ماسک لگا کر ورزش نہ کریں، ماہرین کا سخت تر انتباہ

باقاعدگی سے جسمانی ورزش انسان کی صحت اور اس کے مدافعتی نظام کے لیے بہت ضروری ہے۔ جسمانی مدافعتی نظام جتنا مضبوط ہو گا، انفیکشن یا بیمار ہونے کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ کووڈ انیس کی ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہو سکی۔ چونکہ کہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے، اس لیے کھیلوں اور ورزش سے کورونا وائرس سے ممکنہ تحفظ میں فیصلہ کن مدد مل سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی بالغ افراد کو ہر ہفتے ڈھائی گھنٹے سے پانچ گھنٹے تک ورزش کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ فشار خون اور دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، سرطان اور ذہنی دباؤ جیسی بیماریوں سے بچا جا سکے۔

پروفیسر یوناس شمٹ نے اس تناظر میں ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ مشورے کورونا کے اس دور میں بھی کار آمد ہیں، ”ورزش صحت کے لیے ضروری ہے اور آج کل بھی۔‘‘ ان کے بقول گھر پر بیٹھے افراد اگر سپورٹس نہیں کریں گے، تو اعصابی دباؤ کی وجہ سےانہیں دل کا دورہ پڑ سکتا ہے یا فالج کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔

پروفیسر یوناس شمٹ مزید کہتے ہیں، ”اگر کوئی تنہا کسی پارک میں جوگنگ یا چہل قدمی کر رہا ہوتو اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں اگر بہت زیادہ لوگ ایک ہی جگہ بہت دیر تک جمع ہوں، تو یہ خطرے کی بات ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک خاص فاصلہ رکھ کر برابر سے گزرنے میں بھی کوئی پریشانی نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ منہ پر ماسک پہن کر ورزش نہ کی جائے۔