A Paranormal Story in Urdu

بڑھیا کی روح کا معصوم صفت لڑکی کو تحفہ

جس جگہ اس کہانی نے جنم لیا اس علاقے کا نام لینڈز اینڈ ہے اور اس کے وسط میں زونور کا کلیسائی قصبہ ہے۔ اس جگہ کو گائوں نہیں کہا جا سکتا بس چند ایک ادھر ادھر بکھرے کھیت ہیں اور لکڑی کے بنے گھروں کا ایک جھنڈ سا ہے۔ یہ ایک سرد بنجر سا علاقہ ہے۔ یہاں مٹی کی تہہ کچھ زیادہ گہری نہیں اور جا بجا بنے گڑھوں میں سمندر کا پانی ابھر آتا ہے۔ اگر یہاں کبھی درخت تھے تو سمندر کا پانی اب انہیں کہیں دور بہا چکا ہے تاہم زرد رتن کے پودے جا بجا بکھرے ہوئے ہیں کیوں کے سمندری ہوائیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں جب کہ پہاڑوں کی ڈھلانوں پر سرخ پھولوں والے پودے لہراتے ہیں مگر کسی جانور کے سمور کی طرح ان کا رنگ سردیوں میں بھورا ہو جاتا ہے۔ زینور میں ایک چھوٹا سا پتھروں سے بنا گرجا ہے۔ یہ ایک سادہ سی عمارت ہے جسے تیز سمندری ہوائوں سے بجانے کے لیے ذرا گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ چرچ میں ایک ٹاور بھی نصب ہے جو ہوائوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہے۔ زینور قصبے میں کورن وال کے مقام پر پتھروں سے بنی ایک میز سی ہے جو نہیایت قدیم ہے۔ دراصل اسے کسی کی یاد میں پتھر کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ مگر اس بات سے کوئی واقف نہیں کہ اسے کب اور کس نے بنایا ہے۔ بھورے پتھروں کی اس یاد گار کے نزدیک ایک چھوٹے سے لکڑکی کے بنے گھر میں ایک بڑھیا تنہا رہتی تھی۔ اس کاٹیج کی چھت چھپر کی تھی اور چھت سے ذرا ہی اوپر ایک واحد چمنی اوپر کو نکلی ہوئی تھی۔ چمنی پر دھوئیں کو ہوا کی وجہ سے واپس کاٹیج میں پلٹنے سے روکنے کا با قاعدہ انتظام کیا گیا تھا۔ تاہم جب ہوا شمال سے جنوب کی جانب چلتی تھی تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ دھواں کدھر جائے گا۔ چناں جب ہوا رخ بدلتی تھی تو زیادہ تر دھواں چمنی کے بجائے کاٹیج کے دروازے سے خارج ہوتا تھا۔ بڑھیا کے پاس جلانے کے لیے صرف گھٹیا قسم کا دلدلی کوئلہ ہوتا تھا۔ اس قسم کا کوئلہ جلتا تو ہے مگر اس میں سے حرارت کی مناسب مقدار خارج نہیں ہوتی اور یہ اچھے کوئلے کے بر عکس بہت جلد جل کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس بڑھیا کو علاقے کے لوگ جوانا آنٹی کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کا اصل نام کسی کو یاد نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو اس بات سے کوئی غرض تھی۔ بڑھیا اس دنیا میں تنہا تھی اور اس کا ایک رشتے کی پوتی کے علاوہ کوئی دوسرا رشتے دار نہیں تھا۔ اس پوتی کی شادی ایک دولاب ساز (پہیے بنانے اور ان کی مرمت کرنے والا) سے ہوئی تھی جس کی دکان گرجا کے نزدیک تھی۔ مگر بڑھیا اور اس کی پوتی کے درمیان بات چیت نہیں تھی۔ در اصل بات یہ تھی کہ لڑکی بڑھیا کی قطعی ہدایت کے با وجود رقص کی ایک تقریب میں چلی گئی تھی جہاں اس کی دولاب ساز سے ملاقات ہوئی جو بعد ازاں بڑھیا کے رویے کی وجہ سے بہت جلد شادی پر منتج ہو گئی۔ بڑھیا ویزلی فرقے کے عقائد پر سختی سے کار بند تھی جہاں رقص و سرور اور ڈراموں جیسی لغویات کی کوئی گنجائش نہیں تھی تا ہم یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی ڈرامہ کمپنی نے آج تک اس قصبے کا رخ نہیں کیا تھا۔ یہاں رقص اگر چہ معیوب بات سمجھی جاتی تھی مگر پھر بھی اکا دکی رقص کی تقریبات منعقد ہو ہی جاتی تھیں۔ اس لڑکی کا نام روز پینالونا تھا جو اپنی ماں کے مرنے کے بعد اس بڑھیا کے پاس آ گئی تھی جو اس کی رشتے کی دادی تھی۔ روز ایک شوخ و شنگ چلبلی لڑکی تھی۔ جب اسے نزدیکی علاقے میں رقص کی تقریب میں مدعو کیا گیا تو وہ اپنی دادی کی سخت مخالفت کے با وجود اس میں شریک ہونے کے لیے رات کے چپکے سے کاٹیج سے نکلی اور تقریب میں پہنچ گئی۔ بلا شہ روز کا یہ طرز عمل درست نہیں تھا مگر اس سے زیادہ نا پسندیدہ عمل کا مظاہرہ بڑھیا نے کیا۔ جب بڑھیا کو پتہ چلا کہ روز نے اس کے منع کرنے کے با وجود رقص کی تقریب میں شرکت کی ہے تو اس نے دروازہ اندر سے بند کر دیا اور روز کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بے یارو مدد گار روز نے وہ رات گائوں سے باہر بنے ایک ڈیرے میں گزاری۔ اگلے روز اس نے مقامی کلیسائی خانقاہ کا رخ کیا اور وہاں راہبہ بن کر رہنے کی درخواست کی۔ مگر وہ اس درخواست پر عمل نہیں کر سکی۔ ہوا یوں کہ جب دولاب ساز ابراہم ہیکسٹ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے فوراً روز کو شادی کا پیغام دیا اور اس طرح وہ دونوں صرف تین ہفتوں کے اندر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ شادی کے بعد بڑھیا اور اس کی پوتی کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی کیوں روز کو اچھی طرح پتہ تھا کہ جوانا کتنی درشت مزاج ہے اور اس نے سوچا کہ جو کچھ اس نے کیا وہ درست ہی تھا۔ بڑھیا کے کاٹیج کے قریب واقع ایک فارم میں ہاکنز خاندان کے لوگوں کی رہائش تھی۔ ایک روز اس کاشت کار کی بیوی الزبتھ نے بڑھیا کو کاٹیج سے باہر دیکھا۔ الزبتھ اس وقت مارکیٹ سے واپس آ رہی تھی اور جب اس نے بڑھیا کی خمیدہ کمر اور نہایت کم زور حالت کو دیکھا تو وہ ٹہر گئی اور اس نے جوانا کو ایک مشورہ دیا۔ ’آنٹی تم بہت کم زور ہو رہی ہو اور بیماری تمہاری ہڈیوں تک میں اتر آئی ہے۔ تم کس طرح کام کاج کرتی ہو؟ اگر رات میں تمہاری طبیعت بگڑ جائے تو کسی کو پتہ تک نہیں چلے گا۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے ساتھ کسی جوان لڑکی کو رکھ لو تا کہ وہ تمہاری دیکھ بھال کر سکے۔‘ مگر بڑھیا نے تکبر سے جواب دیا ’مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔ خداوند میرے لیے کافی ہے۔‘ ’بے شک ابھی نہیں مگر اگر تم بیمار پڑ گئیں تو تمہیں کسی کی تیمار داری کی ضرورت ہو گی۔ پھر سرد موسم میں تم ضرورت کا سامان لینے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس لیے ایک جوان عمر کی ملازمہ تمہارے ساتھ ہونی چاہیے۔‘ الزبتھ نے بڑھیا کے رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔ ’میں کسے رکھوں؟ جوانا نے الزبتھ سے پوچھا۔ ’میرے خیال میں تمہارے لیے میری سب سے مناسب رہی گی جو روز ہیکسٹ کی بڑی بیٹی ہے۔ وہ بہت تیزی سے کام کرتی ہے اور اچھے اخلاق کی بھی حامل ہے۔‘ ’ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ بڑھیا نے جل کر جواب دیا۔ ’میرا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔ خداوند کا قہر ان پر نازل ہونے والا ہے اور میں اس بات سے واقف ہوں۔ میں ان سے کوئی تعلق نہیں رکھ سکتی۔‘ ’مگر آنٹی تمہاری عمر کم از کم 90 کے قریب پہنچ رہی ہے۔‘ ’میری عمر اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ابراہیم کی بیوی سارہ کی عمر کیا 127 سال نہیں تھی؟ مگر میں خداوند کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میرا کوئی شوہر نہیں۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ خداوند مجھے اتنی ہی عمر دے جتنی اس نے سارہ کو دی تھی۔‘ اس کے بعد بڑھیا کاٹیج میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کردیا۔ ایک ہفتے تک الزبتھ نے جوانا کو نہیں دیکھا۔ وہ کاٹیج کے پاس بھی بھی گزری مگر بڑھیا کا کچھ اتا پتا نہیں تھا مگر دروازہ حسب معمول بند تھا۔ الزبتھ نے فکر مند ہو کر اپنے شوہر سے اس بات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے۔ اس کے شوہر نے جواب دیا کہ وہ آج کل فارغ ہے اس لیے بڑھیا کی خبر گیری کے لیے جایا جا سکتا ہے۔ اگلے روز وہ دونوں بڑھیا کے کاٹیج تک آئے۔ چمنی سے دھواں نہیں نکل رہا تھا اور دروازہ بند تھا۔ الزبتھ کے شوہر نے دروازے پر دستک دی مگر کوئی جواب نہیں ملا چناں چہ وہ اندر داخل ہو گیا اور الزبتھ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلی آئی۔ کاٹیج میں صرف ایک کچن تھا جس کے برابر میں ایک کمرہ تھا۔ کاٹیج میں آگ روشن نہیں تھی۔ ’کچھ نہ کچھ بات ہوئی ضرور ہے‘ الزبتھ نے فکر مندی سے کہا۔ ’میرا خیال ہے بڑھیا بیمار ہو گئی ہے‘ اس کے شوہر نے جواب دیا اور اس کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ اس نے دروازہ کھولتے ہی کہا ’بڑھیا اپنے بستر میں مری پڑی ہے۔‘ در اصل بڑھیا کا اسی رات دم نکل گیا تھا جس روز اس نے تکبر سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھی سارہ کی طرح 127 سال تک جیے گی۔ ’اب کیا کریں؟ الزبتھ کے شوہر نے پوچھا۔ الزبتھ نے کہا ’میرا خیال ہے ہمیں یہاں موجود ہر چیز کی فہرست بنا لینی چاہیے تا کہ کوئی بد فطرت اس کی چیزیں ہڑپ نہ کر لے۔‘ مگر اس کے شوہر نے کہا کہ لوگ ابھی اتنے برے نہیں ہوئے ہیں اور پھر یہاں بڑھیا کی لاش بھی تو پڑی ہے۔ الزبتھ نے جواب دیا ’میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ آج کل زمانہ بہت خراب ہے اور میرے خیال میں ایسا کرنے میں ہرج ہی کیا ہے۔‘ ’ٹھیک ہے آئو۔‘ کمرے میں بلوط کی لکڑی کا بنا ایک صندوق رکھا تھا جسے الزبتھ اور اس کے شوہر نے کھول دیا۔ مگر ان کی آنکھیں اس وقت حیرت سے کھل گئیں جب ان کی نظر چاندی کی چائے دانی اور چاندی ہی کے بنے چھ چمچوں پر پڑی۔ [بد ترین غربت کے باعث اس زمانے میں یہ چیزیں صرف امرا ہی اپنے پاس رکھ سکتے تھے: مترجم] الزبتھ نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوانا آنٹی تو چھپی رستم نکلیں۔ ’میرا خیال ہے بڑھیا کا تعلق کسی اچھے خاندان سے تھا اور میں نے سنا ہے کہ گئے وقتوں میں یہ عورت بہت خوش حال ہوا کرتی تھی۔‘ الزبتھ کے شوہر نے جواب دیا۔ ’ارے یہ تو دیکھو۔‘ الزبتھ پھر حیرت سے چلائی ’برتنوں کے نیچے کتنا نفیس اور قیمتی لینن کا کپڑا اور اس سے بنی چادریں اور تکیوں کے غلاف رکھے ہیں۔‘ [اس وقت عام لوگوں کے پاس ان چیزوں کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عام کپڑا بھی نہایت مہنگے داموں ملتا تھا: مترجم] اب حیرت سے چلانے کی باری الزبتھ کے شوہر کی تھی ’ارے یہ تو دیکھو۔ چائے دانی منہ تک پیسوں سے بھری ہے۔ بڑھیا کے ہاتھ یہ سب کچھ کہاں سے لگا؟ ’بڑھیا لوگوں کو گرجے اور خانقاہ کی سیر کراتی تھی۔ یقیناً یہ رقم اس نے اسی طرح کمائی ہے۔‘ الزبتھ کے شوہر نے حیرت سے کہا ’کاش بڑھیا یہ چیزیں میرے نام کر دیتی۔ مجھے ایک اور گائے کی شدید ضرورت ہے۔‘ ’ہاں نہ۔‘ الزبتھ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ ’مگر بڑھیا کے بستر پر دیکھو کتنی گھٹیا اور پھٹی پرانی چادر بچھی ہے جب کہ یہ نفیس چادریں صندوق میں پڑی سڑ رہی ہیں۔‘ الزبتھ کے شوہر نے سوال کیا ’اب ان چیزوں کا وارث کون ہو گا؟ ’اس کا روز ہکسٹ کے سوا کوئی اور وارث نہیں مگر اس نے جوانا آنٹی کی نافرمانی کی تھی۔ آنٹی نے جو آخری الفاظ مجھ سے کہے وہ یہ تھے کہ اس کا اب ان لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘ ’کیا یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔‘ ’ہاں یہ قطعی طور پر جوانا آنٹی کے آخری الفاظ تھے‘ الزبتھ نے قطیعت سے جواب دیا۔ الزبتھ کے شوہر نے سر ہلاتے ہوئے اس سے کہا ’الزبتھ یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم جوانا آنٹی کی ’وصیت‘ پر عمل کریں۔ ہمیں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہیے۔ اور جس طرح آنٹی نے صاف الفاظ میں صرف ہم جیسے دیانت دار لوگوں سے اپنی خواہش کا اظہار کیا اس لیے ہمیں اس کی بات پر عمل کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز روز کے ہاتھ نہ لگنے پائے۔‘ ’مگر پھر یہ کس کے پاس جائیں گی۔‘ ’دیکھیں گے۔ پہلے ہمیں بڑھیا کی شان دار تدفین کا انتظام کرنا ہے۔ روز اور اس کا شوہر غریب لوگ ہیں اور وہ تدفین کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔ اور الزبتھ میرا خیال ہے کہ ہم ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ہی سارے اخراجات اٹھانے چاہییں کیوں پڑوس کے ناتے جوانا آنٹی کا سب سے پہلا حق ہم پر ہے۔ ۔ ۔‘ ’ہاں بھئی۔ میں اسے دس، بارہ سال سے مفت میں دودھ دیتی رہی ہوں کیوں کہ میرا خیال تھا وہ اس کے پیسے نہیں دے سکتی۔ مگر دیکھو تو اس کے صندوق میں پیسوں کا ڈھیر لگا ہے مگر اس نے پھر بھی مجھے کبھی دودھ کا معاوضہ نہیں دیا۔ یہ کھلی بے ایمانی ہے۔ اس لیے میں کہتی ہے میرا بھی اس کے پیسوں پر کچھ حق ہے۔ آخر بارہ سال دودھ کا معاوضہ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ اور پھر کبھی کبھار میں اسے بغیر پیسوں کے مکھن بھی تو دیا کرتی تھی۔‘ الزبتھ نے اپنے شوہر سے چار قدم آگے نکلتے ہوئے کہا۔ ’بہت خوشی کی بات ہے الزبتھ۔ سب سے پہلے ہم چاندی کی چائے دانی اور چمچے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں تا کہ یہ کسی لٹیرے کے ہاتھ نہیں لگیں۔‘ ’اور میں یہ چادریں اور تکیے غلاف نکال لیتی ہوں۔ بڑھیا کو چاہیے تھا کہ وہ انہیں استعمال کرتی۔‘ تمام زینور میں اس بات کی دھوم مچ گئی کہ الزبتھ اور اس کا شوہر نہایت ہی فیاض لوگ ہیں جنہوں نے ہمسائیگی کا خیال کرتے ہوئے تدفین کے تمام اخراجات بغیر کسی کے کہے خود برداشت کیے۔ اس دوران روز الزبتھ کے فارم پر آئی اور اس نے کہا وہ جو کچھ کر سکتی ہے کرنے کے لیے تیار ہے، مگر الزبتھ نے اس سے کہا ’روز یہ اچھی بات نہیں۔ جب تمہاری دادی بیمار تھی تو میں نے اس کا خیال رکھا اور مرنے سے پہلے اس نے مجھ سے مضبوط وعدہ لیا تھا کہ ہم ہی اس کی تدفین کریں گے اس لیے تم لوگوں کو جنازے پر نہیں آنا چاہیے۔‘ روز نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور الٹے قدموں لوٹ گئی۔ روز کو اپنی دادی سے کچھ ملنے کی توقع بھی نہیں تھی۔ اس نے کبھی کمرے میں رکھا صندوق کھول کر نہیں دیکھا تھا۔ جہاں تک وہ جانتی تھی اس کے مطابق اس کی دادی ایک نہایت غریب عورت تھی۔ مگر اسے اس بات کا اعتراف تھا کہ بڑھیا نے اسے کبھی سہارا دیا تھا اور روز نے کم و بیش اپنے ساتھ بڑھیا کے بے رحم طرز عمل کو معاف بھی کر دیا تھا۔ اگر چہ اس نے کئی بار بڑھیا سے دوبارہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تھی مگر جوانا نے ہمیشہ اس کے پیغام کو نفرت سے جھٹلا دیا تھا۔ چناں چہ اسے الزبتھ کے منہ سے یہ بات سن کر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ وہ اپنی دادی کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر بے عزت اور ورثے سے محروم ہونے کے با وجود روز، اس کے شوہر اور بچوں نے سیاہ لباس پہنا اور جنازے میں ورثا کے طور پر شرکت کی۔ جب بڑھیا کو قبر میں لٹانے کا وقت آیا تو الزبتھ نے اس مقصد کے لیے بڑھیا کے صندوق سے چرائی لینن کی قیمتی چادر ساتھ لے لی تھی تا کہ اسے جنازے پر ڈالا جا سکے۔ مگر پھر اس نے سوچا اس طرح تو چادروں کی جوڑی خراب ہو جائے گی اور آخر اس کی ضرورت بھی کیا ہے اور اگر یہ چادر خراب ہو گئی تو وہ زندگی بھر ایسی دسری چادر حاصل نہیں کر سکتی۔ چناں چہ اس نے چادر کو الگ رکھ دیا اور جنازے پر ایک عام سے کھردری چادر ڈال دی۔ اگر یہ چادر خراب بھی ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ظاہر ہے یہ ’اصراف‘ ایک بڑے گناہ کی بات تھی کہ اتنی قیمتی چادر قبر میں کیڑوں کو کھلانے کے لیے چھوڑ دی جائے۔ البتہ دونوں میاں بیوی نے تدفین پر خاصا خرچا کیا۔ انہوں نے مہنگی لکڑی کا تابوت خریدا اور قبر پر سنگ مرمر کی سلیں رکھنے کے علاوہ یاد گاری تختی بھی نصب کروائی۔ اس کے علاوہ جوانا کی موت کا غم بھلانے کے لیے بڑے پیمانے پر شراب نوشی کا انتظام کیا گیا جب کہ جنازے کے شرکا کی تواضع کیک اور پنیر سے کی گئی۔ یہ تمام اخراجات الزبتھ اور اس کے شوہر نے کیے تھے۔ وہ تمام لوگ جو جنازے میں شریک تھے کیک اور شراب سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی آنکھیں پونچھ رہے تھے بلکہ ان سب کے لبوں پر مرنے والی کے لیے نیک تمنائوں کے بجائے الزبتھ اور اس کے شوہر کی فیاضی کا چرچا تھا۔ روز اور اس کی بیوی کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ اس سے زیادہ فخر کی کیا بات ہو گی کہ کسی کے نیک اعمال کو تسلیم کیا جائے۔ روز کے شوہر نے دھیمی آواز میں ایک پڑوسی سے کہا تھا کہ اس کے پاس تدفین کے اخرجات اٹھانے کی گنجائش نہیں مگر یہ کہ وہ جوانا کی قبر پر ایک سادہ سا پتھر لگائے گا جس پر جوانا کا نام، عمر اور تاریخ وفات درج ہو گی اور ایک چھوٹی سے حمد بھی جس میں زمین کے بجائے جنت کو اصل ٹہرنے کی جگہ بتایا گیا ہے۔ الزبتھ عام طور پر کبھی نہیں روتی تھی مگر وہ بڑھیا کی تدفین کے وقت بلک بلک اٹھی۔ اس نے بڑھیا کی یاد اور اپنے نیک عمل کی تائید میں آنسو بہائے۔ بہر حال موسم سرما کی آند شروع ہوئی اور دن چھوٹے ہونے لگے۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے جوانا کی تدفین میں شرکت کی تھی اور الزبتھ کے فارم میں ٹہر گئے تھے ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے اور جلد ہی الزبتھ اور اس کا شوہر اپنے گھر میں تنہا رہ گئے۔ ’یہ ایک خوب صورت دن تھا‘ الزبتھ کے شوہر نے کہا۔ ’بے شک۔ اور دیکھو لوگوں کے چہرے کس طرح کے ہو رہے تھے‘ الزبتھ نے جواب دیا۔ ’جوانا آنٹی کی تدفین کی وجہ سے علاقے میں ہمارے وقار اور شہرت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔‘ ’ظاہر ہے ہمارے علاوہ اس بے سہارا بڑھیا کے لیے اور کون یہ کام کر سکتا تھا جس پر ہمارے دودھ اور مکھن کی بڑی رقم کا ادھار بھی چڑھا ہوا تھا۔‘ الزبتھ کے شوہر نے کہا ’ہاں۔ میں نے ہمیشہ سنا ہے کہ اچھے عمل کا اچھا پھل ملتا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے جس پر میں دل سے یقین کرتا ہوں۔‘ ’شاید تمہیں شراب کا خمار چڑھا ہوا ہے۔‘ ’نہیں الزبتھ یہ نیکی کا سرور ہے۔ یہ شراب سے زیادہ گرم ہے۔ شراب تو صرف ایک شعلے کی طرح بھڑک کر بجھ جاتی ہے مگر نیکی اور صاف ضمیر ایک بہت بڑے الائو کی صورت جلتے رہتے ہیں جن کی گرمی تا ابد انسان کے وجود کو سکون پہنچاتی ہے۔‘ الزبتھ کے شوہر کا فارم کچھ زیادہ بڑا نہیں تھا اور وہ خود ہی اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ان کے پاس ایک ملازمہ ضرور تھی مگر گھر میں کوئی مرد ملازم نہیں تھا۔ یہ لوگ جلد سونے کے لیے لیٹ جاتے تھے۔ الزبتھ اور اس کا شوہر دونوں ہی ’ادبی ذوق‘ سے محروم تھے اور وہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ رات میں پڑھنے کے لیے بلا وجہ تیل جلا کر ضائع کیا جائے۔ مگر اس رات کسی وقت اچانک الزبتھ چونک کر نیند سے اٹھ بیٹھی اور اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر بستر میں بیٹھا کسی طرف کان لگائے ہوئے تھا۔ چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور آسمان پر بادلوں کا ایک ٹکڑا تک نہیں تھا۔ ان کے کمرے میں چاند کی روشنی بھری ہوئی تھی کہ اچانک الزبتھ نے باورچی خانے میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنی جو ان کے کمرے کے دروازے تک آ گئی۔ ’باہر کوئی ہے جا کر دیکھو‘ الزبتھ نے سر گوشی کی۔ ’شاید یہ سیلی (ملازمہ: مترجم) ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت اور کون ہو سکتا ہے۔‘ اس کے شوہر نے جواب دیا۔ ’نہیں یہ سیلی نہیں ہو سکتی۔ وہ ہمارے کمرے سے گزرے بغیر باہر نہیں نکل سکتی۔‘ ’الزبتھ جائو جا کر دیکھو۔‘ خوف سے الزبتھ کے شوہر کا دل کانپ رہا تھا۔‘ ’جابیز تم مرد ہو۔ یہ کام تمہارا ہے میرا نہیں۔‘ ’مگر اگر وہاں کوئی عورت ہوئی تو؟ دیکھو نا میں نے رات کی قمیض پہنے ہوئی ہے۔ ’اوہ جابیز اگر یہ کوئی مرد یا کوئی لٹیرا ہوا تو کیا ہو گا؟ کتنی شرم کی بات ہے میں نے بھی رات کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔‘’میرا خیال ہے ہم دونوں کو ایک ساتھ جانا چاہیے۔‘ ’چلو ٹھیک ہے۔ مگر میرا خیال ہے ۔ ۔ ۔ ‘ ’کیا؟ الزبتھ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دونوں چپکے سے بستر سے باہر نکلے اور بلی کی چال چلتے زینے سے نیچے اتر آئے۔ نیچے کوئی دروازہ نہیں تھا مگر زینے کی کھلی سمت میں لکڑی کا تختہ لگا ہوا تھا اور یہ زینہ باورچی خانے میں اترتا تھا۔ وہ دونوں بہت محتاط قدموں سے نیچے اترے اور کچن، بیٹھک اور کھانے کے کمرے کی طرف بغور دیکھا۔ ان کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ کھڑی سے چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی۔ مگر اچانک ان کی نظر کھڑکی کے ساتھ کھڑے ایک ہیولے پر پڑی۔ بغیر کسی شک و شبہے کے یہ ہیولہ جوانا آنٹی کا تھا۔ وہ اسی کھردری چادر میں لپٹی ہوئی تھی جو الزبتھ نے اس کے ساتھ قبر میں اتاری تھی۔ جوانا نے ان کی الماری سے قیمتی لینن کی ایک چادر نکال کر اسے میز پر پھیلا دیا تھا جس پر وہ اپنا استخوانی ہاتھ پھیر رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی پر گویا لرزے کا بخار چڑھ گیا۔ اگر چہ رات بہت سرد تھی مگر ان کے جسم سردی سے نہیں بلکہ دہشت سے ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے۔ ان میں آگے بڑھنے کی جرات تھی اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کی۔ ایسا لگتا تھا ان کے قدم زمین نے جکڑ لیے ہیں۔ جوانا نے پھر الماری کا رخ کیا اور وہاں سے چاندی کے تمام چمچے نکال لائی جسے اس نے نہایت سلیقے سے لینن کی چادر پر سجا دیا۔ اور پھر اپنی پتلی انگلی سے انہیں گن کر دیکھا۔ اس کے بعد اس نے الزبتھ اور اس کے شوہر کی طرف مڑ کر دیکھا مگر جہاں وہ کھڑی تھی وہاں بہت اندھیرا تھا اس لیے وہ دونوں نہیں دیکھ سکے کہ اس کا چہرہ کیسا تھا یا اس پر کس طرح کے تاثرات ثبت تھے۔ اس بار جوانا الماری سے چاندی کی چائے دانے نکال لائی۔ وہ میز کے ایک سرے پر کھڑی ہوئی اور اب چاند کی روشنی بجائے لینن کی چادر پر پڑنے کے اس کے بھیانک چہرے پر پڑ رہی تھی۔ الزبتھ اور اس کے شوہر نے دیکھا کہ جوانا کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر ان سے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ یک لخت جوانا نے چائے دانے میں ہاتھ ڈالا اور سکے باہر نکال لیے جنہیں اس نے ایک ایک کر کے میز پر لڑھکا دیا۔ ان دونوں نے چاند کی روشنی میں سکوں کو چمکتے دیکھا جو لڑھکتے ہوئے اپنے عقب میں سائے چھوڑ رہے تھے۔ پہلا سکہ میز کے بائیں کونے میں جا کر ٹہر گیا جب کہ دوسرا بھی اس کے پاس ہی گرا۔ انہوں نے دیکھا دس کے دس سکے ایک قطار میں پڑے تھے۔ اس کے بعد تمام سکے ایک قطار کے صورت واپس اٹھے اور الزبتھ اور اس کے شوہر کے قدموں کے پاس آ گرے۔ اس دوران جوانا کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے گویا وہ ان سکوں کو گن رہے ہوں مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ آواز کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ الزبتھ اور اس کے شوہر کے سرد اور بے جان جسم ہر طرح کی سماعت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو چکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد چاند کی روشنی سے منور مگر نہایت سرد رات میں جوانا کا ہیولہ تمام سامان اٹھائے بے آواز قدموں سے روز کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ختم شد