Banking Laws Translation Sample | Urdu English

ترجمہ | بینکاری قانون | نمونہ دوم | الفاظ 7 ہزار | طویل


ترجمہ وتدوین سحؔر خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز


 



خیال رہے مخصوص پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت مکمل ترجمے کی قصداً حتمی ایڈیٹنگ اور پروف خوانی نہیں کی گئی ہے – بلااجازت و بلامعاوضہ استعال کی صورت میں نیرنگ کسی بھی طور ذمے دار نہیں ہو گا۔



 

ایکٹ بعینہ

رقعاتِ زر سے متعلق قوانین کی وضاحت اور ترمیم کا ایکٹ

تمہید: ہرگاہ کہ رقعات لین دین (درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی، چیکوں وغیرہ) سے متعلقہ قوانین کی وضاحت اور ترمیم قرینِ مصلحت ہے اس لیے بذریعہ زیرِتذکرہ یہ نافذ کیا جاتا ہے:-

مقاصد اور اسباب کے بیان کے لیے دیکھیے:

باب اول

پیش لفظ

مختصر عنوان:- ایکٹ ہٰذا کا عنوان رقعات زر ایکٹ 1881ہے۔  مقامی طور پر نافذ العمل۔ ہنڈی وغیرہ کے استعمالات سے متعلق

نفاذ:- ایکٹ ہذا کا اطلاق تمام پاکستان پر ہوگا تا ہم اس میں درج کوئی بھی چیز [مرکزی بنک پاکستان ایکٹ، 1956 کی دفع 24 اور 35 کو متاثر نہیں کرے گی]؛ اور یہ یکم مارچ 1882 سے نافذ العمل قرار پائے گا۔

1- الف. ایکٹ کا اطلاق:- ہر نوع کے رقعات زر (درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی، چیک وغیرہ) کے استعمال پر ایکٹ ہذا کا اطلاق ہو گا اور ایسے کسی بھی رقعہ پر ایسے کسی بھی استعمال یا شرط کا اطلاق نہیں ہو گا جو ایکٹ ہذا کے مندرجات کے بر خلاف ہو۔

تنسیخ قوانین:- 1891 کے ترمیمی ایکٹ کے تحت تنسیخ (XII of 1891)

تشریعی دفعہ: ایکٹ ہذا میں جب تک کہ کوئی چیز متن یا سیاق و سباق کے بر خلاف نہ ہو:-

’’ضاقی ضامن‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی رقعہ زر پر ہنڈی قبول کنندہ یا توثیق کنندہ کے بطور متعلقہ قدر وصول کیے بغیر اور اپنا نام کسی اور فریق کو استعمال کرنے کے مقصد کے لیے دستخط کیے ہیں؛

’’بنکر‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو قرض دینے یا سرمایہ کاری کے مقصد کے لیے رقعات زر (ہنڈی وغیرہ) کو قبول کرنے کا لین دین کرتا ہے؛ یا عوام کی رقومات کو جمع کرتا ہے، جو مطالبے پر یا دوسری صورت میں بشکل چیک، ڈرافٹ، آرڈر وغیرہ قابل ادائیگی ہوتی ہیں،  بشمول پوسٹ آفس بچت بنک؛

’’حامل رقعہ‘ سے مراد وہ شخص ہے جو گفت و شنید کے بعد حامل رقعہ کو قابل ادئیگی کسی رقعہ زر کو تحویل میں لیتا ہے،

’’حوالگی‘‘ سے مراد ایک شخص سے دوسرے شخص کو ملکیت کا حقیقی یا تعبیری انتقال ہے؛

’’اجرا‘ سے مراد اپنی مکمل شکل میں اس شخص کو درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کی پہلی حوالگی ہے جو اسے ’’حقیقی مالک‘‘ کے طور پر لیتا ہے۔

درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک سے متعلق’’نمایاں تبدیلی‘ سے مراد تاریخ ، مجموعی قابل ادئیگی رقم؛ وقت ادائیگی، تاریخ ادائیگی، اور، جہاں متذکرہ رقعہ زر کو عام حالت میں قبول کر لیا جائے وہاں، قبول کنندہ کی رضامندی کے بنا مقام ادائیگی ہے، اور

’’ناظر رجسٹری‘‘ وفاقی حکومت کا تقرر کردہ وہ شخص ہے جو ایکٹ ہذا کے تحت ناظم رجسٹرار کا کام کرے اور وہ جس کا ناظم رجسٹری آرڈی نینس 1961 کے تحت بطور ناظم رجسٹرار تقرر کیا گیا ہو۔

باب دوم

نوٹوں، بلوں اور چیکوں سے متعلق

’’درشنی ہنڈی‘‘۔ ایک درشنی ہنڈی یا پرمسری نوٹ تیار کنندہ کے دستخطوں کے ساتھ مطالبے پر یا مسقتبل میں مقرر کردہ یا قابل تعین وقت پر ادئیگی کا غیر مشروط تحریری ضمانت کا حامل وہ تحریری رقعہ (علاوہ بنک یا کرنسی نوٹ) ہے جس کے تحت ایک مخصوص کردہ رقم کسی مخصوص شخص کے مطالبے یر یا رقعہ ہذا کے حامل شخص کو ادا کی جائے۔

تمثیلات

ذرج ذیل کی صورت میں ایک شخص تحریر کردہ رقعہ زر پر دستخط  کرے:

’’میں الف کو 500 روپے ادا کرنے کا وعدہ کرتا یا ہدایت دیتا ہوں‘‘۔

’’میں اقرار کرتا ہوں کہ میں الف کو مطالبے پر بالبدل رقم کے عوض ایک ہزار روپے ادا کرنے کا پابند ہوں‘‘۔

’’جناب الف مجھ پر آپ کے ایک ہزار ادا واجب الادا ہیں‘‘۔

’’میں الف کو 500 روپے اور وہ تمام رقومات ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں جن کا وہ واجب الوصول ہو گا‘‘۔

’’میں الف کو 500 روپے کی ادائیگی کا وعدہ کرتا ہوں بعد ازاں اس رقم کی کٹوتی کے جو اس پر میرے واجب الادا ہیں‘‘۔

’’میں ب کے ساتھ اپنی شادی کے 7 روز بعد الف کو 500 روپے کی ادائیگی کا وعدہ کرتا ہوں‘‘۔

’’میں د کی وفات کے بعد الف کو 500 روپے کی ادائیگی کا وعدہ کرتا ہوں، بشرط یہ کہ د اپنے پیچھے میرے لیے اس رقم کی ادائیگی کے قابل معقول رقم چھوڑ جائے‘‘۔

’’میں بتاریخ یکم جنوری (اگلی) الف کو 500 روپوں کی ادائیگی اور اسے اپنے سیاہ گھوڑے کی  ادائیگی کا وعدہ کرتا ہوں‘‘ْ

(الف) اور (ب) میں درج رقعات علی الترتیب پرمسری نوٹ ہیں۔ (ت)، (ث)، (ج)، (ح) (خ) اور (د) میں علی الترتیب درج رقعات پرمسری نوٹ نہیں ہیں۔

’’مبادلہ ہنڈی‘‘ تیار کنندہ کے دستخطوں کے ساتھ مطالبے پر یا مسقتبل میں مقرر کردہ یا قابل تعین وقت پر کسی مخصوص شخص کو ادئیگی کا غیر مشروط تحریری ضمانت کا حامل وہ تحریری رقعہ (علاوہ بنک یا کرنسی نوٹ) ہے جس کے تحت ایک مخصوص رقم کسی مخصوص شخص کے مطالبے یر یا رقعہ ہذا کے حامل شخص کو ادا کی جائے۔

دفعہ ہذا اور دفعہ 4 کے تحت ادائیگی کا وعدہ یا حکم مقررہ رقم کی ادائیگی کے وقت کے لحاظ سے  ’’مشروط‘‘ نہیں ہے یا وہاں مندرج کسی قسط کی لحاظ سے جس کا عمومی انسانی توقعات کے مطابق کسی تخصیص شدہ واقعے کے ایک مخصوص عرصہ گزرنے کے بعد وقوع پذیر ہونا نا گزیر ہو تاہم اس کی وقوع پذیری کا وقت غیر یقینی ہو۔

قابل ادائیگی رقم دفعہ ہذا اور دفعہ 4 کے تحت ’’معین شدہ‘‘ ہو سکتی ہے، تا ہم اس میں مزید مفاد شامل ہے یا (یہ) مبادلے کی کسی درج کردہ شرح یا حالیہ شرح مبادلے کے مطابق قابل ادائیگی ہے اور اگر چہ اسے بیان کردہ شرائط کے تحت ادا کیا جانا ہے اور شرط مذکور ہے کہ کل ادائیگی کی ایک یا ایک سے زائد قسط یا سود کی عدم ادائیگی پر تمام یا غیر ادا شدہ میزان رقم واجب الادا ہو جائے گا۔

جس جا فرد متذکرہ کو درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی کے ذریعے معقول پیمانے پر مشخص کیا جا سکے وہاں وہ دفعہ ہذا اور دفعہ 4 کے تحت ’مخصوص فرد‘ ہے، اگر چہ اس کا نام کچھ اور تحریر ہو یا اسے محض وضاحتی بیان کے ذریعے نام زد کیا جائے۔

دفعہ ہذا میں مندرج معنوں کی رو سے ایک مخصوص رقم کو ادا کرنے کا حکم غیر مشروط نہیں ہے؛ تاہم، ادائیگی کا، غیر مستند تقاضہ، بشمول:-

ایک مخصوص رقم کی علامت جس سے ایک مجری الیہ ہنڈی وصول پائے یا وہ مخصوص رقم جو مجموعی رقم سے منہا کی جائے، یا

لین دین کا وہ بیان جو نوٹ یا بل کو وجود میں لائے، غیر مشروط ہے۔

ہنڈی مبادلہ کو حامل رقعہ کے لیے قابل ادائیگی باور کیا جا سکتا ہے اگر مرسل الیہ ایک فرضی یا عدم موجود شخص ہو۔

’’چیک‘‘۔ ایک ’’چیک‘‘ ایک مخصوص بنکر سے بھنایا جانے والا ہنڈی مبادلہ ہے اور قابل ادائیگی باور نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ مطالبہ کیا جائے۔

بنک صارفین کے ہاتھوں

’’ہنڈی نویس‘‘ و ’’مجری الیہ‘‘: ہنڈی مبادلہ یا چیک کا تیار کنندہ ’’ہنڈی نویس‘‘؛ در آں حال یہ کہ وہ شخص جس کے نام ادائیگی کا حکم دیا جائے وہ ’’مجری الیہ‘ ہے۔ ’’موسوم علیہ عندالطلب‘‘ – چناں چہ جب کسی بل یا کسی تظہیر (توثیق نامے) پر مجری الیہ کے علاوہ کسی فرد دیگر کا نام اس لیے دیا جائے کہ ضرورت پڑنے پر اس سے رجوع کیا جا سکے تو اس شخص کو ’’موسوم علیہ عند الطلب‘‘ کا نام دیا جائے گا۔

’’قبولندہ‘‘:- جب مجری الیہ بل پر دستخط رضامندی کر چکے، یا وہاں ایک کے مقابلے میں زائد حصے ہوں، تو ان میں سے کسی ایک حصے پر اور اس بل ہذا کو حوالے کر دے، یا حامل کو دستخظ ہذا کی اطلاع دے چکے، یا حامل کے فرد نیابت کو تو وہ ’’قبولندہ‘‘ کہلائے گا۔

’’سکار کنندہ بغرض آبرو.‘‘ — جب کسی ہنڈی مبادلہ کو قبول نہیں جائے یا مزید بہتر تحفظ یا عدم قبولیت کے لیے اس پر احتجاج کیا جائے، اور اعتراض منظوری کے بعد کوئی فرد سوم اسے ہنڈی نویس یا توثیق کنندگان میں کسی ایک کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے قبول کرلے تو اس فرد کو ’’سکار کنندہ بغرض آبرو‘‘ کہا جائے گا۔

’’مرسل الیہ.‘‘ — وہ شخص جس کا نام رقعہ زر پر تحریر ہو، جسے یا جس کے حکم پر رقعہ زر میں مندرج رقم ادا کی جائے وہ ’’مرسل الیہ‘‘ کہلائے گا۔

’’حامل‘‘ — درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا کسی چیک کے ’’حامل‘‘ سے مراد مرسل الیہ یا مصدق الیہ ہے جس کی تحویل میں یہ رقعات زر ہوں یا وہ اس کا پیش کنندہ ہو تا ہم اس میں خریدار فرضی کے ذریعے مستفیض ہونے والا مالک انتفاعی شامل نہیں ہے۔

وضاحت:- اس صورت میں کہ نوٹ، بل یا چیک کھو جائے اور دو بارہ نہیں ملے، یا ضائع ہو جائے، تو اس کی گم شدگی یا ضیاع کے وقت اس کا حامل یا پیش کندہ بدستور اس کا حامل ہی باور کیا جائے گا۔

’’قابض صحیحہ‘‘. — ’’قابل صحیح‘ سے مراد وہ شخص ہے جو تلافی بدل کے طور پر پیش کنندہ، مرسل الیہ یا مصدق الیہ کو قابل ادائیگی درشنی ہنڈی، ہنڈی مبادلہ یا چیک کا مالک بن جائے، اگر زیر حکم (رقعہ زر) قابل ادائیگی ہو، پیش تر یہ کہ وہ زائد المعیاد ہو گیا ہو – اس امر کو باور کیے بنا کہ اُس شخص کا عنوان جس سے اِس نے اپنا عنوان تبدیل کیا ہے وہ ناقص الحقیقت تھا۔

تشریح. — دفعہ ہذا کی وضاحت کے طور پر کسی درشنی ہنڈی، ہنڈی مبادلہ یا چیک پر کسی شخص کا عنوان اس وقت ناقص الحقیقت باور کیا جائے گا جب وہ شخص دفعہ 58 کے تحت وہاں درج رقم کو وصول کرنے کا حق دار نہیں تسلیم کیا جائے۔

’’ہنڈی کی بر وقت ادائیگی‘‘. — ’’ہنڈی کی بر وقت ادائیگی‘‘ سے مراد رقعہ زر میں تحریر کردہ تقاضے کے ساتھ   ان حالات میں جہاں اس بات کو باور کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو کہ حامل ہذا مندرج رقم کو وصول کرنے کا حق دار نہیں ہے اسے نیک نیتی اور نہایت ذمے داری کے ساتھ ادائیگی ہے۔

ملکی رقعہ زر.— درشنی ہنڈی، ہنڈی مبادلہ یا چیک جسے پاکستان میں لکھا یا تیار کیا جائے یا جسے پاکستان میں قابل ادائیگی بنایا یا پاکستان میں رہائش پذیر کسی بھی شخص کے نام لکھا جائے، وہ ملکی رقعہ زر باور کیا جائے گا۔

غیر ملکی رقعہ زر.— ایسا رقعہ زر جو درج بالا کے مطابق لکھا، تیار یا قابل ادائیگی نا بنایا جائے وہ غیر ملکی رقعہ زر باور کیا جائے گا۔

’’رقعہ زر‘‘ (1) رقعہ زر سے مراد عند الطلب یا حامل ہذا کو قابل ادائیگی درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک ہے۔وضاحت (الف) .— درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک عند الطلب قابل ادائیگی ہے، جس کی یا کسی فرد خاص کے نام ادائیگی کی ہدایت کی جائے اور جس میں ممانعت، انتقال یا ایسے ارادے کو ظاہر کرنے والے الفاظ تحریر نہ ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ یہ قابل انتقال نہیں ہوگا۔

وضاحت (ب). — درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک عند الطلب اس حامل ہذا کو قابل ادائیگی ہے جسے قابل ادائیگی قرار دیا جائے یا جس پر واحد یا آخری تصدیق تیار کنندہ کے دستخط کی صورت میں تحریر ہو۔

وضاحت (ج). — درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک یا تو اصلی طور پر یا بذریعہ توثیق کسی فرد خاص کے تقاضے پر قابل ادائیگی سمجھا جائے گا، اور نا اُسے نا اُس کے تقاضے پر یہ با ایں ہمہ اُسے یا اُس کے اختیار پر قابل ادائیگی ہو گا۔  

(2) رقعہ زر کے تحت مزید دو وصول کنندگان کو مشترکہ طور پر ادائیگی کی جا سکتی ہے، یا اسے متبادل طور پر دو یا دو سے زیادہ کئی وصول کنندگان میں سے کسی ایک کے لیے قابل ادائیگی بنایا جا سکتا ہے۔

گفت و شنید:—– جب ایک درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کسی فرد کو منتقل کیا جائے نتیجتاً جس کے تحت وہ شخص ہی حامل قرار پائے تو اس صورت میں رقعہ زر قابل ادائیگی ہو گا۔

توثیق: —– جب قابل ادائیگی رقعہ زر کا تیار کنندہ یا حامل، رقعہ ہذا کو بھنانے کی غرض سے، تیار کنندہ کی حیثت کے علاوہ، رقعہ زر کی پشت پر یا سامنے یا اس کے ساتھ منسلک کسی پرچے پر دستخط کرے، یا اسی مقصد کے لیے اسٹامپ پیپر پر دستخط کرے، تا کہ اسے قابل ادائیگی رقعہ زر کے طور پر مکمل کیا جا سکے، تو کہا جائے گا کہ اس نے رقعہ ہذا کی توثیق کر دی ہے، اور اس لحاظ سے وہ ’’ہنڈی کا توثیق کنندہ‘‘ کہلائے گا۔

توثیق بصورت ’’ان بلینک‘‘ اور ’’ ان فل‘‘:—— (1) جب ہنڈی کا توثیق کنندہ پرچہ ہذا پر صرف اپنا نام ثبت کرے تو اس توثیق کو ’’ان بلینک‘‘ کہا جائے گا، اور جب وہ رقعہ ہذا میں مندرج رقم کی ادائیگی کی ہدایت درج کرے کہ اس رقم کو کسی شخص کو – یا تقاضے پر – کسی مخصوص شخص کو ادا کیاجائے، تو صورت ہذا میں توثیق کو ’’ان فل‘‘ کہا جائے گا اور وہاں مخصوص کردہ شخص رقعہ زر کا مصدق الیہ کہلائے گا۔

’’مصدق الیہ‘‘ …

(2) مرسل الیہ سے متعلق ایکٹ ہذا کے مندرجات کا ضروری ترمیم و اضافوں کے بعد مصدق الیہ پر اطلاق ہو گا۔ دو شکلی رقعات زر —– اس صورت میں کہ ایک رقعہ زر کو آیا کہ درشنی ہنڈی یا ہنڈی مبادلہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے، تو حامل رقعہ اپنی مرضی کے تحت اسے مندرج بالا دونوں صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں استعمال کر سکتا ہے، اور بہ حیثیت باز ارسالی سند اس رقعہ زر پر حسب صورت کارروائی ہو گی۔

جب ہندسوں اور اعداد کی شکل میں مندرج رقم میں فرق پایا جائے۔ — جب ادائیگی کی ہدایت کے لیے مندرج رقم ہندسوں اور اعداد کی شکل میں اختلافی ہو تو الفاظ میں مندرج رقم بغرض کارروائی یا ادائیگی درست باور کی جائے گی۔

تاہم اگر الفاظ مبہم یا غیر واضح ہوں، تو ہندسی شکل میں مندرج رقم کو ہی درست باور کیا جائے گا۔

تقاضے پر قابل ادائیگی رقعات زر. —– ایک درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی تقاضے پر قابل ادائیگی ہے:-

جب ادائیگی کا تقاضا مندرج ہو، یا آنکھ سے دیکھے جانے پر یا رقعہ زر پیش کیے جانے پر قابل ادائیگی ہو؛ یا

جب اس میں ادائیگی کا کوئی وقت درج نہ ہو؛ یا

جب درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی کو زائد المعیاد ہونے پر قبولندہ یا تصدیق کنندہ کی جانب سےقبول کر لیا جائے یا اس کی توثیق کر دی جائے۔

ناقص اسٹام شدہ رقعات زر۔ —– (1) جب کوئی فرد کسی ایسے رقعے پر دستخط کرے یا اسے دوسرے شخص کے حوالے کرے، جس پر، قابل ادائیگی رقعات زر پر متعلقہ قانون کے مطابق عائد اسٹام لگی ہو، اور یہ رقعہ یا تو مکمل طور پر سادہ ہو یا اس پر نا مکمل قابل ادائیگی رقم درج  ہو، تو اس مقصد کے لیے کہ اسے ایک قابل ادائیگی رقعہ زر کے طور پر تیار یا مکمل کیا جائے، فرد ہذا اُس شخص کو اسے رقعہ زر کی شکل میں تیار یا مکمل کرنے کے لیے – جو بھی صورت ہو – اُس رقم کے عوض بدیہی اختیار دے گا – جو وہاں مندرج ہو – یا ایسی صورت میں جب کوئی رقم درج نہ ہو – تو کسی بھی صورت میں – اس رقم کےعوض، جو اس رقم سے زائد نہیں ہو گی جو وہاں اسٹام کی مد میں ادا کی گئی ہے۔

(2) صورت ہذا میں دستظ کنندہ، ذیلی دفعہ (3) کے تحت – بر بنائے حیثیت کہ اس نے رقعہ ہذا پر دستخط کیے ہیں – بہ طریق معمول کسی بھی حامل کو متذکرہ رقعہ زر کی رو سے اُس رقم کی ادائیگی کا پابند ہو گا جو وہاں تخصیص کردہ یا مندرج ہے:

تاہم صرف حامل رقعہ ہی، بہ طریق معمول اور درج بالا کے مطابق دستخط کنندہ سے صرف اور صرف اتنی ہی رقم وصول کر سکے گا جو وہاں مرسل الیہ کو ادائیگی کے ارادے  سے مندرج کی گئی ہے۔

(3) اس لیے کہ، ایسا کوئی رقعہ زر (on corn؟؟؟( ایسے کسی بھی شخص کے خلاف نافذ العمل ہو سکے، جو زیر تذکرہ تکمیل سے قبل وہاں فریق بن گیا ہو، لازمی ہے کہ اسے مناسب دورانیے میں اور تفویض کردہ اخیتار کے تحت بعینہ پُر کیا جائے:

اگر، ایسا کوئی رقعہ زر تکمیل کے بعد بہ طریق معمول کسی حامل رقعہ کو قابل ادائیگی ہو، تو یہ اس کی تحویل میں تمام مقاصد کے لیے کار گر اور موثر ہو گا اور وہ اسے استعمال کر سکتا ہے، اگر اسے مناسب دورانیے میں اور تفویض کردہ اخیتار کے تحت بعینہ پر کیا گیا ہو۔

’’دکھانے پر‘‘، ’’پیش کرنے پر‘‘، ’’دکھانے کے بعد‘‘۔ —– ’’دکھانے پر‘‘ اور ’’پیش کرنے پر‘‘ سے مراد ہے بر بنائے تقاضا۔ درشنی ہنڈی کی صورت میں ’’دکھانے کے بعد‘‘ سے مراد ہے دکھانے کے لیے پیش کرنے کے بعد، اور، مبادلہ ہنڈی کی صورت میں قبولیت کے بعد، یا نا قابل قبول درج کرنے کے بعد، یا احتاجِ برائے عدم قبولیت کے بعد۔

21الف. عند الطلب قابل ادائیگی رقعہ زر (بل یا نوٹ) زائد المعیاد ہو جانے کی صورت میں: — ایک عند الطلب قابل ادائیگی درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی اس وقت زائد العمیاد باور کیا جائے گا، جب بادی النظر میں ظاہر ہو کہ یہ ایک غیر موزوں طویل عرصے تک زیر گردش رہا ہے۔

21ب. مستقبل میں تعین کردہ وقت پر قابل ادائیگی درشنی یا مبادلہ ہنڈی: — ایک درشنی یا مبادلہ ہنڈی ایکٹ ہذا کی رو سے مستقبل میں تعین کردہ وقت پر قابل ادائیگی ہے، اگر اس کے قابل ادائیگی ہونے کی وضاحت کر دی جائے: —

            (الف) تاریخ یا  پیش کرنے کے بعد ایک وقت مقررہ پر؛ یا

(ب) ایک مخصوص کیفیت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد، ایک مقرر کردہ وقت پر، جس کا وقوع پذیر ہونا لازمی ہو، تا ہم امکانی طور پر اس کے وقوع پذیر ہونے کا وقت غیر متعین ہو۔

21ج۔  قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ۔ — ایک درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک محض اس سبب کی بنا پر غیر موثر نہیں ہو گا کہ یہ قبل از تاریخ یا بعد از تاریخ ہے؛

بشرط یہ کہ قبل از تاریخ یا بعد از تاریخ ہونے کی وجہ سے کوئی قانونی قدغن در پیش نہ آئے یا اس کا مقصد دھوکا دہی یا دھوکے پر مبنی لین دین کرنا نہ ہو۔

’’ واجب الادائیگی‘‘.— ایک درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی اپنے واجب ہونے کی تاریخ پر واجب الادا سمجھا جائے گا۔

ایام مہلت — ہر وہ درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی، جو دکھانے پر یا پیش کرنے پر، عند الطلب واجب الادا نہیں ہو، وہ اس تاریخ کے تین روز بعد واجب الادا ہو جائے گا، جو ادائیگی کے وعدے کے تحت مندرج ہو۔

دکھانے یا پیش کرنے کی تاریخ کے کئی ماہ بعد واجب الادا درشنی ہنڈی کی واجب الدائیگی کا شمار. — اس تاریخ  کے شمار کے لیے جس پر ایک درشنی یا مبادلہ ہنڈی- واجب الادائیگی ہو جائے – جس پر پیش کرنے یا ایک مخصوص واقعے کے بعد، ادائیگی کی تاریخ بیان کردہ کئی ماہ بعد کی ڈالی گئی ہو، (تو) بیان کردہ مدت مہینے کے اس دن منسوخ سمجھی جائے گی جو رقعہ زر پر مندرج تاریخ کے مطابق ہو یا جس روز اسے قبول کرنے یا دکھانے کے لیے پیش کیا گیا ہو، یا اس پر عدم قبولیت کی تحریر درج کی گئی ہو، یا اس کی قبولیت پر احتجاج کیا گیا ہو، یا واقعہ وقوع پذیر ہو، یا، اس صورت میں جب رقعہ زر مبادلہ ہنڈی ہو جسے پر دکھانے کے بیان کردہ کئی مہینوں کے بعد ادائیگی کی تاریخ ڈالی گئی ہو اور (جسے) بغرض دفاع آبرو وصول کیا جا چکا ہو، بہ مطابق اس تاریخ کے جب اسے اس طرح قبول کیا گیا تھا۔

مثالیں:

29 جنوری، 1878ء کو تیار کردہ قابل ادائیگی رقعہ زر پر ادائیگی کی تاریخ، تاریخ ہذا کے ایک ماہ بعد کی دی گئی ہے۔ (چناں چہ) رقعہ ہذا 28 فروری، 1878ء کے 3 روز بعد واجب الادائیگی ہو جائے گا۔

30 اگست، 1878ء کو تیار کردہ قابل ادائیگی رقعہ زر پر ادائیگی کی تاریخ، تاریخ ہذا کے 3 ماہ بعد کی دی گئی ہے۔ (چناں چہ) رقعہ ہذا 3 دسمبر 1878ء کو واجب الادائیگی ہو جائے گا۔

 اگست 1878ء کو تیار کردہ درشنی ہنڈی یا مبادلہ ہنڈی پر ادائیگی کی تاریخ، تاریخ ہذا کے 3 ماہ بعد کی دی گئی ہے۔ (چناں چہ) رقعہ ہذا 3 دسمبر 1878ء کو واجب الادائیگی ہو جائے گا۔

دکھانے یا پیش کرنے کی تاریخ کے کئی ماہ بعد واجب الادا بل آف نوٹ کی واجب الدائیگی کا شمار. — اس تاریخ کے حساب میں، جس پر ایک درشنی یا مبادلہ ہنڈی مقررہ تاریخ کے بعد، پیش کرنے کے بعد، یا کسی مخصوص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے بعد کچھ مخصوص دنوں میں قابل ادائیگی ہو، تو وہ متذکرہ تاریخ، یا دکھانے پر قبولیت کے لیے پیش کرنے والا دن، یا وہ دن جب اس کی قبولیت پر احتجاج کیا جائے، یا وہ دن جب تخصیص کردہ واقعہ وقوع پذیر ہو، شمار سے خارج کر دیا جائے گا۔

جب واجب الادائیگی کے دن تعطیل ہو . — اُس روز جب ایک درشنی یا مبادلہ ہنڈی پر ادائیگی واجب ہو جائے، اگر عام تعطیل ہو، تو رقعہ ہذا اگلے (آنے والے) کاروباری روز واجب الادا باور کیا جائے گا۔

وضاحت:- ’’عام تعطیل‘ سے مراد وہ دن یا ایام ہیں جنہیں وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں اشتہار کے ذریعے عام تعطیل قرار دے۔

باب سوم

درشنی ہنڈیوں، مبادلہ ہنڈیوں اور چیکوں کے فریق

درشنی ہنڈی وغیرہ تیار کرنے کی اہلیت۔ — ہر وہ شخص جو متعلقہ قانون کے تحت معاہدہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، وہ خود کو درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کی تیاری، تحریر، قبولیت، توثیق، ترسیل اور ادائیگی کا پابند کر سکتا یا کروا سکتا ہے۔

نا بالغ: – اس صورت میں جب ایک رقعہ زر کو کسی نا با لغ کے ذریعے تیار، تحریر یا ادا کیا جائے، تو اس کی تیاری، تحریر یا گفت و شنید برائے ادائیگی کی رو سے حامل رقعہ ہذا وہاں مندرج رقم وصول کرنے کا اہل ہے اور وہ اسے نا بالغ کے علاوہ متعلقہ کسی بھی فرق کے خلاف استعمال میں لا سکتا ہے۔

ایجنسی:- ہر وہ شخص جو خود کو کسی قابل ادائیگی رقعہ زر (درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک) کی تیاری، تحریر، قبولیت، توثیق، ترسیل اور ادائیگی کا پابند کر سکتا یا کروا سکتا ہے، وہ اسی ذیل میں کسی مجاز ایجنٹ کو اپنا نمائندہ (بھی) نام زد کر سکتا ہے۔

لین دین کرنے اور واجب الادا رقوم کی وصولی یا ادائیگی کے عام اختیار کے تحت کسی نمائندے کو، نام زد کنندہ کے نام پر، مبادلہ ہنڈی کو قبول کرنے یا اس کی توثیق کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

قانون کی رو سے مبادلہ ہنڈی کو تیار کرنے کی اتھارٹی بذات خود توثیق کرنے کی اتھارٹی عطا نہیں کرتی۔

2الف. شرکا کار کا اختیار. — فرم کے نام پر کارروائی کرنے والا کوئی شریک کار قابل ادائیگی رقعہ زر کی تیاری، تحریر، قبولیت یا ادائیگی کے ذریعے ساجھے کے کاروبار کی بابت وقتی طور پر نافذ قانون کے تحت حاصل حق کی رو سے فرم کو پابند کر سکتا ہے۔

دستخط کنندہ نمائندے کی ذمے داری . — (1) جب کوئی فرد درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر اس طور دستخط کرے کہ اس کے دستخط میں اس بات کا اظہار کرنے والے الفاظ شامل نہ ہوں کہ اس نے نام زد کنندہ کے لیے یا اس کے نمائندے یا ایک پیش کنندہ کی حیثیت سے دستخط کیے ہیں تو وہ ذیل ہذا میں ذمے دار قرار پائے گا، اور اپنے دستخط میں محض ایسے الفاظ کے اضافےکے با وجود، جن سے اس کا نمائندہ یا پیش کنندہ ہونا واضح ہو، وہ شخصی ذمے داری سے مبرا قرار نہیں پائے گا۔

(2) ذیلی دفعہ (1) میں درج کسی بھی چیز کے با وجود، درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر نام زد کنندہ کے لیے یا اس کے نمائندے کے بطور دستخط کرنے والا کوئی فرد اس فرد کو جواب دہ نہیں ہے جو اس منطق کی رو سے اسے دستخظ کرنے پر آمادہ کرے کہ صرف نام زد کنندہ (پرنسپل) ہی ذمے دار قرار پائے گا۔

28الف۔ انتقال بہ ذریعہ ترسیل اور منتقل الیہ. (1) جب رقعہ زر کا اصل مالک حاملِ رقعہ کو قابلِ ادائیگی رقعہ زر کی توثیق کیے بنا لین دین کرے، تو وہ ’’منتقل کنندہ بذریعہ سپردگی‘‘ کہلائے گا۔

(2)  منتقل کنندہ بذریعے سپردگی رقعہ زر پر قانوناً جواب دہ نہیں ہو گا۔

(3) ایک منتقل کنندہ بہ ذریعہ سپردگی، جو قابل انتقال رقعہ زر پر لین دین کرتا ہے، وہ سودائے فروخت کا مالک ہونے کے سبب، جنس ہذا کے فوری منتقل الیہ کو اس امر کا ضامن ہے کہ زیر لین دین وہی شے ہے جو قرین منشا ہے، اسے اس کے انتقال کا حق ہے، اور یہ کہ انتقال کے وقت وہ ایسے کسی نقص سے واقف نہیں ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد شے ہذا کی قدر زائل ہو جائے۔

دستخظ کرنے والے قانونی نمائندے کی ذمے داری . — کسی متوفی کا قانونی نمائندہ جو درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر اپنے دستخظ کرتا ہے وہ نتیجتاً شخصی طور پر ذمے دار ہے، الا یہ کہ وہ اپنی ذمے داری کو ذیل ہذا کی رو سے وصول کردہ اثاثوں تک واضح طور پر محدود قرار دے۔

2الف. دستخط جواب دہی کے لیے لازمی ہیں. — درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کا تیار کنندہ، نویسندہ، توثیق کنندہ یا قبولندہ قانونی طور پر جواب دہ نہیں ہے اگر اس نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں:

الا یہ کہ اگر کوئی شخص کسی لین دین میں ایسےرقعہ زر پر دستخط کرتا ہے یا فرضی نام ڈالتا ہے، تو وہ ذیل ہذا میں اسی طرح قانوناً جواب دہ ہے گویا کہ اس نے رقعہ ہذا پر اپنے ہی نام سے دستخط کیے ہیں۔

29ب۔ جعلی یا غیر مجاز دستخط.— ایکٹ ہذا کی رو سے، اگر کسی درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر غیر مجاز دستخط ہوں یا وہاں اس شخص کی اجازت کی بنا دستخط کیے گیے ہوں جس کے دستخطوں کی نقل کی گئی ہے، تو جعلی یا غیر مجاز دستخط کلی طور پر غیر موثر ہوں گے، اور رقعہ ہذا کو موثر رکھنے، اس کی تعمیل کرنے یا اس کے تحت کسی بھی فریق کو ادائیگی کیے جانے کا کوئی حق دستخظ ہذا کی رو سے حاصل نہیں کیا جا سکے گا، الا یہ کہ وہ فریق جس کے لیے رقعہ ہذا کو موثر رکھنے، یا اس کی رو سے ادائیگی کی کوشش زیر عمل لائی جا رہی ہے، اسے جعل سازی یا عدم اختیار سے باز رکھا جائے (یا بری سمجھا جائے):

تاہم دفعہ ہذا کی رو سے کبھی بھی جعل سازی کی حد کو نہ پہنچنے والے کسی غیر مجاز دستخط کی توثیق نہیں ہو گی۔

29ج. رقعہ زر پر دستخظ کرنے والا اجنبی جسے توثیق کنندہ قیاس کیا جائے.— اگر کوئی فرد قابل لین دین رقعہ زر پر اس کے تیار کنندہ، نویسندہ یا قبولندہ کے علاوہ دستخط کرتا ہے تو اسے ایک توثیق کنندہ باور کیا جائے گا الا یہ کہ وہ موزوں ترین الفاظ میں اپنے ارادے کی وضاحت کرے کہ وہ ذیل ہذا میں کسی اور حیثیت کا پابند ہے۔

نویسندہ کی ذمے داری.— (1) (الف) ایک درشنی ہنڈی کا نویسندہ بطور راقم ہذا ضامن ہے کہ رقعہ ہذا کو پیش کرنے پر حسب ہدایت قبول اور اس پر ادائیگی کی جائے گی اور یہ کہ عدم قبولیت کی صورت میں وہ اس کے اصل مالک کو یا اس توثیق کنندہ کو جسے مجبوراً اس کی ادائیگی کرنی پڑے، زر تلافی ادا کرے گا، اور

(ب) ایک چیک کا نویسندہ بطور راقم ہذا ضامن ہے کہ مجری الیہ کی جانب سے ادا نہ کیے جانے کی صورت میں وہ اس کے اصل مالک کو زر تلافی ادا کرے گا؛

بہ شرط یہ کہ بل یا چیک کی عدم قبولیت کا نویسندہ کو با قاعدہ نوٹس دیا جائے یا اسے موصول ہو جائے جیسا کہ  ذیل میں درج ہے۔

(2) ہنڈی مبادلہ کی ادائیگی کرنے والا ایکٹ ہذا کی رو سے قبولیت تک قانوناً جواب دہ نہیں ہے۔

چیک کے مجری الیہ کی قانونی ذمے داری.— ایک چیک کا مجری الیہ جس کے پاس چیک نویس کے اتنے کافی فنڈ موجود ہیں جن سے چیک ہذا کی ادائیگی ہو سکتی ہے، لازماً عنداطلب اس چیک پر ادائیگی کرے گا، اور، اس رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں، چیک نویسندہ کو اس نقصان یا خسسارے کے بدلے زر تلافی ادا کرے گا جو اسے اس عدم ادائیگی کے باعث اٹھانا پڑے۔

درشنی ہنڈی کے تیار کنندہ اور مبادلہ ہنڈی کے قبولندہ کی ذمے داری.— (1) کسی بر عکس معاہدے کی عدم موجودگی میں، ایک پرمسری نوٹ کا تیار کنندہ، اسے تیار کرنے کے باعث، اور ہنڈی مبادلہ کا تاریخِ ادائیگی سے قبل کوئی قبولندہ، اسے قبول کرنے کے باعث قانونی طور پر رقعہ ہذا پر درج ہدایات یا علی الترتیب اس کی قبولیت کے تحت اس کی ادائیگی کا پابند ہے، اور نا دہنگی کی صورت میں، متذکرہ تیار کنندہ یا قبولندہ (نوٹ یا بل) سے متعلق فریق کو اس نقصان یا خسارے کے بدلے زر تلافی کی ادائیگی کا پابند ہے جو اسے اس نا دہندگی کے باعث اٹھانا پڑے۔

(2) ہنڈی مبادلہ کی تحصیلِ استحقاق پر یا اس کے بعد اس کا قبولندہ، اسے قبول کرنے کے باعث، قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ مندرج رقم حامل رقعہ ہذا کو عندالطلب ادا کرے۔

دفاع ساکھ کی ضرورت کے استثنیٰ کے ساتھ صرف مجری الیہ ہی قبولندہ ہو سکتا ہے.— ہنڈی مبادلہ کے مجری الیہ کے علاوہ کوئی بھی شخص، یا ہنڈی مرتب کرنے والے تمام یا کچھ اشخاص، یا وہ شخص جس کا نام ضرورت پیش آنے کی صورت میں وہاں مجری الیہ کے طور پر درج ہو، یا دفاع ساکھ کے لیے قبول کرنے والا خود کو قبولیت کے ذریعے پابند نہیں کر سکتا۔

ساجھے داروں کے علاوہ متعدد مجری الیہان کی بغرضِ دفاعِ ساکھ قبولیت.— اس صورت میں جب ہنڈی مبادلہ کے متعدد مجری الیہان ہوں، جو آپس میں ساجھے دار نہیں ہیں، تو ان میں سے ہر ایک اسے اپنے لیے قبول کر سکتا ہے، مگر ان میں سے کوئی کسی دوسرے کی اجازت کے سوا اس کے لیے اسے قبول نہیں کر سکتا۔

توثیق کنندہ کی ذمے داری.— الا یہ کہ کوئی بر عکس معاہدہ ہو، قابل انتقال رقعہ زر کا توثیق کنندہ، اس کی توثیق کرنے کے بعد، قانونی طور پر ذمے دار ہے کہ رقعہ ہذا کو بہ طریق معمول پیش کرنے پر قبول کیا جائے گا اور اس میں مندرج ہدایات کی رو سے رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ کہ اگر یہ نا دہندہ قرار پائے تو وہ اس کے اصل مالک یا ذیلی توثیق کنندہ  کو زر تلافی ادا کرے گا جو اسے اس عدم ادائیگی سے پہنچنے والی نقصان یا خسارے کے بدلے مجبوراً ادا کرنا پڑا ہو۔

عند الطلب قابل ادائیگی رقعہ زر کی عدم قبولیت کی صورت میں ہر توثیق کنندہ قانونی طور پر جواب دہ ہے۔

اصل مالک سے قبل فریقین کی ذمے داری.— ایک قابل انتقال رقعہ زر کا ہر سابقہ فریق بہ طریق معمول اصل مالک (ہولڈر) کو اس وقت تک جواب دہ ہے جب تک دستاویز باقاعدہ طور پر تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔

اساسی تیار کنندہ، نویسندہ و قبولندہ.— ایک درشنی ہنڈی یا چیک کا تیار کنندہ، ہنڈی مبادلہ کا نویسندہ قبولیت تک، اور قبولندہ – الا یہ کہ کوئی معاہدہ بر عکس موجود ہو – ذیل ہذا میں علی الترتیب اساسی  دہندگان ہیں اور دیگر متعلقہ فریقین تیار کنندہ، نویسندہ یا قبولندہ کو – جو بھی صورت ہو – بطور ضامن جواب دہ ہیں۔

ہر متاخر فریق کی ذیل میں فریق سابقہ اساسی ہے .—- ذیل ہذا کی ذیل میں بطور ضامن جواب دہ فریقین کے مابین، ایسا فریق سابق – الا یہ کہ کوئی بر عکس معاہدہ موجود ہو – بھی ہر متاخر فریق کی ذیل میں اساسی دہندہ (پرنسپل) کے طور پر جواب دہ ہے۔

مثالیں:

اے ایک ہنڈی تحریر کرتا ہے جو اس کی ہدایت پر بی کو قابل ادائیگی ہے جو اسے قبول کرتا ہے، اے بعد ازاں ہنڈی کی سی کے نام توثیق کرتا ہے، سی ڈی کو اور ڈی ای کو۔ چناں چہ ای اور بی کے درمیان بی اساسی دہندہ ہے اور اے، سی اور ڈی اس کے ضمانتی ہیں۔ اسی طرح ای اور اے کے درمیان اے اساسی دہندہ ہے اور سی اور ڈی اس کے ضمانتی ہیں۔ اور اسی طرح ای اور سی کے درمیان سی اساسی دہندہ ہے جب کہ ڈی اس کا ضمانتی ہے۔

38الف۔ سہولتی ہنڈی کی جواب دہی اور سہولتی ہنڈی کنندہ کی حیثیت .— (1) سہولتی ہنڈی کا فریق بطریق معمول اصل مالک کو قابل انتقال رقعہ زر کی ذیل میں جواب دہ ہے، با وجود یہ کہ جب اصل مالک (ہولڈر) نے رقعہ زر کو قبضے میں لیا تو وہ فریق ہذا کو ہنڈی کے سہولتی فریق کار کی طور پر جانتا تھا۔

(2) قابل انتقال رقعہ زر کی ذیل میں سہولتی ہنڈی کا فریق: اگر وہ ذیل ہذا میں ہنڈی کی رقم ادا کر چکا ہے، تو وہ سہولت یافتہ فریق سے یہ رقم وصول کرنے کا حق دار ہے۔

کفالۃ. — جب ایک قبول کردہ ہنڈی مبادلہ کا اصل مالک (ہولڈر) قبولندہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے جس سے انڈین کنریکٹ ایکٹ، 1872 کی دفعات 134 اور 135 کے تحت فریقین دیگر کا حساب بے باق ہو جائے، تو اصل مالک کو صراحتاً حق حاصل ہے کہ وہ دیگر فریقین کو ہنڈی کی ادائیگی کر دے، اور ایسی صورت میں وہ ہنڈی ادا یافتہ ٹہریں گے۔

توثیق کنندہ کی جواب دہی سے سبک دوشی.— جب قابل انتقال رقعہ زر کا اصل مالک – توثیق کنندہ کی اجازت کے بغیر – کسی سابقہ فریق کے خلاف توثیق کنندہ کی قانونی چارہ جوئی کو تباہ یا بے اثر کر دے، تو اس صورت میں توثیق کنندہ اصل مالک کو جواب دہی سے اس طور بری قرار پائے گا گویا کہ رقعہ زر کو تحصیل استحقاق پر ادا کر دیا گیا ہے۔

مثال:

اے بی کی ہدایت پر ایک قابل ادائیگی مبادلہ ہنڈی کا حامل (ہولڈر) ہے جس پر درج ذیل صورت میں صرف دستخط کے ذریعے توثیق کی گئی ہے:—

توثیق اول، ’’اے‘‘

توثیق دوم، ’’پیٹر ولیمز.‘‘

توثیق سوم، ’’رائٹ اینڈ کو۔‘‘

توثیق چہارم، ’’جان روزیریو۔‘‘

اے جان روزیریو کے خلاف مقدمے میں اس ہنڈی کو پیش کرتا ہے اور جان ریزیریو کی اجازت کے بغیر پیٹر ولیمز اور رائٹ اینڈ کمپنی کی توثیق کو منسوخ کر دیتا ہے، تو صورت ہذا میں اے جان ریزیریو سے کوئی بھی شے وصول کرنے کا حق دار نہیں ہے۔

جعلی توثیق کے با وجود قبولندہ پابند ہے. — ایک توثیق شدہ مبادلہ ہنڈی کا قبولندہ اس وجہ سے جواب دہی سے مبرا نہیں ہے کہ یہ توثیق جعلی ہے، بہ شرط یہ کہ جب اس نے ہنڈی کو قبول کیا تو وہ جانتا تھا یا اسے یقین تھا کہ توثیق جعلی ہے۔

فرضی نام پر تحریر کردہ ہنڈی کی قبولیت . — ایک فرضی نام پر تحریر کردہ اور نویسندہ کی ہدایت پر قابل ادائیگی مبادلہ ہنـڈی کا قبولندہ – با ایں سبب کہ عنوان ہذا فرضی ہے – بہ طریق معمول حامل کو جواب دہی سے مبرا نہیں ہے، جس کی نویسندہ سے مشابہ تحریر میں توثیق کی گئی ہو، اور قرینے سے ظاہر ہو کہ اسے نویسندہ ہی نے تیار کیا ہے۔

تعویض مالی کے بغیر تیارہ کردہ – وغیرہم – رقعہ لین دین .— تعویض مالی کے بغیر تیار، تحریر، قبول، توثیق یا منتقل کردہ رقعہ لین دین سے، یا اس تعویض مالی کے بدلے جو ناکام ہو جائے،  فریقین بیع و شری پر کسی صورت میں ادائیگی لازم نہیں آتی۔ مگر اگر فریقین ہذا میں سے کوئی فریق اس رقعے کو توثیق کے بعد یا توثیق کے بغیر حامل کو تعویض مالی کے لیے سپرد کر دے، تو حامل ہذا یا اس کے عنوان کی ذیل میں کوئی بھی حامل متاخرہ رقعہ ہذا میں مندرج رقم تعویض مالی کے منقل کنندہ یا کسی متعلقہ سابقہ فریق سے وصول کر سکتا ہے۔

استثنیٰ 1۔ کوئی بھی فریق جس کی سہولتی ہنڈی کی لیے رقعہ لین دین تیار، تحریر یا توثیق کیا گیا ہو، وہ وہاں مندرج رقم ادا کرنے کی صورت میں، یہ رقم کسی بھی ایسے فرد سے دوبارہ وصول نہیں کر سکتا جو اس کی سہولتی ہنڈی کی رو سے ایک فریق قرار پائے۔

استثنیٰ 2. رقعہ زر کا کوئی بھی فریق جس نے کسی دیگر فریق کو رقعہ ہذا اسے تعویض مالی کے لیے تیار، قبول، توثیق یا منتقل کرنے کے لیے آمادہ کیا ہو جسے وہ ادا کرنے یا پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نا کام رہا ہے، دوبارہ وہ متعلقہ رقم وصول نہیں کرپائے گا جو اس اعتباری قانونی کاغذ – اگر کوئی ہو – کی قدر سے زائد ہو جسے وہ در حقیقت ادا کر چکا یا پایہ تکمیل تک پہنچا چکا ہے۔

اعتباری دستاویز زر کی جزوی عدم موجودگی یا تنقیص .— جب وہ تعویض مالی (کنسیڈیریشن) جس کے لیے کسی فرد نے مبنی بر رقم درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر دستخط کیے ہوں اور جو جزوی طور پر عدم موجود تھی یا بعد ازاں جزوی طور پر ناقص ہو گئی، تو وہ رقم، جو اس دستخط کنندہ سے براہ راست متعلق حامل، وصول کرنے کا حق دار ہے، حسب تناسب کم ہو جائے گی۔

وضاحت:

مبادلہ ہنڈی کا نویسندہ قبولندہ سے براہ راست تعلق میں آتا ہے۔ درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کا تیار کنندہ وصول کنندہ سے براہ راست تعلق میں آتا ہے اور تصدیق کنندہ اپنے مصدق الیہ سے۔ دیگر دستخط کنندگان معاہدے کی رو سے حامل (ہولڈر) سے براہ راست تعلق میں آتے ہیں۔

مثال:

اے نے بی کے نام 500 روپے کی ہنڈی تیار کی جو اے کی ہدایت پر بی کو قابل ادائیگی ہے۔ بی نے ہنڈی کو قبول کر لیا، مگر بعد ازاں اس نے اس پر ادائیگی نہیں کی۔ اے نے ہنڈی کے حوالے سے بی پر مقدمہ کر دیا۔ بی نے عدالت میں ثابت کر دیا کہ اسے 400 روپے کی رقم کے عوض مدعی کو سہولتی ہنڈی کے بطور بقایا جات کی مد میں قبول کیا گیا تھا۔ تو اس صورت میں اے صرف 400 روپے وصول کرنے کا حق دار ہو گا۔

غیر مالی اعتباری رقعے کی جزوی تنقیص. — جب کسی اعتباری رقعے کا کوئی جز – جو مبنی بر رقم نہ ہو – جس پر کسی فرد نے درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کے طور پر دستخط کیے ہوں، تبعی تحیق کے بغیر رقم کی شکل میں ascertainable ہو، اور جز ہذا میں نقص پایا جائے، تو وہ رقم، جو اس دستخط کنندہ سے براہ راست متعلق حامل، وصول کرنے کا حق دار ہے، حسب تناسب کم ہو جائے گی۔

45الف. گم شدہ ہنڈی کے بدلے حامل کا حق طلب برائے نقل ہذا. — جب کوئی مبادلہ ہنڈی زائد المعیاد ہونے سے قبل گم ہو جائے، تو رقعہ ہذا کا حامل اس کے نویسندہ سے – اگر درکار ہو تو – نویسندہ کو ضمانت فراہم کرنے پر کہ وہ گم شدہ بل کے دوبارہ ملنے کی صورت میں اسے ان تمام افراد کے خلاف ہرجانہ ادا کرے گا، اس کی بعینہ نقل طلب کر سکتا ہے۔

اگر تذکرہ بالا کی ذیل میں نویسندہ ہنڈی کی نقل دینے سے انکار کرے، تو اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

باب چہارم

لین دین سے متعلق

سپردگی . — درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک کی تیاری، قبولیت یا توثیق سپردگی کے ذریعے تکمیل  پائے گی خواہ یہ حقیقی ہو یا تعبیری۔

براہ راست متعلق فریقین کی صورت میں سپردگی اس وقت موثر ہو گی، جب فریق یا اس کی جانب سے کوئی مجاز شخص، اعتباری رقعے کو تیارکرے، قبول کرلے یا اس کی توثیق کر دے،

ایسے فریقین اور، معمول کے طریقے کے تحت حامل کے علاوہ، اعتباری کاغذ کے کسی بھی دیگر حامل کے مابین، دکھایا جا سکتا ہے کہ اعتباری کاغذ کو مشروط طور پر سپرد کیا گیا تھا، یا صرف کسی ایک خاص مقصد کے، اور متعلقہ ملکیت کا قطعی انتقال اس کا مقصد ہر گز نہیں تھا۔

حامل ہذا کو قابل ادائیگی درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک سپردگی کے بعد قابل لین دین ہے۔

عندالطلب قابل ادائیگی درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک پر حامل ہذا توثیق اور سپردگی کے بعد لین دین کر سکتا ہے۔

سپردگی پر لین دین. — دفعہ 58 کے تحت، حامل ہذا کو قابل ادائیگی درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک سپردگی پر قابل لین دین ہے۔

استثنی. — ایک درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک جو اس شرط پر سپرد کیا جائے کہ یہ اس وقت تک موثر نہیں ہو گا جب تک ایک خاص واقعہ نا قابل لین دین رہے، (با این استثنیٰ کہ شرط ہذا کے نوٹس کے بغیر کسی حامل کے پاس بطور ایک قدر کے ہو) الا یہ کہ وہ واقعہ ظہور پذیر ہو جائے۔

مثال:

اے، جو حامل رقعہ کو ادائیگی کے قابل رقعہ زر کا اصل مالک ہے، جب اسے بی کے ایجنٹ کے حوالے کرتا ہے کہ وہ اسے بی کے لیے اپنے پاس رکھے، تو لین دین تکمیل کو پہنچ گیا۔

اے، جو حامل رقعہ کو ادائیگی کے قابل رقعہ زر کا اصل مالک ہے، جو کہ اے کے بینکر کی تحویل میں ہے، جو اس وقت بی کا بینکر ہے، بینکر کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ رقعہ زر کو اپنے پاس بی کے کھاتے میں، بی کو منتقل کر دے ۔ بینکر ایسا ہی کرتا ہے، اور بہ طریق معمول بی کے ایجنٹ کی حیثیت سے اب رقعہ زر اس کی تحویل میں ہے۔ تو لین دین تکمیل کو پہنچ گیا، اور بی اس کا مالک بن گیا۔

لین دین بذریعہ توثیق. — دفعہ 58 کے تحت عندالطلب قابل ادائیگی ایک درشنی ہنڈی، مبادلہ ہنڈی یا چیک حامل (ہولڈر) کے ذریعے توثیق اور سپردگی پر – بیان ہذا کی رو سے – قابل لین دین ہے۔

صرف بذریعہ دستخط توثیق کی مفصل توثیق کی شکل میں تبدیلی. — جب ایک رقعہ لین دین کی توثیق صرف دستخط کے ذریعے کی گئی ہو، تو کوئی بھی حامل اپنے نام سے دستخط کیے بغیر، توثیق کنندہ کے دستخط کے اوپر ہدایت درج کرنے کے ذریعے کہ رقم ہذا اسے یا کسی اور شخص کو اس کی ہدایت پر ادا کی جائے توثیق بذریعہ دستخط کو مفصل توثیق میں تبدیل کرسکتا ہے؛ اور صورت ہذا میں حامل پر ایک تصدیق کنندہ کی ذمے داری عائد نہیں ہو گی۔

 


End