Baba Bundle Shah Cheque Waley
نایاب ترین عملیات - ستمبر 24, 2019

موسیقار نوشاد لکھنوی اور بابا بنڈل شاہ چیک والے

بھارتی سینما کے معروف موسیقار نوشاد علی لکھنوی کے نام سے کون واقف نہیں۔ نوشاد نے ایک خود نوشت کے انداز میں اپنی زندگی کا ناقابل یقین مگر آنکھوں دیکھا حیرت انگیز واقعہ بیان کیا ہے۔ اس واقعے کو نوشاد ہی کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ نوشاد لکھتے ہیں کہ میری ایک بزرگ سے ملاقات تھی۔ فقیری اختیار کرنے سے قبل یہ بزرگ مدراس سیشن عدالت کے جج تھے۔ بمبئی کے لوگ انہیں سائیں بنڈل شاہ بابا کہتے تھے۔ بابا کا طریقہ بھی بڑا نرالا تھا۔ یہ رسّی کا بہت بڑا بنڈل بناتے تھے۔ ہمہ وقت اسے کھولتے اور لپیٹتے رہتے تھے۔ اسی لئے لوگ انہیں بنڈل شاہ بابا کہنے لگے تھے۔ ایک طرح یہ بابا کی تسبیح تھی۔ بابا کے اصل نام سے کوئی واقف نہ تھا۔ یہ انگریزی زبان کے ماہر تھے یہاں تک کہ عربی کی کوئی آیت بھی لکھتے تو رومن حروف میں۔ زبردست روشن ضمیر تھے اور اکثر مجذوبی کیفیت میں رہتے تھے۔ بابا کے پاس کوئی مریض آتا تو اسے اکثر سنگترہ کھانے کی تلقین کرتے۔ ایک دن ان کے ایک مرید سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ سنگترہ کھانے سے مراد دراصل ناگپور میں بابا تاج الدین ؒ کی قبر کی زیارت ہے۔ بابا بنڈل شاہ بابا تاج الدین ناگپوری ؒ کے مرید تھے۔ بابا سے اگر کوئی شخص مالی پریشانیوں کا تذکرہ کرتا تو یہ ایک سادہ کاغذ پر چیک کی طرح رقم لکھ کر دیتے تھے اور خدا کی قدرت دیکھیے اس شخص کو اتنی ہی رقم کہیں نہ کہیں سے ضرور مل جاتی۔ ایک روز میں بابا کو میاں کاردار سے ملانے کے لیے لے گیا۔ کاردار ان دنوں مالی اور ذہنی مشکلات میں مبتلا تھے۔ کاردار اسٹوڈیو میں ایک فلم کی ایڈیٹنگ میں مصروف تھے۔ بابا کو میں نے کچھ نہیں بتایا تھا کہ میں انہیں کہاں لے جا رہا ہوں۔ جب وہ اسٹوڈیو کے ایڈیٹنگ روم میں داخل ہوئے تو مجھ سے پوچھا یہاں کیا کام ہوتا ہے؟ میں نے جواب دیا بابا یہاں فوٹو کھینچے جاتے ہیں۔ بابا بضد ہوگئے کہ میرا فوٹو بھی کھینچو۔ خیر کمپنی کے فوٹو گرافر کو بلوا کر ان کی تصویر بنوائی گئی۔ بابا کی اب یہ ضد کہ میرا فوٹو ابھی دکھاؤ۔ بابا کو بہت سمجھایا کہ تصویر بننے میں وقت لگے گا مگر ان کی ضد اور حکم کو دیکھتے ہوئے فوراً تصویر بنواکر ان کو پیش کی گئی۔ بابا نے اپنا فوٹو دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے ان کو کچھ دینا چاہیے۔ ان کے مرید نے کہا بابا ان کو چیک دے دیجیے ۔میں نے میاں کاردار کی طرف اشارہ کرکے ان سے کہا بابا فوٹو کی یہ دکان ان کی ہے۔ کاردار ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ میں نے ان سے کہا بابا آپ کو جو کچھ بھی دیں اسے احترام کے ساتھ قبول کر لیجیے گا۔ بابا نے کاغذ منگوایا اور لکھا Pay to him Rupees 25 Lakh یعنی انہیں 25 لاکھ روپے دے دیے جائیں اور اس کے نیچے اپنے دست خط کردییے۔ میاں کاردار نے یہ چیک قبول کیا۔ میں نے ان سے کہا اسے احتیاط کے ساتھ رکھیے۔ آج تک بابا نے جس کو بھی ایسا چیک دیا وہ کیش ضرور ہوا ہے۔ بہرحال کاردار نے میرے اصرار پر وہ چیک اپنے پاس رکھ تو لیا مگر اسی کے ساتھ یہ بھی کہا نوشاد صاحب اس بوڑھے نے ایک کاغذ کا ٹکڑا تھما دیا ہے آپ بھی کیا مذاق کرتے ہیں۔ مگر خدا کا کرنا دیکھیے کہ کاردار کی ایک فلم جو بہت ہی کم لاگت میں بنی تھی ریلیز ہوئی تو سپرہٹ ہوگئی اور کاردار میاں پر دولت کی بارش ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک فلم اور بنائی یہ بھی چھوٹے بجٹ سے بنائی گئی تھی مگر جب ریلیز ہوئی وہ بھی سپرہٹ ہوئی۔ ایک فلم اور بنائی اور تینوں فلمیں سلور جوبلی ثابت ہوئیں۔ اس کے بعد میں نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میاں کاردار کے آفس میں ایک تجوری تھی اور کاردار اس تجوری میں پیروں سے روپیہ ٹھونستے تھے کیوں کہ ہاتھوں کی طاقت سے یہ کام نہ ہوتا تھا ۔ اس واقعہ سے پہلے ایک ایسا ہی چیک بابا نے سنی مرحوم کو بھی دیا تھا اور ان کو ایک سائن بورڈ بھی بنا کر دیا تھا ۔اس میں ’نیوی‘،  ’آرمی‘ اور’ کمانڈر‘ جیسے الفاظ بابا نے لکھے تھے۔ سنی صاحب اور میں سمجھ نہیں پائے کہ سائن بورڈ پر جو کچھ لکھا ہے اس کا مطلب کیا ہے۔ بابا کے ایک مرید نے اس کی تشریح کی کہ آپ آزادانہ طورپر کوئی کام کریں گے اور اس کام میں آپ کی پوزیشن ایک کمانڈرکی ہوگی۔ اس کے بعد سنی مرحوم نے اپنا ادارہ قائم کیا۔ پروڈیوسر بنے اور ان کی بنائی ہوئی پہلی فلم نے کام یابی کے ریکارڈ قائم کئے۔ جس وقت بابا نے سنی مرحوم کو چیک لکھ کر دیا تو سنی صاحب نے پوچھا تھا کہ چیک میں لکھی ہوئی اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی؟ کچھ دن بعد ایک گجراتی فنانسر خود سنی صاحب کے پاس آیا اور اتنی ہی رقم لے کر آیا جتنی رقم کا چیک بابا نے سنی مرحوم کو دیا تھا۔ ایک دن میں بابا کی ہدایت اور حکم کے مطابق ان کے ساتھ ٹیکسی میں چوپاٹی جارہا تھا۔ چوپاٹی پہنچے تو بابا نے ٹیکسی ڈرائیور سے کسی اور جگہ چلنے کے لئے کہا۔ وہاں پہنچے تو تیسری جگہ جانے کو کہا۔ اس طرح صبح سے شام ہوگئی۔ آخر میں ناگ پاڑہ آئے۔ ٹیکسی میں پیٹرول بالکل ختم ہوگیا تھا۔ بابا سے کہا گیا حضرت گھر آگیا اتریے۔ بابا نے کہا میں نہیں اترتا ابھی تو مجھے اندھیری جانا ہے۔ اندھیری میں ایک ضعیف خاتون رہتی تھیں۔ بابا اکثر ان سے ملنے جاتے تھے۔ ٹیکسی ڈرائیور صبح سے شام تک بابا اور مجھ کو گھماتا رہا تھا اور اب وہ بھی جھنجھلاچکا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا آپ ٹنکی میں خود دیکھ لیجیے ایک قطرہ پیٹرول نہیں ہے۔ میں نے بھی بابا سے کہا کہ ٹیکسی سے اتر آئیں۔ دوسری ٹیکسی سے اندھیری جائیں گے۔ کہنے لگے نہیں گاڑی چلے گی، گاڑی چلے گی۔ اس تکرار کے بعد بابا نے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کہا پیٹرول بھرگیا ڈرائیور سے کہو گاڑی چلائے۔ میں نے ٹیکسی والے سے کہا بھائی تم گاڑی اسٹارٹ کرو اگر نہیں چلے گی تو بابا کو اتارلیں گے۔ ڈرائیور نے میری طرف قہرآلو دنظروں سے دیکھا کہ یہ کیا بے وقوفی کی بات کررہا ہے اور پھر غصہ میں آکر گاڑی اسٹارٹ کی۔ گاڑی فوراً چل پڑی۔ اس نے کہا پیٹرول کے دو چار قطرے ہوں گے اس سے اسٹارٹ ہوئی ہے۔ اندھیری یہاں سے بیس میل دور ہے بغیر پیٹرول کے کہاں جائے گی؟ میں نے اس سے کہا تم چلائے جاؤ  گاڑی جہاں رکے گی ہم وہیں اترجائیں گے۔ ٹیکسی چلی اور اندھیری جا پہنچی۔ بابا حجّن بی سے ملنے گئے۔ واپس ناگ پاڑہ آئے اور ٹیکسی باقاعدگی سے چل رہی تھی۔ ٹیکسی والا جب ناگ پاڑہ واپس آیا تو وہ بابا کے قدموں میں گرگیا اور معافی مانگنے لگا۔ بار بار یہی کہتا ’بابا میں نے آپ کو پہچانا نہیں، مجھے معاف کر دو۔‘ بعد میں ہاتھ جوڑ کر بولا بابا میں سیٹھ کا دس ہزار کا مقروض ہوں۔ بابا نے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے بتایا کہ اپنی پریشانی بیان کررہا ہے کہ دس ہزار کا مقروض ہوں۔ بابا نے یہ بات سنی تو اس سے کہا کاغذ لا، کاغذ لا۔ ٹیکسی ڈرائیور نے سڑک پر پڑا ہوا ایک کاغذکا ٹکڑا اٹھاکر بابا کو دیا۔ بابا نے اس پر انگریزی میں لکھا ’دس ہزار روپے حامل رقعہ کو ادا کر دیے جائیں۔ ٹیکسی ڈرائیور غیر مسلم تھا مگر اس نے عقیدت کے ساتھ چیک لیا اور چلا گیا۔ دوسرے دن یہ ٹیکسی ڈرائیور مٹھائی، پھول اور ناریل وغیرہ لے کر بابا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے بتایا کہ اس کو دس ہزار روپے مل گئے۔ میں بابا سے اپنی پہلی ملاقات کا حال بھی بیان کرتا چلوں۔ ایک صاحب دہلی کے رہنے والے تھے۔ یہ بھی بابا کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک روز میرے پاس آئے۔ ان کا بیوی کے ساتھ معمولی سا جھگڑا ہوا تھا۔ مجھ سے پوچھا کہ بتایے کیا کروں۔ میں نے کہا۔ تمہیں اپنے بابا کے پاس جانا چاہئے۔ وہ بتائیں گے کہ تم کیا کرو۔ یہ صاحب بابا کے پاس پہنچے۔ مریدین نے ان سے کہا کہ یہ بابا کی عبادت کا وقت ہے اس وقت وہ آپ سے نہیں ملیں گے۔ یہ بضد ہوئے اور رونے پیٹنے لگے تو مریدین نے ان کو بابا کی پشت کی طرف بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ وہ خاموشی کے ساتھ بابا کے پیچھے جاکر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد پیچھے دیکھے بغیر بابا نے بولنا شروع کیا۔ وہ تیری کب رہ سکتی ہے۔ طلاق دے دے، طلاق دے دے۔ یہ صاحب اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتے تھے۔ بابا کی زبان سے طلاق کا لفظ سنا تو بھاگے بھاگے میرے پاس آئے۔ کہنے لگے غضب ہوگیا میرے سوا یہ راز کسی کو معلوم نہیں تھا کہ میری بیوی کس خاندان سے ہے مگر بابا نے تو اس کا پورا شجرہ بتادیا۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے مگر بابا اسے طلاق دینے کی بات کرتے ہیں اور میں اسے طلاق دینا نہیں چاہتا۔ دوسرے روز وہ عورت خود اپنے خاوند کو چھوڑ کر چلی گئی۔ میں نے ان صاحب کا یہ واقعہ سنا تو میں سوچتا رہا کہ میں بابا سے آج تک کیوں نہیں ملا۔ مجھے بزرگوں سے ملنے کا بچپن سے شوق تھا۔ رات کو نو بجے میں نے طے کیا کہ صبح کو بابا سے ملنے ضرور جاؤں گا۔ صبح کو میں اسٹوڈیو گیا تا کہ اپنے اسسٹنٹ غلام محمد کو بتادوں کہ تم گلوکاروں کو ریہرسل کراتے رہنا میں کچھ دیر بعد آؤں گا مگر میں جیسے ہی میوزک روم میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ میری کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی تھے ۔ان صاحب نے مجھ سے پوچھا آپ کا نام نوشاد ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ وہ صاحب کہنے لگے رات نو بجے مجھ سے بابا نے کہا پریل میں ایک میوزک والا رہتا ہے صبح کو اس سے ملنا ہے۔ رات سے یہی ضد تھی لہٰذا بابا آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔ میں نے بابا کو سلام کیا۔ میرے سلام کے جواب میں بابا نے ہنسنا شروع کردیا۔ یہ صاحب جو بابا کے ساتھ آئے تھے ان کے خاص مرید تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا بابا آپ جس نوشاد سے ملنا چاہتے تھے وہ یہ ہیں۔ بابا نے کہا  گُنی ہے، گُنی ہے یعنی گُنوں والا۔ (talented)۔ بابا نے گنی ہے، گنی ہے کی اتنی تکرار کی کہ ان کے مرید نے کہا اگر اچھا لڑکا ہے تو کچھ دیجیے۔ بابا نے کاغذ منگوایا اور اس پر لکھا اسے 25 لاکھ روپے ادا کردیے جائیں۔ اس وقت تک میں بابا کے کشف وکرامات سے واقف نہ تھا۔ ان کے مرید نے کہا آپ بہت خوش قسمت ہیں۔ بابا نے آپ کو اتنی بڑی رقم کا چیک دیا ہے۔ میں نے بابا کا دیا ہوا چیک لیا اور اسے دیکھنے لگا۔ بابا مجھے بغور دیکھتے رہے مگر کچھ دیر بعد میں نے چیک بابا کو واپس کردیا اور کہا بابا یہ مجھے نہیں چاہیے ۔آپ سے کچھ لوں گا تو اس سے بڑی چیز لوں گا۔ مجھے یہاں سے 500 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ آپ مجھے اتنی بڑی رقم دے کر دنیا کی زنجیروں میں اور الجھانا چاہتے ہیں۔ بابا نے اپنے مرید سے کہا اس سے پوچھ کیا چاہتا ہے؟ میں نے کہا مجھے دعا دیجیے کہ میں نیک رہوں، نیک بنوں۔ بابا نے میری بات غور سے سنی، میری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مارا اور پھر مجھے سینے سے لگالیا اور کہا تُو پہلا آدمی ہے جو پیسہ نہیں مانگتا۔ یہاں تو جو ملتا ہے پیسہ مانگتا ہے مگر تُو صرف دعا چاہتا ہے۔ بابا نے بعد میں اس چیک کی پشت پر ایک دعا لکھ دی اور بتایا کہ اسے بعد نماز عشاء پڑھا کرو۔ بابا نے آج سے 42-43 سال پہلے جو دعا لکھ دی تھی وہ میں آج تک باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ دعائیہ چیک ملنے کے دوسرے تیسرے دن سے لوگ گھر آنے لگے ۔نئی نئی آفرز آنے لگیں مگر میرا قاعدہ تھا کہ میں ایک وقت میں ایک یا زیادہ سے زیادہ دو فلموں کی موسیقی ترتیب دیتا تھا۔ لہٰذا میں نے اپنے وقت کے اتنے بڑے بڑے اداروں اور فلم میکرز کی فلمیں سائن نہیں کیں۔ ان ہی دنوں فلمستان کے مالک جالان صاحب رات کے وقت میرے گھر تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بیس، پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر فلمستان میں کام کرنے کی آفر دی۔ بابا کے چیک دینے کے سال ڈیڑھ سال بعد جب میں نے حساب لگایا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اگر میں یہ تمام فلمیں سائن کر لیتا تو مجھے وہی معاوضہ ملتا جو بابا نے چیک میں لکھا تھا۔ ایک دن میاں کاردار نے مجھ سے کہا واقعی نوشاد صاحب بابا نے مجھے جو چیک دیا تھا وہ کیش ہوگیا۔ پھر انہوں نے مجھے اپنا ایک خواب سنایا کہ بابا اسٹوڈیو میں شوٹنگ دیکھنے آئے ہیں اور کرسی پر بیٹھے ہوئے شوٹنگ دیکھ رہے ہیں۔ اتنی دیر میں یونٹ کے لوگوں نے شور مچایا کہ بابا مرگئے۔ میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو بابا کرسی پر لڑھک گئے تھے ۔یہ خواب بیان کرنے کے بعد کاردار نے مجھ سے کہا بابا کی خیر خبر معلوم کیجیے کہ کہاں ہیں مجھے تو ان کو نذر پیش کرنا ہے۔ بابا ناگ پاڑہ میں رہتے تھے مگر وہاں جاکر معلوم ہوا کہ بابا کا اسی رات انتقال ہوا جس رات میاں کاردار نے ان کو خواب میں دیکھا تھا۔ بابا کا مزار سونا پور قبرستان بمبئی میں ہے۔


ہندوستانی سینما کے معروف موسیقار نوشاد علی لکھنوی کی پیدائش پچیس دسمبر 1919 کو ہوئی تھی۔ شاہ جہاں، دل لگی، دلاری، انمول گھڑی، مغل اعظم، بیجو باؤرا، انداز، آن، امر اور داستان جیسی کئی مشہور فلموں کی دلوں کو چھو لینے والی موسیقی اور نغموں کے باعث برصغیر پاک و ہند میں موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔ انہیں موسیقار اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ان کی موسیقی کو انڈین فلم انڈسٹری میں ایک بیش بہا خزانے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ نوشاد علی سن 1937 میں ممبئی کام کی تلاش میں آئے۔ فلموں میں اپنی موسیقی کا جادو جگا کر کئی ایوارڈ حاصل کیے۔ فلموں میں اپنی موسیقی کا جادو جگانے والے موسیقار اعظم کی آخری فلم اکبر خان کی ’تاج محل‘ تھی اور ان کی موسیقی کی تعریف میں وزیراعظم ہند من موہن سنگھ نے انہیں ایک توصیفی سرٹیفکیٹ بھی دیا جب کہ انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور سنگیت اکیڈمی ایوارڈ بھی ملا اور بعد میں حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن کے خطاب سے بھی نوازا ۔ نوشاد مئی 2006 کو دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔


بابا بنڈل شاہ جیسے لوگ اس دنیا میں کون اور کیوں ہوتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے بہت جلد پڑھیے نیرنگ پر ایک مفصّل مضمون