Atomic Theory Perceived In India 250 Years Ago In Urdu

’ایٹمی نظریہ ڈھائی صدی پہلے بھارت نےسمجھا‘

اگرچہ جان ڈالٹن (1766 – 1844) وہ برطانوی کیمیاء داں اور ماہر علم طبعیات ہے جسے ہم آج ایٹمی نظریے کی تشکیل کا بانی تصور کرتے ہیں مگر ایٹم کے بارے میں ایک ایسی دوسری ’تھیوری‘ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ڈالٹن سے قریب ڈھائی ہزار سال قبل بھارت میں اچاریہ کانڈ نامی ایک فلاسفر نے پیش کیا- اچاریہ کانڈ کی پیدائش بھارت کے موجودہ شہر گجرات میں 600 قبل مسیح میں ہوئی جب کہ ان کا اصل نام کیشپ بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیشپ ایک روز مذہبی زیارت کے لیے پریاگ جا رہے تھے جب ان کی نظر راستے میں ہزاروں دیگر زائرین پر پڑی جو گلیوں میں اناج کے دانے اور پھول چڑھاوے کے طور پر بکھیر رہے تھے۔ کیشپ نے یکایک حیران ہو کر چاول کے دانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور انہیں ایسا کرتے دیکھ کر ان کے چاروں طرف لوگوں کی ایک بھیڑ جمع ہو گئی کیوں کہ اس سے پہلے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا گیا تھا۔ کیشپ نے اس سوال کے جواب میں کہ وہ چاول کے ان دانوں کو کیوں اٹھا رہے ہیں جنہیں وہاں فقیر بھی ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتے جواب دیا کہ اگرچہ چاول کے چند دانے کوئی حقیقت نہیں رکھتے تاہم انہیں اکٹھا کیا جائے تو ان سے ایک پورے گھرانے کا بلکہ بہت زیادہ جمع کرنے پر پورے شہر کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ کیشپ نے اپنے اس تصور پر غیبی دنیا کے تناظر میں سوچ و بچار جاری رکھی اور بلآخر وہ مادے کے ناقابل تقسیم ذرے کے خیال تک پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنے خیال کو تحریر میں لانے کے بعد اس کی تعلیم دینا شروع کی جس کی وجہ سے لوگوں نے انہیں ’اچاریہ‘ یعنی ٹیچر کہنا شروع کر دیا۔


خیال رہے کہ ٹیچر کی اصل موجودہ ہندی کی ماں یعنی پروٹو انڈو یورپیئن زبان ہی ہے


کانڈ مادے کے چھوٹے ذروں کو کہتے ہیں اس لیے اس پورے نام سے مراد ’ناقابل تقسیم ذروں کی تعلیم دینے والا‘ تھی۔ کیشپ ایک دن اپنے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا لیے اسے مسلسل چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرتے کہیں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں اندازہ ہوا کہ وہ ایک خاص حد کے بعد روٹی کے ٹکڑوں کو مزید توڑنے پر قادر نہیں ہیں۔ یہ ہی وہ لمحہ تھا جب کیشپ نے مادے کے بارے میں نظریہ سمجھا کہ اسے ایک خاص حد کے بعد مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس نا قابل تقسیم ذرے کو پرمانو یا انو کہا جس سے مراد ایٹم ہے۔ کیشپ کے نظریے کے مطابق انسان اپنی کسی بھی حس سے اس نا قابل تقسیم اور پوشیدہ ذرے کا ادراک نہیں کر سکتا اور یہ کہ یہ ذرے کسی مورثی طاقت کے تحت ایک دوسرے سے باہم جڑتے ہیں۔ کیشپ کے مطابق جب پرمانو جن کا تعلق ایک ہی قسم کے مادے سے ہو آپس میں ملتے ہیں تو بائنری مالیکیول پیدا ہوتا ہے جس میں اپنے ’پیرینٹ‘ پرمانوؤں کی تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ کیشپ نے اپنے نظریے کی مزید وضاحت میں لکھا کہ مختلف قسم کے پرمانو مل کر مختلف قسم کے مادے تخلیق کرتے ہیں۔ کیشپ کے مطابق مختلف طریقوں سے دو پرمانو یا ایٹم کو باہم جوڑ کر حرارت کی موجودگی میں کیمیائی تبدیلیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کیشپ نے اپنے اس نظریے کی تائید میں پکانے کے برتنوں کے تلے سیاہ ہوجانے اور پھلوں کے پکنے کے عمل کی مثال دی۔ بعد ازاں اس فلاسفر نے ویشیشیکا نامی فلسفہ کا ایک مکتب قائم کیا جہاں ایٹم اور کائنات کی ماہیت کی بابت تعلیم دی جاتی تھی۔ انہوں نے وشیشک درشن نامی ایک کتاب بھی لکھی اور تاریخ میں ’ایٹمی نظریے کے خالق‘ کے نام سے جانے گئے۔ دنیائے مغرب میں ایٹم کے بارے میں تصورات 5 صدی قبل مسیح میں قدیم یونانی فلاسفہ کے توسط سے سامنے آئے۔ یہ سوال تاحال جواب کا منتظر ہے کہ آیا کہ قدیم بھارت نے یونانیوں کا اثر قبول کیا یا صورت حال اس کے برعکس تھی یا پھر علم کا ارتقاء ان دونوں دنیاؤں میں ایک ساتھ مگر جداگانہ طور پر ہوا۔ اچاریہ کانڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لکھا ہے – ’ کائنات میں ہر جسم ایٹموں سے مل کر بنا ہے جو (ایٹم) ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مالیکولز تشکیل دیتے ہیں۔‘ اگرچہ اچاریہ کا ایٹمی نظریہ واضح نہیں بلکہ مجہول ہے جس پر فلسفے کا رنگ غالب ہے کیوں کہ اس کی بنیاد منطق پر ہے نہ کہ ذاتی تجربے یا سائنسی مشاہدات پر؛ مگر آسٹریلییا سے تعلق رکھنے والے بھارتی تہذیب کے ماہر اے ایل بشم کے الفاظ میں ’اچاریہ نے نہایت ذہانت سے دنیا کے مادی ڈھانچے کی تصوراتی وضاحت پیش کی جو بڑے پیمانے پر جدید طبیعات کے قوانین سے ہم آہنگ ہے۔‘