An Apology for Mohammed PBUH and the Koran by John Davenport

حضور ﷺ اور قرآن سے معذرت – تحریر جان ڈیون پورٹ


میری اس ادنٰی مگر پُرخلوص تصنیف کا مقصد نبی اکرمؐ کی ذات پر لگائے گئے الزامات اور گستاخانہ تہمتوں کو صاف کرنا اور اس سچی بات کی تصدیق کرنا ہے  کہ آپؐ ہی عظیم تر محسنِ انسانیت ہیں۔

﴿مصنف جان ڈیون پورٹ﴾


An Apology for Mohammed PBUH and the Koran by John Davenport


 


 اگرچہ جان ڈیون پورٹ نے کبھی قبولِ اسلام کا اعلان نہیں کیا مگر جس محبت اور خلوص سے اس نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا ذکر کیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف اسلام اس کے قلب میں اتر چکا تھا بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی بھی تسلیم کرتا تھا۔ قارئین سے گذارش ہے کہ کسی بھی قسم کی ادارتی یا تکنیکی غلطی کی صورت میں فوری طور پر ادارے کو مطلع کریں تاکہ اس مقدّس ترین موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے فوری طور پر درست کیا جا سکے۔ جزاک اللہ


نبی اکرمؐ سے عناد رکھنے والے مصنفین نے تعصب میں اندھے ہو کر جس طرح احیائے وحدانیت کا کارنامہ انجام دینے والی ذات بابرکت پر حملے کیے ہیں اس سے خود ان لوگوں نے آشکار کر دیا ہے کہ وہ رواداری کی اس روح سے بالکل محروم ہیں جس کی خود عیسٰیؑ نے نہایت تاکید اور اصرار کے ساتھ تعلیم دی تھی بلکہ ان لوگوں نے اپنے اس نتیجے پر پہنچنے میں بھی غلطی کی ہے کیوں کہ معمولی سے غوروفکر سے بھی وہ یہ بات سمجھ سکتے تھے کہ نبی اکرمؐ اور انؐ کے عقائد کا تجزیہ اور ان پر تنقید عیسائی یا جدید نکتہ نظر سے نہیں بلکہ مشرقی نکتہ نظر سے ہونی چاہیے تھی۔ باالفاظ دیگر نبی اکرمؐ کی ذات کا تجزیہ اور اس پر غوروفکر اس تناظر میں کیا جانا چاہیے تھا کہ وہ عیسٰیؑ سے سات صدیوں بعد عرب میں ایک مذہبی مصلح اور قانون ساز کے طور پر سامنے آئے اور اسی باعث انہیں ہر صورت میں ایشیاء میں پیدا ہونے والے عظیم ترین انسان کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے تھا؛ اور اگر ان مصنفین کو یہ بھی گوارا نہیں تھا تو کم ازکم انہیں دنیا کی عظیم اور نایاب ارفع ترین ذہین شخصیات میں ایک بالضرور قرار دینا چاہیے تھا۔


میں دورِجدید کے ان ناقدین کا فہم سمجھنے سے قاصر ہوں جو پیغمبرِ اسلامؐ پر الزامات لگاتے ہیں اور قران کی حقّانیت کو تسلیم نہیں کرتے، مگر میرا دل سے ماننا ہے کہ تعصّب سے پاک اذہان ایک نہ ایک روز قران ضرور پڑھیں گے۔

﴿تصانیفِ کارلائل، جلد ششم، صفحہ نمبر: دو سو چودہ﴾


اگر ہم اس امر پر غور کریں کہ عرب قوم نبی اکرمؐ کی بعثت سے قبل کیا تھی اور آپؐ کی بعثت کے بعد کیا ہو گئی اور ہم اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر سوچیں کہ پیغمبرِ اسلامؐ کے دستِ مبارک سے روشن کردہ عقیدت کی شمع کتنے پُرجوش طریقے سے آج بھی ایک سو ساٹھ ملین سے زیادہ انسانوں کے سینے میں فروزاں ہے تو ہم اتنے غیرمعمولی اور اتنے عظیم ترین انسان کی تحسین سے خود کو کسی بھی صورت باز نہیں رکھ سکتے اور اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ایک بہت بڑی ناانصافی ہو گی۔ اسی طرح نبی اکرمؐ کی بعثت کو محض ایک اتفاق قرار دینا خدائے مطلق کے اقتدار پر شک کرنے کے مساوی ہو گا۔

تمہید کے آخر میں، میں ضرور کہوں گا کہ بعض مقامات پر جہاں جہاں میں نے اپنے آپ کو اتنے دل کش اور اہم موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کرنے سے قاصر پایا ہے وہاں میں نے دوسرے مصنفین کے خیالات اور زبان سے کھل کر استفادہ کیا ہے جس کا میں تہہِ دل سے معترف ہوں۔

اس امر کی مکمل سچائی کے ساتھ تصدیق کی جا سکتی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایک معروف قانون ساز یا فاتح ایسا نہیں ہے جس کی زندگی کی تفصیلات اتنی زیادہ احتیاط، سچائی اور مفصل طور پر قلم بند کی گئی ہوں جس طرح نبی اکرمؐ کی کی حیاتِ طیّبہ کے ایک ایک جز کو نہایت صداقت اور احتیاط کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے۔

درحقیقت حیاتِ طیّبہؐ میں سے اگر ان واقعات کو منہا کر دیا جائے جو ایشیائی مصنفین نے آپؐ کی ذات سے منسوب کیے ہیں تو جو تفاصیل باقی رہتی ہیں وہ خود حیرت کو حیرت زدہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔

جس وقت آپؐ کی پیدائش ہوئی عرب کا بیش تر حصہ غیرملکی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔

عرب پیٹریا کا تمام شمالی حصہ نیز شام، فلسطین اور مصر قسطنطنیہ کے بادشاہوں کے زیر نگیں تھے۔

خلیج فارس کے ساحل، وہ ممالک جو دریائے دجلہ اور فرات سے سیراب ہوتے تھے اور جزیرہ نما عرب کے جنوبی صوبے فارس کے شہنشاہوں کو حاکم تسلیم کرتے تھے۔


Also Read This


مکہ کے جنوب میں بحیرہ احمر کے ساحلوں کے بڑے حصے پر ابی سینیا کے عیسائی بادشاہوں کی حکومت تھی تاہم مکہ اور جزیرہ نما عرب کے ان اندرونی علاقوں نے اپنی خود مختار حیثیت براقرار رکھی ہوئی تھی جہاں تک بیرونی حملہ آوروں کی رسائی ممکن نہیں تھی۔

ملک کی سیاسی حالت بڑے پیمانے پر وہاں کے باشندوں کے مذہبی عقائد کا تعین کرتی تھی چناں چہ جہاں جہاں یونانیوں اور حبشہ کے بادشاہوں کی حکم رانی تھی وہاں عیسائیت کا غلبہ تھا۔

اسی طرح ان صوبوں میں جہاں ایرانیوں کا قبضہ تھا وہاں قدیم ایرانی مذہب اور مانی مت کے عقائد کو برتری حاصل تھی جو نیکی اور بدی کے دو الگ الگ خداؤں پر ایمان رکھتے تھے جب کہ ان علاقوں کے علاوہ تمام عرب بری طرح بت پرستی کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔

ابتدائی ادوار میں عرب قوم ایک الہِ واحد (اللہ تعالٰی) پر یقین رکھتی تھی جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، مگر عربوں نے بتدریج خدائے واحد کی بندگی کو چھوڑ کر (اپنے گم راہ عقائد کے مطابق) عفریتوں اور خدا کے بیٹوں کے نام معبّد تراش لیے تھے جن کے متعلق انہوں نے عقائد گھڑے ہوئے تھے کہ وہ آسمان میں سیاروں اور ’حرکت نہ کرنے والے ستاروں‘ میں رہتے اور زمین پر حکومت کرتے ہیں۔

مگر ان دیوتاؤں کی تمام عرب میں یکساں پرستش نہیں ہوتی تھی بلکہ ہر قبیلے اور ہر خاندان میں پوجا پاٹ کے لیے الگ الگ دیوتا تھے جن کے ’اعزاز‘ میں انسانوں تک کو جلا کر بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔

اہلِ عرب آخرت پر یقین رکھتے تھے اور نہ ہی وہ زمین کی تخلیق کے قائل تھے۔

وہ کائنات کی پیدائش کو محض ایک فطری حادثہ سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ اپنے وقت پر خود ہی فنا ہو جائے گی۔

اُس وقت تمام جزیرہ نما عرب میں برائیوں اور لوٹ مار کا چلن عام تھا اور چوں کہ موت کو انسانی زندگی کا اختتام تصور کیا جاتا تھا اس لیے وہاں نیکیوں کی جزا اور برائیوں کی سزا کا کوئی تصور نہیں تھا۔

اسی طرح اُن عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی اسی نوعیت کا اخلاقی اور مذہبی بگاڑ پھیل گیا تھا جو وہاں صدیوں سے آباد تھے اور انہوں نے جزیرہ نما عرب میں نہایت مضبوط جتھے بنا لیے تھے۔

یہودی عرب میں رومنوں کے عتاب سے پناہ لینے کے لیے داخل ہوئے تھے جب کہ عیسائیوں نے نستوری اور آریوسی فرقوں کے مباحث کے باعث ہونے والے قتل و عام سے بچنے کے لیے عرب کا رخ کیا تھا۔

معروف عیسائی نظریات کے مطابق نسطوری پانچویں صدی عیسوی کا ایک مشہور یونانی بدعتی تھا جس کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسٰیؑ کی الوہی اور انسانی فطرتیں ملاپ کے بعد ایک ہو گئی ہیں جہاں ان کی انسانی فطرت کو الوہی فطرت نے اس طرح خود میں مدغم کر لیا ہے جیسے سمندر پانی کے ایک قطرے کو اپنے آپ میں جذب کر لیتا ہے۔

اس زمانے میں عیسائیوں کی اخلاقی حالت کی گراوٹ کا وہ عالم تھا جس کا آج تصور بھی ممکن نہیں۔

در حقیقت عیسائی معلمین کی ناگفته بہ حالت نے عام لوگوں کے ذہنوں کو ایک طرح کے جنون میں مبتلا کرا ہوا تھا۔


’ان کی فریب کاری، ان کی داستانوں، ان کے اولیاؤں، ان کی کرامتوں اور سب سے بڑھ کر ان پادریوں کے راہ گم کردہ طرزِعمل نے عرب میں عیسائیت کو پست ترین سطح پر گرا دیا تھا۔

﴿بروس کے سفر/جلد اول/صفحہ 501﴾


ایشیا اور افریقا میں عیسائی کلیسا کی بکھری ہوئی شاخیں نہ صرف یہ کہ باہمی کشمکش میں مبتلا تھیں بلکہ بدترین مقامی کافرانہ رسومات اور تَوَہُّمات کو بھی اختیار کر چکی تھیں۔

اہل کلیسا مستقل ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات میں الجھے رہتے تھے اور اریوسی، سابیلی، نسطوری اور یوتی چیئن فرقوں کے باہمی اختلافات نے عیسائی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا تھا۔

پادریوں میں پیسوں کے عوض کلیسائی منصب وعہدوں کی خریدوفروخت، عیاشی ونفس پرستی، جہالت اور وحشت انگیزی عیسائی مذہب کی پیشانی پر بدنما ترین دھبے بنے ہوئے تھے جس سے عام لوگوں میں فسق وفجور کا عمومی پیغام پھیل چکا تھا۔

صحرائے عرب کے طول و عرض میں بے علم مگر لوگوں کی نظروں میں ’مقدّس‘ خانقاہ نشین راہب مکھیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے جو دن رات اپنی زندگیاں فساد انگیز قیاسات میں ضائع کیا کرتے تھے۔

موقع پا کر یہ لوگ اکثر مسلح ہو کر ہجوم کی شکل میں شہروں میں گھس جاتے تھے جہاں یہ گرجوں میں اپنے خود ساختہ انتہا پسند نظریات کی تبلیغ کرتے تھے اور لوگوں کو تلوار کے زور پر اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے تھے۔

حضرت عیسٰیؑ کی سکھائی ہوئی خدائے واحد کی سادہ سی بندگی کی تعلیم کی جگہ کہ صرف اللہ ہی قادر مطلق اور مہربانِ اعلیٰ ہے جس کا کوئی ثانی یا اس جیسا نہیں ہے بدترین بت پرستی نے لے لی تھی۔

قدیم مشرکوں اور کافروں کے خودساختہ خداؤں کی طرح عیسائی دیوتاؤں کی ایک نئی فوج گھڑی جا چکی تھی جو شہیدوں، اولیاؤں اور فرشتوں پر مشتمل تھی۔

جزیرہ نما عرب میں اس وقت حتٰی کہ ایسے عیسائی فرقے بھی وجود میں آ چکے تھے جنہوں نے حضرت یوسفؑ کی بیوی کی شان اور مقام میں حد سے زیادہ مبالغہ کر کے انہیں دیوی کا درجہ دے دیا تھا۔

نام نہاد مریمی عیسائی فرقے کی بابت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک کافرانہ تثلیث تک متعارف کرانے کی کوشش کی تھی جہاں روح القدس کی جگہ کنواری مریمؑ کو رکھا گیا تھا۔

حال یہ تھا کہ وہ لوگ جنہیں حضرت عیسٰیؑ نے صرف ایک زندہ خدا سے دعائیں مانگنے کی تعلیم دی تھی وہ تبرّکات اور تراشے ہوئے رنگ دار مجسموں کی پوجا پاٹ میں گلے گلے تک لتھڑے ہوئے تھے۔

عیسائی کلیساؤں کی اسکندریہ، حلب اور دمشق میں بھی ایسی ہی ابتر حالت تھی۔

نبی اکرمؐ کی بعثت کے وقت عرب میں موجود تمام عیسائیوں نے اپنے مذاہب کے بنیادی اصول ترک کر دیے تھے اور ان کے دن رات کبھی نہ ختم ہونے والے فروعی نوعیت کے مباحث میں ضائع ہوتے تھے جب کہ عربوں کی  کفیت یہ تھی کہ دنیا کے ہر مذہب کا بنیادی ترین پیغام تک ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا یعنی ایک خدائے واحد کی بندگی اور جہاں تک ان میں پھیلی ہوئی بدترین تَوَہُّم  پرستی کا تعلق ہے تو اس لحاظ سے ان میں اور ان کے ہم زمانہ بتوں کو پوجنے والی وحشی قوموں میں کوئی فرق باقی نہیں بچا تھا۔

یہ بات واضح نہیں کہ نبی اکرمؐ کی پیدائش مکہ میں کس سال ہوئی اور اس حوالے سے مختلف مصنفین نے مختلف تواریخ بتائی ہیں جیسے 560، 571، 572، 575، 600 اور 620 عیسوی۔ مگر ان میں جس تاریخ کو سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے وہ 10 نومبر 571 عیسوی ہے۔

مکّہ کو بسا اوقات بکّہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں جن کا مطلب ہے ’ملاقات کا نہایت اہم مقام‘۔ مکّہ بلاشبہ عرب کا قدیم ترین شہر ہے۔ نبی اکرمؐ کی ولادت کے وقت یہاں جمہوری اشرافیہ سے ملتی جلتی حکومت تھی جس کا نظم ونسق 10 مجسٹریٹس چلاتے تھے جو پشت درپشت متعین کیے جاتے تھے۔ ہر مجسٹریٹ کے ذمے مختلف نوعیت کے فرائض تھے۔ مجموعی طور پر ان مجسٹریٹوں کے گروپ کے حیثیت ایک ایوانِ بالا کی سی تھی اور ان میں سب سے عمر رسیدہ مجسٹریٹ اس ادارے کا صدر ہوتا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کی بھی درست تاریخ معلوم نہیں۔ ان کی پیدائش کی تاریخ کو پہلی بار شماریاتی طور پر چھٹی صدی عیسوی کی آغاز میں اس وقت استعمال کیا گیا جب ڈائیونائسس ایکسگس نامی ایک رومن پادری نے جسٹینیئَن کے دورحکومت میں متذکرہ لحاظ سے اس کا استعمال شروع کیا۔ بعد ازاں اسقف یوسیبس، طرطولیئَن اور دیگر لوگوں کے حساب کتاب میں حضرت عیسٰیؑ کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں ایک سنگین بے قاعدگی ہمیشہ موجود رہی۔


اس بارے میں دیکھیے ڈاکٹر کوور ہل کی ’ایکسپوزیشن‘ اور ڈاکٹر ہالا کی ’انالایسیس‘ جلد اول، صفحہ 188


نبی اکرمؐ کے آباد واجداد اور ان کی آل اولاد داخلی اور بیرنی اور دونوں اعتبار سے اپنے ملک کے شہزادے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی عقل ودانش اور دیانت داری کے ساتھ حکومت کی۔ بعد ازاں عصائے شاہی (اقتدار) قبیلۂ قریش کی ایک نوجوان شاخ کے ہاتھوں میں منتقل ہو گیا جو تمام عرب میں سب سے زیادہ بااثر قبیلہ تھا اور جن کا درست دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی نسل سے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ عرب مصنّفین کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں کہ حضرت اسماعیلؑ اور نبی اکرمؐ کے درمیان کتنی نسلوں کا فاصلہ ہے۔ کچھ مصنفین 30 قرار دیتے ہیں اور کچھ دیگر 60 مگر اس بات پر ان سب کا اتفاق ہے کہ عدنان جو حضرت اسماعیلؑ کی نسل سے ہیں اور نبی اکرمؐ کے درمیان 21 نسلیں گزری ہیں اور ان کے مابین صرف اس بات پر اختلاف ہے کہ عدنان سے لے حضرت اسماعیلؑ کے درمیان کتنی نسلوں کا فاصلہ ہے۔


دیکھیے: محمد ازم اَن ویلڈ/ریو چارلس فوسٹر/جلد اول/صفحہ 139 اور جارج سیل/قران/نسبی گوشوارے


یہ قبیلہ قریش ہی تھا جس سے گزشتہ پانچ نسلوں سے خانہ کعبہ کے متولین اور کعبہ کے مجسٹریٹ چنے گئے تھے۔

خانہ کعبہ دین اسلام میں سب سے محترم ومقدس عمارت ہے۔ اس کی تعمیر میں ایلو کے ستون استعمال ہوئے ہیں جن کے درمیان چاندی کے چراغ لٹکتے ہیں جب کہ ایک سونے کے بنے پَرنالے سے چھت پر گرنے والا بارش کا پانی بہتا ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں سیاہ ریشمی پردوں سے ڈھکی ہیں جن پر سونے کا کام کیا ہوا ہے۔ ان پردوں کو سرکاری طور پر ہر سال تبدیل کیا جاتا ہے۔ سوئزر لینڈ کے مورخ جیکب برکارٹ نے (1897-1818) ان الفاظ میں خانہ کعبہ کی منظرکشی کی ہے: خانہ کعبہ کو اگر آپ دیکھیں تو یہاں لٹکتے عظیم الشان پردے، کثرت سے سونے اور چاندی کا استعمال، چراغوں سے جھلکتا نور اور اس کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں مسجود فرزندان توحید ایک ایسا سماں باندھتے ہیں جس کی تصویرکشی تصّورِ انسانی سے ماوراء ہے۔

نبی اکرمؐ کی پیدائش سے پہلے بت پرست عرب زیارت اور پوجاپاٹ کے لیے خانۂ کعبہ آیا کرتے تھے جہاں کم از کم 360 بت نصب تھے جو عربوں کے سالانہ کلینڈر میں دنوں کی تعداد تھی۔

خانہ کعبہ کی بطورِخاص ان روایات کی وجہ سے بھی تکریم کی جاتی تھی کہ اسے حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ نے تعمیر کیا تھا اور یہ گھر اس وجہ سے بھی مشہور تھا کہ یہ پہلی عبادت گاہ ہے جو انسانی ہاتھوں نے الہٰ واحد کی شان میں بنائی تھی۔

یونان میں ڈیلفی کے معبّد کی طرح خانۂ کعبہ بھی تمام قوم کے لیے امان کی جگہ تھی۔ یہاں وہ تمام لوگ آتے تھے جن کا فن شاعری کی معراج تھا۔ یہ وہ واحد فکری صلاحیت تھی جس کو عرب حد سے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور وہ شعراء جن کا کلام کمال کا باور کیا جاتا اسے ایک یادگار کے طور پر خانۂ کعبہ میں لٹکا دیا جاتا تھا۔

خانۂ کعبہ کی عزت وتکریم کی ایک اور وجہ اس کی قدامت بھی تھی۔ تاریخ کے مطابق خانہ کعبہ کی بنیادیں ہیکلِ سلیمانیؑ سے 993 برس اور عیسائی عہد سے دو ہزار سال قبل ڈالی گئی تھیں۔ خانہ کعبہ کے  جنوب مشرقی کونے میں ایک چھوٹا پتھر ہے جو چاندی میں جڑا گیا ہے اور زمین سے تقریباً چار فٹ بلندی پر نصب ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ پتھر (حجرِاسود) نہایت مقدّس ہے جو اسلامی عقائد کے مطابق جنت کے پتھروں میں سے ایک ہے۔ روایات کے مطابق جب حضرت آدمؑ کو زمین پر اتارا گیا تو یہ پتھر ان کے ساتھ آیا تھا جسے وہ اپنے تکیے کے طور پر سر کے نیچے رکھا کرتے تھے۔ حجرِاسود شروع میں اندر سے سفید تھا مگر بعد میں باہر سے سیاہ ہو گیا۔ اس کے سیاہ ہونے کا سبب یا تو یہ ہے کہ اسے ایک گناہ گار عورت نے ہاتھ لگایا تھا یا پھر یہ سیاہی دنیا میں لوگوں کے گناہوں کا استعارہ ہے۔ اس سیاہی کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہزاروں لوگ ہر سال حج کے موقع پر اس کا بوسہ لیتے ہیں۔


مصنف کے مطابق مشرکین ایسے بے شکل یا تکونے پتھروں کی پوجا سے ناواقف نہیں تھے۔ اس قسم کا شرک ہمیں یونانی دیو مالائی مذاہب میں بھی ملتا ہے جسے ان لوگوں نے اپنی مخصوص ذہنیت سے جنم دیا ہے اور اسی نوعیت کے شرکیہ افعال پڑوسی ملک شام میں بال دیوتا کی پوجا کرنے والوں کے ہاں بھی پائے جاتے تھے جب کہ اعضائے تناسل کی پوجا پاٹ میں ہندو مت اپنی ’مثال‘ آپ ہے۔ تاریخ شلیگل

خیال رہے کہ خانہ کعبہ اور حجر اسود دونوں ہی مسلمانوں کے نزدیک مقدّس اور محترم ضرور ہیں مگر اسلامی عقائد و اعمال میں ان کی پرستش کا کوئی شائبہ تک نہیں – نیرنگ


عرب مصنفّین نے نبی اکرمؐ کی شانِ پیدائش میں نہایت فصیح وبلیغ زبان استعمال کرتے ہوئے کرامات اور معجزے بیان کیے ہیں اور اس سلسلے میں بہترین سے بہترین زبان استعمال کرنے میں ان کے درمیان خوب مسابقت ہوئی ہے۔

چناں چہ عرب مصنفّین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب آپؐ کی پیدائش ہوئی تو دیگر خرقِ عادات مظاہر کے علاوہ تمام آسمان ایک عجیب طرح کے نور سے منور ہو گئے۔

سماء کی جھل یک لخت خشک ہو گئی اور ایران کے آتش کدے میں ایک ہزار سال سے مسلسل روشن آگ بغیر کسی ظاہری سبب کے بجھ گئی۔

نبی اکرمؐ کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا۔

نبی اکرمؐ کی پیدائش پر بی بی آمنہ کے بھائی نے جو ستاروں کے علم سے واقف تھے زائچہ بنا کر پیش گوئی کی کہ آپؐ جوان ہو کر نہایت زبردست طاقت حاصل کریں گے اور یہ کہ ایک بہت عظیم سلطنت آپ کے قدموں میں ہو گی۔

آپؐ کی پیدائش کے ساتویں روز آپؐ کے داد عبد المطلب نے ایک نہایت شان دار ضیافت میں قبلیوں کے سرداروں کو مدعو کیا۔ اس موقعے پر آپؐ کے روئے مبارک کو لوگوں کو دکھایا گیا جو ان کی نسل کا ایک روشن ستارہ ہیں اور اسی تقریب میں آپؐ کے دادا نے آپ کا نام محمدؐ تجویز کیا جس کے معنی بہت تعریف اور عظمت والے کے ہیں۔

بعض مسلم مورخین کا کہنا ہے کہ آپؐ کو ختنہ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ آپؐ اللہ کی قدرت سے مختون پیدا ہوئے تھے۔

آپؐ کے والد ماجد نے اپنے پیچھے ورثے میں صرف دو اونٹ، چند بھیڑیں اور ایک حبشی کنیز چھوڑی تھی جس کا نام برکت تھا۔ اب تک آپؐ کو آپ کی والدہ ماجدہ دودھ پلا رہی تھیں مگر تفکرات اور غموں نے شیرِمادر کے سوتوں کو خشک کر دیا تھا چناں چہ انہوں نے بدوی قبائل میں آپؐ کے لیے دایہ کی تلاش شروع کی مگر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کیوں کہ یہ دایائیں اپنی خدمات کا اونچا معاوضہ لیا کرتی تھیں اور انہیں اس غریب گھرانے سے اچھا معاوضہ ملنے کی امید نہیں تھی۔

بالآخر ایک چرواہے کی بیوی کا دل پگھل گیا اور وہ اس یتیم شیرخوار کو اپنے گھر لے گئیں جو جبلِ طائف کے نزدیک ایک گاؤں میں مکہ کے مشرق میں واقع تھا۔

ابھی آپؐ کو اپنے رضاعی ماں باپ کے پاس آئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ان لوگوں نے آپؐ کے مبارک شانوں کے درمیان ایک تل کا نشان دیکھا اور تَوَہُّم  کے باعث خوف کا شکار ہو گئے کیوں کہ انہیں خیال گزرا کہ اس میں جنّات یا اسی طرح کی کسی دوسری مخلوق کا عمل دخل ہے چناں چہ وہ آپؐ کو آپؐ کی والدہ کے پاس واپس مکّہ لے آئے۔

اگرچہ آپؐ نے اپنی رضاعی ماں کے پاس بہت کم وقت گزارا مگر آپؐ نے ہمیشہ اس بات کو یاد رکھا کہ وہ آپؐ کے ساتھ کتنی محبت اور شفت کے ساتھ پیش آئی تھیں۔

آپؐ کی رضاعی ماں کا نام دائی حلیمہ تھا۔

روایات کے مطابق حضرت خدیجہؓ کے ساتھ آپؐ کی شادی کے بعد جب ایک بار دائی حلیمہ آپؐ سے ملنے مکہ تشریف لائیں تو اس سال وہاں سخت قحط پڑ رہا تھا جس میں بے شمار مویشی ہلاک ہو گئے تھے مگر آپؐ کے حضرت خدیجہؓ سے کہنے پر انہوں نے کجاوہ اٹھانے کے لیے سدھا ہوا اونٹ اور چالیس بکریاں دائی حلیمہ کو بطورِ تحفہ پیش کیں جنہں پا کر دائی حلیمہ نہایت خوشی اور مسرت کے عالم میں اپنے گھر روانہ ہوئیں۔

ایک اور موقعے پر آپؐ نے اپنے مبارک شانوں سے چادر اتار کر دائی حلیمہ کے بیٹھنے کے لیے بچھائی اور نہایت توجہ کا اظہار کرتے ہوئے شفقت اور محبت سے دائی حلیمہ پر اپنا دستِ مبارک رکھا۔

جب آپؐ کی عمر چھ سال تھی تو آپؐ کی والدہ ماجدہ یثرب کے سفر سے واپسی پر وفات پا گئیں۔ وہ وہاں اپنے رشتے داروں سے ملنے گئی تھیں اور آپؐ بھی ان کے ہم راہ تھے۔

یثرب مدینہ کا قدیم نام تھا۔ یہاں زیادہ تر (Charegites) اور (Awsites) قبائل آباد تھے جب کہ یہودیوں کی بھی دو کالونیاں تھیں جن کا تعلق مشائخی فرقے سے تھا۔ ان قبائل نے عربوں میں سائنس اور مذہب کا ذوق پیدا کیا تھا اور اسی وجہ سے اس شہر کا نام ’کتاب کا شہر‘ پڑ گیا تھا۔