Airsekui: Who was He? Read in Urdu

ائرسیکوئی: جن یا کچھ اور جس نے لڑکی کی مدد کی؟

 مجھے گرینڈ پا (دادا) کے گھر کا راستہ زبانی یاد تھا۔  ایک گھنٹہ ہائی وے پر لگتا تھا اور اس کے بعد مزید ایک گھنٹہ دیہاتی علاقے کی چھوٹی سڑکوں پر جہاں پہنچنے پر داہنی ہاتھ کی طرف مقامی جنگلات کا سلسلہ شروع ہونے لگتا تھا جب کہ بائیں طرف سب سے نزدیکی قصبہ دکھائی تھا۔ یہاں سے گرینڈ پا کا گھر زیادہ سے زیادہ بیس منٹ دور رہ جاتا تھا۔ جب ہم یہاں سے گزرتے تھے تو یہاں تین بڑے بڑے سائن بورڈ لگے نظر آتے تھے۔ ایک سائن بورڈ اسقاط حمل کے خلاف تھا؍ دوسرا گم شدہ افراد کے بارے میں اور تیسرا طلاقوں کے وکیل کے بارے میں تھا جو گزشتہ پانچ سال سے جوں کا توں اپنی جگہ پر لٹکا ہوا تھا۔  گرینڈ پا کی وسیع و عریض زمینوں (فارم) کے کنارے پر جنگلہ لگا ہوا تھا جس کے ساتھ گلابی رنگ کا ایک اونچا سا بانس زمین میں گڑا ہوا تھا۔ بچپن میں گرینڈ پا کی زمینوں کی وسعت مجھے لا متناہی لگتی تھی۔ جن دنوں گرینڈ پا کو پتہ ہوتا تھا کہ میں وہاں آنے والی ہوں تو وہ اس گلابی بانس پر ایک غبارہ لٹکا دیا کرتے تھے اور پھر میں ان کے ساتھ ٹریکٹر پر بیٹھ کر اسے اتارنے جاتی تھی۔ غبارہ اتارنے کے بعد ہم دونوں دادا پوتی خنزیروں؍ بکریوں اور گایوں کو دیکھنے جاتے تھے۔ یہ جانور تعداد میں زیادہ نہیں تھے اور انہیں بھی گرینڈ پا نے صرف میری خوشی کے لیے پالا ہوا تھا مگر وہ سب نہایت صحت مند اور خوش و خرم ہونے کے علاوہ مجھ سے خوب ہلے ہوئے تھے۔  گرینڈ پا کی اصل آمدنی سونا اگلتی مکئی کی فصلوں سے ہوتی تھی جو ان کے گھر کے پیچھے ایکٹروں پر پھیلی ہوئی تھی۔ مجھے اکیلے مکئی کی ان کھیتوں میں کھیلنے کی اجازت نہیں تھی کیوں کہ گرینڈ پا اور میری ڈیڈی اور ممی کا خیال تھا کہ وہ تنہا پھرنا میرے لیے بہت خطرناک ہے کیوں کہ میں مکئی کے اس سمندر میں گم ہو سکتی تھی یا پھر ڈنٹھلوں میں پھنس کر میرے زخمی ہونے کا امکان تھا مگر مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیوں کہ جب میں گرینڈ پا کے ہاں رکتی تھی تو ہر وقت اپنی پسندیدہ بکری ’سیلی مائی‘ کے ساتھ  کھیلتی رہتی تھی۔ سیلی مائی ایک چھوٹی سی بہت خوب صورت بکری تھی جو میرے آگے پیچھے پھرتی رہتی تھی اور مجھے ہلکے ہلکے اپنے سر سے ٹہوکے دے کر گاجروں کا مطالبہ کرتی تھی یا مجھے یاد دلاتی تھی کہ آج میں نے اس کی تھوڑی پر نہیں کھجایا ہے۔  گرینڈ پا کے گھر صرف ایک ٹی وی تھا جس پر پانچ چینل لگا کرتے تھے مگر میں بہت کم ٹی وی دیکھتی تھی کیوں کہ گھر سے باہر ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے موجود رہتا تھا۔ کبھی میں پا کا کوئی کام نمٹاتی تھی؍ کبھی مجھے کسی نئی جگہ کو جا کر کھوجنا ہوتا تھا اور کبھی کسی پالتو جانور کے ساتھ کھیلنا۔ اس طرح میں صبح سے لے کر رات تک اپنی ہی دھن میں مگن رہتی تھی۔  میرا خیال ہے پا اپنے سات پوتے پوتیوں میں سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے تھے اور میرے لیے دنیا میں اس وقت ان کا فارم کسی جنت سے کم نہیں تھا اس لیے جب ڈیڈ کا ما کے ساتھ ایک دوسرے شہر میں کسی کانفرنس میں جانا تھا تو اس بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں تھی کہ اس دوران میں کہاں رہوں گی۔  ’ہیزل تم گرینڈ پا کے پاس رہ لو گی نا؟ جب ہم اس گلابی بانس کے پاس سے گزرے جس پر پا نے میرے لیے خوش آمدید کہنے والا غبارہ لٹکایا ہوا تھا تو ڈیڈ نے کار کے عقبی آئینے میں مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔  میں جواب میں بس کندھے اچکا کر ہنس پڑی۔ خوشی میرے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔  ’تم دادا پوتی اس سارے ہفتے کیا کرو گے؟ ما نے اپنی سیٹ پر مڑتے ہوئے مجھے مسکرا کر دیکھا۔  ’میں سیلی مائی کے ساتھ کھیلوں گی؍ دریا کنارے جائوں گی؍ گائے کا دود دوہوں گی اور خنزیروں کو چارہ ڈالوں گی اور –‘ میرے ان ’کاموں‘ کی فہرست کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب ڈیڈ نے کار گرینڈ پا کے گھر سے دروازے کے سامنے روکی۔ پا دروازے پر ہی کھڑے تھے اور انہوں نے جی بھر کر مسکراتے ہوئے ہم سب کو باری باری گلے سے لگایا۔  ’تھینکس پوپ؍‘ ڈیڈ نے کہا۔ ’آپ کو یہ آٹھ سالہ پوتی پریشان تو نہیں کرے گی؟ سوچ لیں اس نے پورے چار دن آپ کا دماغ کھانا ہے؟‘  ’فکر نہیں کرو؍ ہم دونوں کے پاس کرنے کے لیے کاموں کا ایک ڈھیر پڑٓا ہے؍‘ گرینڈ پا نے گویا ڈیڈ کے سینے سے فکر ایک بھاری پتھر ہٹاتے ہوئے کہا۔  میں بھی گردن ہلاتے ہوئے اپنا چھوٹا سا سوٹ کیس گھسیٹی ہوئی اندر چلی گئی۔ میں بے چینی سے انتظار کر رہی تھی کہ ما اور پا جائیں تو میں اپنی ’دیہاتی سرگرمیوں‘ کا سلسلہ شروع کروں۔ ما میرے پیچھے دوڑتی ہوئی آئیں اور مجھے کس کر اپنی گود میں بھر لیا مگر میں ہنستی کلبلاتی ان کی آغوش سے نکل بھاگی۔ دراصل بات یہ تھی کہ ما اور پا نے کبھی اتنے دنوں تک مجھے اکیلا نہیں چھوڑا تھا اور اب جب کہ الواداع کہنے کا وقت آ گیا تھا تو ان کے چہروں پر تشویش کے سائے لہرانے رہے تھے اور وہ دل ہی دل میں اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کا سوچ رہے تھے۔  مگر گرینڈ پا نے ہنستے ہوئے کہا ’ارے اسے کچھ نہیں ہو گا اور ہم دونوں خوب مزے کریں گے۔ ہاں اگر اس نے میری بات نہیں مانی تو میں اسے لے جا کر مکئی کے کھیت کے بالکل بیچ میں ڈال آئوں گا جہاں بھالو کی شکل والا بھوت رہتا ہے۔‘  پا کی اس بات پر ہم سب خوب ہنسے اور بالآخر ما اور پا وہاں سے روانہ ہو گئے۔ میں نے اپنا سامان اندر رکھا اور پھر پا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ٹریکٹر کی جانب لے گئے۔  سب سے پہلے ہم نے گلابی بانس سے غبارہ اتارا اور میں نے اس کی ڈوری نہایت احتیاط سے اپنی کلائی سے لپیٹ لی۔ اس کے بعد ہم ’پوری رفتار‘ سے خنزیروں کے باڑے کی طرف گئے جہاں پا نے میرے ہاتھ میں ان جانوروں کے کھانے کا چارہ تھمایا جو میں تھوڑی دیر تک ان کے آگے ڈالتی رہی۔ دراصل یہ دو مادہ خنزیرنیاں تھیں جن کا نام پا نے گریٹل اور موٹی بیب رکھ چھوڑا تھا۔ وہ دونوں مجھے دیکھ کر دوڑتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میں ان کے پاس اکڑوں بیٹھ کر ان کے پیٹ سہلانے لگی۔ وہ دونوں اطمینان سے آنکھیں بند کیے مجھ سے چمٹی مزے سے چارہ چباتے ہوئے خر خر کر رہی تھیں۔  اس کے بعد ہم گائے اور بکریوں کے باڑے میں گئے۔ یہ ایک بڑا سا احاطہ تھا جس کے اندر گائے اور بکریاں مزے سے گھومتی رہتی تھیں۔ جیسے ہی سیلی مائی نے ٹریکٹر کے آنے کی آواز سنی وہ قلانچیں بھرتی ہوئی احاطے کے دروازے پر آئی۔ اس دوران وہ زور زور سے ممیانےکے ساتھ اپنا سر جھٹک جھٹک کر اپنی مسرت کا اظہار کر رہی تھی۔ اس سے پہلے میں پوری طرح ٹریکٹر سے اتر کر سنبھل پاتی سیلی مائی میرے پیٹ میں اپنا سر گھسیڑے اچھل رہی تھی۔   اس دن ہم سہ پہر تک باہر فارم پر رہے۔ سب سے پہلے ہم نے جانوروں کی دیکھ بھال کی اور پھر شام کے کھانے کے لیے کھیتوں سے تازہ سبزیاں توڑیں۔ پا اپنے ساتھ مرغی کا تلا ہوا گوشت لائے تھے جسے ہم نے عقبی صحن میں بیٹھ کر خوب پیٹ بھر کر کھایا اور ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ کیا۔  ’آج رات تم پڑھنے کے لیے کیا لائی ہو؟‘ پا نے گھر کے اندر جانے کے بعد مجھ سے پوچھا۔  پا پیر سکوڑے اپنی آرام کرسی میں بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں معموں کی کتاب تھی۔ ہم دونوں ہی کو پتہ تھا کہ کتاب ہاتھ میں تھامتے ہی پا کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو جائیں گی اور وہ خراٹے بھرنا شروع کر دیں گے۔ میں اس بات پر انہیں خوب چھیڑتی تھی۔  ’میں ایک کہانی پڑھوں گی جس میں ماں باپ سے محروم بچوں کا تذکرہ ہے؍‘ میں نے انہیں جواب دیا اور پھر خود بھی کائوچ پر گڑی مڑی ہو کر لیٹ گئی۔  ’اچھا۔‘ ’ہاں یہ اسکول کی کتاب ہے جو ہمیں موسم گرما کے سیشن میں پڑھائی جاتی ہے مگر یہ کہانی مجھے بہت پسند ہے۔‘ ’گڈ‘ گرینڈ پا نے کہا اور پھر سے کسی معمے کو حل کرنے کی کوشش میں جت گئے۔  رات کے پا کے فارم پر مکمل ترین خاموشی چھا جاتی تھی۔ میں اپنے گھر میں رات کے وقت کاروں کی آوازوں؍ کتوں کے بھونکنے کے شور، پڑوسیوں کی ہل چل وغیرہ سننے کی عادی تھی مگر یہاں سوائے جھینگروں کے شور کے اور کوئی آواز نہیں تھی۔ بس کبھی کبھار ہوا کا کوئی آوارہ جھونکا اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے گزر جاتا تھا جس کے ہم راہ اکثر کسی جانور کی صدا بھی سنائی دیتی تھی مگر اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ جب میں اس خاموشی کو غور سے سنتی تھی تو میرے دل پر گھبراہٹ سی ہوتی تھی مگر جب پا میرے پاس بیٹھے لیمپ کی روشنی میں جاگ رہے ہوتے تھے تو مجھے اس ہی خاموشی سے ایک گونہ سکون بھی ملتا تھا۔  اس رات پا کی آنکھ لگی ہی تھی اور میں اپنے کمبل کے اندر گھسی کتاب ہاتھ میں تھامے پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یک لخت گریٹل اور موٹی بیب کے بری طرح چیخنے کی آواز آئی۔  کتاب میرے ہاتھ سے گرتے گرتے بچی اور پا ایک جھٹک سے آنکھیں کھولے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے ہاتھ سے پینسل گر کر فرش پر لڑھک گئی۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ حیرت؍ بے یقینی اور خوف سے میرے دانت بھینچے ہوئے تھے۔  ’گھبرائو نہیں ہیزل نٹ؍‘ پا نے تیزی سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہوئے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی۔ ’لگتا ہے کوئی لکڑ بھگا ان دونوں (خنزیرنیوں) کو ڈرا رہا ہے۔ ڈرنا نہیں ابھی میں اسے بھگا کر آتا ہوں۔‘  مگر میں نے اچھی طرح محسوس کیا کہ غیر یقینی پا کے لہجے میں چغلی کھا رہی تھی۔ میں جتنی بار بھی پہلے پا کے ہاں رہنے آئی تھی میں نے کبھی گریٹل اور موٹی بیب کو اتنی بھیانک آوازوں میں چیختے نہیں سنا تھا۔ مگر اس وقت ان کی آوازیں بہت تیز تھیں اور بہت غیر معمولی طرح ہوا کو کاٹتی اور چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔  جب پا کمرے سے باہر نکلے تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی۔ پا اپنے اوزاروں والے کمرے میں گئے اور وہاں سے اپنی شاٹ گن؍ کارتوس اور فلیش لائٹ اٹھائی۔  ’کیا آپ لکڑ بھگے کو گولی مار دیں گے؟ میں نے پوری جان سے لرزتے ہوئے پوچھا۔  ’ہو سکتا ہے؍‘ انہوں نے تشویش ناک لہجے میں جواب دیا۔  پھر انہوں نے کارتوس شاٹ گن میں ڈالے اور مجھ سے کہا کہ میں گھر میں رہوں۔  ’نہیں پا؍‘ میں بری طرح چیخی۔ گریٹل اور موٹی بیب کی ان بھیانک چیخوں کو سننے کے بعد گھر میں تنہا رہنے کا تصور بھی میرے لیے روح فرسا تھا۔ ایسا لگا جیسے پا اس بات پر مجھ سے بحث کرنا چاہتے ہیں مگر اسی اثنا میں گایوں کے بھی بری طرح چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ گریٹل اور موٹی بیب کی طرح گایوں کی آوازیں بھی نہایت وحشت ناک تھیں اور پھر ان کی آوزوں کے ساتھ مزید دو آوازیں اور بلند ہوئیں۔ پا نے مجھے اپنا خیال رکھنے کو کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے دروازے کی طرف بڑھے۔ میں نے آج سے پہلے ان کے چہرے پر ایسے پتھریلے تاثرات نہیں دیکھے تھے۔ میں ایک لمحہ رکی مگر جیسے ہی دونوں میں سے ایک خنزیرنی کی چیخ ایک بار پھر ابھری میں ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر پا کے پیچھے اندھا دھند بھاگ اٹھی۔  ’گرینڈ پا؍‘ میں چلائی۔  ’میں نے تم سے گھر میں رہنے کو کہا تھا!‘ ’مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘ پا نے مجھے مڑ کر دیکھا؍ دانت پر دانت جمائے اور سر ہلا کر مجھے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ ’میرے ساتھ ہی رہنا۔‘  ہم سب سے پہلے خنزیروں والے باڑے کی طرف بھاگے۔ پا نے فلیش لائٹ مجھے تھما دی تھی جسے میں چاروں طرف گھما گھما کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دونوں خنزیرنیاں عام طور پر پا کی سیٹی کی آواز سنتے ہی دوڑتی ہوئی ہماری طرف آتی تھیں مگر اس رات میرے کانوں نے مٹی پر ان کے کھروں کی آواز نہیں سنی۔  ہمارے کانوں میں صرف ان کے چیخنے کی آوازیں پڑ رہی تھیں۔  بلآخر فلیش لائٹ باڑے کے مرکز میں ان دونوں کے اوپر پڑی۔ موٹی بیب نے اپنے دانت گریٹل کے کان میں جمائے ہوئے تھے۔ گریٹل بری طرح چیخ رہی تھی مگر اس کی گردن تھوڑی سی جھکی ہوئی تھی اور اس نے اپنے دانتوں سے موٹی بیب کی گردن سے گوشت کا ایک لوتھڑا نوچ لیا تھا۔ ان دونوں کے جسم زخموں سے چور تھے؍ ان کے منہ سے سرخ جھاگ نکل رہے تھے اور ان کی آنکھیں دیوانگی کے عالم میں ادھر ادھر چل رہی تھیں۔  پا نے ان دونوں کا نام پکارا مگر انہوں نے ہماری طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ دونوں دل شگاف چیخیں مارتی ہوئی بس دیوانہ وار ایک دوسرے کو بھنبھوڑے جا رہی تھیں۔ پا نے میرے بازو سے مجھے پکڑ کر پیچھے گھسیٹ لیا اور ہم دونوں بھاگتے ہوئے گائے اور بکریوں کے باڑے کی طرف گئے جہاں سے مزید بھیانک چیخیں رات کا سینہ چاک کیے دے رہی تھیں۔  ’لیڈی‘ پا کی سب سے پرانی اور پسندیدہ گائے دروازے کے پاس پہلو کے بل پڑی ہوئی ہوا میں لاتیں چلا رہی تھیں اور دو بکریاں بار بار اپنے سینگ اس کے پیٹ میں اتار رہی تھیں۔ ہمارے داہنی طرف سے ایک اور بکری کی اذیت ناک چیخ بلند ہوئی اور میں نے تیزی سے اس پر فلیش لائٹ ڈالی۔  وہاں کا منظر دیکھ کر میری جان نکل گئی۔ سیلی مائی زمین پر پڑی ہوئی تھی اور ایک دوسری گائے اس کا اپنے کھروں سے بھرتہ بنا رہی تھی۔ میں بری طرح چلائی اور پا سے لپٹ گئی۔  ’وہ سیلی کو جان سے مار رہی ہے؍‘ میں نے سسکیاں بھرتے ہوئے ان سے کہا۔  مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے وہ دیوانی گائے اپنے پچھلے پیروں پر ممکنہ حد تک کھڑی ہوئی اور پھر پوری طاقت سے اپنے کھروں سے سیلی کا سر کچل دیا۔ ہڈی تڑکنے کی آواز بلند ہوئی اور سیلی مائی کی ناک، آنکھوں اور کانوں سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے۔ گائے نے چار مرتبہ اسی طرح اس کا جسم کچلا اور میری آنکھوں کے سامنے سیلی مائی ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گئی۔  میں بری طرح روتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی۔ میرے کان جانوروں کے شور سے پھٹے پڑ رہے تھے اور میرے رخساروں پر آنسوئوں کی قطاریں بہہ رہی تھیں۔ میں نے ایک بار پھر فلیش لائٹ اٹھا کر گھر واپسی کا راستہ دیکھنے کی کوشش کی۔ میں اس وقت صرف گھر واپس جانا چاہتی تھی۔ مجھ میں اب اس شور کو سننے کی مزید ہمت نہیں رہی تھی۔  مگر مجھ سے چند گز کے فاصلے پر تاریکی میں کسی چیز نے حرکت کی۔ مگر اس تک فلیش لائٹ کی روشنی نہیں پہنچ پا رہی تھی اور میں اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔ ۔ ۔  ’گرینڈ پا؟ مجھے نہیں پتہ کہ پا نے بھی اسے دیکھا تھا یا نہیں مگر انہوں نے مجھے کمر سے پکڑ کر اٹھایا اور پھر پوری رفتار سے گھر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ ہم خنزیروں کے پاس سے گزرے جہاں میں نے دیکھا کہ گریٹل موٹی بیب کے اوپر کھڑی دانتوں سے اس کے آنتیں نوچ نوچ کر پیٹ سے باہر نکال رہی تھی۔  گھر کا پچھلا دروازہ ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ہمیں گھر تک پہنچنے کے لیے اب صرف سبزیوں والے باغ  سے گزرنا تھا جہاں ہم دروازے لاک کر کے محفوظ ہو سکتے تھے۔ مگر ۔ ۔ ۔  فلیش لائٹ پر میری گرفت ہلکی سی کم زور ہوئی اور ایک جھٹکے سے اس کا رخ زمین کی طرف ہو گیا مگر جیسے ہی ہمارے سامنے کی زمین روشن ہوئی میرے حلق سے ایک بار پھر ایک دل دوز چیخ نکلی۔  بازو ۔ ۔ ۔ درجن بھر انسانی بازو ہمارے دونوں طرف لگے پیڑوں سے ہمیں اپنی گرفت میں لینے کے لیے سانپوں کی طرح کلبلا رہے تھے۔ ان کی انگلیاں بار بار کھل اور بند ہو رہی تھیں جیسے وہ کسی چیز کو پکڑنے کے لیے بے چین ہوں۔  جب روشنی ان کے اوپر پڑی تو وہ سب مڑے اور ہماری طرف کو پھیل گئے۔  ’نہیں ۔ ۔ ۔ ‘ گرینڈ پا کے حلق سے انتہائی بے یقینی کی حالت میں یہ واحد لفظ ادا ہوا۔  مگر ساتھ ہی ان کے پائوں یک لخت کسی چیز میں الجھے اور ہم دونوں بری طرح زمین پر گر گئے۔ میں چلائی اور فلیش لائٹ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر میرے برابر میں آن پڑی جس کی روشنی کا رخ پا کی طرف تھا۔ میں نے دیکھا پا کا رنگ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہو رہا تھا، ان کے چہرے سے جھریاں لٹک رہی تھیں اور ان کی آنکھیں ان کلبلاتے ہوئے بازئوں پر جمی ہوئی تھیں۔  دھیرے دھیرے جب خوف اور الجھن کی دھند تھوڑی سی کم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ گرینڈ پا ک پیچھے ایک ہیولہ کھڑا ہوا تھا۔ وہ ایک آدمی کی طرح تھا مگر میں نے آج تک اتنا لمبا آدمی نہیں دیکھا تھا۔ لمبے قد کے علاوہ اس کا جسم انتہائی طاقت ور اور پہلوانوں کی طرح چوڑا تھا۔ پا ابھی تک اس کی موجودگی سے لا علم تھے مگر جب اس نے پا کی طرف ایک قدم بڑھایا اور مزید روشنی اس پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ اس کے گردن پر جو سر رکھا تھا وہ انسانی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ وہ ایک بڑے بھورے ریچھ کا سر تھا جس کی ایک آنکھ زخم خوردہ ہونے کی وجہ سے بند تھی۔  میں جانتی تھی مجھے انتہائی دہشت زدہ ہونا چاہیے تھا؍ مجھے پا کو اس ہیولے کے بارے میں خبر دار کرنا چاہیے تھا اور مجھے ایک عام بچی کی طرح چیخنا چلانا چاہیے تھا مگر میں نے جب اس مخلوق کے چہرے پر نظر ڈالی تو میرے وجود میں ایک عجیب طرح کا سکون اتر آیا۔  ’تمہیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‘ میں نے یہ الفاظ سنے نہیں مگر اپنے ذہن میں محسوس کیے۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ ایک آواز تھی یا صرف ایک خیال ۔ ۔ ۔ میں نے آج سے پہلے ایسی کیفیت محسوس نہیں کی تھی۔ ’تم ایک معصوم ہو۔‘  میں اس آواز سے کہنا چاہتی تھی کہ گرینڈ پا بھی ’معصوم‘ ہیں مگر میرے ہونٹوں نے ہلنے سے انکار کر دیا۔  اس مخلوق نے اپنے بھاری بھرکم بڑے بڑے ہاتھ بڑھائے اور گرینڈ پا کو زمین سے بے وزن گڈے کی طرح اٹھا لیا۔ اس نے پا کو اٹھا کر سبزیوں والے باغ میں پھینک دیا اور پا اس دوران دم نکلتے ہوئے بکرے کی طرح چیخے۔ جیسے ہی وہ وہاں زمین پر گرے ان بازئوں نے انہیں دبوچ لیا۔ میں وہاں بیٹھی رہی اور دیکھتی رہی۔ میری آنکھوں سکون کی کیفیت سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ وہ تمام بازو سانپ کی طرح گرینڈ پا سے لپٹ گئے اور انہیں زمین کے اندر کھینچنا شروع کر دیا یہاں تک کہ مٹی نے انہیں پوری طرح نگل لیا اور ان کی چیخیں گھٹ کر رہ گئیں۔  وہ جو کوئی بھی تھا وہاں اس وقت تک کھڑا دیکھتا رہا جب تک تمام بازو اور پا زمین میں غائب نہیں ہو گئے اور پھر یک لخت وہ مڑا اور رات کی تاریکی میں ہوا میں گم ہو گیا۔  مگر جیسے ہی وہ غائب ہوا میرے جسم اور ذہن پر طاری اس سکون کی چادر بھی اچانک اتر گئی۔  911 کی آپریٹر بمشکل میری بات سمجھ سکی۔ اس مخلوق کے غائب ہونے کے بعد میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی اور بھاگتی ہوئی گھر کے اندر گئی جہاں میں نے کسی معمول کی طرح فون اٹھا کر اس نمبر کو ڈائل کیا تھا۔ میں فون پر پاگلوں کی طرح رو رہی تھی اور بمشکل اتنا کہہ پائی ’گرینڈ پا کو زمین نگل گئی۔‘  تھوڑی دیر کے اندر اندر گھر کے باہر آگ بجھانے والی گاڑیاں اور طبی امدادی عملے کے اراکین پہنچ چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید میرے دادا کو دل کا دورہ پڑا ہے اور میں اس بات کو نہ سمجھتے ہوئے آپریٹر کو اصل بات سے آگاہ نہیں کر پائی ہوں؍ مگر تھوڑی دیر بعد وہ میری بات کا مطلب سمجھ  گئے۔ گرینڈ پا زمین کے اندر تھے۔  انہوں نے باغ کی تازہ جتی ہوئی زمین کو اس جگہ پر کھودا جہاں میں نے پا کو آخری بار دیکھا تھا۔ انہیں تقریباً چھ فٹ تک زمین کھودنی پڑی۔ پا کا مردہ جسم ناخنوں کی گہری گہری خراشوں سے بھرا پڑا تھا۔ ان کی ٹانگیں اور بازو جسم سے اکھڑے ہوئے تھے مگر ۔ ۔ ۔ اس گڑھے میں چھ لاشیں اور بھی تھیں۔  مجھے گرینڈ پا (دادا) کے گھر کا راستہ زبانی یاد تھا۔  ایک گھنٹہ ہائی وے پر لگتا تھا اور اس کے بعد مزید ایک گھنٹہ دیہاتی علاقے کی چھوٹی سڑکوں پر جہاں پہنچنے پر داہنی ہاتھ کی طرف مقامی جنگلات کا سلسلہ شروع ہونے لگتا تھا جب کہ بائیں طرف سب سے نزدیکی قصبہ دکھائی تھا۔  یہ وہ قصبہ تھا جہاں سے گزشتہ دس سالوں میں 9 جوان لڑکیاں لا پتہ ہوئی تھیں۔  یہ وہ قصبہ تھا جس کی اس وقت پولیس نے کوئی مدد نہیں کی تھی جب یہاں سے شروع میں دو نوجوان لڑکیاں غائب ہوئی تھیں۔ وہ دونوں ان جنگلات میں ہائیکنگ کے لیے آئی تھیں اور پھر انہیں گویا زمین کھا گئی تھی۔  یہ وہ قصبہ تھا جس پر اس وقت میڈیا نے کوئی توجہ نہیں دی تھی جب اس کی کونسل نے لاپتہ لڑکیوں کے حوالے سے اس  کے نمائندوں سے رجوع کیا تھا۔  مگر اس گلابی بانس کے پاس سے ایک مقامی 21 سالہ امریکی (ریڈ انڈین) لڑکی ڈینا بھی لا پتہ ہوئی تھی۔ ڈینا اس وقت لا پتہ ہوئی جب وہ قریبی شہر جانے کے لیے اس گلابی بانس کے پاس لفٹ لینے کھڑی ہوئی کیوں اس دن اس کی ماں کو کہیں کام سے جانا تھا اور وہ اسے شہر نہیں لے جا سکتی تھی۔ ڈینا کے گھر والوں اور دوستوں نے سالوں اسے تلاش کیا مگر ان کی کسی حکومتی ادارے یا میڈیا نے کوئی مدد نہیں کی اور وہ ہر سال مقامی حکومت کو اس سائن بورڈ کا ٹیکس ادا کرتے رہے جس پر انہوں اس امید میں گم شدہ ڈینا کی تصویر لگائی ہوئی تھی کہ شاید کوئی اس کا سراغ پا لے۔  مگر انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈینا ان سے صرف بیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔  انہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ سبزیوں کے باغ میں دفن ہے  ۔ ۔ ۔  وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خوش مزاج بوڑھا آدمی جس سے انہوں نے ڈینا کے بارے میں پوچھا تھا اور جس نے ہم دردی سے مسکراتے ہوئے اس بارے میں لا علمی کا اظہا کیا تھا وہ ہی بوڑھا آدمی ڈینا کا قاتل تھا ۔ ۔ ۔  ان لاپتہ لڑکیوں میں سے دو کا کبھی سراغ نہیں ملا مگر ان میں سے ایک کی انگوٹھی اور دوسری کا نیکلس میرے دادا کی گھر میں رکھی تجوری سے برآمد ہوا۔ یہ دونوں لڑکیاں سب سے پہلے لا پتہ ہوئی تھیں۔  لا پتہ ہونے والی نویں اور آخری لڑکی میرے ان کے فارم پر جانے سے صرف تین دن پہلے غائب ہوئی تھی۔ مقامی اخبار نے اس بارے میں صرف ایک کالمی مختصر سی خبر لگائی تھی۔ وہ لڑکی مکئی کے کھیتوں کے پاس بنے ڈیرے کے تہہ خانے سے ادھ مری حالت میں برآمد ہوئی۔ پا اس طرف کسی کو نہیں جانے دیتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ وہاں ان کے اوزار اور مشینری وغیرہ رکھی ہے اس لیے وہاں جانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔  اور ان سے کسی نے اس بارے میں ایک بار بھی بھی سوال نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔  اس لڑکی کا نام پالین اسمتھ تھا اور اس نے لکڑی کے اس ستون پر جس سے پا نے اسے بے رحمی سے باندھا ہوا تھا اپنے ناخن اور خون سے صرف ایک لفظ لکھا تھا:   ائرسیکوئی ۔ ۔ ۔ !  پولیس اہلکار اس لفظ کا مطلب نہیں سمجھ سکے اور نہ ہی انہیں اس سے کوئی دل چسپی تھی۔ مگر پا کی موت نے ان کے دماغوں کو چکرا کر رکھ دیا تھا اور جو کچھ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تھا وہ اسے حلق سے اتارنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا آج تک ایسے کسی کیس سے سابقہ نہیں پڑا تھا اور ان کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ کیا کریں۔  مگر وہ اس وجہ سے پریشان نہیں تھے کہ اتنی لڑکیاں بے دردی سے قتل ہوئی تھیں۔  نہ اس وجہ سے کہ آج تک کسی نے ان واقعات کی سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی تھی۔  نہ اس وجہ سے کہ ان مقامی جنگلات سے پار وفاقی حکومت نے اس بارے میں کبھی سوچ بچار کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔  وہ صرف میرے پا اور ان کے جانوروں کی پر اسرار موت پر انگشت بدنداں تھے۔  اس رات کے بعد سالوں تک مجھے ڈرائونے خواب آتے رہے۔ ان بازئوں کے تصور نے کبھی مجھے چین سے نہیں سونے دیا جو اس رات پا کو گھسیٹ کر زمین کے نیچے لے گئے تھے۔ میرے گرینڈ پا کو جس نے اپنی شکار لڑکیوں کے مردہ جسم میں اگنے والی سبزیاں مجھے کھلائی تھیں۔  مگر مجھے خواب میں کبھی وہ ریچھ کے سر والی مخلوق نظر نہیں آئی۔ البتہ جب ایک بار میں ان خوابوں کی شدت سے دماغی توازن کھونے والی تھی تو ایک بار میں نے اس کی موجودگی محسوس کی اور میرے ذہن میں اس کی سرگوشی سی گونجی:  ’تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ تم ایک معصوم ہو ۔ ۔ ۔ ‘  اس کے بعد میں اس قابل ہوئی کہ اس رات جو کچھ ہوا تھا اسے دوبارہ سوچ سکوں۔ میں نے کئی ہفتوں تک تحقیق کی؍ پرانے آرٹیکلز کا مطالعہ کیا اور اس دہشت ناک سلوک کے بارے میں بار بار پڑھا جو پا نے ان معصوم لڑکیوں کے ساتھ کیا تھا۔ تب ایک دن اچانک مجھے میرے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ یہ جواب صرف ایک لفظ میں پنہاں تھا اور وہ لفظ تھا:  ’ ائرسیکوئی ۔ ۔ ۔ ‘ اس بارے میں اگر چہ مفصل معلومات نہیں تھیں مگر اتنی ضرور تھیں جن سے میرے لیے یہ گتھی سلجھ گئی۔  یہ ایک نام تھا۔ یہ ایک ایسی مخلوق کا نام تھا جسے اس جدید عہد میں بھلا دیا گیا ہے۔ جو کچھ میں نے پڑھا اس سے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ ائرسیکوئی یا تو آگ کا دیوتا تھا یا پھر جنگ کا مگر مقامی امریکیوں کی اس دیو مالا میں اس کا مقام واضح ترین تھا: وہ ایک عظیم مگر پر اسرار روح تھی جسے انتہائی خطرے کی حالت میں مدد کے لیے پکارا جاتا تھا۔  پالین اسمتھ کو پتہ تھا کہ ریڈ انڈین نسل سے ہونے کے باعث امریکی حکومت اس کی گم شدگی پر کوئی توجہ نہیں دے گی اس لیے اس نے اپنے یقین سے کام لیا تھا۔ پالین کو پولیس پر یقین تھا نہ حکام پر جنہوں نے اس جیسی لا پتہ ہوئی نہ جانے کتنی لڑکیوں کی فائلیں بے توجہی سے ایک طرف اٹھا کر پھینک دی تھیں۔ پالین کو میڈیا پر بھی یقین نہیں تھا جس نے بیچ کے صفحات میں اس کے بارے میں ایک معمولی سے خبر لگانے کے سوا اور کچھ نہیں کیا تھا۔ پالین کو اس سائن بورڈ پر بھی یقین نہیں تھا جہاں اس کی تصویر لگی تھی جسے ہزاروں لوگ روزانہ دیکھنے کے با وجود بھی نہیں دیکھتے تھے۔  پالین کو ان سب سے بڑی کسی طاقت پر یقین تھا اور اس نے اسے دل کی گہرائیوں سے پکارا تھا۔  اور ائرسیکوئی نے اُس کے یقین کی لاج رکھتے ہوئے اس پکار کا فوراً جواب دیا تھا۔   

ختم شد


’ائرسیکوئی (Airsekui) مقامی امریکیوں (ریڈ انڈینز) کے عقیدے کے مطابق جنّات سے مشابہ کوئی مخلوق ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اگر اسے خطرے کی حالت میں پکارا جائے تو یہ مدد کرتی ہے مگر یہ مدد کے بدلے تازہ گوشت کی بھینٹ مانگتی ہے۔ شاید اسی لیے اس رات ہیزل کے گرینڈ پا کے فارم میں اس پُراسرار مخلوق کی موجودگی کو محسوس کرتے ہی جانور سراسیمہ ہو کر ایک دوسرے کو بے رحمی سے ہلاک کر رہے تھے تا کہ ائرسیکوئی تازہ گوشت کی بھینٹ لے سکے کیوں کہ اگر اس بدنصیب لڑکی نے ارسیکوئی کو مدد کے لیے پکارا ہو گا تو بھینٹ میں ہیزل کے پا کے سارے مویشی اس کی نذر کر دیے ہوں گے۔‘