بستر سے اتر کر اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔ مگر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہی گئیں۔ ۔ ۔ دروازے کے سامنے فرش پر ایک آنکھ والا روئی سے بنا وہی کتا بیٹھا تھا جسے میں نے بچپن میں کھو دیا تھا۔ آرچی میرے پاس اپنے گھر لوٹ آیا تھا۔

ختم شد