About Fyyaz Siddique Poet

فیاؔض صدیقی کے بارے میں

Resident Editor Literature (Ca)

عہدِ جدید کے مشکل پسند مگر منفرد لہجے کے شاعر فیاؔض صدیقی نے 1969ء میں حیدرآباد دکن کے معرف ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ فیاؔض صدیقی کے آباء و اجداد میں اردو نثر اور شاعری کے ممتاز قلم نگار شامل ہیں جن کا سلسلہ مغل بادشاہ آصف جاہ تک پہنچتا ہے اور بلاشبہ صدیقی نے اپنے اسلاف کی روایت کو آج بھی قائم رکھا ہوا ہے۔


فیاؔض صدیقی کینیڈا میں نیرنگ کے مدیر برائے ادب و سخن ہیں جب کہ ان کا شمار بھی نیرنگ کے اعزازی بانیوں میں ہوتا ہے


فیاؔض صدیقی کے پرکھوں میں انیسویں صدی کے معروف شاعر امین الدین کا نامِ گرامی بھی موجود ہے۔ فیاؔض صدیقی کو شاعری اور قلم نگاری کے جواہر ورثے میں ملے ہیں اور ان کی شاعری اور لب و لہجے میں دکن کی تہذیبی شاعری کے تمام اسلوب نمایاں ہیں مگر انہیں غالؔب اور دردؔ کی طرح مشکل پسندی سے شدید تر جذباتی لگاؤ ہے۔ فیاؔض صدیقی کی شاعری میں زیادہ تر چاشنی عشقِ حقیقی کی ملتی ہے اور ان کا قلم انسانی نفسیات کی گرہوں کو کھولتے ہوئے موجودہ دور میں انسانوں کی اخلاقی و سماجی حالت پر خون کے آنسو روتا دکھائی دیتا ہے۔



صدیقی کا لہجہ اور لفظیات پر کلاسیکی رنگ بہت گہرا ہے لیکن اس کے باوجود وہ معانی کی نئی جہات دریافت کرنے میں کامیاب ہوۓ ہیں۔ فیاؔض اگرچہ متنوع مشکل اور اچھوتی زمینوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اس میں ناسؔخ کی طرح محض لفظی پہلوانی نہیں دکھاتے کیوں کہ ان کی کوشش یہی رہی ہے کہ اندازِ کہنہ میں بھی نۓ مضامین باندھے جائیں جو دنیائے ادب میں بڑی کامیابی ہے۔ فیاؔض اپنے مشاہدات، جذبات اور محسوسات کو خوش اسلوبی سے صفحہ قلم بند کرنے میں گویا یدِطولیٰ کے حامل ہیں جب کہ لفظوں کے رچاؤ کے ساتھ جذبات اور احساسات کی شدت کے رنگوں کو اجاگر کرنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے۔ ان کی نظموں کا رنگ منفرد ہے اور انہوں نے اگر یوں ہی محنت سے سفر جاری رکھا تو کامیابی قدم چومتے دکھائی دیتی ہے۔ فیاؔض صدیقی کے شعروں کو پڑھتے ہوئے صاف لگتا ہے کہ یہ قافیہ پیمائی یا آورد نہیں بلکہ بے ساختہ آمد کے جواہر آب دار ہیں جہاں تعداد نہیں بلکہ معیارِ بے مثل کا سکہ بڑھ کر بولتا ہے کیوں کہ فیاؔض صدیقی کبھی بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان کی ایک اور خوبی اوزان اور بحر پر مکمل عبور ہے اور سنگلاخ زمینوں اور نادر ترین بحروں میں طبع آزمائی ان کے نزدیک کسی مشغلے سے کم نہیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام تر تعلیم و تربیت انگریزی میں پانے اور اب نیورو سائنس میں کینیڈا کے معروف سائنس دان کی حیثیت سے برسرروزگار ہونے کے باوجود عہدِرفتہ کی اردو گویا ان کے گھر کی لونڈی ہے اگرچہ یہ  اس کے ساتھ لونڈیوں والا سلوک نہیں کرتے بلکہ اس زبان کو اپنے دل کی ملکہ بنائے ہوئے ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ فیاؔض صدیقی کی رسمی تعلیم عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد دکن اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی ہے جب کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کینیڈا کی ویسٹرن یونی ورسٹی سے حاصل کی ہے۔ فیاؔض صدیقی فی الوقت کینیڈا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ نیرنگ دعاگو ہے خدا کرے زورِ قلم اور بھی زیادہ۔