About Aasim Shams Poet

عاصؔم شمس کے بارے میں‌

 عاصؔم شمس کی بطور شاعر منفرد ترین خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کی چوتھی دہائی میں اچانک ’پیرانارمل‘ طور پر لکھنا شروع کیا کیوں کہ ان کا اردو شاعری کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے اور بقول خود انہوں نے اتنی ہی اردو شاعری پڑھی ہے جتنی نصاب میں ’جبراً‘ پڑھائی جاتی ہے۔ عاصؔم کی پیدائش 1973ء کراچی کی ہے اگرچہ وہ اب اس شہر میں مقیم نہیں۔ عاصؔم نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا ہے اور ان کی حقیقی دل چسپی انگریزی اور فارسی شاعری میں رہی ہے۔ عاصؔم تحریر، تراجم، لغت سازی، ادارت اور صحافت کی ذیل میں گزشتہ بیس سالوں سے ملک کے متعدد چوٹی کے اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں جن میں جنگ اخبار، دی نیوز، آغا خان یونی ورسٹی اور آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس وغیرہ چند ایک ہیں جب کہ عاصؔم کی اصل پیشہ ورانہ مہارت انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی تراجم میں پنہاں ہے۔



عاصؔم کی شاعری میں روایتی رنگ نمایاں ہے اور انداز قدیم ہے مگر چھوٹی بحروں کا استعمال اور زبان و بیان کی سادگی اپنی مثال آپ ہے جب کہ عروض پر انہیں مہارت حاصل ہے۔ عاصؔم کی شاعری میں جہاں جہاں مشکل پسندی ہے وہاں پڑھنے والوں پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ علمیت اور غوروخوض سے شغف رکھتے ہوں کیوں کہ وہاں اکثر الفاظ کی پیچیدگیاں، ماورائی جہات کی منظرکشی، مابعدالطبیعیاتی اسلوب، اندرونی کیفیات کا اظہار، فکر کی گہرائی، عقلیت پسندی اور سب سے بڑھ کر تجریدی تخیل کے باعث سادہ سی بات بھی مشکل تر ہو جاتی ہے تاہم ان کے کلام کا زیادہ تر حصہ سہل زبان ہی میں ہے جسے سمجھنا ہر کسی کے لیے آسان ہے اور نظموں کو تو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ عاصؔم کی شعر گوئی مشکل لفظی بندشوں سے شروع ہو کر تیزی سے اظہار خیال کی سادگی اور زبان کی برجستگی کی طرف گام زن ہے۔ عاصؔم غزلوں اور نظموں کی علاوہ قطعات اور اشعار بھی لکھتے ہیں مگر ان کی ایک اور انفرادیت ثلاثیاں اور انگریزی شاعری اور نثر کے شہہ پاروں کے با محاورہ تراجم ہیں جنہیں پڑھ کر اصل پر نقل کا گماں ہوتا ہے۔ عاصؔم شمس نے کبھی کسی مشاعرے میں شرکت کی ہے اور نہ ہی ان کا روایتی طور پر اصلاح کے لیے کوئی استاد ہے مگر پھر بھی نقادوں کے مطابق ان کی شاعری کم از کم دو صدی قدیم محسوس ہوتی ہے جس کے لیے عاصؔم شمس دل کی گہرائیوں سے خالقِ کائنات کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اپنی اس ’شعری تنہائی‘ کا بحر ہزج مثمن سالم (مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن) میں اس طور اظہار کیا ہے . . .


جدا انداز ہے میرا انوکھی میری باتیں ہیں

غمِ افکار خود عاصؔم مجھے لکھنا سکھاتا ہے