Antonie van Leeuwenhoek by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ — چھتیسواں‌ باب – انٹونی وین لیوونہُک

انٹونی وان لیو ونہاک جس نے جرثوموں کو دریافت کیا ۱۶۳۲ء میں نیدر لینڈ کے قصبے ڈیلفٹ میں پیدا ہوا۔ خورد بین سے چیزوں کو دیکھنا لیو ونہاک کا مشغلہ تھا جس کی بدولت اس نے جرثوموں کو دریافت کیا۔


Antonie van Leeuwenhoek by Michael Hart in Urdu


اس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مقامی سرکاری انتظامیہ میں ایک ادنٰی حیثیت میں کام کرتے گزارا۔

اس زمانے میں بلاشبہ کسی درکان سے خردبین خریدنا ممکن نہیں تھا اس لیے لیو ونہاک نے اپنے آلاتِ مشاہدہ خود تیار کیے۔


Also Read This

اسے عدسے تیار کرنے میں کوئی پیشہ ورانہ مہارت نہیں تھی اور نہ ہی اس نے کبھی اس شعبے میں رسمی تعلیم حاصل کی مگر اُس نے اِس میدان میں جو نفیس کام کیا وہ قابلِ رشک ہے کیوں کہ اس نے یہاں اچھے اچھے ماہرینِ فن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اگر چہ مرکب خوردبین لیو ونہاک کی پیدائش سے کافی پہلے ایجاد کر لی گئی تھی مگر اس نے اسے کبھی استعمال نہیں کیا۔

اس کے بجائے لیو ونہاک نے مختصر طول ماسکہ والے عدسوں کو نہایت احتیاط سے گھس کر ہموار کیا جس سے اسے اتنے طاقت ور عدسے حاصل ہوئے جو قبل ازیں کسی مرکب خوردبین میں استعمال نہیں کیے گئے تھے۔


لیو ونہاک کا تیار کردہ ایک عدسہ جو آج بھی موجود ہے ۲۷۰ گنا بڑا دکھانے کی طاقت کا حامل ہے اور واضح ثبوتوں کے مطابق اس نے اس سے بھی زیادہ طاقت ور عدسے بنا لیے تھے۔


لیو ونہاک انتہائی تحمل اور احتیاط سے مشاہدہ کرنے کی فطرت سے بہرہ ور تھا اور اس کے ساتھ بہترین بصارت اور بے کراں تجسس کا بھی حامل تھا۔

اس نے اپنے طاقت ور عدسوں کے ذریعے متعدد اقسام کی اشیاء کا مشاہدہ کیا جس میں انسانی بال، کتے کا مادہ منویہ، بارش کا پانی، ننھے کیڑے ، پٹھے، جلد کے ریشے اور دیگر متعدد چیزیں شامل تھیں۔

اس نے اپنے مشاہدات کو نہایت احتیاط سے قلم بند کیا اور جن چیزوں کو اس نے خردبین سے دیکھا ان کے شان دار خاکے بھی بنائے۔

۱۶۳۷ء کے بعد لیو ونہاک نے رائل سوسائٹی آف انگلینڈ سے با قاعدہ خط وکتابت شروع کر دی جو اس دور کی سب سے ممتاز سائنسی مجلس تھی۔

اگرچہ اس نے اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کی تھی مگر اسے ولندیزی کےسوا کوئی اور زبان نہیں آتی تھی مگر اعلیٰ تعلیم سے محرومی کے با وجود اسے ۱۶۸۰ء میں رائل سوسائٹی کا رکن منتخب کر لیا گیا اور اس کے علاوہ وہ پیرس میں اکیڈمی آف سائنسز کا مراسلاتی نمائندہ بھی بنا۔

لیو ونہاک نے دو مرتبہ شادی کی اور اس کے ۶ بچے ہوئے اگرچہ وہ نانا یا دادا نہیں بن سکا۔

اس کی صحت قابل رشک تھی اور وہ اپنی زندگی کے اختتام تک سخت محنت سے کام کرتا رہا۔

کئی عظیم شخصیات نے آ کر اس سے ملاقات کی جن میں روس کا زار پیٹر اعظم اور ملکہ برطانیہ تک شامل ہیں۔

۱۷۲۳ء میں لیو ونہاک نے ۹۰ سال کی عمر میں ڈیلفٹ ہی میں وفات پائی۔

لیو ونہاک نے بہت اہم دریافتیں کیں اور اس طرح وہ پہلا شخص ہے جس نے ۱۶۷۷ء میں جرثومۂ منی کی وضاحت کی۔

اسی طرح وہ ان اولین لوگوں میں ایک ہے جنہوں نے خون کے سرخ ذرات کی تصریح کی۔ اس نے اس نظریے کی تردید کی کہ ادنیٰ حیات میں تولید ازخود ہوتی ہے اور اس ضمن میں ٹھوس دلائل بھی پیش کیے۔

مثال کے طور پر اس نے ثابت کیا کہ پسّو بھی اسی طرح تولیدی عمل کرتے ہیں جس طرح پروں والے کیڑے۔

اس نے ۱۶۷۴ء میں جرثومے دریافت کیے جو اس کی سب سے عظیم دریافت تھی مگر ساتھ ہی یہ انسانی تاریخ کی سب سے پراثر دریافت بھی تھی۔

پانی کے ایک ننھے قطرے میں لیو ونہاک نے ایک بالکل نئی دنیا دریافت کی جو زندگی سے لبریز تھی اور جس کا اس سے قبل کسی دوسرے کو شائبہ تک نہ گزرا تھا۔

اگر چہ لیو ونہاک کو بھی ابھی اس کا ادراک نہیں تھا مگر یہ نئی دنیا انسانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔

بلاشبہ وہ ’ننھے ننھے جانور‘ جو لیو ونہاک نے دریافت کیے اکثر انسانوں کی موت اور زندگی کا فیصلہ کرتے تھے۔

ایک بار انہیں دریافت کر لینے کے بعد لیو ونہاک نے متعدد دیگر جگہوں پر بھی انہیں دیکھا۔ یہ کنووں، تالابوں، بارش کے پانی، انسانوں کے منہ اور آنتوں میں موجود تھے۔

لیو ونہاک نے متعدد اقسام کے بیکٹریا اور یک خلوی طفیلیوں کی وضاحت کے ساتھ ان کی جسامت بھی شمار کی۔

تاہم لیو ونہاک کی عظیم ترین دریافت کا اطلاق تقریباً دو صدیوں بعد پاسچر کے دور میں ہوا۔

در حقیقت خرد حیاتیات کے شعبے میں ۱۹ ویں صدی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی کیوں کہ اس وقت تک جدید خردبینیں تیار نہیں کی جاسکی تھیں۔

دلیل دی جا سکتی ہے کہ اگر لیو ونہاک نہیں ہوتا اور اس کی دریافتیں ۱۹ ویں صدی سے قبل نہیں ہوتیں تو اس سے سائنس کی ترقی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا؛ لیکن اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ لیو ونہاک ہی نے جرثوموں کو دریافت کیا اور یہ اس کے تیار کردہ عدسے ہی تھے جن سے سائنس کی دنیا ان خرد حیاتیوں کی دنیا سے باخبر ہوئی۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ لیو ونہاک نے اتنی اہم سائنسی دریافت محض اتفاق سے کر لی مگر یہ بات درست نہیں۔

لیو ونہاک کی جرثوموں کی دریافت کا سبب وہ شان دار خردبینیں تھیں جو اس نے شدید محنت کے بعد تیار کیں اور بعد ازاں وہ تحمل اور درستگی جس سے اس نے اشیاء کا مشاہدہ کیا۔

با الفاظ دیگر لیو ونہاک کی دریافت ان تھک محنت اور مہارت کا نتیجہ تھی جس کا کسی اتفاق سے دور کا بھی تعلق نہیں اور بلاشبہ جرثوموں کی دریافت ان عظیم ترین سائنسی دریافتوں میں ایک ہے جس کا سہرا کسی فردواحد (لہو ونہاک) کے سر دیا جا سکتا ہے۔

لیو ونہاک نے ہمیشہ تنہا کام کیا۔

اس نے یک خلوی طفیلیوں اور بیکٹیریا کو بلاتوقع دریافت کیا اور یہ دریافت علمِ حیاتیات کی متعدد دیگر دریافتوں کی طرح کسی بھی لحاظ سے سابقہ حاصل معلومات کا نتیجہ نہیں ہے۔

لیو ونہاک کی اس کی اس دریافت کے بتدریج اطلاق کی اہمیت کے ساتھ یہ ہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے اسے اس کتاب میں بلند مقام پر جگہ دی گئی ہے۔