BBC Special Report on Evil Eye in Urdu

’نظر بد ماورائی قوتوں میں خطرناک ترین طاقت‘


ترجمہ وتدوین ضُحٰی خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز

zoha@nayrang.com


روئے ارض پر غالباً سب سے پراسرار مہلک قوتوں میں نظر بد کو تمام قوموں میں سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کوبالٹ سے نیلے رنگ میں آنکھوں کی شکل میں تراشیدہ گنڈے ترکی کے بازاروں سے لے کر دنیا کے ہر خطے میں دست یاب ہیں۔ گزشتہ عشرے میں نظر بد کے استعارے بڑے پیمانے پر فیشن کی دنیا میں استعمال ہوئے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ نظر بد کے نظریے کو یکایک قبولیت عام حاصل ہو رہی ہے مگر حقیقت یہ


https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Eye_Horus_Louvre_Sb3566.jpg


ہے کہ ہزاروں سال سے نظر بد کی ’حقیقت‘ انسانی اذہان میں موجود رہی ہے۔ شام میں تلبراک کے مقام پر کھدائی کے دوران ساڑھے تین ہزار سال سے زائد قدیم مٹی سے بنے آنکھوں کے روپ میں تراشیدہ مجسمے دریافت ہوئے ہیں۔ نظر بد کی ابتدا کو سمجھنے کے لیے تعویذ برائے نظر بد اور اور بذات خود نظر بد کے مابین تفاوت کو سمھنا ناگزیر ہے۔ اگرچہ نظر بد کے تعویذ یا گنڈے کو بھی نظر بد ہی کہہ کر پکارا جاتا ہے مگر آنکھ کی شکل میں تراشیدہ بیضوی گنڈے دراصل نظر بد کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جس کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ اس کے مہلک اثرات زیادہ تر حسد بھری نظر کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ نظر بد کے یہ گنڈے ہزاروں سالوں سے دنیا کی ہر اقوام میں موجود رہے ہیں مگر نظر بد کا نظریہ یا قیاس اتنا قدیم ہے کہ اس کی قدامت اور اس مقام کا پتہ چلانا جہاں سے اس نے جنم لیا آج ناممکنات میں سے ہے۔ قدیم مصر میں ’ہارس دیوتا کی آنکھ‘ فراعین کے ساتھ دفن کی جاتی تھی تا کہ وہ انہیں اخروی حیات میں بدی کی قوتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ بنیادی طور پر نظر لگنے کا تصور کچھ خاص پیچیدہ نہیں اور لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر کوئی شخص زبردست کام یابی یا شہرت حاصل کر لے تو پھر اسے اپنے ارد گرد موجود حاسدین سے نظر لگ سکتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی کام یابیوں کو گہن لگ جاتا ہے۔


’. . . جب کوئی انسان کسی خوب صورت ترین چیز کو حسد کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہاں ماحول میں ایک نوعیت کی منفی قوت پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی نظر میں موجود زہر اس کے نزدیک موجود کسی بھی شے میں سرایت کر جاتا ہے – ایتھیوپیکا – ہیلی ڈورس آف ایمیزا . . .‘


ہمصہ انسانی ہتھیلی کی شکل میں تراشیدہ ایسا تعویذ ہے جس کے درمیان میں ایک آنکھ بنی ہوتی ہے اور جسے یہودی، عیسائی اور شمالی افریقا اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان نظر بد سے بچنے کے لیے گلے میں لٹکائے رہتے ہیں۔


https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Playas_del_Rinc%C3%B3n_de_la_Victoria.jpg


نظر بد کا نظریہ ہزاروں سال قدیم ہے اور معروف قلم نگار فریڈرک تھامس ایل ورتھی کے مطابق نظر بد کا تصور یونان کے علاوہ آئرلینڈ کی مقامی داستانوں تک میں موجود ہے جہاں اس طاقت کے حامل لوگ محض نظر واحد ڈال کر گھوڑوں کو سحر زدہ کر سکتے ہیں۔ درحقیقت یہ تصور دنیا کے تقریباً ہر مذہب اور معاشرے میں پایا جاتا ہے اور دنیا کے مختلف معاشروں میں لوگوں کا ماننا ہے کہ نیلی آنکھوں والے سب سے زیادہ نظر لگا سکتے ہیں۔ نظر بد کا تصور محض کوئی قیاس آرائی یا توہم پرستی نہیں کیوں کہ دنیا کے معروف ترین دانشوروں نے اس امر کی تصدیق کی ہے۔ چناں چہ مشہور یونانی فلسفی پلٹارک نے نظر بد کی سائنسی توجیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والی شعاعیں نکلتی ہیں جو بسا اوقات اتنی طاقت ور ہوتی ہیں کہ ان کی شدت سے معصوم بچے اور چھوٹے جانور تک جان سے جا سکتے ہیں۔ پلٹارک کا ماننا ہے کہ دنیا کی بعض قومیں نظر بد کی زبردست طاقت رکھتی ہیں اور اس سلسلے میں اس نے بحر اسود کے جنوبی حصے میں آباد لوگوں کا حوالہ دیا ہے جو نہایت سرعت کے ساتھ نظر لگا سکتے ہیں۔ چوں کہ بحیرہ روم کے نزدیکی علاقوں میں نیلی آنکھوں والے افراد بہت کم پیدا ہوتے ہیں اس لیے وہاں یہ نظریہ عام ہے کہ ایسے لوگ نظر بد لگانے کی زبردست صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔


’. . . جنوبی شام کے علاقے فنیقیہ میں آباد سامی قوم کے افراد (فونیشائی) نظر بد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی مالائیں گلے میں پہنتے تھے جن پر آنکھوں کے نقش بنے ہوتے تھے . . .‘


اگرچہ نظر بد کے تصورات میں یہ نظریہ عام ہے کہ کچھ خاص لوگوں میں یہ صلاحیت دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اس تصور کا


https://pixabay.com/photos/dollar-pyramid-currency-finance-463382/


موروثی نحوست کے تصور سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کے بعض ممالک میں نظر لگانے کی صلاحیت کو بذات خود ایک بد نصیبی باور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پولینڈ کی مقامی داستانوں میں ایک ایسے انسان کا تذکرہ ہے جس نے دوسرے انسانوں کو اپنی اس مہلک ترین صلاحیت سے محفوظ رکھنے کے لیے بالآخر اپنی ہی آنکھیں خنجر سے نکال دیں۔ چوں کہ نظر بد کا تصور صدیوں سے لوگوں کے دلوں میں اترا ہوا ہے اس لیے کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آج دنیا بھر میں اس مہلک اثر سے ’بچانے‘ کے گنڈے جا بجا دست یاب ہیں اور تقریباً ساڑھے تین ہزار قبل مسیح تک میں ایسے تعویذ اور گنڈوں کا سراغ ملا ہے۔


’. . . قدرت کی آنکھ – فری میسن گروہ کی نظر میں خدا کی ہر جگہ موجودگی کی علامت ہے جسے امریکی ڈالر کی پشت پر بھی چھاپا گیا ہے . . .‘


https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Nazar_boncu%C4%9Fu_tailfin.jpg


معروف عرب تاریخ دان یلدران کے مطابق قدیم ترک قبلیوں کو نیلے رنگ سے گہرا لگاؤ تھا اور وہ اسے اپنے عقائد کے مطابق آسمانی دیوتا کی علامت سمجھتے تھے۔ آج بھی ترکی میں نوزائیدہ بچوں کو نظر بد سے بچانے کے لیے آنکھ کی شکل میں بنا گنڈا تحفتاً دیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نیلی رنگ میں تراشیدہ نظر بد سے محفوظ رکھنے کے گنڈے فونیشائی، آشوری، یونانی، رومی اور حیرت انگیز طور پر سلطنت عثمانیہ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے ہیں۔ اگرچہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں تجارتی وسائل اور سلطنتوں کی توسیع کے نتیجے میں اس نوعیت کے تعویذ وہاں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے مگر آہستہ آہستہ انہوں نے وہاں سے دنیا کے دوسرے خطوں میں پھیلنا شروع کیا۔ اصل حیرت کی بات ان آنکھ نما گنڈوں کی ہزاروں سال سے دنیا میں موجودگی نہیں بلکہ یہ امر ہے کہ آج جدید دور میں ان کے استعمال کا انداز بدل گیا ہے مثلاً آج بھی ہر دیکھنے والی آنکھ مصر اور اٹلی کے جہازوں پر مختلف رنگوں سے بنی آنکھیں دیکھ سکتے ہیں جو ان کے خیال میں جہازوں کی حفاظت کی ضامن ہیں اور اسی طرح آج تک ترکی میں نومولود بچوں کو نیلی آنکھوں کی طرح تراشیدہ گنڈے نظر بد سے بچانے کے لیے ہدیہ کیے جاتے ہیں جس کے پیچھے یہ عقیدہ کار فرما ہے کہ سب سے زیادہ نظر چھوٹے بچوں اور بالخصوص لڑکوں کو لگتی ہے۔ اگرچہ نظر بد کا تصور اور اس سے محفوظ رکھنے والے آنکھوں کی شکل میں تراشیدہ نیلگوں گنڈے دنیا کی ہر قوم اور مذہب میں ملتے ہیں مگر ان کی تاریخ نہایت قدیم ہے اور ان کا تعلق کسی ایسے بنیادی عقیدے سے ہے جو انسانی تہذیب کے آنکھ کھولتے ہی اس کے ساتھ وابستہ رہا ہو گا۔