Augustus Caesar | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | اٹھارہواں باب | اگسٹس سیزر

 سلطنت روما کا بانی اگسٹس سیزر تاریخ کے صفحات میں زندۂ جاوید شخصیت ہے جس کی اہمیت سے گریز ممکن نہیں کیوں کہ بطورِخاص سیزر نے اُس خانہ جنگی کا خاتمہ کیا جس نے رومن جمہوریہ کو پہلی صدی عیسوی میں شدید تر خلفشار سے دوچار کر دیا تھا۔

سیزر نے رومن حکومت کو اس طرح منظّم کیا کہ وہاں دو صدیوں تک داخلی امن اور خوش حالی کا دور دورہ رہا۔ اگسٹس سیزر کا نام گائس اوکٹیوس تھا جس نے 63 ق م  میں آنکھ کھولی تاہم اُسے زیادہ تر اوکٹیویئس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اوکٹیویئس نے 35 سال کی عمر میں ’اگسٹس‘ کا خطاب اختیار کیا۔ اوکٹیویئس جولیس سیزر کا رشتے کے لحاظ سے پڑپوتا تھا جس کا شمار اگسٹس کے دورِجوانی میں روم کی ممتاز سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ جولیس سیزر –  جس کا اپنا کوئی جائز بیٹا نہیں تھا – اوکٹیویئس کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس ہی نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے لیے اوکٹیویئس کی رہ نمائی کی۔ چوالیس سال کی عمر میں جولیس کی موت کے وقت اوکٹیویئس کی عمر صرف 18 سال تھی اور وہ محض ایک طالبِ علم تھا۔ سیزر کی موت کے بعد رومن فوج اور سیاسی رہ نماؤں کے درمیان اقتدار پر قبضے کے لیے ایک طویل اور خون ریز کشمکش شروع ہو گئی۔ ابتدا میں سیزر کے مخالفین نے جن کے پاس تلخ رومی سیاست کا گہرا تجربہ تھا نوجوان اوکٹیویئس کو اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کیا۔ درحقیقت اس وقت اوکٹیویئس کا واحد سیاسی اثاثہ یہ تھا کہ وہ جولیس سیزر کا منہ بولا بیٹا تھا مگر اس کے باوجود اوکٹیویئس نے اپنی اسی اہمیت کا نہایت مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیزر کی فوج کے کچھ حصے کی حمایت اپنے نام کر لی تاہم سیزر کی فوج کے زیادہ تر دستوں نے مارک انٹونی کی حمایت کا فیصلہ کیا جو سیزر کے نہایت قریبی معتمدین میں سے ایک تھا۔ اگلے چند سالوں میں جنگوں کے سلسلے نے حصولِ اقتدار کے خواہش مند دیگر افراد کا یکے بعد دیگرے خاتمہ کر دیا اور 36 ق م تک روم اور اس کے فتح شدہ بیش تر علاقے مارک انٹونی اور اوکٹیویئس کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ اُس وقت روم کے مشرقی حصے پر انٹونی کا قبضہ تھا جب کہ مغربی حصہ اوکٹیویئس کے ہاتھوں میں تھا۔ آئندہ کچھ سالوں تک ان دونوں کے مابین ایک تناؤ آمیز صلح کی کیفیت رہی مگر اصل بات یہ تھی کہ اُن دنوں انٹونی قلوپیطرہ کے عشق میں بری طرح گم تھا جب کہ اوکٹیویئس مسلسل اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا تھا۔ 32 ق م میں ان دونوں کے درمیان جنگ پھوٹ پڑی جس کا فیصلہ 31 ق م میں آکٹیم کے مقام پر ہونے والی عظیم بحری جنگ نے کیا جہاں اوکٹیویئس کی فوجوں نے حتمی فتح حاصل کی چناں چہ اسی سال ملک میں جنگ کا خاتمہ ہو گیا جب کہ انٹونی اور قلوپیطرہ دونوں نے خودکشی کر لی۔ اس وقت اوکٹیویئس کی بالحاظ طاقت وہی حیثیت تھی جو اس سے 15 سال قبل جولیس سیزر کے پاس تھی۔ جولیس سیزر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ محسوس ہوتا تھا وہ روم میں جمہوری حکومت کا خاتمہ کرنے کے درپے ہو کر خود کو شہنشاہ کا درجہ دینا چاہتا تھا؛ مگر 30 ق م میں خانہ جنگی اور روم میں جمہوری حکومت کی واضح ناکامی کے بعد رومیوں کی اکثریت ممکنہ حد تک جمہوریت کے لبادے میں ایک نرم دل آمر کی خواہاں تھی۔ چناں چہ اوکٹیویئس جس نے دوران جنگ حد درجہ بے رحمی کا مظاہرہ کیا تھا حیرت انگیز طور پر اقتدار سنبھالتے ہی ایک نرم خو شخص کے روپ میں تبدیل ہو گیا۔ 27 ق م میں سینٹ کے جذبات کا بھرم رکھنے کے لیے اس نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے اعلان کے ساتھ حکومتی عہدوں سے اپنے استعفے کی پیش کش بھی کی؛ مگر اس نے اسپین، گاؤل اور شام کے صوبوں کے حاکم کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھی۔ چوں کہ رومی فوجی دستوں کی اکثریت انہیں تین صوبوں میں موجود تھی اس لیے اقتدار کی اصل باگ ڈور دراصل اسی کے ہاتھ میں تھی۔ سینٹ نے اسے ووٹ ک ذریعے ’اگسٹس‘ کا اعزازی خطاب دیا؛ مگر اوکٹیویئس نے کبھی بھی اپنے لیے ’شاہ‘ کا لقب استعمال نہیں کیا۔ بالحاظِ نظریہ روم ابھی بھی ایک جمہوریہ تھا اور اگسٹس کی حیثیت امتیازی ترین شخص سے بڑھ کر کچھ نہیں تھی؛ مگر عملی طور پر ممنون اور بے دانت کے سینٹ نے اگسٹس کو اختیار دیا ہوا تھا  کہ وہ حسبِ خواہش کوئی بھی عہدہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے چناں اگسٹس نے اپنی بقیہ زندگی ایک آمر کے طور پر گزاری۔ 14ء میں اس کی موت کے وقت روم مکمل طور پر جمہوریت سے شہنشاہیت میں تبدیل ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں اگسٹس کا لے پالک بیٹا بہت آسانی سے تخت نشین ہو گیا۔ تاریخ کے صفحات میں اگسٹس ایک اہل اور مہربان آمر کی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک سچّا ماہرِحکومت تھا جس کی صلح جویانہ حکمت عملیوں نے روم میں خانہ جنگیوں کے بعد پیدا ہونے والی گہری دراڑوں کو پُر کرنے میں اولین کردار ادا کیا۔ اگسٹس نے 40 سال روم پر حکم رانی کی اور اس کے تصورات نے آئندہ آنے والے کئی سالوں تک وہاں اپنا اثر برقرار رکھا۔ اگسٹس کے دور میں رومی فوجوں نے اسپین، سوئٹذرلیںڈ، ایشائے کوچک میں گلاشیا اور بلقان کے وسیع حصے کو مکمل طور پر فتح کر لیا۔ اگسٹس کے دور کے خاتمے کے وقت سلطنت کی شمالی سرحد رائن ڈینیوب سلسلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی جو آئندہ کچھ صدیوں کے لیے روم کی شمالی سرحد بننے والا تھا۔ اگسٹس غیر معمولی لیاقت کا حامل منتظم تھا جس نے ایک اہل سول سروس تشکیل دینے میں ممتاز کردار ادا کیا۔ اس نے ٹیکس کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دیا اور سلطنت کے معاشی نظام کو بہتر بنایا۔ اس نے فوج کو منظّم کیا اور ایک مستقل بحری طاقت کی بنیاد بھی رکھی۔ اگسٹس نے ’پریٹورین گارڈ‘ کے نام سے ایک محافظ دستہ ترتیب دیا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک شہنشاہوں کے انتخاب اور معزولی میں اہم ترین کردار ادا کرنا تھا۔ اگسٹس نے اپنے دور حکومت میں سلطنت بھر میں سڑکوں کا بہترین نظام بنوایا؛ کئی سرکاری عمارتیں خود روم میں تعمیر کی گئیں اور شہر کو بہترین طریقے سے سجایا سنوارا  گیا۔ اسی دوران متعدد معبّد بھی تعمیر ہوئے اور اگسٹس نے قدیم رومی مذہب کے ساتھ  وابستگی اور اطاعت کی حوصلہ افزائی کی۔ شادیوں اور بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے قوانین بنائے گئے۔ اگسٹس کے دور میں روم میں کلّی طور پر داخلی امن و امان کا دور دورہ تھا جس کا نتیجہ وہاں ناقابلِ فراموش خوش حالی کی شکل میں ظاہر ہوا جس سے وہاں فنون اور فن کاروں کی ترویج و فروغ کا دروازہ اس طرح  کھلا کہ اگسٹس کا دورِحکومت تاریخ کے صفحات میں رومن ادب کا سنہری دور بن گیا۔ چناں چہ یہ وہ ہی وقت تھا جب وہاں روم کے عظیم شاعر ورجل نے سانس لی اور ہوریس اور لیوی جیسے متعدد عظیم قلم نگار پیدا ہوئے تاہم اووِڈ نے اگسٹس کی ناراضگی مول لی اور جلا وطنی کے عذاب سے گزرا۔ اگسٹس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ چناں چہ اس نے اپنے ایک بھتیجے اور دو نواسوں کی موت کے بعد اپنے سوتیلے بیٹے ٹیبیرس کو گود لے کر اپنا جانشین مقرر کر دیا؛ مگر اس کی شہنشاہیت کا جلد ہی خاتمہ ہوا جس میں آگے چل کر نیرو اور کالیگولا جیسے بدنامِ زمانہ لوگ بھی روم پر حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئے؛ تاہم پھر بھی ’پیکس رومانا‘ یعنی داخلی امن کا وہ دور جس کی بنیاد اگسٹس نے رکھی تھی دو صدیوں تک جاری رہا۔ امن اور خوش حالی کے اس طویل دور میں روم کے مفتوح علاقوں میں رومی تہذیب کی جڑیں بہت گہری اتر گئیں۔ سلطنتِ روما درست طور پر عہدِرفتہ کی سب سے معروف اور ممتاز سلطنت ہے کیوں کہ روم قدیم تہذیب کے کمال کا نام اور اُس بنیادی سرچشمے کا دھارا ہے جہاں سے عہدِرفتہ مثلاً مصر، بابل، یونان اور دیگر علاقوں کے ثقافتی شاہ کار مغربی یورپ تک منتقل ہوئے۔ اگسٹس کا جولیس سیزر سے موازنہ بہت دل چسپ ہے۔ اگسٹس بہترین خدوخال، ذہانت، کردار کی مضبوطی اور فوجی فتوحات کے  باوجود جولیس سیزر کی کرشماتی شخصیت سے محروم تھا۔ جولیس سیزر نے اپنے ہم عصروں کی بصیرت کو اگسٹس سے زیادہ جِلا دی اور یہ ہی امر اُس کی تاحال شہرت کا ایک دیگر سبب بھی ہے؛ تاہم تاریخ کے دھارے پر اصل اثرات چھوڑنے والی شخصیت اگسٹس ہی کی ہے۔ اگسٹس کا سکندرِاعظم سے موازنہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں۔ ان دونوں نے اپنا سیاسی سفر عین جوانی کی عالم میں شروع کیا مگر اگسٹس کو اپنے بلند مقام کے حصول میں سکندر سے زیادہ مسابقت جھیلنا پڑی۔ اگسٹس کی فوجی فتوحات سکندرِاعظم کی طرح شان دار نہیں مگر وہ قطعی متاثر کن اور بہت زیادہ دیرپا ہیں اور یہ ہی خط ان دونوں کے درمیان اصل خطِ امتیاز ہے۔ اگسٹس نے مستقبل کے لیے نہایت احتیاط سے تیاری کی اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس کا انسانیت پر وسیع البنیاد اثر کہیں زیادہ ہے۔ اگسٹس کا جارج واشنگٹن سے بھی موازنہ کیا جا سکتا ہے کیوں ان دونوں نے تاریخ کے صفحات پر کم و بیش یکساں اور اہم ترین کردار ادا کیا ہے؛ ت ہم  اگسٹس کے دورِاقتدار کی طوالت، اس کی حکمتِ عملیوں کی کام یابیاں اور تاریخِ عالم میں سلطنتِ روما کی اہمیت کے پیش نظر میرے خیال میں اسے اس کتاب میں اُن دونوں سے بلند درجہ ہی ملنا چاہیے تھا۔