Allama Iqbal Persian Poetry listen in Urdu
شعروادب - ادب - اکتوبر 11, 2019

کلامِ اقباؔل فارسی،آواز وشال وید،اردو ترجمہ نیرنگ ٹیم



جناب امیر خسؔرو اور مولانا جاؔمی کے بعد آج علامہ اقباؔل کے فارسی کلام کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے جسے وشال وید کی سحرانگیز آواز میں سننے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ مقصد یہ ہی ہے کہ فارسی سے ناواقف اہلِ ذوق تک فارسی ادب کی بلندی کا رنگ پیش کیا جاسکے کہ بابصیرت محض لفافہ دیکھ کر ہی مضمون کا رنگ بھانپ لیا کرتے ہیں۔ ترجمے کے ساتھ فہمِ محذوف کی ہلکی سے تشریح بھی دی گئی ہے جو بہرحال حرفِ آخر نہیں۔


کلام مع ترجمہ


صورت نپرستم من بتخانہ شکستم من/ میں نے صورتوں یعنی بتوں کی پرستش نہیں کی کہ میں وہ ہوں جس نے بت خانوں کو بسایا نہیں ڈھایا ہے/ آن سیل سبک سیرم ہر بند گسستم من/ آن یعنی میں ایک بپھرا ہوا سیلاب ہوں جس نے اپنے راستے میں آنے والے ہر بند یعنی رکاوٹ کو چور چور کر ڈالا ہے/ در بود و نبود من اندیشہ گمانہا داشت/ پہلے عقل کو اندیشہ تھا کہ میں ہوں بھی یا نہیں یعنی اسے میرے ہونے یا نہ ہونے کا یقین نہیں تھا/ از عشق ہویدا شد این نکتہ کہ ہستم من/ مگر جب مجھے عشق ہوا یعنی میں نے توحید کے راز کو پالیا تو اس عشق کی بے تابی سے مجھ پر یہ راز ہویدا ہوا یعنی ظاہر ہوا کہ میں وجود رکھتا ہوں اور میرا وجود صرف جسمانی حیات ہی نہیں بلکہ شعور سے بہرہ ور ہے اور میں نے جانا کہ میں کسی کو عزیز ہوں اس لیے مجھے عقل دےکر تخلیق کیا گیا ہے/ در دیر نیاز من در کعبہ نماز من/ یہ شعر وحدت الوجود کی کیفیت میں لکھا گیا ہے جس کے مطابق ہر شے میں خدا کا نور جھلکتا ہے چناں چہ اقباؔل کا کہنا ہے کہ میرے دل نے بت خانے یعنی دیر میں بھی سر جھکایا اور میرا سر خدا کے سامنے کعبے میں بھی سجدہ ریز ہوا/ زنار بدوشم من تسبیح بدستم من/ زنّار اس پٹی کو کہتے ہیں جسے نصرانی کمر اور پیٹ پر باندھتے ہیں اور اسی طرح وہ بٹا ہوا دھاگا بھی زنّار کہلاتا ہے جسے ہندو علامتاً گلے میں ڈالتے ہیں چناں چہ اقباؔل کا کہنا ہے کہ جس جگہ نگاہ اٹھاتا ہوں صرف خدائے واحد ہی کا جلوہ نظر آتا ہے اس لیے تم میرے گلے میں پڑی زنّار بھی دیکھ رہے ہو اور ساتھ ہی میری انگلیاں ہاتھ میں تھامی تسبیح پر بھی خدا کی شان بیان کر رہی ہیں/ سرمایہ دردِ تو غارت نتوان کردن/ یہ مصرعہ نہایت غضب کا ہے جس میں شاعر کا کہنا ہے کہ یارب تیرے درد یا شوق کا سرمایہ کوئی لٹانے کی چیز نہیں ہے اس لیے/ اشکی کہ ز دل خیزد در دیدہ شکستم من/ جب تیرے فراق میں میرے دل سے میرا درد آنکھوں سے اشکوں کی صورت نکلنا چاہتا ہے تو میں انہیں اپنی آنکھوں میں روک کر وہیں محفوظ کر لیتا ہوں – کس قدر خوب صورت استعارہ ہے کہ سینے میں محبوب کے فراق کا درد اٹھ رہا ہے مگر آنکھوں کو اشک بہانے کی اجازت نہیں کہ اتنا قیمتی سرمایہ بہا کر ضائع نہیں کیا جا سکتا – شکستسم سے مراد ہے اشکوں کے سیلاب کو میں شکست دے دیتا ہوں یعنی روک لیتا ہوں آگے بڑھ کر بہنے نہیں دیتا/ فرزانہ بہ گفتارم دیوانہ بہ کردارم/ میری گفتگو یا خیالات سن کر لوگ مجھے اہلِ خرد میں شمار کرتے ہیں مگر میرے سارے کام دیوانوں والے ہیں – گفتارم یعنی میری گفتگو – کردارم یعنی میرا کردار/ از بادہ شوقِ تو ہشیارم و مستم من/ بادہ شراب کو کہتے ہیں – از معنی سے یا فرام – شوقِ تو – تیرے شوق (کی) – ہشیارم – میں ہوش میں بھی ہوں – و مستم من – اور ساتھ ہی بے خود بھی – یعنی میرے محبوب تیرے وصال کی شوق کی خواہش کی شراب نے مجھے اگرچہ بے خود کر رکھا ہے مگر اس بے خودی میں ہوش کی جو باتیں مجھ پر آشکار ہوئی ہیں وہ اگر اہل عقل جان لیے تو شاید اپنی انگلیاں دانتوں میں چبالیں۔

امید ہے اس حقیر سے کوشش کے بعد کلام اقباؔل کو وشال وید کی آواز میں سننے کا مزا دوبالا ہو جائے گا۔ اپنی رائے کے ساتھ اگر کوئی غلطی ہو ادارے کو مطلع کرنا نہ بھولیے۔