Best Urdu Sci Fi Story

میں پیشہ ور قاتل ہوں میری بیوی اداکارہ

میں ایک پیشہ ور قاتل ہوں۔ بوبی کا سراپا کھینچنے کے لیے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے ’امی کا بیٹا‘۔ بوبی کی عمر اگر چہ 32 سال ہے مگر وہ اپنی ماں کے دامن سے کسی ’بالغ شیر خوار‘ کی طرح بندھا رہتا ہے۔ اگرچہ اس کا سر بالوں سے بالکل عاری ہے مگر اس سے بھی اس کی شخصیت کے اس روپ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بوبی کے چمرخ چہرے پر جھریاں سی پڑی ہیں اور اس کے پوری طرح نشو نما نہ پانے والے چہرے کو دیکھ کر دودھ کی بو آتی ہے۔ بوبی ایک لمحہ بھی حقیقی دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ بوبی ہر وقت یاسیت میں مبتلا رہتا ہے اور اس کی آنکھوں کے نیچے پڑے گہرے سیاہ حلقے تھکن کے علاوہ کسی اور ہی بات کا پتہ دیتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ کچھ دنوں تک صبح گیارہ بجے سو کر اٹھتا تھا اور اپنے قدموں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے کھانے کے کمرے میں جاتا تھا جہاں اس کی پیار کرنے والی ماں نے اس کے لیے گرما گرم ناشتہ تیار کیا ہوتا تھا۔ بوبی ناشتے کو بھوکے اور دیوانے سور کی طرح اپنے وجود میں ٹھونسنے کے بعد واپس اپنے کمرے میں چلا جاتا تھا جہاں وہ سارا دن ایک ڈیسک پر گزارتا تھا۔ اس دوران وہ احمقوں کی طرح اپنے بھدے کانوں پر بڑا سے ہیڈ فون چڑھائے کمپیوٹر کی اسکرین کو تکتا رہتا تھا۔ بوبی نے اپنی زندگی میں کبھی ایک گھنٹہ بھی ملازمت نہیں کی تھی اور اس کی زندگی مردوں سے بھی بد تر تھی۔ بوبی زندگی کے دامن پر صرف ایک دھبہ تھا۔ ایک زمانہ قبل تاریخ کی جونک جو معاشرے کی رگ سے چمٹی ہوئی تھی۔ بوبی کے تصور سے بھی مجھے متلی ہوتی تھی۔ مگر میں نے اپنا ذہن پوری طرح بنا لیا تھا۔ چناں چہ میں نے اپنی جیب سے اپنا گھٹیا ترین موبائل نکالا اور تیزی سے میسج کر دیا۔ ’ڈیل ‘۔ کچھ ہی دیر بعد میرے فون کی گھنٹی بجی جہاں ایک پیغام میرا منتظر تھا۔ ’تمہارا شکریہ۔ ڈیل کے مطابق نصف رقم تمہارے بتائے ہوئے اکائونٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔ باقی نصف رقم کام ختم ہونے کے بعد تمہیں مل جائے گی‘۔ اس بات کی تصدیق کے بعد کہ 10 ہزار ڈالر میرے اکائونٹ میں آ چکے ہیں میں نے ایک آخری میسج روانہ کیا۔ ’کام آج رات ہو جائے گا‘۔ اس شام دیر گئے جب بوبی کی ماں فٹنگ کلاسز لینے چلی گئی میں بوبی کے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ احمقوں کی طرح بیٹھا اپنے کمپیوٹر کی اسکرین کو گھور رہا تھا میرے ہاتھوں پر دستانے چڑھے ہوئے تھے اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک پتلی سے ڈوری کو کھینچ کر تھاما ہوا تھا۔ میں آہستہ آہستہ بلی کے قدموں سے بوبی کی طرف بڑھا۔ میرا اور اس کا درمیانی فاصلہ گز بھر کا تھا مگر اس کے جسم سے اٹھتی بد بو نا قابل برداشت تھی۔ اچانک میرے دماغ میں ابھرنے والے ایک اشارے نے میرے قدم روک دیے۔ میری حلق سے ابکائی کی آواز کے ساتھ گالیاں ابل پڑیں۔ بوبی نے فوراً گردن گھما کر مجھے دیکھا مگر اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور اس نے یک لخت کہا ’پاپا آپ‘۔ اس کی زرد سرخی آمیز آنکھیں میرے ہاتھوں میں موجود رسی کے ٹکڑے پر پڑیں اور اس نے کہا ’آپ کے ہاتھ میں رسی کیوں ہے؟ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر میں نے رسی کا پھندا بنا کر اس کی گینڈے جیسے غلیظ گردن میں ڈالا اور پھر دونوں سرے پوری طاقت سے کھینچ لیے۔ اس دوران اس کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں اور انتہائی نا گوار بو کمرے میں پھیل گئی تھی۔ مگر وہ کچھ دیر بعد اپنی غلیظ زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا۔ کام پورا ہونے کے بعد میں نے بوبی کی لاش کو چھت میں لگے پنکھے سے لٹکا دیا اور وہاں سے نکلنے سے پہلے ہر اس بات کو یقینی بنایا جس سے یہ موت محض ایک خود کشی ثابت ہو مگر یہ صرف وقت کا ضیاع ہی تھا کیوں کہ کسی کو بھی اس کی موت یا زندگی سے کوئی دل چسپی نہیں تھی اور یہ بات مجھے اچھی طرح پتہ تھی- جب میری بیوی نے بوبی کی لاش کو دریافت کیا تو اس کی سکسیاں اور آہیں کئی دنوں تک نہیں رکیں اور جب وہ میرے شانے پر سر رکھے رو رہی تھی تو میں نے اسے پورے خلوص سے دلاسہ دیا مگر میں سوچ رہا تھا کہ اب بوبی کے خالی کمرے میں میری بلیئرڈ ٹیبل آرام سے آ جائے گی مگر کوئی نہ کوئی چیز مجھے پھر بھی پریشان کر رہی تھی۔ اگر چہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا مگر میں پھر بھی سوچ رہا تھا کہ بوبی کے قتل میں کون دل چسپی لے سکتا ہے۔ بوبی کبھی گھر سے باہر نہیں جاتا تھا اور میرا خیال ہی کوئی عقل سے عاری شخص ہی بوبی سے پیچھا چھڑانے کے لیے 20 ہزار ڈالر خرچ کر سکتا ہے مگر کیا یہ محض اتفاق کی بات تھی؟ نہیں- ہو سکتا ہے جو شخص اسے مروانا چاہتا تھا وہ اس کا کوئی آئن لائن دوست ہو؟ مگر مجھے اس بات پر بھی شبہ تھا- محض ایک امکان کی بنیاد پر میں نے اپنی بیوی اور اپنا مشترکہ اکائونٹ چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری آنکھیں یہ دیکھ کر حیرت سے پھٹ گئیں کہ ایک دن پہلے اس اکائونٹ سے 10 ہزار ڈالر میرے نجی اکائونٹ میں منتقل کیے گئے تھے- مگر میرا سینہ فخر سے پھول کر چوڑا ہو گیا۔ بے شک میری بیوی ایک غضب کی اداکارہ ہے۔

ختم شد