An Amazing Horror Read in Urdu

چوربازار میں یہ پریاں نہایت ہی مہنگی بِکا کرتی تھیں

میرے انکل جیک کچھ بھی پکڑ سکتے تھے۔ جی ہاں کچھ بھی۔ پاگل ریچھ، نیم معدوم حشرات الارض اور مہیب زہریلے سانپ۔ انکل جیک ایک بہت بڑا شکاری پنجرہ تیار کرنے کی فکر میں تھے جس میں ایک بھاری بھرکم نیلی وہیل مچھلی کو پکڑا جا سکے اور ان کے پاس اتنے چھوٹے پھندے بھی تھے جن سے وہ ہوا میں اڑتے جگنوئوں کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے آرام سے پکڑ لیتے تھے۔ اس کے با وجود انکل جیک اپنی شہرت سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ان پھندوں کے سامنے آنے کا وقت آ گیا ہے جس سے دنیا کو ان کی اصل صلاحیتوں کا علم ہو گا اور پھر وہ اپنے فن کے ماسٹر کہلائیں گے۔ انکل جیک نے مجھے اپنے شکاری پھندے اور پنجرے دکھائے۔ یہ دیکھنے میں چھوٹے چھوٹے پھولوں کی طرح تھے جن کی پتیاں شیشے کی اور تنے تانبے کے بنے ہوئے تھے۔ جب انکل نے ایک باریک سے پر سے اس نقلی پھول کے مرکزی حصے کو چھوا تو اس کی پتیاں یک لخت بند ہوئیں اور اس پر کو اپنے اندر قید کر لیا۔ اس وقت یہ پھول ایک انڈے جیسا لگ رہا تھا۔ انکل جیکب کا کہنا تھا کہ شفاف شیشے والے پھول انہوں نے امریکا کی مشہور اسپرٹ چیزر پری کو پکڑنے کے لیے تیار کیے ہیں؛ جب کہ سرخ شیشے والوں پھولوں کا مقصد فن لینڈ کے جنگلوں میں پائی جانے والی ارواح کو مقید کرنا ہے جو امر بیل سے مشابہ رنگ کی طرف لپکتی ہیں۔ ان میں سے چار پھول بند حالت میں تھے جنہیں انکل جیک ’عقبی گیراج‘ میں رکھتے تھے۔ کنکریٹ سے بنا یہ مقفل کمرہ ان کے گھر کے اصل گیراج کے پیچھے تھا۔ مجھے ہمیشہ وہاں سے گنگناہٹ سنائی دیتی تھی جس میں سوئیڈن یا فن لینڈ کی بولی میں لڑکیوں کے رونے اور التجائیں کرنے کی صدائیں بھی گندھی ہوتی تھیں۔ مجھے اس کمرے سے نفرت تھی۔ اس کمرے کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا تھا جیسے کسی دیو نے وہاں خوب صورت آوازوں کو قید کر رکھا ہے۔ میں جب بھی دھندلے شیشے کے پار اس کمرے میں جھانکتی تو مجھے ایک برہنہ وجود کا ہیولہ نظر آتا جس کے پشت پر دو سمٹے ہوئے پر ہوا کرتے تھے۔ پر انکل جیک انہیں آزاد کرنا نہیں چاہتے تھے مگر وہ اس وقت ایسا کیا کرتے تھے جب انہیں پیسوں کی ضرورت آن پڑتی تھی۔ چور بازار میں یہ پریاں نہایت مہنگے داموں بکا کرتی تھیں اور جانوروں کی نیلامی میں انکل جیک نے انہیں فروخت کر کے کیلی فورنیا میں 5 ملین ڈالر کی ایک پوری چراگاہ خریدی تھی۔ انکل جیک دو سبز فوجی بیگوں میں یہ رقم بھر کر لائے تھے۔ عقبی گیراج میں صرف پریوں کو پکڑنے والے پھندے ہی نہیں تھے بلکہ بھاری بھرکم چوبی صندوق بھی رکھے تھے جن میں لگے لوے کے دھار دار دستوں کے عقب میں سوراخ ہوتے تھے۔ لوہے کے ان دستوں کو ہلانا کسی چوہے یا اسی جیسے دوسرے کسی جانور کی بس کی بات نہیں تھی۔ دھیرے دھیرے گھومنے والے پہیے اور بازو سے جڑے لکڑی کے بھاری درمٹ آہستگی سے ان صندوق کی دیواروں پر ضرب لگاتے تھے۔ انکل جیک نے مجھے بتایا کہ تاریک جنگل کے عفریت اس جگہ آن بسے ہیں اور انکل کے مطابق وہ اپنی فطرت میں شیطانوں سے کم نہیں تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ ہتھوڑا کس لیے ہے۔ ’عفریت لکڑی پر ہونے والی اس دستک کو سنتے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک درخت کی روح پر کون ضرب لگا رہا ہے۔ وہ اس آواز کا پیھچا کریں گے۔ وہ اس صندوق میں گھس جائیں گے جس میں کوئی جانور نہیں گھس سکتا۔ وہ ان صندوقوں میں رکھے بلی کے بالوں اور اپنی ہی طرح ان میں پہلے سے بند دوسرے عفریتوں کی خوش بو کے تعاقب میں دوڑے چلے آتے ہیں۔ یہ عفریت ایک گروپ کی شکل میں اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے میں نے اس ہفتے 20 عفریتوں کو کام یابی سے شکار کیا ہے۔ مجھے اپنی اس حرکت پر کوئی تاسف نہیں کیوں کہ یہ عفریت کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔ یہ کہیں بھی راستہ بنا لیتے ہیں اور انسانوں کو ہمیشہ کے لیے اپنی دنیا میں کھینچ لے جانے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے۔‘ انکل نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ان صندوقوں سے کبھی کسی کے بولنے کی آواز نہیں آتی تھی البتہ درجنوں ننھے ننھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ انکل نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان صندوقوں میں اندر ہر جگہ پلاسٹک چپکایا ہوا ہے کیوں کہ پلاسٹک دنیا میں واحد چیز ہے جس کے سامنے ان عفریتوں کی جادوئی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں کیوں یہ اسے سمجھ نہیں پاتے۔ گنوم کی تصویر انکل جیک ان چوہے دانوں کو جو ان کے گھر میں نہیں سما سکتے تھے اپنے گرین ہائوس میں رکھتے تھے جیسے ساطیر پکڑنے والے پنجرے۔ ان پنجروں کو چیری کی شراب رکھنے والے کنستروں کے ذریعے تمباکو اور قنب کی باسکٹوں میں بنا گیا تھا جو اس وقت چینی پھندے کی طرح کام کرتی تھیں جب وہاں قید ساطیر اپنا ہاتھ بڑھا کر ان کنستروں سے شراب چرانے کی کوشش کرتے تھے۔ ساطر میں نے ایک بار اس پھندے کو تنا ہوا دیکھا خود بہ خود ہل رہا تھا جب کہ وہاں اسے ہلانے والا وجود نظروں سے غائب تھا۔ گرین ہائوس سے ایسی آوازیں آتی تھیں جیسے کوئی غصے کے عالم میں اپنے بھاری بھرکم پیر زمیں پر پٹک رہا ہو۔ انکل جیک نے مجھے اس کونے میں زیادہ دیر تک دیکھنے سے منع کیا تھا جہاں یہ ساطیری پنجرے رکھے تھے۔ انکل نے کہا کہ اس طرح کرنے سے تمہارا ہاتھ بھی ان پھندوں میں پھنس جائے گا اور تمہیں خبر تک نہ ہو گی۔ پھندہ چینی مگر سب سے خطرناک ترین پھندے یا پنجرے گھر سے بہت دور گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ پر رکھے ہوئے تھے۔ ان پنجروں کے درمیان ایک لاکھ ڈالر مالیت کی مرسڈیز کار کھڑی تھی۔ اس کار کا صرف کور ہی پانچ سو ڈالر کا تھا اور اس پر ’ماسٹر‘ کی نمائشی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ یہ جگہ ’جھونپڑی‘ کے برابر میں تھی۔ ہم جب بھی اس جھونپڑی میں جاتے تھے تو انکل ہمیشہ مجھے ہسپانوی سونے سے بنی ایک نہایت قدیم صلیب پہنایا کرتے تھے۔ اس جھونپڑی کی درزوں سے سو فٹ دور تک سرد سانسیں میری وجود سے ٹکراتی محسوس ہوتی تھیں جس کا دروازہ ہمیشہ بند رکھا جاتا تھا۔ اس جھونپڑی پر ہمیشہ سائے جھکے رہتے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے اس بلیک ہول کی طرح تاریک مقام پر روشنیوں کے پر جل جاتے ہیں۔ آسمان پر بادلوں کے بغیر دوپہر کا جلتا سورج بھی اس جگہ سے کترا کر نکل جاتا تھا۔ انکل جیک نے اس جھونپڑی کے دروازے پر تین قفل ڈالے ہوئے تھے اور مجھے انہیں دیکھ کر بہت ہنسی آتی تھی کیوں کہ اس جھونپری کی دیواریں صرف پتلے پتلے تختوں اور ٹین کی باریک چادروں پر مشتمل تھیں۔ اس جھونپڑی کے اندر داخل ہونے پر لگتا تھا جیسے ہم کسی بڑے سے فریج میں آ گئے ہیں۔ یہ اندر سے انتہائی سرد اور نم تھی اور حتیٰ کہ سال کے ان گرم ترین مہینوں میں بھی اس کے درجہ حرارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا جب تمام دن دہکتے ہوئے سورج کا قہر اس کی چھت پر برسا کرتا تھا۔ جھونپڑی میں پیتل کی ایک بڑی سی ٹیوب رکھی تھی جس سے طرح طرح کے کل پرزے جڑے ہوئے تھے۔ دن ہو یا رات انکل جیک بار بار اس جھونپڑی میں جا کر وہاں لگے ڈائلوں اور پیمانوں کو چیک کرتے رہتے تھے۔ یہ ڈائل اور پیمانے خود انکل جیک نے اپنے ہاتھوں سے بنائے تھے اور جب بھی وہ ان پر نظر ڈالتے ہر بار ان کے تفکر میں پہلے کی نسبت اضافہ ہو جاتا تھا۔ ’اس جگہ کو جہنم کی ایک انہتائی خوں خوار بلا کو پکڑ کر قید رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا؛ مگر اس کے بجائے بے شمار روحیں میرے ہاتھ لگ گئیں۔ انہیں عرف عام میں شور مچانے والے بھوت کہا جاتا ہے۔ یہ بلائیں انتہائی جان لیوا ہوتی ہیں۔ poltergeist ایک بار انہوں نے اپنی طاقت سے میرے اس پنجرے کو تقریباً توڑ ہی دیا تھا۔ انہیں انسانی شعور اور انسانی جسموں کے علاوہ دنیا میں کسی اور چیز سے کوئی دل چسپی نہیں، مگر تم یہ بات ذہن میں رکھنا کہ یہ بات بھی مجھے ان ہی شریر بھوتوں نے بتائی ہے اس لیے مجھے اس پر کوئی خاص یقین نہیں کیوں کہ انسانوں کو دھوکا دینا ان کے خمیر میں گندھا ہے۔ ایک نہ ایک دن یہ سب اس قید سے آزاد ہو کر ایک بار پھر دنیا میں پھیل جائیں گے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ وہ دن قریب آ گیا ہے۔‘ انکل جیک نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔ مگر انکل جیک کا بنایا سب سے بڑا چوہے دان سونے اور چاندی سی بنی ایک انگوٹھی تھی جس میں ایک بڑا سے ہیرا جڑا تھا۔ انکل نے یہ انگوٹھی مجھے میری 16ویں سال گرہ پر دی۔ انکل نے مجھے بتایا کہ یہ انگوٹھی صرف اس مرد کی انگلی میں پوری آئے گی جو میری دل و جان سے پرستش کرے گا اور ایک بار پہننے کے بعد یہ انگوٹھی مرتے دم اس کی انگلی سے نہیں اترے گی۔ میں نے یہ انگوٹھی آٹھ سال تک اپنے پاس سنبھال کر رکھی۔ میں اسے خود سے ملنے والے ہر مرد کی انگلی میں ڈال کر دیکھتی تھی؛ مگر یہ انگوٹھی مقناطیس کے مخالف سروں کی طرح ایک جھٹکے کے ساتھ ان کی انگلیوں سے دور ہو جایا کرتی تھی۔ میں یہ انگوٹھی ہمیشہ اپنے پاس رکھتی تھی مگر ایک بار میرا ایک ڈاکو سے سابقہ پڑ گیا۔ اس نے میرے سر پر گن رکھتے ہوئے ہر چیز اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ میں نے اپنا بٹوا، کار کی چابیاں اور سیل فون اسے دے دیا؛ مگر اسے ہر قیمت پر میری انگوٹھی بھی چاہیے تھی۔ ’کبھی نہیں۔‘ میں نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا۔ اس کا دستانے پہنا ہاتھ میری انگوٹھی کی طرف بڑھا اور میں نے اس کی گن پر ہاتھ مارا۔ ڈاکو میری انگوٹھی لے کر بھاگا اور میں نے بے تک پن سے اس کی سمت دو بار فائر کیا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کوئی گن چلائی تھی اور فلموں کی برعکس یہ بہت وزنی تھی۔ دونوں میں سے ایک بھی گولی ڈاکو کو نہیں لگی۔ وہ کود کر اپنی سیاہ ٹیوٹا میں بیٹھا اور وہاں سے ہوا ہو گیا۔ میرے پاس اس کی گن کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکے گی کیوں کہ ڈاکو نے اپنا چہرہ پوری طرح ڈھانپا ہوا تھا اور اس کی گاڑی پر کوئی نمبر پلیٹ بھی نہیں تھی۔ چار دن تک میں غم سے بخار میں جلتی رہی۔ میرے زندگی میں امید کی واحد کرن صرف یہ ہی انگوٹھی تھی اور اب ہر بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ پھر میں اپنے انکل کے پاس گئی اور انہیں سارا ماجرا سنایا۔ جب میں نے انکل سے کہا کہ میں اس ڈاکو کو پکڑنا چاہتی ہوں تو ان کی حالت ایک شکست خوردہ سپاہی کی سی ہو گئی۔ انکل نے کہا کہ جب تک ہماری پاس کسی کی کوئی نشانی نہ ہو ہم اسے چوہے دان میں نہیں بند کر سکتے؛ مگر جب انہوں نے میرے ہاتھ میں ڈاکو کا 9 ایم ایم پستول دیکھا تو ان کی آنکھیں گویا حلقوں سے نکل کر باہر گر پڑیں۔ پستول کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد انکل جیک نے مجھے وہاں سے رخصت ہونے کو کہا۔ اس دوران ان کی آنکھیں پستول پر جمی تھیں۔ انکل جیک نے سورج نکلنے سے پہلے چھ گھنٹے تک اس پستول کے ساتھ مراقبہ کیا۔ اس کے بعد انکل نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا کہ 36 گھنٹوں میں کام ہو جائے گا۔ انکل جیک نے چار کباڑ خانے کھنگالنے کے بعد 1983 کی ایک سیاہ ٹویوٹا کار کو ڈھونڈھ نکالا اور اس کے فوراً بعد میں اپنے انکل کے ساتھ اس ڈاکو کو پکڑنے کے لیے چوہے دان کی تیاری میں لگ گئی۔ ہم یہ کام انکل جیک کی مرسڈیز کار کے برابر میں کر رہے تھے جس پر ماسٹر کی نمائشی نمبر پلیٹ لگی تھی۔ گاڑیوں کے ذریعے چوہے دان بنانے میں انکل کو گویا ملکہ حاصل تھا۔ جب ہم اس چوہے دان پر کام کر رہے تھے تب انکل نے مجھے اس انتہائی قیمتی گاڑی کے بارے میں بتایا۔ اگر چہ انکل نے اپنی بات واضح نہیں کی؛ مگر انہوں نے تصدیق کی کہ اس قیمتی گاڑی میں ایک جہنمی بلا بند ہے۔ انکل نے بتایا کہ یہ مرسڈیز کار ہر 8 سال بعد خود بہ خود آہستگی سے پہلے جیسی نئی ہو جاتی ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ کام ان کا نہیں البتہ جب ہم ڈاکو پکڑنے کا چوہے دان بنا رہے تھے تو میرے کانوں نے مرسڈیز بینز سے چرچراہٹ کی آوازیں سنیں کیوں کہ یہ آہستہ آہستہ اپنی پہلے جیسی نئی حالت میں آ رہی تھی۔ میں نے انکل جیک کے ساتھ 35 گھنٹوں تک لگا تار کام کیا۔ جب یہ چوہے دان تیار ہو گیا تو انکل اس کار کو چلاتے ہوئے شہر کے ایک خراب علاقے میں لے گئے۔ انکل کے پیچھے پیچھے میں اپنی گاڑی میں آ رہی تھی۔ انکل نے یہ کار ایک شراب خانے کے عقب میں گلی میں لگے بلب کے نیچے کھڑی کر دی۔ شراب خانے کے برابر میں ایک کاٹھ کباڑ کا گودام تھا۔ انکل جیک نے کار کی سیٹ پر اپنا سونے کا بریسلیٹ اور قیمتی گھڑی رکھ دی جب کہ ڈیش بورڈ پر اپنا نوٹوں اور کریڈٹ کارڈوں سے بھرا بٹوا لا پرواہی سے پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ کار سے باہر آئے اور وہاں سے کچھ دور کھڑی میرے گاڑی آ کر میں بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے مجھے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔ ’اس ڈاکو نے سب سے پہلے ایک سیاہ ٹویوٹا لوٹی تھی اور یہ اس کے لیے خوشی قسمتی کی علامت ہے اس لیے وہ اسے کبھی بھی نظر انداز نہیں کرے گا۔‘ جب ہم بالکل درست وقت پر وہاں واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی ٹویوٹا کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے آدھا باہر لٹکا ہوا تھا اور یکایک اس طرح پھسل کر گاڑی کے اندر چلا گیا جیسے اسے کسی نے چوس لیا ہو۔ اندر اسپرنگ سے کام کرنے والے لوہے کے دانتوں نے ڈاکو کو ہر جگہ سے جکڑ لیا جب کہ اس دوران کار کے تمام شیشوں اور ونڈ اسکرین پر مضبوط فولادی چادریں چڑھ گئیں۔ ان چادروں پر بصارت کو فریب دینے والی تصویریں بنی تھیں اور سامنے سے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے۔ انکل جیک ہلکا سے ہنسے اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس گاڑی کو چلاتے ہوئے اپنی وسیع و عریض چراہ گاہ میں بنے گھر لے آئے۔ ڈاکو اس پنجرے میں بند بری طرح کسمسا رہا تھا۔ انکل نے کار کی کھڑکی میں لگی اسٹیل کی چادر درز بھر نیچے سرکائی اور یک لخت ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ڈاکو نے ابھی بھی وہی چہرہ چھپانے والا ماسک اپنے چہرے پر چڑھایا ہوا تھا جو اس نے مجھ سے چیزیں چھینتے وقت پہنا ہوا تھا۔ انکل جیک نے اس درز میں ایک پائپ ڈال دیا جس سے نیلے رنگ کا دھواں نکل رہا تھا۔ ’ہم دونوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میرے پاس شرارتی بھوتوں کی ایک پوری ٹیم موجود ہے۔‘ انکل نے ڈاکو سے کہا۔ ’جیسے فلموں میں دکھاتے ہیں۔‘ ڈاکو نے طنزیہ انداز میں کہا، مگر اس کی آواز نہایت مسحور کن اور نرم تھی۔ اس کے با وجود انکل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں آئی اور انہوں نے ہاتھ میں تھاما پائپ ہلایا جس کے سرے سے سرد اور نم کہر جیسا دھواں نکل رہا تھا۔ ’نہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ میں نے جن چوہے دانوں میں ان شریر بھوتوں کو بند کر رکھا ہے وہ بہت جلد ٹوٹنے والے ہیں۔ ۔ ۔ مگر تم جس چوہے دان میں بند ہو اس میں اندر چاندی کی تہہ لگی ہے چناں چہ وہ بھوت یہاں سے کبھی نہیں نکل سکتے۔ ۔ ۔ مگر ہاں وہ بہت آرام سے تمہارے سر میں گھس جائیں گے۔ ۔ ۔ ‘ چوہے دان کے اندر اس طرح خاموشی تھی جیسی بات ڈاکو کی سمجھ میں آ گئی ہو۔ انکل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’تم نے میری بھتیجی سے ایک انگوٹھی چرائی ہے۔ بتائو وہ کہاں ہے؟ ورنہ میں تمہارے دماغ کا راستہ ان بھوتوں کو دکھا دوں گا۔ ۔ ۔ ‘ اس ڈاکو نے اپنے چہرے سے ماسک اتار دیا اور اس میں سے ایک انتہائی خوب صورت لڑکی کا چہرہ برآمد ہوا۔ اس نے اسٹیل کی کھلی درز سے اپنا ہاتھ باہر نکال دیا۔ ۔ ۔ میرا خیال تھا وہ ہمیں پکڑنا چاہتی ہے؛ مگر میں نے اس کی انگلیوں کو پھیلتے ہوئے دیکھا۔ ۔ ۔ میری انگوٹھی اس کے ہاتھ کی پہلی انگلی میں پھنسی ہوئی تھی اور انگلی پر اس طرح خراشیں پڑی تھیں جیسے وہ اسے اتارنے کے لیے بری طرح زور لگاتی رہی ہو ۔ ۔ ۔ وہ لڑکی بری طرح چلائی ۔ ۔ ۔ ’اسے اتار لو یہ کسی طرح میری انگلی سے نہیں اتر رہی۔ ۔ ۔‘ میں نے شوخ نظروں سے مڑ کر انکل کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ انکل کے چہرے پر زلزلے کے آثار تھے۔ ’ماسٹر صیاد‘ زندگی بھر کے لیے آپ اپنے دام میں آ گیا تھا۔

ختم شد