A Supernatural Story in Urdu

چینی اور پُراسرار چونٹیاں

چینی کا بدلہ بڑی ہو کر میں ایک مایہ ناز آرٹسٹ بننا چاہتی تھی۔ اس بارے میں ہر سوال کا میرے پاس صرف یہ ہی ایک جواب تھا۔ اس کے علاوہ ممکن ہے اگر آپ مجھے سے مزید پوچھتے تو میرا جواب ہوتا ’ڈائنو سار‘ یا پھر ایک ’خلا نورد‘ مگر بعد میں جب مجھے پتہ چلا کے بچے بڑے ہو کر ڈائنو سار نہیں بن سکتے اور نیوزی لینڈ کی مقامی رنگ دار لڑکیاں خلا نورد بھی نہیں بن سکتیں تو شاید میں اس وقت کہتی کہ میں نرس یا ٹیچر بننا چاہتی ہوں۔


گوروں کے دیس میں نسلی امتیاز نوٹ کریں


اسکول میں سوائے انگریزی اور آرٹ کے کوئی بھی تیسرا مضمون میری سمجھ سے باہر تھا مگر چودہ پندرہ سال کی عمر میں میری خالہ نے مجھے مقامی ہسپتال میں صفائی کے عملے میں جز وقتی ملازمت دلا دی۔ اس وقت میرا خیال تھا کہ میری تنخواہ مناسب ہے اور یہ کہ میں اپنا کام اچھی طرح کر رہی ہوں۔ مجھے صفائی کا کام بہت پسند تھا اور مجھے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ جو چیز میں صاف کر رہی ہوں وہ ڈائریا کی غلاظت ہے یا خون میں لتھڑی ہوئی الٹی۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ ہر طرح کی بو کے عادی ہو جاتے ہیں سوائے ڈائریا پیدا کرنے والے بیکٹریا کلوسٹرائیڈم ڈفیسل کے جسے سی ڈف کہا جاتا ہے۔ مگر خوش قسمتی سے مجھے ایسے چند ایک ہی مریضوں کی صفائی کرنی پڑی۔ کچھ عرصے بعد میں نے اپنی اس معمولی تنخواہ کی مدد سے اسکول چھوڑنے اور ایک چھوٹا سا ایک کمرے کا فلیٹ کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا۔ ان فلیٹوں کے بلاک کنکریٹ سے بنائے گئے تھے۔ جب میں اپنے فلیٹ میں فارغ ہوتی یا جاگ رہی ہوتی تھی تو میں اس وقت آرائشی اشیا تیار کرتی تھی جو ہفتے کی صبح مارکیٹ میں اچھے داموں بک جاتی تھیں۔ اس طرح میں ایک جز وقتی مگر معمولی سی آرٹسٹ بھی بن گئی تھی۔ دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ کو ہر غریب شخص کی الماری میں ملیں گی۔ میری الماری میں آپ کو آلو اور چاول ملیں گے۔ یہ دنوں ہی چیزیں بے انتہا سستی ہیں جنہیں کئی مختلف انداز میں پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔ میں نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی تھی اور بڑھتی عمر کے ساتھ میری ماں نے مجھے اچھی طرح صنفی امتیازات کے قوانین ذہن نشین کرا دیے تھے جن کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح کے کھانے کس طرح پکائے جائیں جو کئی روز تک چل سکیں۔ ماں نے مجھے سکھایا تھا کہ سب سے بہترین چیز چاول ہیں۔ تم ان میں چینی ڈال کر انہیں ناشتے میں بھی کھا سکتی ہو جب کہ انہیں سادہ حالت میں دوپہر اور رات کے کھانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور ہاں گوبھی بھی۔ ۔ ۔ ماں کے مطابق دنیا کی مکمل ترین نعمت گوبھی تھی جسے ہر کھانے میں ڈالا جا سکتا تھا۔ مگر میں نے اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں کچھ تھوڑی بہت آسائشوں کا بھی انتظام کر لیا تھا۔ جیسے مونگ پھلی کے مکھن کی ایک پوری بوتل، ایک جنگلی شہد کی مکھیوں کا چھتہ جو میرے انکل نے شمالی علاقے سے مجھے بھیجا تھا اور ایک چینی سے بھرا بڑا مرتبان۔ چینی کی یہ نعمت میں اپنی چائے میں استعمال کرتی تھی۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں اس وقت میری پریشانی کا کیا عالم ہو گا جب چیونٹیوں نے میرے کچن پر ہلہ بولا۔ وہ چیونٹیاں بہت باریک باریک تھیں اور میں نے اتنی باریک چیونٹیاں پھر کبھی نہیں دیکھیں۔ جب میں صبح میں سو کر اٹھتی تو ان چیونٹیوں نے کھانے کے گرے ہوئے ذروں کے گرد جمگھٹا لگایا ہوا ہوتا تھا۔ وہ اسے آپس میں بانٹ کر اپنے بل میں ایک سیاہ قطار کی شکل میں لے کر جا رہی ہوتی تھیں۔ مجھے ابتدا میں ان سے کوئی نفرت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے اچھی طرح پتہ تھا بھوک کی اذیت کیا ہوتی ہے۔ اور پھر یہ بھی تو ایک حقیقت تھی کہ یہ چیونٹیاں بلا معاوضہ میرے گھر میں صفائی کر رہی تھیں۔ مگر جب ایک روز انہوں نے میرے چینی کے اضافی تھیلے میں سوراخ کر کے وہاں سے چینی نکالنا شروع کی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ بس اب بہت ہو گیا۔ اگر آپ بوریکس پائوڈر میں چینی ملا دیں تو چیونٹوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور زہر نہیں۔ اسپتال میں بوریکس پائوڈر سے بنی اشیا کی کوئی کمی نہیں تھی جنہیں غلاظت سے بند پائپوں وغیرہ کو صاف کرنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا تھا۔ چناں چہ میں نے انٹرنیٹ کی مدد سے یہ آمیزہ تیار کیا اور پھر اسے ایک پلیٹ میں ڈال کر کچن میں رکھ دیا۔ میرے ان چاہے دوستوں نے جلد ہی اس کی بو پا لی۔ ایک گھنٹے بعد کچن کی کیبنٹ کے سفید فارمیکا پر رکھی پلیٹ کے گرد چیونٹیوں کا جمگھٹا لگ چکا تھا۔ میری تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کو اسے کھانے کے بعد اٹھا کر اپنے بلوں میں لے جانا چاہیے تھا۔ تا کہ وہ چیونٹیاں جو بل میں تھیں وہ بھی اسے کھا لیں اور زہر ہر جگہ پھیل جائے۔ اگر یہ عمل کام یابی سے پورا ہو جاتا تو تمام چیونٹیاں ایک ہفتے کے اندر اندر ہلاک ہو جانی تھیں اور پھر مجھے دوبارہ کبھی فلیٹ میں ان کیڑوں سے پریشانی نہیں ہوتی۔ چناں جب ایک چیونٹی نے پلیٹ سے زہر کھایا اور پلیٹ کے کنارے پر دوسری چیونٹی کے پاس جا بیٹھی تو مجھے شبہ ہوا کہ کہیں میں نے ضرورت سے زیادہ تو زہر نہیں ملا دیا جس سے چیونٹی فوراً ہی ہلاک ہو گئی ہو۔ مگر مسلسل دیکھنے سے پتہ چلا کہ وہ زندہ تھی۔ اس نے اپنی ٹانگیں اور مونچھں صاف کیں جب کہ اس دوران دوسری چیونٹیاں اسے بغور دیکھ رہی تھیں۔ ایک نہایت ہی ساکت چیونٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے پا کر میں نے اپنی اسکیچ بک نکالی اور اپنے فلیٹ کی واحد کرسی پر بیٹھ کر اس چیونٹی کا خاکہ بنانا شروع کر دیا۔ جس وقت نیند میری آنکھوں میں اتر آئی اور مجھے جمائیوں پر جمائیاں آنے لگیں اس وقت بھی دو چیونٹیاں نہایت صبر سے پلیٹ کے کنارے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اگلی صبح جب میں غسل کے بعد چائے بنانے کچن میں آئی تو میں دیکھا کہ پلیٹ ویسے کے ویسے ہی رکھی ہوئی تھی۔ پلیٹ کے کنارے صرف زہر کھانے والی چیونٹی کا مردہ جسم پڑا ہوا تھا۔ اس کے ٹانگیں رحم مادر میں بچے کی طرح پیٹ کی طرف مڑی ہوئی تھیں اور یہ موت کا عجیب ترین اظہار تھا۔ میرے پورے چھتے کو تلف کرنے کی کوشش نا کام ہو گئی تھی۔ اگلے ہفتے چیونٹیوں نے چینی کے تھیلے میں ایک اور سوراخ کر دیا۔ اس بار میں نے اس تھیلے کو ایک پلاسٹک کے بیگ کے اندر رکھا تھا اور اس میں سے نصف چینی نکال لی تھی۔ غصے سے سیخ پا ہو کر اس بار میں نے تھیلے کو چھت میں لگے کنڈے سے ٹانگ دیا۔ اگلی صبح خالی تھیلا فرش پر پڑا میرا منہ چڑا رہا تھا۔ اس میں چینی کا ایک ذرہ بھی موجود نہیں تھا۔ انتہائی پریشانی کے عالم میں میں نے مارکیٹ کا رخ کیا اور وہاں سے ایک طاقت ور چیونٹی مار دوا خریدی۔ جب کے اس کے ساتھ مجھے چینی کا ایک اور پیکٹ (تھیلی) بھی لینا پڑا۔


گوروں کے دیس میں غربت کا عالم نوٹ کریں اور سوچیں کہ ہم اپنے ملک میں چینی کس طرح لٹاتے ہیں


گھر واپس لوٹنے کے بعد میں نے چیونٹی مار دوا کچن میں اور چینی کی تھیلی ایک بڑے پیالے میں رکھ دی۔ اس پیالے کو میں نے مزید ایک اور بڑی پیالے میں رکھا اور اسے پانی سے بھر دیا۔ چنی چور چیونٹیوں کو اپنے کیے کی سزا ملنے والی تھی۔ میں اس رات بے چینی کے عالم میں سوئی۔ میرے کمرے کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور میں غیر ارادی طور پر چیونٹیوں کی ’آوازیں‘ سننے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرے دل کو کسی حد تک یقین ہو چلا تھا کہ یہ چیونٹیاں میرے خلاف سازش کر رہی تھیں۔ میں نے خواب میں عظیم جسامت کی چیونٹیاں دیکھیں جو

میری الماریوں میں ٹہل رہی تھیں، گلاس اور پلاسٹک کے برتنوں کو چبا رہی تھیں اور گھر میں موجود ہر کھانے کی چیز کو ہضم کر رہی تھیں۔


اس 15 سالہ لڑکی کی معصومیت پر غور کریں جسے مغربی معاشرے کی تہذیب نو نے ماں باپ سے دور تنہا فلیٹ میں رہنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ کیا خاندانی نظام کی بدولت ہمارے ملک میں ایسا ممکن ہے؟


کچھ دیر بعد جب مجھے نیند نہیں آئی تو میں بستر سے اٹھی اور پانی پینے کے لیے کچن میں قدم رکھا۔ جیسی ہی میں نے لائٹ جلائی مجھے حرکت محسوس ہوئی۔ چینی کی تھیلی کو پیالے سے نکال لیا گیا تھا جو بنچ پر آڑھا ترچھا پڑا تھا۔ چیونٹیاں دیوانوں کی طرح کائونٹر پر بکھری ہوئی تھیں اور تیزی سے کونوں اور کھدروں میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کے منہ چینی سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے تیزی سے فیصلہ کرتے ہوئے سنک سے ایک گلاس اٹھایا اور اسے ایک فرار ہوتی ہوئی چیونٹی کے اوپر رکھ دیا۔ یہ چیونٹی ابھی ابھی چینے کی تھیلی سے برآمد ہوئی تھی۔ میں نے اسی طرح ایک اور چیونٹی چور کو بھی پکڑا۔ بلا شبہ وہ مجھے غور سے دیکھ رہی تھی۔ میں کچن میں جہاں بھی گئی اس چیونٹی نے اپنا رخ اس طرح بدلا تا کہ اس کی نظریں واضح طور پر مجھ پر جمی رہیں۔ اگر میں اس کے قریب آتی، اس کی طرف دیکھتی تو وہ اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑی ہو کر اپنی ایک مونچھ سے گلاس پر گویا دستک دیتی – اس کی دوسری مونچھ گلاس سے دب کر مڑ گئی تھی۔ میں نے اس سے کہا میں تمہیں اس بار اس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم میری چینی نہ چرانے کا وعدہ نہ کرو۔ ٹک، ٹک، ٹک میں نے اس وقت محسوس کیا کہ یہ چیونٹی میرے فلیٹ میں شروع میں آنے والی چیونٹیوں کے بر عکس کافی زیاہ بڑی تھی۔ اس کا جسم چمک دار اور سیاہ تھا جیسے اس پر تازہ تازہ بوٹ پالش کی گئی ہو۔ بڑی جسامت کے باعث اس کا چہرہ انسانوں جیسا لگ رہا تھا اور میں مجھے اسے گلاس میں قید رکھنا اچھا محسوس نہیں ہوا۔ میں نے اس سے کہا میں تمہیں جان سے مار سکتی ہوں مگر میں ایسا نہیں کروں گی۔ آئو ایک معاہدہ کرتے ہیں۔ میں ہر رات کو ایک صاف پلیٹ میں تھوڑی سی چینی تمہارے لیے رکھ دیا کروں گی جسے تم کھا سکتی ہو۔ مگر ہاں پھر میری چیزوں کو نہیں چھیڑنا۔ چیونٹی نے گلاس کے شیشے کے پیچھے سے مجھے غور سے دیکھا۔ ’اوکے ۔ ۔ ۔ ؟‘ ٹک، ٹک، ٹک ایک گہری سانس بھر کر میں نے گلاس اٹھا لیا۔ چیونٹی کی صحیح مونچھ ایک لمحے کے لیے لہرائی اور اس کے بعد وہ بھاری قدموں سے چلتی ہوئی چولہے اور بینچ کے درمیان موجود دراڑ میں غائب ہو گئی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس نے میری بات سمجھ لی تھی یا نہیں مگر میری ترکیب کار گر رہی۔ چیونٹیوں نے دروازے کے باہر رکھی پلیٹ سے چینی کھانا شروع کر دی تھی۔ رات کے وقت چیونٹیاں پلیٹ کے گرد اکٹھا ہو جاتیں اور پھر قطار کی صورت میں چینی کے تمام ذرے اٹھا کر اپنے بل میں لے جاتیں۔ شاید وہ اس طریقے سے پوری طرح مطمئن تھیں کیوں کہ میں نے انہیں پھر کبھی کچن میں نہیں دیکھا۔ میں اپنی اس ترکیب پر خود ہی ہنس پڑی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ چیونٹیوں کا ننھا سا مافیا ریکٹ تھا۔ جب تک میں انہیں با قاعدگی سے ان کا حصہ دیتی رہوں گی وہ مجھے پریشان نہیں کریں گی۔ اگر چہ میں ’معاہدے‘ سے پوری طرح مطمئن تھی مگر کسی کے پیٹ میں مروڑیں اٹھ رہی تھیں۔ میرا پڑوسی چارلس چارلس ایک ضعیف یورپی باشندہ تھا اور اس کے پاس مجھ جیسے غریب لوگوں کے لیے کبھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ اگر میں اپنا سستا تھا ٹیپ ریکارڈر ذرا اونچی آواز میں چلاتی تو وہ میرے دروازے پر اپنی چہل قدمی کی چھڑی سے بری طرح دستک دیتا تھا اور مجھے مجبوراً آواز کم کرنا پڑتی۔ میں حتیٰ کے مناسب آواز میں ٹی وی بھی نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے میں عام طور پر اپنے گھٹیا فون پر ہیڈ سیٹ لگا کر سرقہ شدہ فلمیں دیکھا کرتی تھی۔ اس وقت باہر دروازے پر شور و غل کا سبب چارلس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا جو اپنی غصیلی آواز میں کسی چیز پر چیخ رہا تھا۔ دروازہ کھولتے ہی میں نے دیکھا کہ وہ میری دہلیز پر کھڑا تھا۔ اس نے لات مار کر چیونٹی کی پلیٹ کو توڑ دیا تھا اور موٹی موٹی چیونٹیوں کے مردہ جسم میرے پھٹے پرانے ڈور میٹ پر پڑی ہوئے تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر چلایا ’احمق سیاہ فام ۔ ۔ ۔ جاہل غلیظ وحشی لڑکی ۔ ۔ ۔


آج 2017 میں بھی یورپی خون میں موجود نسلی برتری کا نشہ دیکھیے


’شام بخیر چارلس ۔ ۔ ۔‘ ’بے وقوف عورت تم ان چیونٹیوں کو کیوں کھلا پلا کر پال رہی ہو؟ اس طرح یہ گھر سے باہر رہتی ہیں میں نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی مگر اس نے میری بات کاٹ دی۔ ’میں تمہارے سفید مالک مکان سے اس بارے میں شکایت کروں گا۔ وہ تمہاری غلیظ آنتیں کھنچوائے گا اور تم اس ہفتے کے خاتمے سے پہلے اس عمارت سے باہر ہوگی۔ میرے الفاظ ذہن نشین کر لو‘۔ ’شب بخیر چارلس‘ میں نے سختی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور اس کے منہ پر اپنا دروازہ دے مارا۔ وہ کچھ دیر تک اس بارے میں باہر کھڑا بکواس کرتا رہا مگر پھر خاموش ہو کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا۔ اگلی صبح تمام مردہ چیونٹیوں کے جسم غائب تھے اور ایک مکمل طور پر صحیح سلامت پلیٹ صفائی کے ساتھ میرے ڈور میٹ پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد مجھ سے مالک مکان یا چارلس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ مگر میں نے مصیبت بول لینے کے خوف سے دوبارہ چیونٹیوں کو چینی ڈالنے کی جرات نہیں کی۔ اس واقعے کے تقریباً تین ہفتوں بعد ایک موٹی سی چیونٹی کچن کی بینچ کے پیچھے سے نکل کر آئی اور میرے چائے کے کپ کے برابر میں آ کر بیٹھ گئی۔ اپنی واحد صحیح سلامت مونچھ سے اس نے چائے کے کپ کو چھوا۔ ٹک، ٹک، ٹک اس کے بعد یہ بے فکری سے لڑکھڑا کر چلتی ہوئی اسی دراڑ میں غائب ہو گئی جہاں سے آئی تھی۔ اس رات میں نے چینی کی پلیٹ دروازے کے باہر رکھی اور اگلی صبح وہاں ایک سرپرائز میرا منتظر تھا۔ چینی کی خالی پلیٹ کے وسط میں ایک انتہائی خوب صورت دودھیا رنگت کا آویزہ رکھا ہوا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ ہڈیوں کو تراشنے کی کوشش کی تھی مگر میں اپنی تمام تر فنی صلاحیت کے با وجود اس میں کام یاب نہیں رہی تھی۔ جس کسی نے بھی یہ آویزہ تیار کیا تھا بلا شبہ وہ دنیا کا ایک عظیم ترین فن کار تھا۔ یہ ایک بے نقص دہرا چکر دار آویزہ تھا جس پر نہایت دل کش باریک باریک نقش بنے ہوئے تھے۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے میرے آبا و اجداد پہنا کرتے تھے۔ اس کے بعد مجھے ہر صبح پلیٹ میں اسی طرح کے آویزے ملنے لگے مگر اب ملنے والا ہر آویزہ پہلے والے سے کہیں دل کش اور نہایت قیمتی ہوتا ہے۔ یہ آویزے ہفتہ بازار میں نہایت مہنگے داموں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو اب تمام عمر مہنگی چینی با آسانی کھلا سکتی ہوں۔ پولیس کو کبھی نہیں پتہ چلا کہ چارلس کے ساتھ کیا ہوا۔ پولیس کے مطابق فرانزک ماہرین بھی کچھ پتہ نہیں چلا سکے۔ اس کے فلیٹ میں زبردستی گھسنے اور کش مکش کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ یورپی بوڑھا بس بیٹھے بیٹھے غائب ہو گیا ہو۔ نیا پڑوسی ہفتے کے روز فلیٹ میں آیا۔ ایک تلخ چہرے والی بڑھیا۔ پہلی ہی رات جب میں نے اپنا ٹی وی آن کیا تو اس نے بری طرح دیواروں پر لاتیں مارتے ہوئے ٹی وی کی شان میں نا قابل تحریر الفاظ ادا کیے۔ میرے لیے اس وقت کا انتظار کرنا مشکل ہو رہا ہے جب میں اپنے ننھے منے دوستوں کے طفیل گوری رنگت کی بڑھیا کو تھوڑا تھوڑا کر کے ہفتہ بازار لے جایا کروں گی ۔ ۔ ۔ ‘

ختم شد