An Amazing Horror Story Read in Urdu

پھر پتا چلا کہ گھر میں ایک پُراسرار تہہ خانہ چُھپا تھا!

 میرے بچپن میں ہم لوگ ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ یہ گھر میرے پاپا کے ایک دوست کا تھا جو اس نے ہمیں کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر 4 یا 5 سال سے زیادہ نہیں تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک بہت مناسب گھر تھا۔ اس گھر میں تین بیڈ روم، دو باتھ روم اور ایک بہت بڑا سا کچن تھا۔ اس گھر کا کرایہ صرف 250 ڈالر تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ کرائے میں تمام یوٹیلٹی بل بھی شامل تھے۔ جب ہم اس گھر میں منتقل ہوئے تو پاپا کے دوست نے ہمیں بتایا کہ گھر میں صرف دو فلور تھے یعنی نیچے کی منزل اور اس کے اوپر بنی دوسری منزل جہاں تینوں بیڈ روم تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں گھر کے پیچھے صحن میں کھیل رہا تھا کہ یکایک میری نظر دیوار میں بالکل زمین کے ساتھ بنی ایک کھڑکی پر پڑی ۔ ۔ ۔  مجھے نہیں معلوم کیوں مگر میں اسے دیکھ کر اتنی بری طرح خوف زدہ ہو گیا کہ میں نے بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میرے والدین میرے رونے کا سبب نہیں جان سکے مگر وہ مجھے گھر کے اندر لے گئے اور مجھے بہلا کر خاموش کرایا۔ جب تک ہم اس گھر میں رہے یہ کھڑکی میرے لیے شدید دہشت کا سبب بنی رہی۔ میرے والدین کا خیال تھا کہ یہ خوف آہستہ آہستہ میرے دماغ سے نکل جائے گا مگر ایسا اس گھر سے شفٹ ہونے کے بعد ہی ہو سکا۔ مجھے آج تک علم نہیں کہ وہ کھڑکی مجھے اتنی بری طرح خوف زدہ کیوں کرتی تھی مگر میں اب بھولے سے بھی اس طرف کا رخ نہیں کرتا تھا۔ ہمیں یہاں شفٹ ہوئے کچھ دن ہی ہوئے تھے اور ایک رات میں اپنے کمرے میں نیند کی آغوش میں کھوئی ہوئی تھی کہ نچلی منزل سے ایک عجیب تھپ تھپ کی آواز نے مجھے بیدار کر دیا مگر میں یہ بات نظر انداز کر کے فوری طور پر دوبارہ بچپن کی گہری نیند میں ڈوب گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب میری آنکھ ایک بار پھر کھلی تو مجھے ایسا لگا جیسے کوئی میرے سرہانے بیٹھا میرے کانوں میں گہری گہری سانسیں لے رہا ہے۔ جب میری آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ ایک زرد اور منحنی چہرے والا آدمی بیڈ کے پاس بیٹھا مجھے تک رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ میں بری طرح چلائی جس پر وہ آدمی وہاں سے بھاگ نکلا اور ساتھ ہی میرے والدین بھی دوڑتے ہوئے میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ تاہم جب میں نے انہیں سارا ماجرا سنایا تو انہوں نے اسے صرف ایک خوف ناک خواب کہہ کر ٹال دیا مگر اس رات میں صبح تک اپنی ماما کے پاس ان کے کمرے میں لیٹ کر سوئی۔ ابھی اس بات کو ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک شب میری 13 سالہ بڑی بہن کی چیخوں سے سارے گھر والے نیند سے بیدار ہو گئے۔ وہ حلق پھاڑ کر چیخ رہی تھی۔ اس نے کہا کہ بالکل وہی شخص جس نے ایک ہفتہ پہلے مجھے ڈرایا تھا سانپ کی طرح رینگتا ہوا اس کے بستر پر چڑھ رہا تھا۔ میری بہن کا کہنا تھا کہ وہ آدمی گہری گہری سانسیں بھی لے رہا تھا۔ بہن کی یہ بات سن کر میں بری طرح رونے لگی، مگر میرے ماں باپ کو شاید یہ بات اچھی نہیں لگی تاہم اس کے با وجود ہم دونوں بہنوں نے یہ رات ان کے کمرے میں ہی گزاری کیوں کہ ہم تنہا سونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس کے بعد ہمارے گھر سے کھانا غائب ہونے لگا مگر ماما نے اس بات کا سارا الزام ہم دونوں بہن بھائیوں اور پاپا کے سر ڈال دیا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم رات میں جس جگہ اپنی چیزیں رکھتے تھے وہ صبح میں دوسری جگہ سے ملا کرتی تھیں مگر ہم نے اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ البتہ میری بہن کا خیال تھا کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے جب کہ پاپا کا کہنا تھا کہ وہ بلا وجہ فالتو باتیں سر پر سوار کر رہی ہے۔ بہر حال اگلے کچھ سالوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کھانا غائب ہو جایا کرتا تھا۔ چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ ملا کرتی تھیں اور کبھی کبھار ہم دونوں بہنوں کو اس آدمی کا وہی ’ڈرائونا خواب‘ بھی آیا کرتا تھا۔ مگر جب کبھی بھی ہم نے اپنے والدین کو اس بارے میں قائل کرنے کی کوشش کی وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے سے ہماری بات ٹال دیتے تھے جس کے نتیجے میں میری بہن کے والدین کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔  مگر میری بہن کی 16 ویں سال گرہ والی رات ایسا واقعہ پیش آیا کہ ہمیں وہ گھر بالآخر چھوڑنا پڑا۔ نصف شب کے قریب گھر میں ایک بار پھر میری بہن کی زور دار چیخوں کی آواز آئی مگر یہ چیخیں غیر معمولی طور پر فوراً خاموش ہو گئیں۔ میرے والدین متفکر ہو کر اس کے کمرے کی طرف دوڑے اور وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص نے جس نے نہایت غلیظ کپڑے پہنے ہوئے تھے میری بہن کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کیا ہوا تھا۔ اس شخص نے میرے والد سے لڑنے کی کوشش کی مگر اس کی عمر کم از کم 72 سال تھی اور وہ فاقہ کشی کے باعث نہایت کم زور حالت میں تھا۔ چناں چہ پاپا نے اسے جلد ہی بے بس کر دیا اور اس کے بعد پولیس کو کال کی۔ جب پولیس والے گھر کی تلاشی لے رہے تھے تو ماما ہم دونوں بہنوں کو لے کر اندر کمرے میں چلی گئیں۔ پولیس والوں نے پورے گھر کو اچھی طرح چیک کیا مگر وہاں کوئی اور نہیں تھا اور نہ ہی گھر میں کسی کے گھسنے کے نشان ملے۔ البتہ پولیس کو ایک دروازے کا سراغ ملا جو ایک خستہ حال تہہ خانے میں کھل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔  یہ دروازہ بند ہونے کی صورت میں اس طرح دیوار میں مدغم ہو جاتا تھا کہ قریب سے بھی اس کی موجودگی کا پتہ چلانا ممکن نہیں تھا۔ ہم میں سے کسی کے ذہن میں شائبہ تک نہیں گزرا تھا اور ظاہر کہ جن لوگوں کا یہ گھر تھا وہ بھی اس تہہ خانے کی موجودگی سے مکمل طور پر لا علم تھے۔ یہ کمرہ میری اور میری بہن کی تصویروں سے بھرا پڑا تھا۔ یہ تصویریں اس کھڑکی سے اس وقت لی گئی تھیں جب ہم دونوں پچھلے صحن میں کھیلا کرتے تھے۔ اب میری سمجھ میں آ گیا تھا کہ میں اس کھڑکی سے اتنا خوف زدہ کیوں تھی۔ وہ شخص ایک سال سے میری اور میری بہن کی تصویریں کھینچ رہا تھا اور ہو سکتا ہے کہ پہلے روز میری نظر اس کے کیمرے کی فلیش لائٹ یا خود اس شخص پر پڑی ہو اور اسے میں نے کوئی بھوت وغیرہ سمجھا ہو۔ یہ آدمی ذہنی طور پر بیمار تھا اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہ میری بہن کی ’محبت‘ میں مبتلا تھا اور ’میں‘ ان دونوں کی ’بے نقص بیٹی‘ تھی۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوں کہ اب میری بہن 16 سال کی ہو گئی ہے اس لیے وہ ایک بار پھر اسے ایک اور بچہ دینے کے قابل تھی۔ اس شخص کو جیل کے بجائے پاگل خانے میں ڈال دیا گیا۔ اس واقعے کی یادیں آج بھی میرے اور میری بہن کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ کبھی بھی بچوں کی باتوں کو انہیں بچہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں ۔ ۔ ۔  

ختم شد