Adam Smith | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | تیسواں باب | آدم اسمتھ

آدم اسمتھ معاشی نظریے کے اہم تخلیق کاروں میں سے ایک ہے جو 1723ء میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے کرکیلڈی میں پیدا ہوا۔ زمانۂ نوجوانی میں اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور 1751ء سے 1764ء تک گلاسگو یونی ورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر رہا۔ اس دوران اس نے اپنی پہلی کتاب ’اخلاقی جذبات کا نظریہ‘ شائع کی جس سے اسے علماء کے حلقوں میں ممتاز مقام حاصل ہوا۔ تاہم اس کی عظیم تصنیف ’اقوامِ عالم کی دولت کے اسباب و نوعیت کی تحقیق‘ اس کی شہرتِ دوام کا اصل سبب ہے جو 1776ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کو فوری طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور پھر تمام عمر شہرت اور عزت اسمتھ کے گھر کی باندی بنی رہی۔ اسمتھ کبھی رشتۂ ازدواج سے منسلک نہیں ہوا اور 1790ء میں اس دنیا سے لاولد گیا۔ اسمتھ واحد شخص نہیں تھا جس نے معاشی نظریے کے لیے اپنی زندگی وقف کی اور اس کے پیش کردہ زیادہ تر نظریات پہلے سے موجود تھے مگر وہ پہلا شخص تھا جس نے ان تصورات کو معیشت کے ایک جامع اور مربوط نظریے کے روپ میں پیش کیا جو بجا طور پر مستقبل میں اس شعبے کے لیے بنیادوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بلا خوف تردید ’دولتِ عالم‘ کو سیاسی معیشت کے جدید علم کا نقطۂ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس نے متعدد سابقہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ اسمتھ نے قدیم تجارتی نظریے کے خلاف ٹھوس دلائل دیے۔ یہ نظریہ ایک ایسی ریاست کی افادیت پر زور دیتا تھا جس کے پاس وافر سونے کے ذخائر ہوں۔ اسی طرح اسمتھ نے اس کتاب میں نظریۂ زمین پرستی کی بھی تردید کی جس کے تحت زمین کو اصل دولت سمجھا جاتا تھا اور اس کے بجائے محنت کی اصل اہمیت کے حق میں دلائل پیش کیے۔ اسمتھ نے پیداوار میں اضافے کی گراں اہمیت پر زور دیا جسے محنت کی تقسیم کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا۔ اسمتھ نے ان تمام ریاست کی ان تمام دقیانوسی اور بے ضابطہ بندشوں پر بھی تنقید کی جو صنعتی وسعت کی راہ میں دیوار بن کر کھڑی تھیں۔ دولت عالم؍ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ بظاہر انتشار سے پاک منڈی درحقیقت پیداوار کو قابو میں رکھنے کا ایک خود کار نظام ہے جو خود بہ خود اس پیداوار کی اقسام اور مقدار کا تعین کرتا ہے جس کی بازار میں شدید ضرورت و مانگ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ بازار میں کسی مطلوبہ شے کی رسد میں شدید کمی ہے۔ فطری طور پر اس کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور اونچی قیمت تیار کنندگان کے لیے زیادہ منافع کا سبب بنے گی۔ بلند منافع کی وجہ سے دیگر تیار کنندگان بھی اس شے کو تیار کرنا چاہیں گے۔ چناں چہ پیداوار میں نتیجتاً اضافے سے بازار میں اس شے کی اصل کمی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں متعدد تیار کنندگان کے مابین مسابقت کے نتیجے میں اس شے کی رسد میں اضافے سے اس شے کی قیمت کم ہو کر اصل سطح مثلاً پیداواری لاگت تک آ جائے گی۔ یہاں کسی نے بھی معاشرے کی مدد کی خاطر جان بوجھ کر اس شے کی قلت کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی مگر اس کے باوجود مسئلہ خود بہ خود حل ہو گیا۔ اسمتھ کے مطابق ہر فرد نے ’صرف اپنا فائدہ تلاش کیا‘ مگر گویا کہ


’ایک نادیدہ ہاتھ نے ہر ایسے شخص کو اس قلت کے خاتمے پر اس طرح مجبور کیا جس میں اس کے ارادے کا ذرہ برابر بھی عمل دخل نہیں تھا۔ اپنے منافع کی تلاش میں ہر شخص کثرت سے زیادہ کام یابی کے ساتھ اس طرح معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے جو دوسری صورت میں ارادتاً ممکن نہیں ہوتی‘۔ (دولتِ اقوامِ عالم، جلد چہارم، باب دوم)


تا ہم یہ ’نادیدہ ہاتھ‘ اس وقت درست طریقے سے کام نہیں کرتا جب کھلی مسابقت پر پابندیاں عائد ہوں۔ اسی لیے اسمتھ آزاد تجارت پر یقین رکھتا تھا اور اس نے بلند محصولات کے خلاف ٹھوس دلائل دیے۔ درحقیقت وہ تجارت اور آزاد منڈی میں مسلسل ریاستی مداخلت کے خلاف تھا۔ اسمتھ کا دعویٰ تھا کہ ایسی مداخلتوں سے ہمیشہ معاشی کار کردگی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بالآخر عوام کو مہنگائی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسمتھ ’نظریۂ عدم مداخلت‘ یعنی یہ تصور کہ حکومت کی مداخلت کے بغیر مسابقت کی حرص سے انفرادی وسماجی بہبود کا حصول اچھا ہوتا ہے کا خالق نہیں ہے مگر اس نے سب سے بڑھ کر اس نظریے کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ آدم اسمتھ نے زیادہ تر کاروباری مفاد کا دفاع کیا ہے مگر یہ ایک غلط تصور ہے۔ اسمتھ نے مسلسل ٹھوس دلائل کے ساتھ کاروباری اجارہ داری کا رد کرتے ہوئے اس کے مکمل خاتمے پر زور دیا۔ بلاشبہ اسمتھ حقیقی تجارتی معاملات کے حوالے سے کوئی کل کا بچہ نہیں تھا۔


اقوامِ عالم کے مطابق: ’ایک ہی پیشے سے متعلق افراد خال خال ہی باہم ملاقات کرتے ہیں مگر (جب بھی یہ ملاقت ہو تو) ان کی ملاقاتوں کا اختتام عوام کے خلاف سازش یا کسی نہ کسی طرح قیمتوں میں اضافے کی حکمتِ عملی پر ہوتا ہے‘۔


چناچہ آدم اسمتھ نے اتنے جامع اور مربوط انداز میں اپنی معاشی فکر کا نظام پیش کیا کہ محض چند عشروں میں معیشت کے سابقہ مکاتبِ فکر متروک ہو گئے اور بتدریج ان کے تمام اچھے نکات کو اسمتھ کے نظریے میں سمو دیا گیا کیوں کہ اس نے نہایت باقاعدہ طریقے سے وہاں موجود نقائص کو آشکار کر دیا تھا۔ اسمتھ کے جانشینوں نے جن میں تھامس مالتھس اور ڈیوڈ رکارڈو ممتاز حیثیت رکھتے ہیں بنیادی خاکے میں کوئی تبدیلی بغیر اس نظام کی وضاحت وتصریح کے ساتھ اسے وہ شکل دی جو آج کلاسیکی معاشیات کے نام سے معروف ہے۔ دولت عالم میں اسمتھ نے ایک حد تک آبادی میں اضافے کی بابت مالتھس کے نظریات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ اگر چہ جدید معاشی نظریے میں نئے تصورات اور طریقوں کا اضافہ کیا گیا ہے مگر بڑی حد تک یہ کلاسیکی معاشیات میں فطری اضافہ اور توسیع ہی ہے۔ اگر چہ رکارڈو اور کارل مارکس دونوں کا اصرار ہے کہ آبادی میں اضافے سے اجرت میں محض بقائے ذات کی سطح سے اوپر اضافہ رک جاتا ہے – اجرتوں کا نام نہاد آہنی قانون – مگر اسمتھ نے کہا کہ پیداوار میں اضافے کی صورتوں میں اجرتوں میں بالضرور اضافہ ہو گا۔ چناں چہ آج ثابت ہو چکا ہے کہ اسمتھ کا یہ نقطۂ نظر بالکل درست تھا جب کہ رکارڈو اور مارکس دونوں ہی صریح غلطی پر تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اپنے تصورات میں اسمتھ کتنا درست یا غلط تھا یا یہ کہ آنے والے مفکرین پر اس کی سوچ کے کیا اثرات مرتب ہوئے اہم ترین بات یہ ہے کہ قانون سازی اور ریاستی حکمت عملیوں پر اسمتھ کے اثرات کیا ہیں۔ دولت عالم کو نہایت مہارت کے ساتھ قابلِ فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے جس کا تمام دنیا میں بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اسمتھ کے کاروبار اور تجارتی معاملات میں ریاستی مداخلت کے خلاف دلائل اور اس کی کم محصولات اور آزادانہ تجارت کی حمایت نے 19ویں صدی میں ابتدا سے لے کر انتہا تک ریاستی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ ان پالیسیوں پر اس کے اثرات موجودہ دور میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ چوں کہ اسمتھ کے بعد معاشی نظریے نے بڑے پیمانے پر ترقی  کی ہے اور اس کے بعض نظریات متروک بھی ہوئے ہیں اس لیے اسمتھ کی اہمیت کو کم کرنا بالکل دشوار نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف اسمتھ ہی نے معاشی نظریے کو ایک منظّم ومربوط علم کی شکل دی اور یہ ہی وجہ ہے کہ فکرِانسانی کی تاریخ میں اس کی شخصیت بلند تر قد وقامت کی حامل ہے۔