A Unique Paranormal News Read in Urdu

امریکا – گھوڑا باندھا باہر ِملا صبح بلند دو چھتی سے

خدا کی بنائی یہ حسین کائنات اور پھر خود ہماری دنیا ایسے ایسے رازوں سے بھری ہے جن کی کوئی سائنسی وضاحت پیش کرنا ممکن نہیں ہوتی اور اکیسویں صدی کا انسان ان واقعات کے سامنے اپنی تمام تر ’ترقی‘ کے باوجود اپنے ہی بال نوچنے کے سوا کچھ اور نہیں کر پاتا۔

گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی واقعہ امریکی ریاست ساؤتھ کیرولینا میں پیش آیا جہاں رات میں زمین پر باندھا گیا گھوڑا صبح زمین سے بہت بلند بھوسا رکھنے کی دوچھتی سے ملا اور عام لوگ تو کیا ماہرین تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ایسا ہوا کیسے!


کیا اس منوں وزنی گھوڑے کو کہیں کسی ’ماورائی‘ طاقت نے تو شرارتاً زمین سے اٹھا کر دوچھتی میں بند نہیں کر دیا؟


بین الاقوامی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ساؤتھ کیرولینا کے مشرقی قصبے ہوری کاؤنٹی کے آگ بجھانے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ اتوار کی صبح قصبے میں لورس نامی مقام پر بنے جانوروں کے ایک فارم سے اطلاع ملی کہ وہاں ایک گھوڑا ناقابلِ وضاحت انداز میں اپنے اصطبل سے نکل کر زمین سے کافی بلندی پر بنی بھوسا رکھنے کی دوچھتی پر ’چڑھ‘ کر وہاں پھنس گیا ہے کیوں کہ وہاں واپسی کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے گھوڑے کو نیچے اتارا جا سکے جب کہ اسے رات میں باقاعدہ اصطبل ہی میں باندھا گیا تھا۔

یہ اطلاع موصول ہوتے ہی فائربریگیڈ کے امدادی کارکن بھاری بھرکم سازوسامان کے ساتھ مذکورہ مقام تک جا پہنچے مگر وہاں حالات دیکھتے ہوئے گھوڑےکو عارضی طور پر بے ہوش کرنے کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر کو بھی طلب کرنا پڑا جس کے بعد لکڑی کا ایک پلیٹ فارم سا بنایا گیا اور پھر اس کی مدد سے وزنی مگر بے ہوش گھوڑے کو مشینی طاقت سے نیچے اتارا گیا۔



اے پی کے مطابق گھوڑےکو نیچے اتارنے کے بعد نزدیکی چراگاہ میں چھوڑ دیا گیا جہاں وہ اب بالکل صحیح حالت میں گھاس چرتا پھر رہا ہے تاہم امدادی کارکن اور ماہرین تاحال یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ گھوڑا دوچھتی میں پہنچا کیسے کیوں کہ اگرچہ اس کے ساتھ وہاں کام کرنے والوں کے چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی نما زینہ بنا ہے مگر وہ اتنا تنگ ہے کہ اس پر انسانوں تک کا آرام سے چڑھنا دشوار ہے کجا کہ ایک وزنی بھاری بھرکم گھوڑا خود بہ خود اپنے اصطبل سے ’بااردہ‘ نکل کر دوچھتی میں چڑھ کر وہاں خود کو پھنسا بیٹھے۔

اگر آپ کے ذہن میں اس پُراسرار واقعے کی کوئی سائنسی توجیہہ ہے تو نیرنگ کو آگاہ کرنا نہ بھولیے۔