Alexander the Great by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | مائیکل ہارٹ | سکندرِ اعظم | 33 واں باب

اگرچہ ’دنیا سے خالی ہاتھ جانے والا‘ مگر پھر بھی دنیائے قدیم کا عظیم فاتح سکندر اعظم 356 ق م میں مقدونیہ کے دارالحکومت پیلا میں پیدا ہوا۔


Alexander the Great by Michael Hart in Urdu


اس کا باپ شاہ فلپ دوم مقدونیہ پر حکم ران تھا اور ایک غیر معمولی صلاحیت اور بصیرت کا حامل تھا۔ فلپ دوم نے مقدونیہ کی فوج میں توسیع کے ساتھ اسے نئے انداز میں منظّم کرنے کے بعد انتہائی اعلیٰ جنگی قوت میں بدل دیا۔

اس نے جدید فوج کی مدد سے شروع میں یونان کے شمالی علاقے فتح کیے اور اس کے بعد جنوب میں یونان کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔

بعد ازاں فلپ نے یونان کی شہری ریاستوں پر مشتمل ایک فیڈریشن تشکیل دی جس کا وہ خود سربراہ تھا اور اس دوران وہ یونان کے مشرق میں عظیم ایرانی سلطنت پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

در اصل ان حملوں کا پہلے ہی آغاز ہو چکا تھا مگر 336 ق م میں فلپ دوم کو 46 سال کی عمر میں قتل کر دیا گیا۔

باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر صرف 20 سال تھی، مگر وہ کسی دشواری کے بغیر تخت نشین ہو گیا۔


Alexander the Great by Michael Hart in Urdu


دراصل فلپ دوم نے سکندر کو جانشینی کی بہترین تربیت دی تھی اور سکندر بہت کم عمری میں جنگی مہمات میں حصہ لے چکا تھا۔

علاوہ ازیں سکندر کے باپ نے اس کی رسمی تعلیم میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی اور اپنے وقت کا عظیم فلسفی اور سائنس دان ارسطو سکندر کا اتالیق تھا۔

یونان اور شمالی علاقوں دونوں میں فلپ دوم کے مفتوح لوگوں نے اس کی موت کو اپنی گردن میں پڑے مقدونیہ کی غلامی کے طوق کو اتار پھینکنے کا اچھا موقع تصور کیا؛ مگر سکندر نے تخت نشینی کے دو سال بعد ان دونوں علاقوں میں بغاوت کو مکمل طور پر کچل دیا اور اس کے بعد اس نے ایران کا رخ کیا۔

گزشتہ دو صدیوں سے ایرانی ایک وسیع وعریض علاقے پر حکم رانی کر رہے تھے جو بحیرہ روم سے ہندوستان تک پھیلا ہوا تھا۔ اگرچہ ایران اس وقت اپنی طاقت کے عروج پر نہیں تھا مگر پھر بھی یہ ایک بڑا دشمن تھا اور سلطنت ایران اس وقت روئے زمین پر سب سے طاقت ور، وسیع اور امیرترین ریاست تھی۔


The 100 by Michael Hart in Urdu

سکندر نے 334 ق م میں ایران پر حملے شروع کیے۔ چوں کہ اس وقت لازمی تھا کہ وہ یورپی مفتوح علاقوں پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے فوج کا ایک حصہ یونان میں پیچھے چھوڑے اس لیے سکندر نے صرف 35 ہزار فوجیوں کے ساتھ اس عظیم ترین مہم کا سامان کیا۔

اگرچہ یہ تعداد ایرانی فوج کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھی؛ تاہم عددی کمی کے باوجود سکندر نے ایرانی فوجوں کو پے درپے شکست دی۔

سکندر کی کام یابی کے تین اسباب تھے:

  1. اول، اس کے باپ کی چھوڑی ہوئی فوج ایرانی فوج کے مقابلے میں بہت بہتر منظّم اور تربیت یافتہ تھی۔
  2. دوم، سکندر خود ایک نہایت غیر معمولی ذہین جنرل تھا جسے شاید دنیا کا سب سے عظیم جنرل کہا جا سکتا ہے۔
  3. اور تیسری وجہ خود سکندر کا حوصلہ اور ذاتی شجاعت تھی۔

اگر چہ سکندر ہمیشہ جنگ کے شروع میں عقب سے اپنی فوج کی رہ نمائی کرتا تھا؛ مگر اپنے خاص سواروں کی قیادت میں فیصلہ کن حملہ وہ خود کیا کرتا تھا۔

یہ ایک نہایت خطرناک اقدام تھا اور سکندر نے اس وجہ سے بے شمار زخم بھی کھائے؛ مگر جب اس کی سپاہ اسے ایسے خطرناک حالات میں اس طرح جنگ لڑتے دیکھتی تھی کہ وہ ان کو اس خطرناک مہم میں حصہ لینے کا حکم بھی نہیں دیتا تھا تو ان کا جنگی حوصلہ آسمان کو چھو جاتا تھا۔

سکندر اپنی سپاہ کے ساتھ  پہلے ایشیائے کوچک میں داخل ہوا جہاں اس نے موجود چھوٹے ایرانی دستوں پر فتح حاصل کی۔ اس کے بعد شمالی شام میں داخل ہوتے ہوئے اس نے آئسس کے مقام پر ایرانی فوج کی ایک بہت بڑی تعداد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

بعد ازاں وہ مزید جنوبی علاقے کی طرف بڑھا اور سات ماہ کے تکلیف دہ محاصرے کے بعد اس نے فینیشیئن قوم کے جزائری شہر ٹائر – موجودہ لبنان – کو فتح کر لیا۔

ٹائر کے محاصرے کے دوران اسے ایرانی شاہ نے ایک پیغام دیا کہ وہ ایک امن معاہدے کے عوض سکندر کو اپنی نصف سلطنت دینے کے لیے تیار ہے۔ سکندر کے ایک جنرل پارمینیو کو یہ پیش کش معقول محسوس ہوئی اور اس نے کہا کہ میں اگر سکندر کی جگہ ہوتا تو یہ پیش کش قبول کر لیتا؛ مگر جواب میں سکندر نے کہا کہ اگر میں پارمینیو کی جگہ ہوتا تو یہ پیش کش قبول کر لیتا۔

ٹائر کی فتح کے بعد سکندر بدستور جنوب کی جانب بڑھتا گیا اور دو ماہ کے محاصرے کے بعد اس نے غزہ کو فتح کیا اور مصر نے بغیر لڑے ہی ہتھیار ڈال دیے۔


یہاں سکندر نے اپنی فوجوں کو کچھ آرام کا موقع دیا۔ مصر میں اس وقت اس کی عمر صرف 24 سال تھی جب اس کے سر فرعون کا تاج رکھ کر اسے دیوتا قرار دیا گیا۔


اس کے بعد وہ ایشیاء واپس آیا جہاں اس نے 331 ق م میں اربیلا کی فیصلہ کن جنگ میں ایک بہت بڑی ایرانی طاقت کا قلع قمع کر دیا۔

اس فتح کے بعد سکندر نے بابل کا رخ کیا اور ایران کے دو وفاقی شہروں سوسا اور پرسی پولس میں داخل ہوا۔

330 ق م میں ایرانی باشاہ دارا سوم کو – اسے اس کے پیش رو دارا اعظم  سے خلط ملط نہ کیا جائے – اس کے افسران نے قتل کر دیا تاکہ وہ سکندر کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے پائے؛ مگر اس کے  باوجود سکندر نے دارا کے جانشین کو شکست دے کر قتل کر دیا اور محض تین سالہ لڑائی کے بعد تمام مشرقی ایران پر یونان کا جھنڈا لہرا کر وسط ایشیاء پر چڑھائی کی۔


 CLICK HERE TOO


سکندر اب چاہتا تو وطن واپس لوٹ کر مفتوحہ علاقوں کو ازسرنو منظّم کر سکتا تھا؛ مگر اُس کی دنیا کو فتح کرنے کی حرص ابھی بھی پیاسی تھی چناں چہ وہ اس کے بعد افغانستان میں داخل ہوا اور یہاں سے وہ ہندو کش پہاڑوں کے سلسلے عبور کرتا ہوا بھارت پہنچ گیا۔

مغربی ہندوستان میں اس نے بہت فتوحات حاصل کیں اور یہاں سے وہ شرقی ہند کی جانب بڑھنا چاہتا تھا مگر اس کے فوجی سالوں تک لڑنے کے بعد اب تھک گئے تھے اور انہوں نے مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیا؛ چناں چہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ایران لوٹنا پڑا۔

ایران واپسی کے بعد اگلا ایک سال سکندر نے اپنی سلطنت اور فوج کی تنظیمِ نو میں صرف کیا۔ یہ ایک بہت عظیم تنظیمِ نو تھی۔

اس دوران سکندر کو غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ صرف یونانی ثقافت ہی اصل ثقافت ہے اور یہ کہ تمام غیر یونانی باشندے وحشی ہیں۔

دراصل یہ نظریہ اس وقت تمام یونان میں پھیلا ہوا تھا اور خود ارسطو تک اس نظریے پر یقین رکھتا تھا؛ مگر اس حقیقت کے باوجود کہ سکندر نے ایرانی فوجوں کو شکست دی تھی اسے جلد ہی ادراک ہوا کہ ایرانی کسی طور بھی وحشی نہیں تھے بلکہ وہ انفرادی طور پر اتنے ہی ذہین، اہل اور قابلِ عزت تھے جتنا کے خود یونانی۔

چناں چہ اس کے ذہن میں دونوں تہذیبوں کو ضم کرنے کے خیال نے انگڑائی لی۔ ایک ایسی عظیم ترین ایرانی-یونانی سلطنت جس کا وہ شہنشاہ ہو گا۔

چناں چہ جہاں تک ہمیں علم ہے سکندر دل سے چاہتا تھا کہ ایرانیوں کو بھی وہی درجہ ملے جو یونان اور مقدونیہ کے باشندوں کا تھا۔ چناں چہ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نے بڑی تعداد میں ایرانیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا۔

اس نے مغرب اور مشرق کے ملاپ کے نام سے ایک عظیم رسم کا آغاز کیا جس میں مقدونیہ کے لاکھوں سپاہیوں نے رسمی طور پر ایشیائی خواتین سے شادی کی۔

اگر چہ سکندر پہلے بھی ایک ایشیائی شہزادی سے شادی کر چکا تھا مگر اس نے دارا کی ایک بیٹی سے بھی شادی کی۔

یہ درست ہے کہ سکندر اپنی ازسرنو منظّم کردہ افواج کے ساتھ مزید فتوحات کرنا چاہتا تھا اور اب وہ عرب کا رخ کرنے کے درپے تھا اور امکانی طور پر ایرانی سلطنت کے شمالی حصوں کو بھی تاراج کرنا چاہتا تھا۔

غالباً اس کی نیت انڈیا پر حملے کی بھی تھی یا پھر وہ روم، کارتھیج اور بحیرہ روم کے مشرقی حصوں کو فتح کرنا چاہتا تھا۔

اس کے منصوبے خواہ کچھ بھی ہوں مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اس کے بعد سکندر مزید فتوحات نہیں کر سکا۔

323 ق م میں جون کے اوائل میں جب وہ بابل میں تھا سکندر اچانک شدید بخار میں مبتلا ہو گیا اور محض 10 دن بعد دنیا سے ’خالی ہاتھ‘ ہی رخصت ہوا۔

موت کی وقت اس کی عمر صرف 33 سال تھی۔

سکندر نے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا تھا اور اس کی موت فورا بعد تخت کے لیے جنگ وجدل کا آغاز ہو گیا اور اس خون ریز کشمکش میں سکندر کی ماں، بیویاں اور بچے مارے گئے اور اس کے جرنیلوں نے سلطنت کے حصے بخرے کرلیے۔

چوں کہ سکندر عین حالتِ جوانی میں کسی شکست کے بغیر دنیا سے گیا اس لیے اس بارے میں قیاسات کا انبار ہے کہ اگر وہ مزید زندہ رہتا تو آج تاریخ کا رنگ کیا ہوتا؟

بلاشہ اگر وہ اپنی فوجوں کے ساتھ بحیرہ روم کے مغربی حصوں پر یورش کرتا تو اس کی کام یابی کے امکانات واضح ترین تھے اور اس صورت میں آج پورے مغربی یورپ کی تاریخ کا چہرہ بالکل مختلف ہوسکتا تھا۔

اگرچہ یہ قیاسات دل چسپ ہیں مگر سکندر کے اصل اثرات جانچتے وقت ان کی اہمیت محض سطحی ہے۔

سکندر غالباً تاریخِ عالم کی سب سے زیادہ ڈرامائی شخصیت ہے اس لیے اس کی ذات سے منسوب داستانیں بھی کچھ کم نہیں اور اس کی زندگی کے اصل پہلو بلاشبہ بہت سحرانگیز ہیں۔

وہ ایک عظیم جنگجو تھا جو ساری دنیا پر حکومت کرنا چاہتا تھا اور وہ اس اعزاز کا مستحق بھی تھا۔

ایک انفرادی جنگ جو کے طور پر اس نے شجاعت اور قابلیت کو یک جا کیا۔

بطور جرنیل وہ عظیم تھا اور اپنے گیارہ جنگی سالوں میں اس نے ایک بار بھی شکست نہیں کھائی اور اسی دوران وہ ایک عظیم مفکر بھی تھا جس نے ارسطو سے تعلیم پائی اور جو ہومر کی شاعری کا دیوانہ تھا۔

بلاشبہ اس حقیقت کو محسوس کرنے میں کہ غیریونانی وحشی نہیں تھے اس نے اپنے وقت کے عظیم مفکرین سے زیادہ بصیرت کا مظاہرہ کیا۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ بعض معاملات میں وہ انتہائی تنگ نظر بھی تھا۔ اگرچہ اس نے جنگوں میں بارہا اپنی زندگی کو جوکھم میں ڈالا مگر وہ کسی جانشین کا تقرر کرنے میں نا کام رہا اور اس غفلت کے نتیجے میں اس کی فتح کردہ سلطنت بڑے پیمانے پر اور بہت تیزی سے اس کی موت کے بعد ٹکڑوں میں بٹ گئی۔

سکندر ایک سحر انگیز شخصیت کا مالک ہو سکتا ہے اور اکثر اس نے فتح کے بعد اپنے دشمنوں سے صلح آمیز اور فیاضانہ برتاؤ بھی کیا مگر دوسری طرف اس کی شخصیت کا ایک اور پہلو نہایت خودپرست اور تند مزاج بھی تھا۔

ایک موقع پر نشہ کی حالت میں کسی بات پر بگڑ کر اس نے اپنے دیرینہ رفیق کلائیٹیس کو ہلاک کر دیا جس نے ایک بار اس کی جان بچائی تھی۔

نپولن اور ہٹلر کی طرح سکندر کے اپنی قوم پر اثرات بہت گہرے ہیں۔

اگرچہ اس کے اثرات کا دور ان دونوں سے بہت کم تھا کیوں کہ ان دنوں سفر اور ابلاغ کے ذرائع بہت محدود تھے۔

سکندر کی فتوحات کے دیرپا اثرات میں یونان اور مشرق وسطی کی تہذیبوں کو یک جا کرنا شامل ہے جس سے ان دنوں تہذیبوں کے سرمائے میں بہت عظیم اضافہ ہوا۔

سکندر کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد یونانی ثقافت بہت تیزی سے ایران، عراق، شام، یہودا اور مصر کی تہذیب میں سرایت کر گئی۔

سکندر سے پہلے ان علاقوں میں یونانی تہذیب کے سرایت کرنے کی رفتار بہت سست تھی۔

اسی طرح اگر سکندر نہیں ہوتا تو آج انڈیا اور وسط ایشیاء میں کوئی یونانی تہذیب سے واقف تک نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں سکندر سے پہلے کسی اور یونانی جنگجو کے قدم نہیں پڑے تھے۔

تاہم ثقافتی اثر ایک دوطرفہ عمل ہوتا ہے۔

سکندر کی موت کے فورا بعد صدیوں میں جسے ہیلیانی دور کہا جاتا ہے مشرقی تصورات اور بطورِخاص مشرقی مذہبی تصوارات یونانی دنیا میں داخل ہوئے۔ غالب طور پر یونانی مگر مضبوط ترین مشرقی اثرات سے بہرہ ور اسی ہیلیانی تہذیب نے آ گے چل کر روم کی تہذیب کو بھی متاثر کیا۔

اپنی زندگی میں سکندر نے 20 سے زائد شہروں کی بنیادیں استوار کیں جس میں سب سے ممتاز مصر میں اسکندریہ کا شہر ہے۔

اس شہر نے بہت جلد عالمی طور پر ممتاز شہر کا درجہ پایا اور یہ بہت جلد علم وثقافت کا بے مثال مرکز بن گیا۔

علاوہ ازیں افغانستان میں ہرات اور قندہار کے شہروں نے بھی اہم شہروں کی صف میں جگہ پائی۔

مجموعی اثر کے اعتبار سے سکندرِاعظم، نپولین اور ہٹلر کا درجہ ایک ہی ہے؛ مگر محسوس ہوتا ہے کہ ان دونوں کے مقابلے میں سکندر کے اثرات زیادہ دیرپا ثابت ہوں گے؛ چناں چہ اسی بنیاد پر نپولین اور ہٹلر کو اس کتاب میں سکندر سے نیچے جگہ دی گئی ہے باوجود یہ کہ اس کے دورِحکومت کی معیاد ان دونوں سے کہیں کم ہے۔