Antoine Laurent De Lavoisier | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | بیسواں باب | انتوان لیوائزے

فرانسیسی سائنس دان انتوان لارینٹ لیوائزے کا علمِ کیمیاء کی ترقی میں کردار ان مٹ ہے۔ 1743ء میں پیرس میں اس کی پیدائش کے وقت علمِ کیمیاء کو طبیعات، ریاضی اور علم الاعضاء کے مقابلے میں بہت کم تر سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ اس وقت تک کیمیاء دانوں نے بڑے پیمانے پر اہم تر انفرادی حقائق دریافت کر لیے تھے مگر پھر بھی ایسی کوئی نظریاتی ہیئَت موجود نہیں تھی جہاں اس جداگانہ معلومات کو ایک لڑی میں پرویا جا سکتا۔ اس زمانے میں  یہ غلط فہمی عام تھی کہ ہوا اور پانی بنیادی عناصر ہیں اور اس سے بڑھ کر آگ کی فطرت کے بارے میں نہایت بے تکے نظریات درست تسلیم کیے جاتے تھے۔ اس دور میں بڑے بڑے سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ تمام آتش گیر مادوں میں ’فلوجسٹون‘ – ایک فرضی مادہ – موجود ہوتا ہے جسے دورانِ احتراق جلنے والے اجسام ہوا میں خارج کرتے ہیں۔ گوکہ 1754ء سے 1774ء کے درمیانی عرصے میں جوزیف بلیک، جوزف پریسٹلے، ہنری کاؤنڈش اور دیگر ذہین سائنس دانوں نے آکسیجن، ہائڈروجن، نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی اہم گیسوں کو جدا کر لیا تھا مگر چوں کہ یہ لوگ بھی ’فلوجسٹون نظریے‘ کے قائل تھے اس لیے یہ بھی اپنے دریافت کردہ کیمیائی مادوں کی فطرت یا ان کی اہمیت کو سمجھنے سے قطعی قاصر تھے۔ مثال کے طور پر آکسیجن کو فلوجسٹون مخالف یا فلوجسٹون سے پاک شدہ گیس تصور کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ لکڑی کا برادہ عام ہوا کی نسبت آکسیجن میں بہتر طور پر جلتا ہے مگر اب بھی غلط فہمی یہ تھی کہ چوں کہ آکسیجن ’فلوجسٹون‘ سے پاک ہوا ہے اس لیے وہ جلنے والے برادے سے زیادہ تیزی کے ساتھ ’فلوجسٹون‘ کو جذب کرتی ہے۔ ظاہر ہے علمِ کیمیاء میں درست ترقی اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک اشیا کی بنیادی ماہیت کو بلکل درست طور پر سمجھ نہیں لیا جاتا۔ چناں چہ یہ لیوائزے ہی تھا جس نے اس معمے کا درست حل تلاش کر کے  کیمیائی نظریے کی حقیقی راہ کا تعین کیا۔ اولین طور پر لیوائزے نے کہا کہ فلوجسٹون نظریہ مکمل طور پر غلط ہے کیوں کہ یہ فرضی عنصر کوئی وجود نہیں رکھتا اور یہ کہ جلنے کا عمل جلنے والے عنصر اور آکسیجن کے درمیان کیمیائی اشتراک کے باعث ظہور پذیر ہوتا ہے۔ دوم، پانی کوئی بنیادی عنصر نہیں ہے بلکہ یہ آکسیجن او ہائڈروجن پر مشتمل کیمیائی مرکب ہے۔ اسی طرح ہوا بھی بنیادی عنصر نہیں بلکہ بنیادی طور پر دو گیسوں یعنی آکسیجن اور نائٹروجن پر مشتمل ہوتی ہے۔ آج لیوائزے کے یہ دونوں بیانات سامنے کی بات ہیں مگر لیوائزے سے پہلے کے اور اس کے ہم عصر سائنس دان اس بات سے قطعی لاعلم تھے اور حتٰی کہ لیوائزے کی جانب سے ان نظریات کو ثبوت کے ساتھ پیش کیے جانے کے  باوجود اکثر متعدد ممتاز کیمیاء دانوں نے ان نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا مگر اپنی معروف ترین کتاب ’کیمسٹری کے عناصر – 1783ء – میں لیوائزے نے ایسے بہترین انداز میں اپنے نظریات کو قطعیتر  ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا کہ علم کیمیاء کے نوجوان سائنس دانوں نے انہیں فوری طور پر تسلیم کر لیا۔ اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کے ہوا اور پانی کیمیائی عناصر نہیں ہیں لیوائزے نے اپنی کتاب میں ان مادوں کی فہرست شامل کی جو اس کے خیال میں بنیادی تھے۔ اگر چہ اس کی اس فہرست میں چند غلطیاں ہیں مگر کیمیائی عناصر کی جدید فہرست بنیادی طور پر لیوائزے کی فہرست ہی کی مفصّل شکل ہے۔ لیوائزے برتھولیٹ، فورکروئی اور گائے ٹون ڈی ماروا کے ساتھ مل کر پہلے ہی کیمیائی عناصر کی فہرستِ اسماء کا اولین درست ترین نظام وضع کر چکا تھا۔ لیوائزے کے نظام میں – جس نے آج استعمال ہونے والے نظام کی بنیاد فراہم کی ہے – کسی بھی کیمیکل کی آمیزش کو اس کے نام سے واضح کیا گیا ہے۔ علم کیمیاء کی تاریخ میں پہلی بار فہرست اسماء کے کسی مربوط نظام کی شمولیت سے تمام دنیا میں کیمیاء دان ایک دوسرے سے اپنی دریافتوں کی بابت صاف انداز میں بات کرنے کے قابل ہوئے۔ لیوائزے وہ پہلا شخص تھا جس نے واضح طور پر کیمیائی عمل کے دوران مادے کے تحفظ کا اصول بیان کیا جس کے مطابق کسی کیمیائی عمل کے دوران اپنی اصل حالت میں موجود مادے کے کیمیائی عناصر کی ترتیب نو ممکن ہے؛ مگر اس طرح کوئی مادہ ختم نہیں ہوتا اور آخر میں حاصل ہونے والے مادے کا وزن اتنا ہی رہتا ہے جتنا اصل عناصر کا تھا۔ کیمیائی عمل میں شامل کیمیائی مادوں کا نہایت احتیاط کے ساتھ وزن کرنے کی اہمیت پر لیوائزے کی تاکید سے کیمسٹری ایک قطعی سائنس میں تبدیل ہو گئی اور آنے والے دنوں میں کیمیائی ترقی کے راستے کی راہ بھی ہم وار ہوئی۔ لیوائزے نے علمِ ارضیات کے علم میں بھی کچھ کردار ادا کیا تاہم اس کا کردار علمِ افعالِ اعضاء میں زیادہ ہے۔ لاپلاس نامی سائنس دان کے ساتھ مل کر لیوائزے نے محتاط تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ عمل تنفس بنیادی طور پر جلنے کے بہت دھیمے عمل کی طرح ہوتا ہے۔ با الفاظ دیگر انسان اور دیگر حیوانات سانس کے ذریعے آکسیجن حاصل کر کے نامیاتی مادوں کے اندرونی مگر دھیمے احتراق سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ چناں چہ صرف یہ ہی دریافت جس کا ہاروے کے جسم میں خون کی گردش کے نظام کو دریافت کرنے سے موازنہ کیا جا سکتا ہے اس کتاب میں لیوائزے کے تذکرے کے لیے کافی تھی تاہم لیوائزے کی بنیادی اہمیت کیمیائی نظریے کی تشکیل میں ہے جس سے کیمیائی سائنس کی عمارت درست خطوط پر استحکام کے ساتھ استوار ہوئی۔ لیوائزے کو عام طور پر جدید کیمسٹری کا بانی کہا جاتا ہے اور بلاشبہ وہ اس اعزاز کا مستحق بھی ہے۔ اس کتاب میں مندرج کچھ دیگر شخصیات کی طرح لیوائزے نے بھی جوانی میں قانون کی تعلیم حاصل کی مگر قانون کی ڈگری حاصل کرنے اور فرانسیسی وکلاء کی انجمن میں شمولیت کے با وجود اس نے کبھی بھی قانون کی تعلیم کو عملاً استعمال نہیں کیا تاہم اس نے متعدد انتظامی و سرکاری خدمات ضرور انجام دیں۔ وہ فرانسی رائل اکیڈمی آف سائنس کا ایک فعال رکن تھا مگر بدقستمی سے لیوائزے ٹیکس وصول کرنے والی ایک تنظیم سے بھی منسلک تھا جس کے باعث 1789ء میں انقلابِ فرانس کے بعد انقلابی حکومت اسے شک کی نظر سے دیکھتی تھی اور آخرِکار اسے ’فرمی جنیرال‘ کے دیگر 27 ارکان سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ انقلابی انصاف درست ہو یا نہیں مگر اس کی رفتار بہت تیز تھی چناں 8 مئی 1794ء کو ایک ہی دن میں ان تمام افراد پر مقدمہ چلا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیوائزے نے لواحقین میں ایک بیوی چھوڑی جو نہایت ذہین عورت تھی اور تحقیقی کاموں میں اس کی معاون تھی۔ دورانِ مقدمہ ملک اور سائنس کے لیے خدمات کے پیش نظر لیوائزے کی جاں بخشی کی اپیل کی گئی مگر جج نے ان سخت ریمارکس کے ساتھ اس اپیل کو مسترد کر دیا کہ’فرانسیسی جمہوریہ کو محققین کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیوائزے کے قریبی معاونِ کار عظیم ریاضی دان لاگرینج نے بالکل درست کہا کہ لیوائزے کا سر کاٹنے میں محض ایک لمحہ لگا مگر ایک سو سال بھی اس جیسا ایک سر دوبارہ پیدا نہیں کر سکیں گے۔