An Unbelievable Paranormal Story in Urdu from reddit

منحوس کتابیں اور شیطان کی لائبریری

تریسٹھ سال قبل پیش آنے والا یہ واقعہ تمام زندگی میرے ساتھ ایک آسیب کی طرح رہا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں آج تک کسی کو نہیں بتایا ۔ ۔ ۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ پچھلے کئی سالوں سے میں خود کو یہ کہہ کر فریب دیتا رہا ہوں کہ ابھی تو میری زندگی کی سترویں دہائی شروع ہی ہوئی ہے مگر سادہ سا حساب کتاب میرا منہ چڑانے کے لیے کافی ہے۔ آج میری 75ویں سال گرہ ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ بس وقت اڑ کر جانے کہاں چلا گیا۔ یہاں اس کہانی کو پوسٹ کرنے کا مقصد قارئین سے سال گرہ کی مبارک باد وصول کرنا نہیں۔ میری عمر کی 75ویں سال گرہ میری زندگی کا ایک سنگ میل ہے جو میرے لیے نہایت خوش کن ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ابھی زندہ ہوں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مجھ میں جینے ک امنگ کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ میری ہڈیاں دکھنے لگی ہیں، میرے بچے مجھ سے بہت دور رہتے ہیں اور میری بیوی کو دنیا سے رخصت ہوئے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر گزشتہ نومبر میں ٹرمپ کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اب دنیا میں جینے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ چناں چہ میری سال گرہ کے لیے آپ کی نیک تمنائوں کا شکریہ۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد آپ کو ایک کہانی سے آگاہ کرنا ہے ایک ایسی کہانی جس کے بارے میں میں نے آج تک کسی سے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے یہ سوچ کر اس کہانی کو کسی سے بیان نہیں کیا کیوں کہ یہ بہت زیادہ نا قابل یقین ہے اور شاید ہی کوئی اس کی صداقت پر یقین کرے۔ مگر جیسے جیسے آپ کی عمر بڑھتی ہے ویسے ہی اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ میں پوری دیانت داری سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے یہ کہانی کسی کو آج تک اس لیے نہیں سنائی کہ اس کا تصور بھی مجھے موت کی دہشت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مگر موت آج ماضی کی نسبت زیادہ پر سکون محسوس ہوتی ہے۔ یہ 1950 کی بات ہے اور یہ واقعہ ریاست مین کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیش آیا۔ اس وقت میری عمر نو سال تھی مگر میں اپنی عمر سے کم دکھائی دیتا تھا۔ قصبے میں میرا ایک ہی دوست تھا مگر نہ جانے کیوں وہ لوگ اچانک ہی وہاں سے ہزاروں میل دور چلے گئے۔ چناں چہ یہ موسم گرما میری زندگی کا بد ترین موسم ثابت ہوا۔ میرے والد گھر پر نہیں رہتے تھے جب کہ ماں ہمیشہ کام میں مصروف رہتی تھیں۔ چناں چہ مجھے ہر وقت گھر میں گھسے رہنے کی کوئی ضرورت یا خواہش نہیں تھی۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ قصبے کی عوامی لائبریری میں موسم گرما گزارا جا سکتا ہے۔ مگر اس لائبریری میں کتابیں اور خاص طور پر بچوں کی کتابیں بہت کم تعداد میں تھیں۔ مگر اس لائبریری کے اندر مجھے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا تھا اور نہ ہی ماں کی ڈانٹ پھٹکار سے واسطہ پڑتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہاں ان میں سے کوئی بھی بچہ نہیں ہوتا تھا جن کے ساتھ میرے کھیلنے کی توقع کی جاتی تھی۔ میں ایک کم عمر اور معاشرے کی بھیڑ میں چھپا ہوا بچہ تھا جو بہت خوشی کے ساتھ لائبریری کے اندر کتابوں کی قطاروں میں اپنی آزادی کے قیمتی ترین دن گزارنا چاہتا تھا۔ موسم گرما کا ابتدائی نصف حصہ میرے تصورات سے زیادہ وحشت انگیز ثابت ہوا۔ میں رات دس بجے سونے لیٹتا تھا، گھر کے کام کاج کرتا تھا اور پھر اپنی سائکل اٹھا کر لائبریری کا رخ کرتا تھا۔ سائکل سے مراد کچھ زنگ خوردہ ڈنڈے ہیں جن میں دو پہیے جڑ دیے گئے تھے۔ لائبریری پہنچنے کے بعد میرا کام وہاں موجود بڑی عمر کے قارئین کو شعوری یا لا شعوری طور پر پریشان کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار تو ایک بڑی عمر کی خاتون نے میری زبان کو جسے میں ہر وقت چٹخاتا رہتا تھا ایک ایسے عمل سے تشبیہ دی جس کے تصور سے آج بھی میرے کان سرخ ہو جاتے ہیں۔ ان اچھے وقتوں میں لوگ تہذیب کے لبادے سے بالکل عاری نہیں ہوئے تھے۔ موسم سرما کے یہ وحشت انگیز دن جلد ہی ماتم زدہ ہفتوں میں تبدیل ہو گئے۔ میں نے با قاعدگی سے اسکول کھلنے کے لیے دعائیں شروع کر دی تھیں مگر یکا یک مجھے کتب خانے میں ایک تہہ خانے کا پتہ چلا۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس لائبریری کا چپہ چپہ چھان مارا تھا مگر ایک دن غیر ملکی زبانوں کی کتابوں والی الماری کے پیچھے میری نظر لکڑی کے ایک دروازے پر پڑی جسے میں نے وہاں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ کہانی اسے دروازے سے شروع ہوئی۔ اس دروازے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی اور یہ شاہ بلوط کی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ تا ہم یہ دیوار سے زیادہ قدیم محسوس ہو رہا تھا۔ دروازے میں دھات کا ہینڈل لگا ہوا تھا جو نہایت ہی قدیم تھا اور بعد ازاں مجھے یہ جان کو حیرت نہیں ہوئی کہ اس دروازے کو 17ویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ دروازے کے ہینڈل پر ایک نقش سا کھدا ہوا تھا جو پہلی نظر میں ایک انسانی قدم محسوس ہوتا تھا۔ اپنی کم عمری کے با وجود مجھے پتہ تھا کہ اس دروازے کے پیچھے جو کچھ بھی ہے وہ میرے لیے ممنوع ہے اور اسی وجہ سے یہ دروازہ اس موسم گرما میں میرے لیے سب سے دل چسپ چیز بن گیا۔ میں نے تیزی سے ادھر ادھر نظر ڈالی اور اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا تھا میں نے دروازے کا بھاری ہینڈل گھمایا، تیزی سے دروازے کے اندر گھسا اور اسے اپنے پیچھے بند کر دیا۔ اندر تاریکی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ میں نے چند قدم اٹھائے اور پھر رک گیا۔ اندر پھیلی مکمل ترین تاریکی میری راہ میں سر اٹھائے کھڑی تھی۔ میں نے آگے ہاتھ بڑھا کر وہاں کسی دیوار یا شیلف کی موجودگی محسوس کرنے کی کوشش کی۔ مگر جو چیز میرے ہاتھ لگی وہ محض ایک پتلی سے ڈوری تھی جو چھت سے لٹک رہی تھی۔ مگر یہ نہایت مفید چیز تھی اور میں نے اسے مضبوطی سے تھام کر نیچے کھینچ لیا۔ اس زمانے میں زیادہ تر بلب ڈوریوں کے ذریعے بٹن کھینچ کر جلائے جاتے تھے اور یہ بلب بھی ایسا ہی ایک تھا۔ ڈوری کھینچتے ہی میرے چاروں طرف روشنی پھیل گئی۔ میں ایک چھوٹے سے گرد آلود پلیٹ فارم پر کھڑا تھا اور لگتا تھا اس پر صدیوں سے کسی نے قدم نہیں رکھا۔ میرے الٹے ہاتھ پر ایک چکر دار زینہ تھا جو لکڑی کا بنا ہوا تھا مگر اس کی حالت سے لگتا تھا کہ یہ کسی بھی وقت ہلکی سے آہٹ سے بھی گر جائے گا۔ کمرے میں لٹکا ہوا بلب روشنی کا واحد ذریعہ تھا مگر یہ روشنی بہت کم زور تھی۔ چناں جب میں نے اپنے نیچے دیکھنے کے لیے نظر ڈالی تو زینے کا اختتام تاریکی میں گھلتا ہوا محسوس ہوا۔ مجھے اب خوف محسوس ہو رہا تھا۔ یہ جگہ جو کچھ بھی تھی اس کا لائبریری میں کوئی کام نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی بالکل دوسری عمارت میں موجود ہوں مگر کوئی بھی نو سالہ بچہ پراسراریت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ آج سوچتا ہوں کاش میں نے اس وقت اپنے بلوغت پذیر وجود کو واپس مڑنے پر آمادہ کر لیا ہوتا۔ خود کو مجبور کیا ہوتا کہ اس کمرے میں جانے کے علاوہ میں کوئی بھی دوسرا کام کروں۔ مگر میں نے خود سے کہا ٹھیک ہے آج کے بعد بے شمار راتوں میں نیند تمہاری آنکھوں سے روٹھی رہے گی۔ مگر ظاہر ہے مجھے اس وقت کچھ بھی اندازہ نہیں تھا اور میں اس وقت کبھی بھی اپنے دماغ کی بات نہیں سنتا۔ چناں واپس مڑنے کے بجائے میں نے ایک گہری سانس لی، زینے کی ریلنگ کو مضبوطی سے پکڑا اور آنکھیں پھاڑ کر نیچے اترنا شروع کر دیا۔ ریلنگ پر لگی لکڑی خشک اور چبھنے والی تھی۔ میں نے فوراً چلنا شروع کر دیا۔ میرے دونوں ہاتھ سہارے کے لیے آگے پھیلے ہوئے تھے اور میں نہایت احتیاط سے زینہ اتر رہا تھا۔ زینہ شاید بہت طویل تھا یا ایسا محسوس ہوتا تھا۔ چھت سے لتکے بلب سے ہلکی سے روشنی پھوٹ رہی تھی اور میرا دل اس تاریکی میں دھڑ دھڑ کر رہا تھا۔ بچے بھی غیر معمولی کیفیات کو محسوس کر لیتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ وہ ان سے ذرہ برابر بھی پریشان نہیں ہوتے۔ جس وقت میرے قدم نیچے ہم وار زمین سے لگے وہاں روشنی کا نام و نشان تک نہیں بچا تھا۔ مگر وہاں روشنی کا ایک اور ذریعہ موجود تھا۔ میرے خدا میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا۔ میرے بالکل سامنے ایک اور دروازہ تھا۔ سرخ لکڑی سے بنا یہ دروازہ نہایت بھاری بھرکم تھا۔ روشنی اس دروازے کے پیچھے سے آ رہی تھی جو دروازے کے چاروں طرف سے خارج ہو کر ایک روشنی کی ایک پر اسرار مستطیل بنا رہی تھی۔ دوسری مرتبہ میں نے پھر ایک گہری سانس لی اور اس دروازے کے پیچھے چلا گیا جہاں مجھے کبھی نہیں جانا چاہیے تھا۔ اولین نم آلود کمرے کے نسبت یہ کمرہ روشنی سے معمور تھا۔ ابتدا میں میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ جب میری آنکھیں اس تیز روشنی میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو وہاں جو میں نے دیکھا اس نے میرے سینے سے سانسوں کو کھینچ لیا۔ یہ ایک لائبریری تھی۔ ایک مکمل ترین لائبریری جس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ حیرت سے میری سانسیں رک گئیں۔ میں نے نہایت احترام کے عالم میں اس کمرے میں قدم رکھا۔ یہ کمرہ نہایت خوب صورت تھا مگر یہ اوپر بنی لائبریری سے چھوٹا تھا مگر لگتا تھا جیسے اسے خاص طور پر میری جسامت کے لحاظ سے بنایا گیا ہے۔ کمرے میں موجود شیلف رنگ برنگ کتابوں سے پر تھے۔ کمرے میں رکھی دونوں ہتھے دار کرسیاں نہایت آرام دہ تھیں اور وہاں موجود خوش بو نا قابل یقین تھی۔ لیموں اور صنوبر کی ملی جلی خوش بو۔ میں اس خوش بو کو کبھی بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا اس لیے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اپنی زندگی کے 75 سالوں میں میں نے ایسی خوش بو دوبارہ کبھی نہیں سونگھی۔ یہ کمرہ کیا تھا؟ میں نے اس کے بارے میں پہلے کیوں نہیں سنا؟ یہاں کوئی اور کیوں نہیں تھا؟ یہ وہ سوال تھے جو میرے ذہن میں اٹھ رہے تھے۔ مگر میں گویا ایک خمار کی حالت میں تھا۔ میں نے جیسے ہی کتابوں کی طرف دیکھا اور اس غیر ارضی خوش بو کو اپنی ذات میں جذب کیا میرے ذہن میں صرف ایک ہی خیال آیا۔ میں اب کبھی دوبارہ نہیں اکتائوں گا۔ سچ یہ ہے اکتاہٹ مجھ سے صرف تین سال دور رہی۔ آج سے 63 سال پہلے میری 12ویں سال گرہ کے روز سب کچھ بدل گیا۔ اس دن سے پہلے میں لائبریری میں ملنے والے اس تہہ خانے کا جب بھی ممکن ہو چکر لگایا کرتا تھا۔ ہفتے میں کئی بار۔ میں نے وہاں کسی اور کو نہیں دیکھا مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس سب کے با وجود میرے ذہن میں شکوک و شبہات نے سر نہیں اٹھایا۔ میں نے اس کمرے سے ایک بھی کتاب نہیں لی مگر میں جب بھی وہاں جاتا تھا تو وہاں میں ایک مخصوص کتاب کو ترتیب وار پڑھا کرتا تھا۔ میں ہمیشہ اسی نرم گلابی کرسی میں بیٹھتا تھا جب کہ دوسری کرسی میرے سامنے خالی موجود رہتی تھی۔ گلابی کرسی میری تھی مگر دوسری میری نہیں تھی۔ وہ کرسی کس کی تھی اس کی وضاحت میں آج کر سکتا ہوں مگر اس وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔ اپنی 12ویں سال گرہ والے دن میں دیر سے سو کر اٹھا۔ میری ماں نے میرے کچھ ہم جماعتوں اور کچھ کزنز کو مدعو کیا تھا مگر مجھے یہ سب کچھ بہت اکتا دینے والا محسوس ہوتا تھا۔ میں اپنی سال گرہ اپنی لائبریری میں گزارنا چاہتا تھا اس غیر ارضی خوش بو کی لپٹوں میں کھویا ہوا ۔ ۔ ۔ جب مہمان اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے اور میں جب لائبریری پہنچا تو اس کے بند ہونے میں صرف 15 منٹ باقی بچے تھے۔ مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ عملے کے لوگ لائبریری بند کرنے سے پہلے نیچے جائزہ نہیں لیتے تھے۔ میں جتنی دیر تک چاہتا وہاں وقت گزار سکتا تھا۔ اور آج کی رات تو مجھے ایک تحیر انگیز داستان کا آخری باب ختم کرنا تھا جہاں بہادر شہ زادوں، تلواروں اور ڈریگنوں کا ذکر تھا۔ مگر آج آخری الفاظ کو پڑھنے اور کتاب کو بند کرنے کے بعد میں نے خوش بو کو محسوس کیا۔ مگر یک لخت وہ مسحور کن خوش بو بد ترین بد بو میں تبدیل ہو گئی۔ میں بے چین کیفیت کے ساتھ کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا۔ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ خوش بو ہمیشہ کی طرح ہی تھی – لیموں اور صنوبر کی ملی جلی بو۔ میں نے اس بار اسے محض دوسری طرح محسوس کیا تھا اور یہ بات مجھے پسند نہیں آئی۔ یہ خوش بو ایک بصری فریب کی طرح تھی۔ ایک ایسی تصویر کی طرح جہاں پہلی نظر میں لگتا ہے کہ ایک خوب صورت لڑکی پلٹ کر دیکھ رہی ہے مگر دوسری بار دیکھنے پر نظر آتا ہے کہ ایک بد صورت عورت آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ جس طرح آپ اس تصویر کو ذہن سے مٹا نہیں سکتے اسی طرح میں اس خوش بو کو بھول نہیں پایا۔ مگر سحر ٹوٹ چکا تھا۔ پہلی بار ایسا لگا جیسے یہ خوش بو کسی خاص طرف سے آ رہی ہو۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے کا چکر لگایا اور کسی دیوانے کتے کی طرح سونگھتا ہوا کمرے کے عقب میں موجود شیلف تک پہنچ گیا۔ یہ شیلف مکمل طور پر عام حالت میں تھا سوائے ایک کتاب کے۔ یہ چمڑے کی جلد میں لپٹی ایک ضخیم کتاب تھی۔ اس کا سرخ رنگ اڑ چکا تھا اور اس کی کمر پر ایک قدم کا نشان بنا ہوا تھا۔ بو یہیں سے آ رہی تھی۔ میں نے اس کتاب کی جلد کھولی اور دیکھا کہ صفحے کے اوپر نہایت خوش خطی کے ساتھ سرخ سیاہی میں ایک جملہ لکھا ہوا تھا: اپنے غم نیچے جھٹک دو دوست اور انہیں وہیں چھوڑ دو جہاں وہ پڑے ہیں۔ میں نے سحر زدہ حالت میں اس جملے کو پڑھا اور پھر اپنی کرسی کی جانب پیچھے ہٹنے لگا۔ میں نے صفحہ پلٹا۔ خالی ۔ ۔ ۔ بو مزید تیز ہو گئی۔ ایک اور خالی صفحہ اور بو میں مزید اضافہ ہو گیا۔ میں ایک لمحے کے لیے رکا۔ متلی کو ضبط کرتے ہوئے میں چلتا رہا۔ مگر میں جسے ہی کرسیوں کے قریب ہوا میں نے آخری صفحہ پلٹ دیا اور وہاں اسی پر اسرار تحریر میں میرا نام لکھا تھا ۔ ۔ ۔ میرے ہاتھوں سے کتاب گر گئی۔ میں نے دروازے کی طرف بھاگنا شروع کیا مگر جیسے ہی میری نظر اس جانب پڑی میرا دل میرے حلق میں آ گیا اور میں اپنی جگہ پتھر کا ہو کر رہ گیا۔ خالی کرسی خالی نہیں تھی۔ کرسی پر ایک عمر رسیدہ آدمی سوٹ پہنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی اور اس کی بدن کے پار ہوجانے والیے سرمئی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑا اور میرا کھایا پایا سب الٹی کی شکل میں قالین پر باہر آ گیا۔ میں نے اپنا منہ پوچھا اور جب میری نظر اپنی الٹی پر پڑی تو میں نے اس آدمی کا زور دا قہقہہ سنا۔ میں نے لرزتی ہوئی آواز میں نا قابل یقین نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ’تم کون ہو؟ وہ آدمی اپنے قدموں پر اچھلا۔ اس نے مجھے دھیرے سے کندھوں سے تھاما اور مجھے میری کرسی پر بیٹھنے میں مدد دی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی کرسی میں بیٹھ گیا۔ ’مجھے لگتا ہے ہماری ملاقات کی ابتدا اچھے حالات میں نہیں ہوئی‘ اس نے کہا۔ اس کی نظریں میری الٹی کے مواد پر جمی ہوئی تھیں اور اس نے مزید کہا کہ اس بو کا عادی ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ’تم کون ہو؟ میں نے ایک بار پر سوال کیا۔ اس نے کہا ’آج کی رات تمہیں پتہ چلے گا کہ زندگی کی شدید ترین مشکلات کس چڑیا کا نام ہے جس سے تم آج سے پہلے واقف نہیں ہو‘۔ ’میں ایک دوست کی حیثیت میں تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں تمہیں اس سے نجات دلانے کی پیش کش کرتا ہوں اور ان دیگر طوفانوں سے بھی جن کا تم نے آگے زندگی میں سامنا کرنا ہے‘۔ میں اس لمحے وہاں سے نکلنے کے سوا کچھ اور نہیں چاہتا تھا مگر میں کرسی سے اٹھ نہیں پایا۔ میں نے اس سے پوچھا تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ ’میرے بچے تمہاری ماں اپنے ہی ہاتھوں باورچی خانے میں ہلاک ہو چکی ہے۔ بلا شبہ وہاں ایک بھیانک منظر ہے‘ اس نے غم زدہ لہجے میں کہا مگر اس کی آنکھوں میں ایک شرارتی چمک لہرا رہی تھی۔ ’بلا شبہ تم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ میں تمہیں ایک دوسرا محفوظ راستہ دکھا سکتا ہوں‘۔ اس آدمی کی بات سن کر میرا خون رگوں میں جم گیا مگر میں نے پھر بھی اس کا یقین نہیں کیا۔ ’تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے اپنے لہجے میں بہادری پیدا کرنے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک مکروہ لیس دار قہقہہ لگایا اور اس کا بدن ہڈیوں تک ایک بوڑھے کتے کی طرح لرز اٹھا۔ ’کچھ بھی نہیں مگر صرف تمہاری دوستی پیارے بچے‘ اس نے کہا۔ اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ اس کا جواب میرے لیے نا کافی ہے چناں اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’میں چاہتا ہوں تم ایک سفر پر میرے ساتھ چلو۔ میرا مقصد بلند ہے اور تم میرے بہت اچھے شاگر ثابت ہو گے۔ اور ہو سکتا ہے جب میرا وقت ختم ہو جائے ۔ ۔ ۔ ‘ اس نے تھکن سے گہری سانس لی اور اپنی استخوانی انگلیوں کو اپنے سر کے باریک سفید بالوں میں پھیرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا ’ممکن ہے اس وقت تم میری جگہ لے لو‘۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے پیر دروازے کی جانب گھسیٹنے کی کوشش کی مگر اپنی نظریں اس کی نظروں سے جدا نہیں کیں۔ ’تم پاگل ہو‘ میں نے اس سے کہا۔ ’میری ماں زندہ ہے۔ وہ مری نہیں‘۔ ’جائو خود دیکھ لو اگر تم واقعی دیکھنا ہی چاہتے ہو‘ اس نے کہا اور در وازے کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے اس کے چہرے ہر ایک نفرت آمیز نظر ڈالی اور در وازے کی جانب زقند بھری۔ جیسے ہی میرے ہاتھ نے در وازے کے ہینڈل کو چھوا اس نے دھیرے سے میرا نام لیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی جانب گھوم گیا۔ ’تمہارا سفر آسان نہیں ہو گا دوست۔ اگر کبھی بھی زندگی تمہارے لیے نا قابل بر داشت ہو جائے‘ اس نے ایک لمحے کا توقف کیا اور اپنے ہاتھوں سے کمرے کے چاروں طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’تو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم کہاں مل سکتے ہیں‘۔ میں نے اپنے عقب میں ایک دھماکے سے در وازہ بند کیا اور ایک کے بجائے دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اوپر کی طرف بھاگا۔ میں لائبریری سے باہر نکلا، گرتا پڑتا سائکل پر چڑھا اور بری طرح گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ گھر کا در وازہ چوپٹ کھلا تھا۔ میں سائکل سے نیچے کودا، سائکل کو زمین پر گرنے دیا اور احتیاط سے گھر کے اندر قدم رکھا۔ وہ آدمی لازماً جھوٹ بول رہا تھا ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی میری آنکھوں میں نمکین آنسو امڈ آئے۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میں آگے بڑھا اور ماں کو آواز لگائی۔ مجھے کوئی جواب نہیں ملا سو میں مجبوراً کچن کی جانب بڑھا۔ آج تک میں نہیں جانتا ماں نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے ریاست مین کے اس چھوٹے سے قصبے میں اپنی پوری زندگی گزار دی ہے مگر اب میں لائبریری میں شاذ و نادر ہی پھٹکتا ہوں۔ ایک بار اپنی عمر کی تیسری دہائی کے اواخر میں میں کچھ حوصلہ کر کے لائبریری کے اندر داخل ہوا۔ اس وقت حالات زندگی بہت بہتر تھے اور میرا خوف تجسس میں ڈھلنا شروع ہو گیا تھا۔ جس جگہ لائبریری میں اس پر اسرار کتب خانے کا دروازہ کھلتا تھا وہاں صرف ایک سادہ دیوار کھڑی تھی۔ میں نے لائبریرین سے تہہ خانے کے بارے میں پوچھا اگر چہ میرے دل میں اس سوال کا جواب پہلے سے ہی موجود تھا۔ اس لائبریری میں کوئی تہہ خانہ نہیں۔ اس نے جواب دیا۔ در حقیقت کبھی بھی نہیں تھا۔ بلکہ شہر کے قوانین کے تحت اس علاقے میں کسی بھی عمارت میں تہہ خانہ بنانا ممنوع تھا۔ وہ لیس دار میٹھی خوش بو تمام زندگی میرے ساتھ ایک آسیب کی طرح چمٹی رہی ہے۔ لیموں اور صنوبر کے زہریلے آمیزے کی یہ بو میری 12ویں سال گرہ سے میرے اعصاب پر سوار ہے۔ میں نے اس روز جب اپنی ماں کو کچن میں دیکھا تو وہ اپنے ہی خون کے تالاب میں گری ہوئی تھی۔ میں نے اس خون کی بو سونگھی۔ ایک بار جب ایک شخص نے جو میرا باپ ہونے کا دعوے دار تھا میرے کالج ہاسٹل میں کمرے کے دروازے پر دستک دے کر مجھ سے کچھ رقم کا سوال کیا اور میرے انکار پر مجھے بری طرح مارا میں نے اس خوش کو اپنے اطراف محسوس کیا۔ جب میری بیوی کا دوسری مرتبہ اسقاط حمل ہوا میں نے اس خوش بو کو سونگھا اور اس وقت بھی جب ہمارا چوتھا بچہ ضائع ہوا۔ اور میں نے یہ خوش بو اس وقت بھی محسوس کی جب میرے سب سے بڑے بیٹے نے اپنی کار کا توازن کھو کر حادثے میں اپنی گرل فرینڈ کو زندگی سے محروم کر دیا۔ مجھے یہ خوش بو بتدریج آنے لگی جب میری بیوی بیمار ہوئی۔ اس کا پچھلے سال انتقال ہو گیا اور گزشتہ 50 سالوں میں آج میں پہلی بار تنہا ہوں۔ اب مجھے یہ بو روز آتی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اس بو میں کوئی دعوت پنہاں ہے۔ کچھ مہینے پہلے کی بات ہے جب میں لائبریری میں گیا اور وہاں میں نے شاہ بلوط کے اس در وازے کو دیوار میں موجود پایا۔ بالکل اسی جگہ جہاں یہ میرے بچپن میں ہوا کرتا تھا۔ اب میں شام میں چہل قدمی کے وقت روزانہ لائبریری کے پاس سے گزرتا ہوں مگر میں ابھی تک اندر نہیں گیا ہوں۔ مگر شاید آج رات میں وہاں جائوں گا۔ مجھے مرنے سے ڈر لگتا ہے مگر اب میں زیادہ خوف زدہ زندگی سے ہوں۔ وہ بوڑھا آدمی درست تھا۔ میرا سفر آسان نہیں تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ مستقبل میں کچھ آسان ہو جائے گا۔ اپنے غم نیچے ڈال دو دوست اور انہیں وہیں چھوڑ دو جہاں وہ ہیں۔ اس نے نجات کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے کہا تھا پناہ میرے پاس ہے۔ کیا وہ اس بارے میں بھی سچ کہہ رہا تھا؟ اس سوال کا جواب پانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ بہر حال میں آج بھی جانتا ہوں ہم کہاں مل سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘

ختم شد