Albert Einstein By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | دسواں باب | البرٹ آئن اسٹائن | نئی قسط

بیسویں صدی کے عظیم ترین سائنس دان اور تاریخِ عالم کی ذہین ترین شخصیت البرٹ آئن اسٹائن کی اصل وجہ شہرت اس کا پیش کردہ نظریہ اضافیت ہے۔ نظریہ اضافیت کی بنیاد دو بنیادوں پر ہے: اسپیشل تھیوری برائے اضافیت جسے آئن اسٹائن نے 1905 میں پیش کیا اور 1915ء میں پیش کردہ اضافیت کی جنرل تھیوری جسے آئن اسٹائن کا نظریۂ ثقل کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یہ دونوں ہی نظریات انتہائی پیچدہ ترین ہیں اور یہاں ان کی وضاحت کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی تاہم ںظریۂ خصوصی کے کچھ نکات ضرور پیش کیے جائیں گے۔ آئن اسٹائن کا معروف قول ہے کہ ’کائنات میں ہر چیز اضافی ہے‘ تاہم آئن اسٹائن کا نظریہ اس فلسفیانہ بات کا اعادہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک درست ترین ریاضیاتی بیان ہے جہاں سائنسی ناپ تول کو اضافی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ زمان اور مکان کے اسلوبی ادراک کی بنیاد دیکھنے والے کے مشاہدے کا عکس ہوتی ہے۔ اگرچہ آئن اسٹائن سے قبل زیادہ تر لوگوں کا ماننا تھا کہ ان اسلوبی مشاہدات کی بنیاد اصل فاصلوں اور زمانِ مطلق پر تھی جنہیں درست ترین آلاتِ پیمائش معروضی طور پر ناپ سکتے تھے مگر آئن اسٹائن کے نظریے نے کسی بھی زمانِ مطلق کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے سائنسی فکر میں انقلاب برپا کر دیا۔ درج ذیل مثال سے اس امر کو سمجھنا ممکن ہے کہ آئن اسٹائن کی تھیوری نے کس طرح زمان او مکان سے متعلق ہمارے تصورات کی تشکیلِ نو کی۔ فرض کریں ’ایکس‘ نامی ایک خلائی جہاز ایک لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین سے دور جا رہا ہے۔ اس رفتار کو زمین اور خلائی جہاز دونوں پر موجود مبصرین ناپتے ہیں اور ان کے نتائج میں کوئی فرق نہیں آتا۔ تاہم ’وائی‘ نامی ایک دیگر خلائی جہاز پہلے خلائی جہاز کی قطعی سمت میں تھوری زیادہ رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ اگر زمین پر موجود مبصرین خلائی جہاز ’وائی‘ کی رفتار ناپیں تو ان کے نتائج کے مطابق خلائی جہاز ’وائی‘ زمین سے ایک لاکھ 80 ہزار فی سکینڈ کی رفتار سے دور جا رہا ہو گا جب کہ خلائی جہاز پر موجود مبصرین بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ چوں کہ دونوں جہاز ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہیں تو محسوس ہو گا کہ ان دونوں کی رفتار میں فرق 80 ہزار کلو میٹر فی سیکنڈ کا ہے اور یہ کہ تیز رفتار جہاز لازمی طور پر سست رفتار جہاز کی نسبت محسوس کردہ رفتار – ایک لاکھ 80 ہزار فی سیکنڈ – سے دور جا رہا ہو گا تاہم آئن اسٹائن کی تھیوری کے مطابق اگر یہ مشاہدات دو خلائی جہازوں سے کیے جائیں تو دونوں جہازوں پر موجود مبصرین اتفاق کریں گے کہ دونوں جہازوں کے درمیان فاصلے میں ایک لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے نہ کہ 80 ہزار کلومیٹر فی سیکنڈ کی شرح سے۔ اگر چہ بظاہر یہ نتیجہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے اور قاری کو لگتا ہے کہ اسے الفاظ کی الٹ پھیر میں الجھایا جا رہا ہے یا یہ کہ اس مسئلے کا کوئی اہم ترین پہلو حذف کر دیا گیا ہے۔ مگر ایسی کوئی بات نہیں۔ ان نتائج کا خلائی جہازوں کی ہیئت تشکیلی یا ان کو چلانے والی طاقتوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مبصرین کے مشاہدے میں کوئی غلطی ہے اور نہ ہی آلاتِ پیمائش خراب ہیں اور کوئی لفظی الٹ پھیر بھی نہیں ہے۔ آئن اسٹائن کے مطابق سابقہ نتیجہ – جسے آئن اسٹائن کے نظریہ حرکیات کے کلیے سے قطعی طور پر ناپا جا سکتا ہے –  صرف اور صرف زمان اور مکان کی بنیادی فطرت کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ سب نہایت نظریاتی محسوس ہوتا ہے اور درحقیقت کئی سالوں تک کچھ سائنس دانوں نے نظریہ اضافیت کی تردید کرتے ہوئے اسے صرف خیال آرائی ہی قرار دیا جس کی کوئی عملی افادیت نہیں تھی مگر 1945ء میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد سب نے اس نظریے کو قطعی طور پر تسلیم کر لیا۔ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایک مخصوص کیفیت میں مادہ اور روشنی یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان تعلق کو E = Mc2 سے سمجھا جا سکتا ہے، جہاں E سے مراد توانائی، M سے مراد کمیت اور C سے مراد روشنی کی رفتار ہے۔ اس طرح c جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہے ایک بہت عظیم رفتار ہے اور c2 – جس سے مراد وقت ہے – دو سے ضرب کھانے کے بعد ایک بہت عظیم شرح  میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مادے کی معمولی مقدار میں تبدیلی سے تونائی کی عظیم ترین مقدار خارج ہو گی۔ کوئی بھی شخص محض اس کلیے کے ذریعے ایٹم بم یا جوہری پاور پلانٹ تیار نہیں کر سکتا اور یہ بات ذہن میں تہہ نشین کر لینی چاہیے کہ متعدد دیگر اشخاص نے ایٹمی توانائی کی تیاری و حصول میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر اس کے ب وجود اس سلسلے میں آئن اسٹائن کا کردار کسی بھی اختلاف سے بالاتر ہے۔ مزید ازاں آئن اسٹائن ہی نے صدر روزویلٹ کی 1939ء میں خط کے ذریعے اس جانب توجہ مبذول کرائی تھی کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری ممکن ہے اور زور دیا تھا  کہ امریکا جرمنی سے پہلے ان ہتھیاروں کو تیار کرے جس کے بعد مین ہٹن منصوبے کی داغ بیل ڈالی گئی اور جس سے دنیا کے پہلے ایٹم بم کی ایجاد کی راہ ہموار ہوئی۔ نظریۂ اضافیت کی اسپیشل تھیوری پر بہت بڑے پیمانے پر بحث و تمحیص کی گئی مگر ایک نکتے پر سب نے اتفاق کیا کہ یہ ایک ذہن کو چکرا دینے والا نظریہ ہے جس کی تاریخِ عالم میں مثال نہیں ملتی۔ مگر یہاں ہر شخص غلطی پر تھا کیوں کہ آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری برائے اضافیت اس نکتے سے شروع ہوتی ہے کہ کششِ ثقل کے اثرات عام الفاظ میں مادّی قوتوں کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ان کا سبب بذات خود ’خلائی خمیدگی‘ میں پنہاں ہے۔ یہ ایک انتہائی حیران کن تصور تھا۔ خلا کی خمیدگی کا ناپنا کس کے بس میں تھا؟ اور سب سے بڑھ کر لفظ خلا کی خمیدگی سے مراد کیا ہے؟ مگر پھر بھی آئن اسٹائن نے نہ صرف یہ نظریہ پیش کیا بلکہ اس نے اسے ایک نہایت واضح ریاضیاتی کلیے میں سمو بھی دیا۔ چناں چہ بعد میں اس کلیے کے ذریعے واضح ترین پیش گوئیاں ممکن ہوئی جن کے ذریعے اس نظریے کو آزما لیا گیا۔ بعد ازاں کیے گئے مشہورترین مشاہدات جنہیں مکمل سورج گرہن کے دوران کیا گیا لگاتار آئن اسٹائن کے کلیات کی تصدیق کرتے چلے آرہے ہیں۔ اضافیت کا عمومی نظریہ متعدد لحاظ سے دیگر سائنسی قوانین کی نسبت ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ اول یہ کہ آئن اسٹائن نے یہ نظریہ دقیق و عمیق تجربات کے بعد اخذ نہیں کیا بلکہ اس کی بنیاد تناسب اور ریاضی کی بنیاد پر ہے اور یہ اسی طرح کا ایک عقلی نظریہ ہے جیسے یونانی فلاسفروں اور ازمنہ وسطیٰ کے مفکرین کا علمی وطیرہ تھا۔ اس نظریے کو پیش کرتے وقت آئن اسٹائن کو جدید سائنس کے بنیادی تسلیم شدہ پہلو کے خلاف جانا پڑا مگر جہاں یونانی فلاسفر حسن اور تناسب کی تلاش میں کبھی کسی ایسے میکانکی نظریے تک نہیں پہنچ سکے جو تجربات کی بھٹی سے گزر کر ثابت ہو سکے وہیں آئن اسٹائن کا نظریہ آج آزمائش کی ہر بھٹی سے گذر کر خود کو کندن ثابت کر چکا ہے۔ آئن اسٹائن کی طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہے کہ اضافیت کے عمومی نظریے کو تمام سائنسی نظریات میں انتہائی خوب صورت، شان دار، ٹھوس اور عقلاً قابلِ اطمیان قرار دیا جاتا ہے۔ دوم، اضافیت کے عمومی نظریے کا ایک امتیازی پہلو اور بھی ہے۔ زیادہ تر سائنسی قوانین صرف انتہائی حد تک درست ہوتے ہیں اور ان کے تنائج مخصوص کیفیات میں درست رہتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں تاہم ہماری تمام تر معلومات کے مطابق اضافیت کے عمومی نظریہ کا کوئی استثنائی پہلو نہیں ہے چناں چہ ایسی کوئی معلوم کیفیات خواہ حقیقت میں ہوں یا فرضی ہوں دنیائے سائنس میں نہیں جہاں اضافیت کے عمومی نظریات کی بنیاد پر کی گئیں پیش گوئیاں ’زیادہ سے زیادہ حد‘ تک درست قرار دی جائیں۔


اس پیچیدہ ترین بات سے مراد یہ ہے کہ اضافیت کے عمومی نظریات کی بنیاد پر کی گئی ہر پیش گوئی سو فی صد درست ہوتی ہے – نیرنگ


 ہو سکتا ہے مسقتبل میں کیے جانے والے تجربات اس نظریے کے اس پہلو کو متاثر کریں مگر تاحال اضافیت کا عمومی نظریہ مطلق سچائی ہے اور یہ علم کا وہ مقام ہے جہاں کوئی دوسرا سائنس دان نہیں پہنچ سکا۔ اگرچہ آئن اسٹائن کی وجۂ شہرت اس کا عمومی نظریہ اضافیت ہے مگر اس کے دیگر سائنسی کار ہائے نمایاں بھی اس کی شہرت کا دیگر سبب ہیں۔ درحقیقت آئن اسٹائن کو نوبل پرائز طبیعات کے میدان میں اس کی ان خدمات پر دیا گیا تھا جہاں اس نے ’فوٹو الیکٹرک اثر‘ کی وضاحت کی تھی۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ مظہر تھا جسے اس سے پہلے سائنس دان حل نہیں کر پائے تھے مگر آئن اسٹائن نے اپنے مقالے میں نظریہ پیش کیا کہ فوٹان یا روشنی کے ذرات ’وجود‘ رکھتے ہیں۔ طویل عرصے سے تجربات کی بنیاد پر تسلیم کیا جا چکا تھا کہ روشنی برقی مقناطیسی لہروں کا مجموعہ ہے اور چوں کہ ’امرِ واضح‘ تھا کہ لہریں اور ذرات اپنی ماہیت میں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں اس لیے آئن اسٹائن کے نظریات نے روایتی نظریات کو کلی طور پر رد کر دیا۔ نہ صرف یہ کہ اس کے فوٹو الکیٹرک قانون کی اہم تر  عملی افادیت ثابت ہوئی بلکہ فوٹون سے متعلق اس کے نظریات نے کوانٹم تھیوری کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا اور آئن اسٹائن کے پیش کردہ یہ نظریات آج تک اس تھیوری کا بنیادی جز ہیں۔ آئن اسٹائن کی اہمیت کا تجزیہ کرنے میں اس کا ایک مقام پر آئزک نیوٹن سے موزانہ بہت بصیرت انگیز ہے۔ نیوٹن کے نظریات عملی طور پر سمجھنے میں آسان تھے جن کی تشکیل میں اس کی ذہانت کا کردار اولین تھا مگر دوسری جانب آئن اسٹائن کے نظریاتِ اضافیت اتنے پیچیدہ ترین ہیں کہ مفصل وضاحت کے باوجود انہیں سمجھنا چنداں آسان نہیں۔ چناں چہ تصور کیجیے کہ پھر ان کی تشکیل کس قدر دشوار ہو گی۔ اگرچہ نیوٹن کے کچھ نظریات اس وقت کی تسلیم شدہ سائنس کے قطعاً متضاد تھے مگر اس کی تھیوری ہمیشہ درونی اختلاف سے پاک رہی مگر دوسری طرف نظریۂ اضافیت متناقضات یعنی پیراڈاکسز سے لب ریز ہے اور یہ صرف اور صرف آئن اسٹائن کی ذہانت تھی کہ اس نے ابتدائی دور میں اس وقت جب اس کے نظریات کو ایک نوعمر لڑکے کے غیر ثابت شدہ مفروضات سمجھا جاتا تھا ان بظاہر تضادات سے مرعوب ہو کر اپنے نظریات کو رد نہیں کیا بلکہ ان پر غوروفکر کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر ثابت کر دکھایا کہ یہ تضادات صرف سطحی تھے اور یہ کہ اس کے نظریات کا ہر معماتی پہلو لطیف طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ آج ہم آئن اسٹائن کے نظریے کو بنیادی طور پر نیوٹن کے نظریات سے زیادہ ’درست ترین‘ باور کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کتاب میں آئن اسٹائن کا تذکرہ نیوٹن کے بعد کیا گیا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نیوٹن کے نظریات ہی تھے جنہوں نے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے بنیادیں ڈالیں۔ اگر دنیا میں صرف نیوٹن ہوتا تو آج کی جدید ٹیکنالوجی اسی طرح ہی ہوتی جیسی اب ہے مگر ایسا آئن اسٹائن کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک دیگر پہلو بھی ہے جس نے اس کتاب میں آئن اسٹائن کی درجہ بندی پر اثر ڈالا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں ایک اہم خیال کی تشکیل میں متعدد لوگوں نے کردار ادا کیا ہے مثلاً سوشل ازم کی تاریخ یا برقی و مقناطیسی تھیوری کا ارتقاء وغیرہ۔ اگرچہ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کا سہرا تمام تر اس کے سر نہیں جاتا مگر اس تھیوری کی تشکیل میں زیادہ تر حصہ بہرحال اسی کا ہے اور اسی زیادہ تر حصہ کی بدولت ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظریاتِ اضافیت بنیادی طور پر ایک واحد غیر معمولی فطین ذہن کی فکر کا نتیجہ ہے۔ آئن اسٹائن 1879ء میں جرمنی کے شہر الم میں پیدا ہوا۔ اس نے ہائی اسکول کی تعلیم سوئٹزرلینڈ میں مکمل کی اور 1900ء میں وہیں کی شہریت اختیار کر لی۔ اس نے یونی ورسٹی آف زیورخ سے 1905ء میں پی ایچ ڈی کی سند لی مگر اس وقت اسے وہاں بطور مدرس کوئی ملازمت نہیں مل سکی۔ تاہم اسی سال اس نے اضافیت کے خصوصی نظریے، فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ اور برائونین موشن کی تھیوری پر مقالات شائع کیے۔ چند سالوں کے اندر ان مقالات نے اور بطورِ خاص نظریۂ اضافیت نے ثابت کر دکھایا  کہ آئن اسٹائن تاریخ عالم میں سب سے زیادہ فطین اور حقیقی سائنس دان ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریات نہایت ہی متنازعہ تھے او تاریخ میں سوائے ڈارون کے آئن اسٹائن کے مقابلے میں کسی اور سائنس دان کو اتنی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا مگر اس سب کے باوجود 1913ء میں اسے برلن یونی ورسٹی میں پروفیسر رکھ لیا گیا اور اسی دوران وہ کیسر ولہم انسٹی ٹیوٹ کا ڈائرکٹر برائے طبیعات اور پروشین اکیڈیمی آف سائنس کا رکن بھی منتخب ہوا۔  ان ملازمتوں کی بدولت اسے حسبِ خواہش کل وقتی تحقیق کی فرصت میسر آئی۔ جرمن حکومت کو کبھی بھی آئن اسٹائن کو اتنا فراخ دلانہ معاوضہ پیش کرنے پر تردّد نہیں ہوا کیوں کہ محض دو سال بعد ہی اس نے اضافیت کا عمومی نظریہ پیش کر دیا اور 1921ء میں نوبل پرائز حاصل کر لیا۔ اپنی زندگی کے آخری نصف حصے میں آئن اسٹائن کو عالمی شہرت حاصل ہو چکی تھی اور غالباً اسے تاریخ عالم کا سب سے مشہور سائنس دان کہا جا سکتا ہے۔ چوں کہ آئن اسٹائن مذہباً یہودی تھا اس لیے جرمنی میں ہٹلر کے عروج کے وقت اس کے لیے صورت حال خطرناک ہو گئی۔ چناں چہ وہ 1933ء میں پرنسٹن، نیو جرسی منتقل ہو گیا جہاں اس نے انسٹی ٹیوٹ اور ایڈوانسڈ اسٹدی میں ملازمت کی اور 1940ء میں امریکی شہریت حاصل کر لی۔ آئن اسٹائن کی پہلی شادی طلاق پر منتج ہوئی تاہم دوسری شادی اس کے لیے کام یابی کا پیغام لائی۔ آئن اسٹائن کے دو بیٹے تھے اور وہ 1955ء میں پرنسٹن میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا۔ آئن اسٹائن اپنے گرد موجود انسانی دنیا میں ہمیشہ سے دل چسپی رکھتا تھا اور کثرت کے ساتھ سیاسی معاملات پر اپنے نظریات کا اظہار کیا کرتا تھا۔ اس نے ہمیشہ سیاسی جبر کی مخالفت کی۔ وہ ایک مکمل امن پسند اور صیہونیت کا پیروکار تھا۔ لباس اور سماجی روایات کے معاملات میں وہ ایک اعلی درجے کا انفرادیت پسند تھا۔ وہ ایک بہترین حس مزاح کا حامل تھا جب کہ ایک انکسار آمیز شخصیت کے ساتھ وہ ایک بہترین وائلن نواز بھی تھا۔ نیوٹن کی قبر پر نقش تحریر آئن اسٹائن پر زیادہ منطبق ہوتی ہے:


’یہ امر فانی انسانوں کے لیے وجۂ مسرت ہے کہ (نیوٹن جیسا) جوہرِ عظیم انگشتِ انسانیت میں جگنو بن کر جگمگایا۔‘