Archytas of Tarentum Urdu

ارخیتاس کے ڈھائی ہزار سال قدیم مشینی کبوتر

ارخیتاس ایک یونانی فلسفی تھا جو 428 بی سی میں پیدا ہوا۔ ارخیتاس کی جائے پیدائش موجودہ جنوبی اٹلی ہے جو اُس وقت تارینتم نامی ایک عظیم الشان شہر تھا۔ ارخیتاس محض لفاظی کرنے والا فلسفی ہی نہیں بلکہ ایک ماہر ریاضی دان، ماہر فلکیات، سیاست دان اور تذویراتی پالیسی ساز بھی تھا۔ مگر ان سے قطع نظر ارخیتاس کی اصل وجہ شہرت وہ خود بہ خود اڑنے والی مشینیں ہیں جنہیں ’اڑن کبوتر‘ کہا جاتا ہے۔ ارخیتاس جوانی میں فیثاغورث کے نظریات سے متاثر تھا اور اس کا خیال تھا کہ صرف ارتھ میٹکس ہی کسی شے کی حقیقت کے بارے میں حتمی ثبوت فراہم کر سکتا ہے اور یہ کہ اس ذیل میں جیومیٹری قطعاً کار گر نہیں۔ چناں چہ ارخیتاس کی نگاہ میں ہر چیز حساب کے گرد گھومتی تھی۔ ارخیتاس نے حساب کو مزید چار شاخوں میں تقسیم کیا: جیومیٹری، ارتھ میٹکس، فلک شناسی اور موسیقی۔ ارخیتاس کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ متواتر سات سال تک اپنے شہر کا کمانڈر انچیف رہا جب کہ ملکی قانون کی رو سے کسی شخص کے پاس یہ عہدہ ایک سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ارخیتاس ہی وہ ریاضی دان ہے جس نے ریاضیاتی میکانیات کی بنیاد رکھی اور تاریخ میں امکانی طور پر پہلی بار خود کار مگر بے قاعدہ طور پر اڑنے والی مشینیں ایجاد کیں جنہیں ’اڑن کبوتر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اڑن کبوتر یا فلائنگ روبوٹس بھاپ کی طاقت سے کام کرتے تھے اور بلا شبہ اپنے دور سے بہت آگے کی ایجاد تھے۔ انہیں ’کبوتر‘ اس لیے کہا گیا کیوں کہ ان کی ساخت تکونی اور کبوتر سے مشابہہ تھی جنہیں اڑتے دیکھ کر کسی محو پرواز پرندے کا گمان ہوتا تھا۔ ان روبوٹس کو لکڑی سے بنایا گیا تھا جنہیں بجا طور پر پرندوں کے طرز پرواز کا پہلا سائنسی مطالعہ بھی کہا جا سکتا ہے۔


حیرت انگیز طور پر ان اڑن مشینوں کا ڈیزائن انتہائی ایروڈائنامک تھا جو بھاپ کی فراہم کردہ طاقت کے تحت زیادہ سے زیادہ ممکن رفتار کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے میں مکمل طور پر معاون تھا اور یہ ہی وہ پیرانارمل نکتہ ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کہ اس غیر ترقی یافتہ دور میں ارخیتاس نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا اور یہ کہ اس کی یکایک موت کے بعد یہ مشینیں اور ان کی تیاری کا علم کہاں گم کر دیا گیا – کیوں کہ ارخیتاس کی آنکھ بند ہوتے ہیں اس کے یہ روبوٹ تاریخ کے دھندلکوں میں یک لخت غائب ہو جاتے ہیں؟


ناقابلِ یقین طور پر اس روبوٹ پرندے کے ’پیٹ‘ میں ایک ہوا بند بوائلر نصب کیا گیا تھا۔ جوں جوں یہ بوائلر زیادہ سے زیادہ اسٹیم پیدا کرتا تھا اس کی طاقت سے نہایت پیچیدہ پرزے حرکت میں آ کر اڑن کبوتر کو فضاء میں بلند کر دیتے تھے۔ یہ اڑن کبوتر کئی میٹر تک اڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ 347 بی سی میں ارخیتاس ایک جہاز کے حادثے میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ اگرچہ اس بات کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی مگر ارخیتاس کی موت کے بعد بھی اس کا سائنسی کام جاری رہا اور آج بھی ارخیتاس کے ریاضیاتی اور میکانیات کے بارے میں نظریات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ارخیتاس کے فلسفیانہ اثرات کے بارے میں زیادہ علم نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ اس کے نظریات کا افلاطون اور ارسطو کی سوچ پر گہرا اثر ہے۔ ارخیتاس کی سائنسی فکر اور علمیت کے اعتراف میں چاند پر موجود ایک گڑھے کو اس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کیوں عہد جدید پر اس کی سوچ اور عملی سائنس کے اثرات کا کسی طور بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔