Aristotle | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | تیرھواں باب | ارسطو

ارسطو زمانۂ قدیم کا عظیم مفکر اور سائنس دان تھا۔ اُس نے رسمی منطق کے مطالعے کو منظّم کیا اور فلسفے کے تقریباً ہر پہلو میں علم میں اضافے کے ساتھ سائنس کے میدان میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ ارسطو کے بیش تر نظریات آج متروک ہو چکے ہیں مگر اس کے کسی بھی دیگر انفرادی نظریے سے کہیں زیادہ اہم وہ عقلی طرزِفکر ہے جو اُس کے مکتبِ فکر میں پنہاں ہے۔ ارسطو کی تحریروں میں وہ تفکّر موجود ہے کہ اُس کی روشنی میں انسانی زندگی اور معاشرے کے ہر پہلو کا درست تجزیہ اور اس پر سوچ بچار کی جا سکتی ہے۔ یہ ارسطو کا ہی نظریہ ہے کہ اِس کائنات کو اندھے اتفاقات، جادو یا متلون مزاج دیوتا نہیں چلا رہے بلکہ کائناتی رویے کی لگام عقلی قوانین کے ہاتھوں میں ہے۔ اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسانوں پر لازمی ہے کہ وہ فطری دنیا کے ہر پہلو کی با قاعدہ تحقیق کریں اور یہ کہ ہمیں چاہیے کہ ہم مبنی بر تجربات مشاہدات اور منطقی دلائل دونوں کو کسی بھی سلسلے میں نتائج اخذ کرنے کے لیے کام میں لائیں۔ ارسطو کے فلسفے نے جو روایات نوازی، اوہام پرستی اور باطنی طرز فکر کے خلاف ہے؍ مغربی تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ارسطو 384 ق م میں مقدونیہ کے قصبے اسٹاگیرا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ممتاز طبیب تھا۔ سترہ سال کی عمر میں ارسطو اکیڈیمی آف پلوٹو میں داخلہ لینے کے لیے ایتھنز گیا اور وہاں اس نے افلاطون کی موت کے کچھ عرصے بعد تک 20 سال گزارے۔ خیال جاتا ہے کہ ارسطو کو اپنے باپ سے علمِ حیاتیات اور ’عملی سائنس‘ میں دل چسپی ملی اور افلاطون نے اس کے تفکّر کو فلسفیانہ مفروضات کی جانب مہمیز دی۔ 342 ق م میں ارسطو مقدونیہ واپس آ کر وہاں اُس 13 سالہ شہزادے کا ذاتی اتالیق مقرر ہوا جسے دنیا آج سکندرِ اعظم کے نام سے جانتی ہے۔ ارسطو نے کم عمر شہزادے کو کئی سالوں تک تعلیم دی۔ 335 ق م میں سکندرِ اعظم کے تخت نشین ہونے کے بعد ارسطو ایتھنز لوٹ آیا جہاں اُس نے لائیسیم کے نام سے اپنا مدرسہ قائم کیا۔ اُس نے اگلے 12 سال ایتھنز میں گزارے جب کہ سکندرِ اعظم نے اِس دوران زبردست فتوحات کیں۔ سکندرِ اعظم نے اپنے سابقہ اتالیق سے اس معاملے میں مشورہ نہیں لیا مگر اُس نے ارسطو کو تحقیق کے لیے زبردست امداد ضرور فراہم کی۔ غالباً یہ تاریخِ عالم میں اولین مثال ہے کہ ایک سائنس دان کو حکومت کی طرف سے تحقیق کے لیے خطیر رقم عطا کی گئی ہو اور ایسا دوبارہ آئندہ آنے والی کئی صدیوں تک ممکن نہیں ہوا۔ اِس سب کے  باوجود سکندرِ اعظم سے تعلقات خطرے کی گھنٹی تھے۔ ارسطو نے اصولی طور پر سکندرِ اعظم کی آمرانہ طرزِفکر کی مخالفت کی اور جب سکندر نے ارسطو کے بھتیجے کو محض غداری کے شبہے میں موت کے گھاٹ اتار دیا تو ایسا لگتا تھا کہ وہ شاید ارسطو کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ اگرچہ ارسطو کا مزاج سکندر کے مقابلے میں جمہوری تھا مگر پھر بھی وہ سکندر سے اتنا قریب تھا کہ ایتھنز کے شہری اس پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ 323 ق م میں سکندرِ اعظم کے مرنے کے بعد مقدونیہ کے مخالف دھڑے نے ایتھنز میں کنٹرول حاصل کر لیا اور ارسطو پر ’الحاد و گناہ‘ کا الزام لگایا۔ ارسطو نے 76 سال قبل سقراط کے انجام سے ’نصیحت‘ حاصل کی اور شہر سے فرار ہو گیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ میں ایتھنز کے شہریوں کو فلسفے کے خلاف ایک اور گناہ کرنے کا موقع نہیں دوں گا۔ 322 ق م میں ارسطو زندگی کے 62 سال دیکھنے کے بعد جلاوطنی کے دوران دنیائے فانی سے رخصت ہوا۔ ارسطو کی تصنایف کی تعداد ناقابلِ یقین ہے۔ اُس کی 47 کتابیں ابھی بھی موجود ہیں اور قدیم ترین فہرستوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی تحریروں کی تعداد کسی صورت 170 سے کم نہیں تھی تاہم یہ اُس کی کتابوں کی تعداد نہیں بلکہ اس کی وسیع ترین علمیت ہے جو نہایت حیران کن ہے۔ اُس کی سائنسی تحریریں ایک انسائیکلو پیڈیا سے کم نہیں جو اُس دور کی سائنسی معلومات سے لبریز ہے۔ ارسطو نے علمِ فلکیات، علمِ حیوانات، علمِ تولید، جغرافیہ، ارضیات، علم الابدان اور علمِ افعالِ اعضاء سمیت آگاہی کے ہر اس پہلو پر قلم اٹھایا جو اُس وقت قدیم یونانیوں کے احاطۂ علم میں تھا۔ ارسطو کی سائنسی تصانیف کسی حد تک اُن معلومات پر مشتمل ہیں جن سے لوگ واقف تھے، کسی حد تک اُس معلومات پر جن پر تحقیق کے لیے اُس نے معاونین مقرر کیے تھے اور کسی حد تک خود اس کے ذاتی مشاہدات کے نتائج پر۔ سائنس کے ہر میدان میں ایک ماہر کی حیثیت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور مسقبل میں بھی شاید ہی کوئی ایسا کر پائے مگر ارسطو نے اس سے بھی آگے بڑھ کر  کارنامہ انجام دیا۔ وہ ایک حقیقی فلاسفر تھا جس نے مفروضاتی فلسفے کے ہر پہلو میں علمی کردار ادا کیا۔ اس نے اخلاقیات اور ما بعدالطبیعات پر اپنے خیالات قلم بند کیے، فزکس اور معاشیات پر تصانیف کیں اور الہٰیات، سیاست، خطابت اور جمالیات پر لکھا مگر صرف یہ ہی نہیں بلکہ ارسطو نے تعلیم، شاعری، بربری روایات اور ایتھنز کے آئین پر بھی خامہ فرسائی کی۔ اُس کا ایک تحقیقاتی پروجیکٹ مختلف ریاستوں کے آئینوں پر مبنی ہے جہاں اُس نے اُن کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ غالباً ارسطو کا سب سے اہم کام منطق کا نظریہ ہے اور ارسطو کو فلسفے کی اس اہم ترین شاخ کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بے شک یہ اس کے ذہن کی منطقی طرزِفکر ہی تھی جس نے اسے مُتَنَوِّع موضوعات پر مہارت حاصل کرنے میں مدد دی۔ اُسے فکر کی تنظیم سازی میں درک حاصل تھا اور اُس کی پیش کردہ وضاحتوں اور تشکیل کردہ درجہ بندیوں نے بعد ازاں علم کے دیگر میدانوں کے لیے اساسی مواد فراہم کیا۔ ارسطو اپنی طرزِفکر میں باطنی تھا اور نہ ہی شدت پسند بلکہ اس نے ہمیشہ عملی عام فہم کی بات کی۔ بے شک اس سے غلطیاں بھی ہوئیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی تصانیف میں مضحکہ خیز غلطیوں تعداد بہت کم ہے۔  ارسطو کا بعد ازاں تمام مغربی تہذیب پر اثر نہایت گہرا ہے۔ زمانہ قدیم اور ازمنہ وسطٰی میں اُس کی تصانیف کے لاطینی، سریانی، عربی، اطالوی، فرانسیسی، عبرانی، جرمن اور انگریزی زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ بعد کے آنے والے یونانی مصنفین نے اس کی تحاریر کو سراہا اور بازنطینی فلاسفہ بھی اس کے مداحوں میں شامل تھے۔ ارسطو کے نظریات کا اسلامی فلسفہ پر بھی گہرا اثر ہے اور صدیوں تک اس کے خیالات نے یورپی فکر پر حکم رانی کی ہے۔ معروف عربی مفکر ابنِ رشد نے اسلامی الہٰیات اور ارسطو کی عقلیت پسندی کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ازمنہ وسطٰی کے پُراثرترین یہودی مفکّر میمونائڈس نے بھی یہودیت اور ارسطو کے خیالات کو باہم ملانے کی کوشش کی لیکن ان دو میں سب سے اہم ترین کام مسیحی عالم سینٹ تھامس اکونیئس کا ہے جس نے ’سما تھیولوجیکا‘ تحریر کی۔ ارسطو سے ازمنہ وسطٰی کے اتنے عالم متاثر تھے کہ اُن کی فہرست پیش کرنا مشکل ہے۔ ارسطو کا اثر ایک موقع پر اس درجے کو پہنچ گیا کہ اسے ایک دیوتا کی شکل دے دی گئی اور لوگوں نے اُس کی نظریات کی روشنی سے رہ نمائی حاصل کرنے کے بجائے اُن کی تحقیق کو گناہ سمجھنا شروع کر دیا۔ ارسطو بذات خود سوچنا اور مشاہدہ کرنا پسند کرتا تھا اور یقیناً اگر اسے علم ہوتا تو اس نے اپنے تصورات کی اندھی پرستش کا شدت سے انکار کیا ہوتا۔ موجودہ دور میں ارسطو کے بعض تصورات قطعی قدامت پسندانہ دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے غلامی کو فطری قانون قرار دے کر اس کی حمایت کی جب کہ وہ عورتوں کی فطری کم تری کا بھی قائل تھا۔ اس کے یہ دونوں تصورات اس دور میں رائج خیالات کے عکاس ہیں تاہم ارسطو کے بعض نظریات حیران کن حد تک جدید ہیں مثلاً ’غربت انقلاب اور جرم کی ماں ہے‘ یا ’وہ تمام لوگ جنہوں نے لوگوں پر حکومت کرنے کے فن کا مطالعہ کیا ہے قائل ہیں کہ سلطنتوں کی تقدیر کی عنان تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے‘۔ بلاشبہ ارسطو کے دور میں عوامی تعلیم وتربیت کا کوئی نظام نہیں تھا۔ حالیہ صدیوں میں ارسطو کے اثرات اور شہرت میں نمایاں کمی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود میرے خیال میں اس کا اثر اتنا وسیع البنیاد تھا اور اتنے طویل عرصے تک بر قرار رہا کہ مجھے افسسوس ہے کہ میں اِس کتاب میں اُس کا تذکرہ اوپر کے درجوں میں نہیں کر سکا گوکہ اس کتاب میں اُس کے موجودہ درجے کا تعیّن اُس سے قبل آنے والی 12 اہم ترین شخصیات کے غیر معمولی اہمیت نے کیا ہے۔