An Exclusive Report on Area 51 in Urdu

دنیا کا پُراسرار ترین مقام ایریا 51 آخر ہے کیا؟

میں گزشتہ کئی سالوں سے نوسلیپ کا خاموشی مگر با قاعدگی کے ساتھ مطالعہ کر رہا ہوں مگر اپنی ملازمت کے تحت مجھے کہیں بھی مواد شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اکثر ایریا 51 کے بارے میں کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان کہانیوں کو دیکھ کر میں بھی یہاں کچھ شائع کرنے کی شدید خواہش رکھتا تھا مگر میں نے آج تک ہمیشہ اپنی زبان پر قفل ڈالے رکھا۔ میں نے یہاں اپنا مواد شائع کرنے سے قبل ہر طرح کی سیکوریٹی کا خیال رکھا ہے اور میں آپ کو مزید تفصیلات سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دوں گا۔ نو سلیپ پر کئی سالوں کی خاموشی توڑنے کا مقصد ان بے شمار داستانوں اور غلط فہمیوں کو صاف کرنا ہے جو دنیا کی بد نام زمانہ فوجی تنصب یعنی ایریا 51 کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ میں اب اگر پکڑا بھی جائوں تو اس کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ نہ صرف یہ کہ میری انشورنش پالیسی بہت فائدہ مند ہے بلکہ میں ایک ایسے مرض میں مبتلا ہو چکا ہوں جس سے صحت یابی کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس کے علاوہ دنیا میں میرا اپنے سوا اور کوئی نہیں جسے ان رازوں کے افشا ہونے سے کوئی نقصان پہنچ سکے۔ دنیا میں ایریا 51 نامی کوئی جگہ نہیں۔ معذرت کے ساتھ۔ اس مقام کے بارے میں اس قدر سازشی نظریات کیوں پائے جاتے ہیں تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ حکومت ایسا ہی چاہتی ہے۔ آپ جس جگہ کو ایریا 51 کے نام سے جاتے ہیں اس جگہ کے کچھ اور بھی نام ہیں۔ میں اس جگہ کی تاریخ سے کچھ زیادہ واقف نہیں ہوں مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکی فضائیہ یہاں خفیہ ہتھیاروں کے تجربات کرنا چاہتی تھی۔ اس عمارت کے کئی حصے تھے جن میں سے ایک میں تجرباتی طور پر راکٹ اور جیٹ انجن تیار کیے جاتے تھے۔ ایک اور حصے میں فوجیوں کو ایٹمی جنگ اور ممکنہ طور پر دنیا کی تباہی کے بعد زندہ رہنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ مگر فلمی کہانیوں کی طرح روزویل واقعے نے اس جگہ اور اس کے مقصد کو دنیا بھر میں شیطان کی طرح مشہور کر دیا جس میں جنونی میڈیا کا کردار سب سے اولین تھا۔ حکومت نے شروع میں ایریا 51 سے متعلق قیاسات انگیزی کو دبانے کی کوشش کی مگر پھر انہوں نے ایک اور حکمت عملی اختیار کی جس کے تحت شروع میں افواہوں کی بھڑکتی آگ کو خوب ہوا دی گئی اور کچھ عرصے بعد خاموشی سے بیس کو کچھ میل دور منتقل کر دیا گیا۔ آج گروم جھیل (ایریا 51) ایک چھوٹا سا فعال ہوائی اڈا اور بیس ہے۔ یہاں متعدد زیر زمین بنکرز ہیں جہاں کم قیمت انٹرنیٹ نظام ہے اور بعض اوقات کچھ ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے جاتے ہیں۔ یہاں موجود عملہ با قاعدگی سے کام کرتا ہے۔ یہاں کچھ بہت پرانی پناہ گاہیں ہیں جنہیں جوہری حملے کی صورت میں بچائو کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب بھی ان کی با قاعدگی سے دیکھ بھال ہوتی ہے مگر اب انہیں اسٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تنصیب میں بے تحاشا بجلی خرچ ہوتی ہے اور ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ اس تنصیب پر صرف ایک ایسی فوجی بیس کا گمان ہو جو بہت بڑے مگر خفیہ مقاصد میں مصروف ہے۔ یہاں ملازمین روزانہ ایک عام سے جیٹ جہازوں میں لاس ویگاس سے آتے ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عوام اس بات کا نوٹس لیں اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کریں کہ یہ جہاز آخر جاتے کہاں ہیں۔ مگر حکومت نہیں چاہتی کہ آپ کا ذہن ایک لمحے کے لیے بھی اس طرف جائے کہ وہ کہاں سے آئے تھے۔ اصل ایریا51: یہ اس کہانی کا سب سے دل چسپ پہلو ہے کیوں کہ میں اپنی محدود اور خفیہ تلاش و تحقیق کے بعد جانتا ہوں کہ آج سے پہلے کسی نے بھی درست راز افشا نہیں کیا ہے۔ یہ ایک عظیم راز ہے اور اگر کوئی بے وقوف اسے افشا کر دے تو اس کا انجام فوری موت کے سوا کچھ اور نہیں ہو گا۔ موت دراصل درست لفظ نہیں ہے۔ یہ لوگ ایسے احمقوں کا دنیا سے نام و نشان تک مٹا دیتے ہیں۔ بسا اوقات پورے پورے خاندان یک لخت غائب کر دیے جاتے ہیں۔ چناں اس وقت حکومت پر جنون کے دورے پڑنے لگتے ہیں جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا ایک ملازم نا قابل علاج مرض کا شکار ہو چکا ہے اور اب اس کے پاس کھونے کے لیے مزید کچھ نہیں بچا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگر آپ وہاں ملازم ہیں تو آپ ڈاکٹروں کے سوا کسی اور کو نہیں دیکھتے تا کہ وہ آپ کے جاننے سے پہلے آپ کی صحت کے بارے میں آگاہ ہو سکیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ آپ اچانک دل کے دورے سے مر جائیں تا کہ لوگوں کو ان بھیانک رازوں کی ہوا بھی نہ لگ پائے۔ خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں یہاں کسی کو کسی بھی وقت ’دل کا دورہ‘ پڑ سکتا ہے جو ہمیشہ جان لیوا ہوتا ہے ۔ مگر مجھے یہ بات جاننے کے لیے کسی ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت نہیں کہ میں اسی جان لیوا کینسر کا شکار ہو چکا ہوں جس نے میرے باپ کی جان لی تھی جسے ڈاکٹر کثیر شکلی دماغی سرطان کا پھوڑا کہتے ہیں۔ یہاں ہر تین ماہ بعد ملازمین کی صحت کی جانچ ہوتی ہے اور ہر چھ مہینے بعد ایک سی ٹی اسکین۔ میں نے گزشتہ چیک اپ میں ڈاکٹر کو اپنی علامات نہیں بتائیں اور جب تک اسکین کا وقت آئے گا میرا وجود اس دنیا میں ایک داستان بن چکا ہو گا۔ مگر میں ہر صورت میں آپ کو اس راز سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں جو دوسرا کام کیا ہے وہ ہے کمپیوٹروں کی مرمت و دیکھ بھال۔لاس ویگاس میں مک کارن انٹرنیشنل ائر پورٹ اصل خفیہ فوجی بیس ہے۔ اس ائر پورٹ کی تاریخ ہمیشہ سے فوجی سرگرمیوں سے پر ہے۔ دوسری جنگ سے پہلے اور بعد میں فوجی ماہرین یہاں ہر طرح کی کارروائیوں میں مشغول رہے ہیں جیسے عمارتوں کی تعمیر، تربیت اور ساز و سامان کو حفاظت سے رکھنے کی سر گرمیاں وغیرہ۔ بنیادی طور پر حکومت اور اس کے عسکری سر پرستوں نے اس وقت اس ہوائی اڈے پر مکمل قبضہ کر لیا تھا جب گروم لیک/ایریا51 کی داستان لوگوں کے سامنے آئی تھی۔ یہ ایک انتہائی پریشان کن کام تھا مگر اس کا حل نہایت آسانی سے نکالا گیا۔ مک کارن ہر لحاظ سے ایک مکمل ائر پورٹ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے دنیا بھر میں عام ہوائی اڈے ہوتے ہیں مگر یہاں زیر زمین جو کچھ ہوتا ہے وہ بالکل ہی الگ بات ہے۔ سب سے پہلے آپ کو اس فوجی تنصیب کا نقشہ سمجھنا پڑے گا۔ چوں کہ یہ بیس ایک فعال ائر پورٹ بھی ہے اس لیے یہاں ہر چیز کے دو رخ ہیں۔ اس عمل کو ’ماسکنگ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسے مک کارن ائرپورٹ پر نہایت مہارت سے عمل میں لایا گیا ہے۔ طیاروں کے اترنے اور بلند ہونے کا لگا تار شور جدید ترین خفیہ انجنوں کی آزمائشی آوازوں پر پردہ ڈالے رکھتا ہے۔ لوگ ان آوازوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کچھ جیٹ جہازوں میں جدید آزمائشی کل پرزے بھی لگے ہوئے ہیں جب کہ دیگر جیٹ جہازوں میں ان سینکڑوں حکومتی اہل کاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے جن کے حلیے پر عام چھٹیاں مناتے لوگوں کا گمان ہوتا ہے۔ مک کارن کے چھ دروازوں میں ہر وقت ایسے لوگوں ک آمد و رفت رہتی ہے جو اعلی ترین سرکاری اور فوجی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان لوگوں نے عام بزنس مینوں یا کالج کے لڑکوں کی وضع قطع اپنائی ہوتی ہے اور یہ بظاہر اپنے اپنے آئی فون پر مصروف نظر آتے ہیں۔ انہیں اس بات کے پیسے بھی ملتے ہیں۔ یہ بیس ہر وقت سادہ لباس فوجیوں کی نگرانی میں رہتی ہے جیسے ایم پی، تزویراتی ماہرین، انسداد دہشت گردی کا عملہ اور دیگر ہر طرح کے فوجی ائر پورٹ میں پولیس والوں، ائر پورٹ سیکورٹی عملے اور کلرکوں کا روپ دھارے پھرتے رہتے ہیں۔ ان کے ہتھیار عام طور پر پوشیدہ ہوتے ہیں مگر اصل اسلحہ ان فوجیوں کے پاس ہے جو زیر زمین رہتے ہیں۔ ہیوی اسلحہ ائر پورٹ میں عوامی مقامات پر جا بجا چھپا کر رکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں کوئی مشکل نہیں کیوں کہ کسی کے ذہن میں اس بات کا شائبہ تک نہیں گزرتا۔ یہاں عام شہریوں کی بڑی تعداد کو بھی بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ’مکسنگ‘ کہلاتا ہے اور اشد ضروری ہے۔ ظاہر ہے ہر ائر پورٹ میں فطری طور پر بھرتیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ نے ملازمین کو طیاروں کی مرمت کرتے اور آپ کا سامان طیاروں میں لادتے وقت دیکھا ہی ہو گا۔ یہاں اس نوعیت کی سفری سرگرمیوں کی آڑ میں بڑے پیمانے پر خصوصی دستوں، لیبارٹری ساز و سامان، فوجی ساز و سامان، تعمیراتی ساز و سامان اور اسی نوعیت کی دیگر چیزیں لائی اور لے جائے جاتی ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ ظاہر ہے کوئی بھی سوال نہیں کرتا کہ آپ ایک کے بعد دوسرا کونسا سامان اتار کر لے جا رہے ہیں یا لوڈ کر رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ یہ خفیہ سامان عام سامان میں مل بھی جاتا ہے اور گر بھی پڑتا ہے مگر کوئی مسافر پلک تک نہیں جھپکتا۔ اس ائر پورٹ پر آپ ہر وقت تاب کاری کی زد میں ہوتے ہیں مگر ہتھیاروں کی آزمائش کے نتیجے میں زیادہ بڑے پیمانے پر خارج ہونے والی تاب کاری کو پائپوں کے ذریعے قریبی صحرا میں تلف کر دیا جاتا ہے۔ گیگر کائونٹر کے شوقین متجسس لوگوں کے لیے بلا شبہ مک کارن ائر پورٹ سے تاب کاری کا اخراج ایک بہت ہی تعجب انگیز امر ہو سکتا ہے مگر اس خفیہ ترین فوجی تنصیب میں حقیقی ذہانت کا انتہائی حد تک استعمال کیا گیا ہے۔ اس تنصیب کو ایک ائر پورٹ کے نیچے اس لیے بنایا گیا ہے کیوں کہ اسے انتہائی عظیم مقدار میں بجلی کی ضرورت ہے۔ مگر چوں کہ یہ ایک ائر پورٹ کے بر عکس انتہائی زیادہ بجلی خرچ کرتی ہے اس لیے اسے لاس ویگاس جیسے شہر میں قائم کیا گیا ہے جہاں پورے ملک سے زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔ چناں چہ پاور گرڈ پر بھی اس بیس کا پتہ چلانا نا ممکن ہے۔ اور یہ سب قصداً کیا گیا ہے۔بیس کے اندر کیا ہے؟ ایریا 51 اگر صرف ایک پردے کا نام ہے تو اصل تنصیب کا نام کیا ہے؟ اس کے کئی نام ہیں مگر اسے عام طور پر ’نیکسس‘ کہا جاتا ہے مگر بہت کم لوگ اس کے معنی سے واقف ہیں۔ حتیٰ کہ میں خود بھی۔ نیکسس میں ہر چیز کو خواہ آپریشن ہو یا اس کا ڈھانچہ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے یہاں ہر چیز کو سمجھنا پڑتا ہے اور اس طرح کوئی بھی اپنے مخوص مقصد کے علاوہ دوسری کسی چیز کو نہیں جان پاتا۔ آپ نیکسس کے ایک آفس میں تمام زندگی اکائونٹنگ میں گزار سکتے ہیں اور آپ کو ذرہ برابر بھی پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کے برابر بیٹھی خاتون یا نچلے ہال میں موجود لوگ کیا کام کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے صدر کو بھی مکمل طور پر نہیں پتہ کہ یہاں ہوتا کیا ہے۔ اصل حقیقت سے فوج کے چند جنرل اور سی آئی اے کے کچھ لوگ ہی واقف ہیں۔ یہاں کا ماحول وحشت انگیز ہے۔ یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ شمالی کوریا میں ہیں۔ یہاں آپ ہر شخص کو خوش و خرم پائیں گے۔ کبھی کبھار ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے مگر اس میں بھی رسمی طور پر رٹے رٹائے چند جملوں کے تبادلے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں ہر فون کال ریکارڈ ہوتی ہے۔ ہر کمرے میں کیمرا نصب ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب اور کس وقت اسے کون دیکھ یا سن رہا ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں کوئی بھی مجھے سچ بات کبھی نہیں بتا سکتا۔ حتیٰ کہ میں اس شخص پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا جو دفتر کے کمرے میں میرے ساتھ بیٹھتا ہے۔ مجھے یقین ہے ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ہم یہاں کیوں ہیں۔ وہ لوگ جن کے ساتھ آپ سالوں سے کام کر رہے ہیں یکایک ’استعفیٰ‘ دے کر غائب ہو جاتے ہیں یا ان کی ’خرابی طبیعت‘ کے بعد آپ انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھتے۔ اور پھر خواہ آپ کسی سے بھی پوچھیں کوئی بھی ان لوگوں سے واقف نہیں ہو گا۔ بائیس تیئس سال کی عمر میں مجھے یہاں نیوی کے لیے پروگرامنگ کی جاب ملی تھی جس کے بعد مجھے گروم لیک میں سرور کی آزمائشوں کے لیے بھیج دیا گیا۔ جہاں انہیں میری آئی ٹی کی صلاحیتیں بہت پسند آئیں چناں بے شمار عجیب و غریب نفسیاتی آزمائشوں اور زبان بند رکھنے کی بے شمار دستاویزات پر دستخطوں کے بعد مجھے ’لاس ویگاس کے نزدیک تنصیب‘ میں ملازمت کی پیش کش کی گئی۔ میری تن خواہ پندرہ لاکھ ڈالر سالانہ ہے جس میں ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ کا وظیفہ بھی شمال ہے۔ گھر، گاڑی اور میڈیکل کا خرچہ ادارہ برداشت کرتا ہے مگر میڈیکل میں نفسیاتی بریک ڈائون، گھبراہٹ کے دورے، صحت کے سنگین مسائل اور خاندانی مسائل شامل نہیں ہیں۔ میں ہر ہفتے دو نئے زبان بند رکھنے کے معاہدوں پر دستخط کرتا ہوں جن پر کم از کم از سزا ملک میں کہیں بھی سزائے موت درج ہوتی ہے۔ ملازمین پانچ سال تک تنصیب سے باہر نہیں جا سکتے اور یہ عرصہ انہوں نے زیر زمین گزارنا ہوتا ہے۔ ملازمت کی مدت پانچ سال ہے جب کہ چار سال اخفائے راز کی ہدایات (ڈی بریفنگ) کے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہم ویگاس میں رہتے ہیں مگر ہمیں ہفتے میں چار روز ایک دیگر ادارے کو رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ ملازمت کے خاتمے کے بعد ملازمین تا حیات زیر نگرانی رہتے ہیں۔ ہمارے پاسپورٹ کسی کام کے نہیں – ہم زندگی میں کبھی بھی امریکا سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ میرے علم کے مطابق سابقہ ملازمین کی 20 فی صد تعداد خودکشی کر لیتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اعداد و شمار درست ہیں مگر اگر یہ بات سچ ہے تو میں لفظ ’خود کشی‘ پر شرط لگانے کے لیے تیار ہوں۔ یہ بیس زیر زمین ہے۔ یہ ایک عمارتوں کا جال ہے جنہیں چھتے یا ہائیو کہا جاتا ہے یا کالونی یا نیکسس۔ ہم یہاں ریذیڈینٹ ایول فلم سیریز کے حوالے سے بہت زیادہ مذاق کرتے ہیں مگر یہاں حکومت نے ہمارے ذہنوں کو مطمئن رکھنے کے لیے نقلی جنگلات یا عظیم اسکرینوں پر شہر کے مناظر دکھانے کا کوئی بندوبست نہیں کر رکھا۔ یہ بالکل سویت یونین کے انداز کا خشک، تاریک نیٹ ورک ہے جہاں ہر مرحلے پر کسی آب دوز کا شبہ ہوتا ہے بالکل ویسے ہی ہوا بند دروازے، خفیہ خانے وغیرہ۔ البتہ دفتر کی عمارتیں عام عمارتوں کی طرح ہیں۔ مگر یہاں ہر وقت لوگ آپ کے شانوں پر چوبیس گھنٹے بندوق تانے کھڑے رہتے ہیں۔ یہاں دنیا کی اتنی جدید ترین لیبارٹریز ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں آج تک ان میں سے کسی بھی ایک میں داخل نہیں ہوا مگر چند بار ان کے پاس سے میرا گزر ضرور ہوا ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہاں چار چھتے ہیں۔ زیادہ بھی ہو سکتے ہیں مگر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ میں چھتہ نمبر ایک میں کام کرتا ہوں۔ میں چند دیگر ماہرین کے ساتھ کچھ سرور چلاتا ہوں۔ ہمارے ہائیو میں سولہ فلور ہیں مگر ہم ہائیو ون میں نصب سرورز کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میں یہاں سے گزرنے والے ڈیٹا کو چیک کرتا ہوں اور اس لحاظ سے یہ سب سے اکتا دینے والا ہائیو ہے۔ میں نے اس ڈیٹا کی بنیاد پر درج ذیل معلومات اکٹھی کی ہیں۔ نیکسس بے شمار نیٹ ورکس پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ مگر انتہائی حساس لائنوں کے ذریعے باہمی رابطہ رہتا ہے اور میں نے یہ معلومات انہی لائنوں کے ذریعے حاصل کی ہیں۔ ہائیو ون: فنانس/اکائونٹنگ/تربیت/رہائش اور کچھ چھوٹے ہتھیاروں کی آزمائش ہائیو ٹو: کیمیائی انجینیئرنگ/نینو ٹیک ریسرچ/جدید ترین نفسیاتی تربیت جہاں ممکنہ طور پر سائبریا کی کسی جیل میں تیس سال تک تنہا رہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں اہم ترین میٹنگز ہوتی ہیں۔ ہائیو تھری: (با لائی منزل) حیاتیاتی ہتھیار اور بیماریوں پر تحقیق و آزمائش۔ اگر حکومت نے مردوں کو کام یابی سے زندہ کر لیا ہے تو وہ یہیں ہونے چاہییں۔ میں گزشتہ سال ان زندہ مردوں کے بارے میں بے شمار لطیفے سنانا چاہتا تھا مگر مجھے نہیں معلوم کہ میرا کون سا ساتھی میرا نہیں۔ (نچلی منزل) خلائی سفر اور خلائی جنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی۔ پارٹیکل انجن اور کشش ثقل کی شعاعیں۔ (میرا اندازہ ہے۔ کیوں کہ کبھی ثبوت نہیں ملے) سائنسی کہانیوں جیسی چیزیں۔ میں نے ایک مرتبہ ایک ای میل دیکھی جو خفیہ زبان میں تھی اور جس کی بابت یقین کیا جاتا ہے کہ یہ آسٹرو بائلوجی کے بارے میں تھی۔ جی ہاں اس سے مراد ہے خلائی مخلوق یا ایلیئن۔ ہو سکتا ہے یہ صرف خلائی درختوں کے رکاز یا یک خلوی حیاتیے ہوں یا زندگی کی کوئی جدید قسم مگر میں اس بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ مگر یہ جو کچھ بھی اسے بالائی منزل پر موجود ماہرین حیاتیات کی پہنچ سے دور رکھا گیا ہے۔ ہائیو فور: مکمل تاریکی۔ یہاں اس نوعیت کی نیٹ ورک سیکورٹی ہے جو میں نے آج تک کہیں نہیں دیکھی حتٰی کہ نیوی کے خفیہ ترین منصوبوں میں بھی جن پر میں کام کر چکا ہوں۔ میں قصداً سرورزکے بارے میں تفصیل سے بات نہیں کر رہا تا کہ انہیں اندازہ نہ ہو پائے کہ میں کون ہوں۔ بہر حال یہ لوگ بتدریج پتہ لگا لیں گے مگر ہائیو فور کے بارے میں پھیلی افواہ سب سے بڑی افواہ ہے۔ مبینہ طور پر دنیا کی سب سے دہشت انگیز چیز 15ویں فلور پر ہے۔ ہائیو فور میں چند غیر معمولی چیزیں بھی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اعلی ترین افسران میں سے کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں۔ یہ لوگ اس جگہ تک صرف ویڈیو کیمروں کے ذریعے رسائی کرتے ہیں اور ہائیو فور سے ہائیو ٹو میں اکثر و بیشتر طبعی مواد ری ویو کے لیے لایا جاتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ افسران بالا ہائیو فور میں کیوں نہیں جا سکتے مگر ممکن ہے کہ یہ اتنا خطر ناک ہے کہ یہاں جانا ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ ؟ چند سال قبل جب میں یہاں آیا تو ایک لڑکا ہائیو فور میں کام کرتا تھا اور اس کی وجہ سے تمام نیکسس میں پہلی مرتبہ لاک ڈائون ہوا۔ اسے فوجیوں کا ایک خصوصی دستہ وہاں سے لے کر آ رہا تھا کہ اس نے یکا یک آئی ڈی ایز کے بارے میں چیخنا شروع کر دیا۔ میں نے اس کی چیخیں نہیں سنیں کیوں کہ میں اس وقت لنچ کر رہا تھا مگر میرے کانوں تک صرف گولی چلنے کی آواز آئی۔ اس سے پہلے وہ اپنا جملہ پورا کرتا انہوں نے اس کے سر میں گولی مار دی۔ بہر حال آئی ڈی ایز کا مطلب ہے بین الجہتی بے قاعدگی۔ مجھے اس بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں۔ ایک اور چیز جس کے بارے میں میں نے تھوڑا بہت سنا ہے وہ ’جڑواں‘ ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کون اور کیا ہیں مگر یہ ہائیو فور کے انتہائی خفیہ ترین راز سے بھی اوپر کی چیز ہیں۔ بغیر اجازت ہمارے محفوظ ترین نیٹ ورک پر بھی ان کے بارے میں بات چیت کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے اور یہ کام بھی صرف چار ملازمین کر سکتے ہیں۔ میں نے ان (جڑواں) کے بارے میں چند ہی چیزیں دیکھی ہیں جن میں سے ایک میڈیکل ریکارڈ تھا۔ کوئی چیز ایسی نہیں جس سے ان کی زندگی کا پتہ چلتا ہو۔ ان کی آواز نہایت غیر معمولی ہے جس سے قریب جانے والوں میں فریب نظر (ہالیو سی نیشن) اور نفیسیاتی جنون کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں اور اگر ان کی جلد پر ہاتھ لگ جائے تو مہلک ترین متلی محسوس ہوتی ہے۔ ملازمین کے قیاس کے مطابق ان کی جلد اسی طرح نقصان پہنچاتی ہے جس طرح آسٹریلیا کا زہریلا درخت یا جیلی فش۔ میں نے ان لوگوں کے بارے میں بھی دستاویزات پڑھی ہیں جو ان ’جڑواں‘ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ہائیو فور میں کام کرنے والی ایک عورت کو نفسیاتی وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جو ان کے کمرے میں داخل ہو گئی تھی اور ایک فوجی نے جو اس لیبارٹری کے باہر کھڑا تھا جہاں انہیں رکھا گیا ہے خود کو ہلاک کر لیا تھا۔ ہوا یہ کہ اس نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معمول کی ایک کارروائی کے دوران اندر جھانک لیا تھا۔ اس کے فوراً بعد اس نے آئر لینڈ کا ایک روایتی گیت گانا شروع کیا اور اپنے پستول کے دستے سے اپنی کھوپڑی چٹخا لی۔ نفسیاتی وارڈ میں داخل کی جانے والی عورت کی حالت اس سے زیادہ عجیب تھی۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے اس نے ایک کانٹا اٹھایا، کھڑی ہوئی، کھانے کے کمرے سے باہر آئی، اپنے تمام کپڑے اتارے، اپنی ایک آنکھ میں کانٹا گھونپا پھر کسی نہ کسی طرح فلور ون تک گئی جہاں ہائیو تھری میں جانے کا راستہ ہے۔ اس نے کس طرح درجنوں کی کارڈ ریڈرز، پاس کوڈ باکسز اور آنکھ کے ذریعے شناخت پڑھنے والے کیمروں کو دھوکا دیا یہ بات تا حال زیر جائزہ ہے۔ اس سے متعلق آخری ای میل 2012 میں بھیجی گئی تھی جس کے مطابق وہ فلور 11 کے تاریک نفسیاتی وارڈ میں بیٹھی ہمیشہ مسکراتی رہتی ہے۔ ایک آسودہ سی مسکراہٹ ۔ ۔ ۔ میرے ایک ساتھی نے جس پر میں کچھ اعتبار کرتا ہوں ایک بار مجھے بتایا کہ اس نے ایک دفعہ غیر قانونی طور پر ایک ویڈیو فیڈ کے ذریعے ان ’جڑواں‘ کو دیکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ ان کا جسم عورتوں کی طرح ہے اور ان کا قد تقریباً 12 فٹ سے زیادہ ہے۔ ان کے سروں سے بالوں کی جگہ سانپوں جیسے موٹے لوتھڑے لٹکتے ہیں۔ یہ زمین سے کچھ انچ اوپر تیرتے رہتے ہیں اور حرکت کرتے وقت اپنے پائوں کی اگلی انگلیوں کو ہلکا سا زمین پر گھسیٹتے ہیں۔ ان کا رنگ مکمل طور پر زرد ہے۔ اس نے ان کے چہرے نہیں دیکھے مگر اس کا دعویٰ ہے کہ اگر ان کے چہروں پر نظر ڈالو تو یہ طبعی حقیقت کو مسخ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے خلا ان کے گرد جھک رہا ہو۔ غالباً یہ ہی آئی ڈی ایز ہیں جن کے بارے میں وہ شخص چیخ رہا تھا۔ میرے پاس کہنے کے لیے فی الوقت اتنا ہی ہے۔ مگر مجھے امید ہے دنیا ایک نہ ایک دن ضرور اس بارے میں سچ کو جان لے گی۔ ہم سب یہاں بنیادی طور پر قیدی ہیں۔ ہمیں نیٹ تک نہایت محدود رسائی حاصل ہے اور وہ بھی سخت نگرانی میں۔ چناں چہ اگر میں دوبارہ آپ کو نو سلیپ پر نہ ملوں تو سمجھ لیں انہوں نے میرا پتہ چلا لیا ۔ ۔ ۔ میرا نام فلیکس ہے۔

 

ختم شد