Adolf Hitler by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | 39واں‌ باب | اڈولف ہٹلر | مائیکل ایچ ہارٹ

میں اس کتاب میں تمام تر نفرت کے با وجود ہٹلر کا تذکرہ کرنے پر مجبور ہوں کیوں کہ اس کی شخصیت کے اثرات بہت وسیع مگر نہایت تباہ کن ہیں۔

اگرچہ میں ایسے کسی شخص کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا جس کی اہمیت اس امر میں پنہاں میں ہے کہ وہ 35 ملین افراد کا قاتل تھا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہٹلر نے لوگوں کی عظیم ترین تعداد کو بری طرح متاثر کیا۔

اڈولف ہٹلر آسٹریا کے شہر براؤنا میں 1889 میں پیدا ہوا۔

نوجوانی میں وہ ایک کام یاب مصور تھا اور جلد ہی اس کے ذہن میں جرمن قوم پرستی کا آسیب سما گیا۔

اس نے پہلی جنگِ عظیم میں جرمن افوج کے ساتھ زخم کھائے اور اسے شجاعت کے دو تمغے عطا کیے گئے مگر ہٹلر جرمنی کی شکست سے غیض کی حالت میں ششدر رہ گیا۔

1919 میں جب اس کی عمر 30 سال تھی وہ میونخ میں ایک چھوٹی دائیں بازو کی جماعت میں شامل ہو گیا جس نے جلد اپنا نام بدل کر نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی رکھ لیا جسے اختصار میں نازی پارٹی کہا جاتا ہے۔

تعجب ہے کہ صرف دو برسوں کے اندر ہٹلر اس پارٹی کا سربراہ بن گیا۔

ہٹلر کی قیادت میں نازی پارٹی نے اپنی طاقت میں اضافہ کیا اور نومبر 1923 میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جس میں اسے ناکامی ہوئی اور ہٹلر کو غداری کے الزام میں گرفتار کرنے کے  بعد سزا سنا دی گئی مگر پھر تعجب ہے کہ وہ صرف ایک سال سے کم عرصے میں جیل سے رہا بھی ہو گیا۔

1928 میں نازی پارٹی ابھی بھی ایک چھوٹی جماعت تھی مگر عظیم کساد بازاری کے دور میں جرمن عوام میں موجودہ سیاسی پارٹیوں سے بے زاری پیدا ہوئی جس کے باعث نازیوں نے تیزی سے طاقت حاصل کی اور پھر تعجب ہے کہ جنوری 1933 میں صرف 44 سال کی عمر میں ہٹلر جرمنی کا چانسلر بن گیا۔

یہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد ہٹلر نے تیزی سے آمریت قائم کی اور سرکاری طاقت کے ذریعے تمام تر مخالفتوں کا سر کچل دیا۔

تاہم یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ عمل عوامی آزادی اور مجرموں کے حقِ دفاع کے بتدریج خاتمے پر مشتمل تھا۔

نہیں یہ سب کچھ بہت تیزی سے ہوا اور نازیوں نے مقدمات وغیرہ چلانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

چناں چہ اکثر سیاسی مخالفوں کو مارا پیٹا گیا یا اسی وقت قتل کر دیا گیا۔

پھر بھی عالمی جنگ سے پہلے کے سالوں میں ہٹلر نے بڑے پیمانے پر حقیقی عوامی حمایت حاصل کر لی کیوں کہ اس نے بے روز گاری کا خاتمہ کیا اور معاشی خوش حالی کا آغاز کیا۔

ہٹلر نے اس کے بعد جرمنی کو ان فتوحات کی راہ پر ڈال دیا جنہوں نے جنگِ عظیم دوم کا سبب بننا تھا۔

تاہم ہٹلر نے اولین فتوحات جنگ کے بغیر حاصل کیں۔

دراصل برطانیہ اور فرانس اس وقت اپنے مالی مسائل میں گھرے ہوئے تھے اور شدت سے امن کے خواہاں تے۔ چناں چہ ان دونوں نے اس وقت کوئی مداخلت نہیں کی جب جرمنی نے ورسیلز معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوج کو ازسرنو منظّم کرنا شروع کر دیا، نہ ہی اس وقت جب جرمن دستوں نے مارچ 1936 میں رہائن لینڈ پر محاصرے کے بعد قبضہ کیا اور نہ ہی اس وقت جب مارچ 1938 میں ہٹلر نے آسٹریا کو بزور طاقت جرمنی کا حصہ بنا دیا۔

یہ دونوں ممالک اس وقت بھی خاموش رہے جب ستمبر 1938 میں جرمنی نے سوڈیٹن لینڈ پر قبضہ کیا جو چیکوسلواکیہ کا مضبوط قلعہ بند سرحدی علاقہ تھا۔

میونخ پیکٹ کے نام سے ہوئے ایک عالمی معاہدے کی رو سے برطانیہ اور فرانس دونوں نے ’امن کی امید کے  نام‘ پر چیکوسلواکیہ سے نظریں چرا لیں اور چند ہی ماہ میں ہٹلر نے باقی ماندہ ملک پر بھی قبضہ کر لیا۔

ہر مرحلے پر ہٹلر نے اپنے اقدامات کے جواز گھڑے اور دھکمی دی کہ اگر کسی نے اس کی راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش کی تو وہ جنگ شروع کر دے گا اور ایسے ہر مرحلے پر مغربی ’جمہوریائیں‘ اپنے اپنے بلوں میں چوہوں کی طرح دبک گئیں؛ تاہم برطانیہ اور فرانس نے پولیںڈ کا دفاع کرنے کی کوشش کی جو ہٹلر کا اگلا نشانہ تھا۔

مگر اس سے پہلے ہٹلر 1939 نے جرمن حکومت کو محفوظ کرنے کے لیے اسٹالن کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کا معاہدہ کر لیا تھا۔

در اصل یہ ایک مکارانہ اتحاد تھا جس میں دونوں آمروں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ پولینڈ کو کس طرح آپس میں بانٹیں گے۔

چناں چہ 9 روز بعد جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا اور اس کے 16 دن بعد سوویت یونین نے بھی ایسا ہی کیا۔

اگر چہ برطانیہ اور فرانس دونوں نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا مگر پولینڈ کو بہت تیزی سے شکست ہوئی۔

1940 ہٹلر کے لیے سب سے ’مبارک‘ سال تھا۔

اس سال اپریل میں جرمن عفریت نے ڈنمارک اور ناروے ہڑپ کر لیے اور مئی میں ہالینڈ، بیلجییئم اور لکسم برگ کو پیٹ میں اتار لیا۔

جون میں فرانس نے ہتھیار ڈال دیے مگر معروف ’جنگِ برطانیہ‘ میں انگریزوں نے جرمنوں کے ہوائی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے باعث ہٹلر کبھی بھی برطانیہ پر پیش قدمی نہیں کر پایا۔

اپریل 1941 میں جرمن فوج نے یونان اور یوگوسلاویہ کو روند ڈالا اور جون 1941 میں ہٹلر نے روس کے ساتھ ’معاہدۂ عدم جارحیت‘ کے ٹکڑے کر دیے اور روس پر بھی حملہ کر دیا۔

اس حملے میں جرمن فوج نے روس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا مگر وہ سردیوں سے قبل روسی فوج کا خاتمہ کرنے میں نا کام رہی۔

ہٹلر نے جو اس وقت فرانس اور برطانیہ سے برسرپیکار تھا پھر بھی دسمبر 1941 میں امریکا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا جس کے کچھ روز بعد جاپانیوں نے پرل ہاربر میں امریکی بحری اڈے پر حملہ کیا۔

1942 کے وسط میں جرمنی یورپ کے اتنے وسیع حصے پر قابض تھا جو اس سے قبل تاریخ میں کوئی دوسری قوم نہیں کر پائی تھی جب کہ جرمن جھنڈا شمالی افریقا کے زیادہ تر حصے میں بھی لہرا رہا تھا۔

مگر جنگ میں فیصلہ کن موڑ 1942 کے آخری نصف حصے میں آیا جب جرمنی کو مصر میں ال المین اور روس میں اسٹالن گارڈ کی جنگوں میں ہزیمت اٹھانا پڑی۔

ان شکستوں کے بعد جرمن فوج بتدریج زوال کا شکار ہوتی گئی۔

اگر چہ اس وقت جرمنی کی شکست نوشتۂ دیوار بن چکی تھی مگر اس کے باوجود ہٹلر نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور بھاری جانی نقصانات کے باوجود وہ اسٹالن گراڈ کی شکست کے دو سال بعد تک لڑتا رہا مگر 1945 کے موسمِ بہار میں وقت کا تلخ فیصلہ سامنے آگیا۔

ہٹلر نے برلن میں اپریل 1930 کے روز ’خودکشی‘ کر لی جس کے سات روز بعد جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے۔

اپنے عروج کے دنوں میں ہٹلر نے اس طرح نسل کشی کی جس کی تاریخ میں  مثال نہیں ملتی۔

وہ ایک جنونی نسل پرست تھا اور یہودیوں سے دشمنی ونفرت گویا اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔

اس نے علی الاعلان تمام دنیا کے یہودیوں کو ختم کرنے کا قصد کیا۔

اس کے دورِحکومت میں نازیوں نے یہودیوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر عقوبت خانے تعمیر کیے جہاں موت دینے لیے اجتماعی گیس چیمبرز بنائے گئے تھے۔

نیز ہر اس علاقے سے جہاں ہٹلر کی فوج نے قبضہ کیا معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے جانور لے جانے والی گاڑیوں میں بھر بھر کر گیس چیمبروں میں لا ڈٓالا گیا۔

چناں چہ چند سالوں ہی میں 60 لاکھ یہودی موت کے گھاٹ اتر گئے مگر صرف یہودی ہی ہٹلر کے واحد دشمن نہیں تھے۔

اپنے دور حکومت میں اس نے بے شمار روسیوں اور خانہ بدوش قبائل کا قتلِ عام کیا اور ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہیں نسلی طور پر کمتر یا ریاست کا دشمن باور کیا گیا۔

کوئی یہ سمجھنے کی غلطی نہ کرے کہ یہ قتل وغارت گری اچانک ہوئی جس کا جنگی جذبے اور جنون میں مظاہرہ کیا گیا۔

ہر گز نہیں بلکہ ہٹلر کے عقوبت خانے اس نظم وضبط کے ساتھ بنائے گئے تھے جس طرح کسی بڑے تجارتی ادارے کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔

وہاں با قاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا، ان کا مخصوص کوٹا مقرر تھا اور مرنے والوں کی با قاعدہ تلاشی لی جاتی تھی تا کہ کوئی قابل قدر شے ضائع نہ ہونے پائے جیسے سونے کا دانت یا انگوٹھی وغیرہ۔

اکثر لاشوں سے صابن بھی بنائے جاتے تھے۔

ہٹلر اپنی اس قاتلانہ پالیسی پر اتنی شدت سے عمل پیرا تھا کہ جنگ کے اختتام پر جب جرمنی فوجی اور شہری ضرورت کے لیے ایندھن کی قلت ہوئی پھر بھی گاڑیوں میں بد قسمت لوگوں کو جانوروں کی طرح ڈھو کر لائے جانے کا سلسلہ منقطع نہیں کیا گیا جب ک ہ یہ ایک ایسا سلسلہ تھا جس کا کوئی فوجی فائدہ نہیں تھا۔

متعدد وجوہات کی بنا پر ظاہر ہوتا ہے کہ ہٹلر کی ’شہرت‘ زندہ رہے گی۔

اول یہ کہ وہ تاریخِ انسانی کا سب سے زیادہ شیطان صفت انسان مانا گیا ہے۔

اگر نیرو اور کالی گوالا جیسے انسان جن کی ذہنیت ہٹلر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی 20 صدیوں تک تاریخ کے صفحات پر سنگ دل ترین انسان کے روپ میں زندہ رہ سکتے ہیں تو بلاخوفِ تردید ہٹلر کے بارے میں – جس کی بد نامی تاریخ میں شیطان کی طرح غیرمتنازعہ ہے – کہا جا سکتا ہے کہ وہ لا تعداد صدیوں تک لوگوں کے ذہنوں میں آسیب کی طرح بھٹکتا رہے گا۔

اس کے علاوہ بلا شبہ ہٹلر وہ شخص ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کا آغاز کیا جو تاحال دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس سے یہ ’اعزاز‘ کوئی نہیں چھین سکتا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں شاید تیسری جنگِ عظیم نہ ہو اس لیے آج سے دو یا تین ہزار سال بعد بھی  جنگِ عظیم دوم کو تاریخ کے ایک اہم ترین واقعہ کے طور یاد رکھا جائے گا۔


علاوہ ازیں ہٹلر کا نام اس لیے بھی یاد رہے گا کیوں کہ اس کی تمام داستان بذاتِ خود نہایت غیر معمولی، پُراسرار اور ناقابلِ یقین طور پر دل چسپ ہے۔


ایک غیر ملکی – ہٹلر آسٹریا میں پیدا ہوا تھا نہ کہ جرمنی میں – جسے کوئی سیاسی تجربہ تھا اور نہ ہی جس کے پاس دولت تھی اور نہ ہی جو سیاسی مراسم رکھتا تھا محض 14 سال کے عرصے میں آخر کس طرح دنیا کی ایک ممتاز ریاست کا سر براہ بن جاتا ہے؟

یہ ایک بہت ہی ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔

ہٹلر بلا کا مقرر تھا اور جس طرح اس نے لوگوں کو انتہائی درجے کے اقدامات پر اکسایا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہٹلر تاریخِ انسانی کا سب سے زیادہ متاثر کن مقرر تھا۔

جس طرح ہٹلر نے ایک بار عہدہ حاصل کرنے کے بعد اپنی طاقت کا شیطانی استعمال کیا ممکن نہیں کہ کوئی اسے جلد بھول پائے۔

غالباً تاریخِ عالم میں کسی اور ہستی نے اپنے ہم عصروں پر وہ اثرات مرتب نہیں کیے ہیں جو ہٹلر نے کیے۔

ان کروڑوں لوگوں کے سوا جو ہٹلر کی بھڑکائی ہوئی جنگ کی آگ یا نازی کیمپوں میں لقمہ اجل بنے نہ جانے کتنے کروڑ لوگ ایسے ہیں جو بے گھر ہوئے یا جن کی زندگیاں جنگ کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے برباد ہو گئیں۔

ہٹلر کے اثرات کا جائزہ لیتے وقت دو پہلوؤں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔

اول اگر ہٹلر نہیں ہوتا تو زیاد تر جو کچھ ہوا وہ نہیں ہوتا۔

اس لحاظ سے ہٹلر چارلس ڈارون یا سمون بولیور سے قطعی مختلف ہے۔

بلاشبہ یہ سچ ہے کہ جرمنی اور یورپ کے حالات نے ہٹلر کو ہٹلر بننے کا موقع دیا۔

مثال کے طور پر اس کے فوجی یا یہودی مخالف لفظوں نے یقینا لوگوں کے دلوں کو گرمایا۔

پھر بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ 1920 یا 1930 میں جرمنوں کی اکثریت اس طرزِحکومت کی خواہاں تھی جس کا مظاہرہ ہٹلر نے کیا۔

نیز یہ بات بھی واضح ترین ہے کہ کوئی دوسرا جرمن رہ نما کبھی بھی ہٹلر کی طرزِفکر کا مظاہرہ نہیں کرتا۔

علاوہ ازیں جو کچھ ہٹلر نے کیا اس کی کبھی بھی کسی مبصر نے پیش گوئی نہیں کی تھی۔

دوم تمام نازی تر نازی تحریک صرف ایک فردِواحد یعنی ہٹلر کے زیرِاثر تھی۔

مارکس، لیین، اسٹالن اور دیگر لوگوں نے اشتراکیت کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا مگر جرمنی میں قومی سوشل ازم کو ہٹلر سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کوئی رہ نما نہیں ملا۔

ہٹلر نے نازیوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا اور دورانِ اقتدار اپنی  قائدانہ حیثیت بھی برقرار رکھی مگر اس کے موت کے ساتھ ہی نازی پارٹی اور اس کی قائم کردہ حکومت بھی دم توڑ گئی۔

ہٹلر کے اگرچہ اپنی نسل پر اثرات بہت گہرے تھے مگر مسقتبل کی نسلوں پر اس کے اثرات بہت کم نظر آتے ہیں۔

ہٹلر اپنا کوئی بھی نمایاں مقصد حاصل کرنے میں کام یاب نہیں ہوا اور مستقبل کی نسلوں پر اگر اس کے کچھ اثرات ہیں بھی تو ان کی سمت معکوس ہے۔

مثال کے طور پر ہٹلر جرمن زمین اور اثرات میں اضافے کا خواہاں تھا مگر اپنی تمام تر وسعت کے با وجود اس کی زمینی فتوحات عارضی ثابت ہوئیں اور آج جرمنی کا رقبہ ہٹلر کے اقتدار سنھبالنے سے قبل کے رقبے سے کہیں کم ہے۔

ہٹلر پوری شدت سے یہودیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتا تھا مگر ہٹلر کے اقتدار سنبھالنے کے 15 سال بعد دو ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک آزاد یہودی ریاست وجود میں آ گئی۔

ہٹلر کو کمیونزم اور روسیوں سے نفرت تھی مگر اس کی موت کے وقت اور جزوی طور پر اس کی چھیڑی ہوئی جنگ کے نتیجے میں روسیوں نے مشرقی یورپ کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس وقت کمیونزم تمام دنیا میں تیزی سے پر پھیلا رہا تھا۔

ہٹلر کو جمہوریت سے نفرت تھی اور نہ صرف دیگر ملکوں بلکہ جرمنی میں بھی وہ اسے فنا کر دینا چاہتا تھا مگر اس کے باوجود آج جرمنی ایک فعال جمہوریہ ہے اور اس کے عوام آمریت کو اس طور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں جتنی ہٹلر سے پہلے جرمنوں کی کوئی اور نسل ایسا کر پاتی۔

اپنے ہم عصروں پر گہرے ترین اور مستقبل کی نسلوں پر کم اثرات کے اس انوکھے امتزاج سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟

ہٹلر کا اس کے دور کی دنیا پر اثر اتنا گہرا ہے کہ اسے اس کتاب میں زیادہ بلند درجے پر رکھنا چاہیے تھا مگر ظاہر ہے اسے شی ہوانگ تی، آگسٹس سیزر اور چنگیز خان جیسی شخصیات سے نیچے ہی رکھا جائے گا جن کے اقدامات کے اثرات آج صدیوں بعد بھی دنیا پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم ہٹلر کا موازنہ نپولین اور سکندرِاعظم سے کیا جا سکتا ہے۔

ایک مختصر عرصے کے لیے ہٹلر نے دنیا کو ان دونوں سے زیادہ جھنجھوڑ کر رکھ دیا مگر اسے اُن دونوں سے نیچے اس لیے جگہ دی گئی کیوں کہ نپولین اور سکندرِاعظم کے اثرات اس کی نسبت زیادہ دیرپا ہیں۔