Bronze Cross

کانسی کی صلیب

یہ 1988 کی بات ہے اور اس وقت غضب کی گرمی پڑ رہی تھی۔ مجھے گرمی کی عادت نہیں۔ پورٹ لینڈ میں زندگی جیسے تیسے گزر رہی تھی کہ ماما مجھے اپنے ساتھ ہمارے آبائی قصبے میں گھسیٹ لائیں۔ ہمیں یہاں سے گئے صرف 5 سال ہوئے تھے اور یہ ایک بہت گرم علاقہ ہے۔ ہم لوگ اس شدید گرمی کے لیے تیار نہیں تھے اور ہم نے پورٹ لینڈ کے موسم کے مطابق گرم اور موٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور یہاں لوگ ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ اگرچہ میں یہیں پیدا ہوئی ہوں مگر فریسنو قصبہ مجھے کبھی اپنے گھر جیسا نہیں لگا کیوں کہ مجھے سرد موسم پسند ہے اور گرمی بالکل برداشت نہیں ہوتی۔  مما کے پاس یہاں آنے اور مجھے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لانے کی معقول وجہ تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں وہاں سے فرار ہونا پڑا کیوں کہ میرے سوتیلے باپ کا سلوک نا قابل برداشت ہو گیا تھا۔ وہ ایک بد ترین ذہنی مریض تھا اور غصے پر قابو رکھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر آج کا دور ہوتا تو شاید اس کا علاج ممکن تھا، مگر وہ میرے بچپن کا دور تھا اور ’ڈیڈ‘ اس وقت میرے لیے ایک عفریت سے کم نہیں تھا۔ آج ایسا لگتا ہے جیسے اس وقت مما اور میں کسی بھیانک خواب میں زندہ تھے۔  ہم اس وقت پورٹ لینڈ میں اپنے گھر سے نکلے جب میرا سوتیلا باپ کام پر گیا ہوا تھا۔ مما اور نانی نے بہت تیزی سے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ ہم نے کام کی ہر چیز بڑے بڑے تھیلوں میں بھری اور نانی کی بڑی وین میں ٹھونس دی۔ یہ وہی وین تھی جس میں ہم فریسنو سے یہاں آئے تھے۔ یہ گاڑی ڈاج کا ایک  پرانا ماڈل تھا اور اس میں اے سی تک نہیں تھا اور جیسے جیسے ہم سان جواکن کی وادی میں اپنے آبائی گھر کی طرف بڑھتے گئے سفر گرم سے گرم تر ہوتا گیا۔  مما کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ڈیڈ کا اس حرکت پر کیا رد عمل ہو گا۔ وہ ایک ہفتے سے خاموشی سے بیٹھ کر اپنی بندوقیں صاف کر رہا تھا اور انہیں دیکھ دیکھ کر ہمارا خون خشک ہوا جا رہا تھا۔ اس لیے مما نے ذرا بھی رسک لینا مناسب نہیں سمجھا۔ مما کو اس وقت اپنا آبائی علاقہ کسی قلعے کی طرح محسوس ہوا اور وہ اپنی تینوں نو عمر بیٹیوں کو لے کر یہاں بھاگ آئیں۔  نانی کے گھر میں زیادہ جگہ نہیں تھی اور ہمیں مسلسل خوف تھا کہ ہمارا سوتیلا باپ ہمارا پیچھا کرتے یہاں بھی پہنچ جائے گا۔ دروازے پر ذرا سی آہٹ سے ہمارا دل حلق میں آجاتا تھا۔ مما کی فیملی کافی بڑی تھی اور بہت ساری خالائوں اور کزنز کے ساتھ رہنے سے ہمیں کافی تقویت ملی؛ مگر لمحے لمحے پر ہمیں یاد آتا تھا کہ خطرہ کسی وقت بھی ہمارے سروں پر آ سکتا ہے اور یہ خوف رات کے وقت اپنے عروج پرپہنچ جاتا تھا۔ ماما چاہتی تھیں کہ رات کے وقت گھر کا ہر دروازہ اور کھڑکی بند کر دی جائے؛ مگر کیلی فورنیا کے اس وسطی علاقے میں گرمی نا قابل برداشت تھی؍ اور اس وقت نا قابل برداشت ترین ہو جاتی تھی؍ جب مجھے ایک ہی کمرے میں اپنی دو بہنوں اور تین کزنز کے ساتھ سونا پڑتا۔  اس رات میں نے اور میری بہن یانسی نے مما سے کہا کہ وہ ہمیں گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کمرے میں سونے دیں۔ مما کے کمرے میں ایک کھڑکی تھی جو وہ ذرا سے کھلی رکھتی تھیں اور اس رات ہم بہنیں ٹھنڈی ہوا کے لیے مری جا رہی تھیں۔ ہمارا دل رکھنے کے لیے مما راضی ہو گئیں مگر ایک ’بھیانک‘ شرط پر۔ مما نے کہا کہ ہم تینوں بہنیں پہلے نہائیں گی اور پھر ایک دوسرے سے لڑے بغیر انہیں ہمارے بال سلجھانے دیں گی۔ یہ کوئی آسان شرط نہیں تھی۔ ہم بہنوں میں صرف دو دو سال کا فرق تھا اور آپ کو پتہ ہے کہ اوپر تلے کے بچے کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم تینوں کے بال بہت الجھے ہوئے بھی تھے جیسا کہ 80 کی دہائی میں زیادہ تر بچوں کے بال ایسے ہی نکلے تھے۔ چناں چہ رات ہوتے ہوتے ہم تینوں کے بال اس طرح الجھ چکے ہوتے تھے، جنہیں سلجھانا کسی سزا سے کم نہیں تھا اور ہم تینوں کا کنگھے کے نام سے ہی دم نکل جاتا تھا۔ مما گزشتہ 10 سالوں سے ہر شب اس صبر آزما مرحلے سے گزرتی آ رہی تھیں؍ مگر اس رات مما کے کمرے میں سونے کی خواہش اتنی زیادہ تھی کہ ہم تینوں نے خاموشی سے مما کی بات مان لی۔  نہانے کے بعد جب مما ہمارے بال سلجھا رہی تھیں تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ہمیشہ کے لیے میرے ذہن میں پیوست ہو گیا۔ میں آلتی پالتی مارے فرش پر بیٹھی تھی اور مما میرے لٹیں سنوار رہی تھیں کہ یکایک دیوار پر ٹنگی کانسی کی صلیب کمرے کے وسط میں ہم سے تھوڑا سا دور زمین پر آ گری۔  ہم لوگ مذہبی نہیں تھے اور مما کبھی کبھار ہمیں زبردستی مختلف گرجا گھروں میں لے جاتی تھیں۔ ہمارے ذہنوں میں مذہب کا تصور بالکل واضح نہیں تھا۔ ہم لوگ زبردستی ایک یا دو اتواریں گرجا کا رخ کرتے تھے اور پھر غائب ہو جاتے تھے۔ مما ہمیں طرح طرح کے گرجائوں میں لے کر گئیں؛ مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کبھی بھی کیتھولک چرچ میں قدم نہیں رکھے؍ چناں چہ مجھے اس فرقے کی پراسرار عبادات اور رسومات کا کچھ علم نہیں تھا۔ میں کیتھولک مذہب سے اتنا ہی واقف تھی جتنا ایگزورسسٹ فلم میں دکھایا گیا ہے۔ میں مما کے کمرے میں ٹنگی اس صلیب پر پہلے ہی متعجب تھی کیوں کہ مجھے ایک چھوٹی سی صلیب بھی غیر ضروری چیز لگتی تھی اور اس کے علاوہ کسی انسان کو صلیب دینے کا تصور میرے لیے نہایت ہی دہشت ناک تھا اور میں نہیں چاہتی تھی کہ صلیب پر بچوں کے سامنے اتنا بھیانک نظارہ پیش کیا جائے۔ اگر چہ میری پرورش میں مذہب کا عمل دخل نہیں تھا، مگر میں 80 کی دہائی کی ساری ڈرائونی فلمیں دیکھ چکی تھی۔ میرا سوتیلا باپ فلموں کا دیوانا تھا اور ہارر فلمیں اس کی مرغوب ترین غذا تھیں۔ ہم لوگ ہر ہفتے ایک نئی فلم دیکھتے تھے۔ ڈیڈ کے پاس ایک بہت شان دار وی سی آر تھا جس پر با قاعدگی سے ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔ چناں چہ اسکول کے بعد جب ہمارے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا تھا تو ہم الماری سے کوئی بھی کیسٹ نکال کر پہلے سے دیکھی ہوئی فلم دوبارہ دیکھا کرتے تھے؍ جو عام طور پر انتہائی خوف ناک ہوتی تھیں؛ مگر اس طرح میں بہت کم عمری ہی میں حقیقت کو افسانے سے جدا کرنے کے قابل ہو گئی اور مجھے کسی طرح کی فلم دیکھتے ہوئے کچھ نہیں ہوتا تھا اور حالت یہ تھی کہ ’ایلین‘ کا عفریت مجھے اپنا پالتو جانور لگا کرتا تھا؛ مگر ہاں مافوق الفطرت فلمیں میرے اعصاب پر ضرور اثر ڈالتی تھیں اور ’پولٹر جی اسٹ‘ کے مناظر آج بھی رات کی تاریکی میں میرا پتہ پانی کر دیتے ہیں۔  چناں چہ جب وہ صلیب دیوار سے زمین پر گری تو میرا پیشاب خطا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ میرے ذہن میں فلموں کے آسیب زدہ مناظر گھوم رہے تھے اور ہم سب کچھ دیر کے لیے گویا پتھر کے بت بن گئے۔ اس دوران مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی میری رگوں سے خون نچوڑ رہا ہو اور میرا رنگ لٹھے کی طرح سفید ہو گیا تھا۔ میرے جسم کا رواں رواں کھڑا ہو چکا تھا اور خوف کے مارے دماغ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دی تھی۔ مجھے لگا جیسے اس رات کوئی بھیانک ترین واقعہ پیش آنے والا تھا، مگر میری عمر اس وقت وجدان کے اشاروں کو سمجھنے کی نہیں تھی۔  مما نے ہر چند ہمارا خوف کم کرنے کی کوشش کی۔ مما نے اس صلیب کے گرنے کی منطقی وضاحت پیش کی، مگر جب اس سے کام نہیں چلا تو انہوں نے وی سی پر ہمارے پسندیدہ کارٹون لگا دیے اور کچھ دیر بعد سارا واقعہ ہمارے کچے ذہنوں سے محو ہو چکا تھا۔  اس رات میری خالہ اور نانی کہیں گئی ہوئی تھیں اور انہیں دوسرے روز واپس آنا تھا۔ مما نے میرے کزنز برانڈن اور جان کا خیال رکھنا تھا۔ وہ دونوں ہمارے ہی ہم عمر تھے اور ہمارے ساتھ ہی کمرے میں سویا کرتے تھے۔ جب میری سب سے چھوٹی بہن مورگن سو گئی تو مما نے اسے جھولے میں برانڈن اور جان کے کمرے میں لٹا دیا۔ اس کے بعد مما نے سارے گھر کا جائزہ لیا اور تمام دروازے اور کھڑکیاں مقفل کر دیں؛ البتہ انہوں نے اپنے کمرے کی کھڑکی ایک لکڑی کی مدد سے مٹھی بھر کھلی چھوڑ دی۔ ہمارے ذہنوں سے سارا خوف اتر چکا تھا اور ہم دونوں بہنوں نے حسب معمول ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی شروع کر دی۔ کمرے میں ہمارے قہقہے گونج رہے تھے۔ جلد ہی ٹھنڈی ہوا نے ہمیں ہوش و حواس سے بے خبر کر دیا۔ اچانک دروازے پر شدید دھڑدھڑاہٹ سے ہماری آنکھ کھل گئی۔ خوف سے ہمارا برا حال تھا اور مما نے ہم سے کپڑے ٹانگنے والے چھوٹے کمرے میں چھپ جانے کا کہا۔  ’کون ہے؟ ماں نے چیخ کر پوچھا۔  مگر کسی نے جواب نہیں دیا؍ البتہ دروزے پر گھونسوں کی برسات میں اضافہ ہو گیا۔  ’کون ہے ۔ ۔ ۔ ‘ مما اس بار بری طرح چیخیں۔  مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں ملا اور دھڑدھڑاہٹ کی شدت سے ایسا لگ رہا جیسے کچھ ہی دیر جاتی ہے کہ دروازہ قبضوں سمیت دیوار سے اکھڑ کر اندر آ گرے گا۔  اب مما بری طرح رو رہی تھیں۔ انہوں نے گلو گیر آواز میں کہا کہ کون ہے اور یہ کہ وہ جو بھی ہے وہاں سے واپس چلا جائے۔  اس بار کسی نے باہر سے سرگوشی کی ’سوری ٹینا آنٹی۔ یہ ہم ہیں مائک اور ٹامی۔‘ یہ دونوں بھی میرے کزن تھے اور اکثر یہاں رکنے آتے رہتے تھے۔ مما نے انہیں اندر آنے دیا اور مائک نے بار بار معذرت کی۔ دراصل اس نے ٹامی کو خود سے پہلے یہاں بھیج دیا تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ نانی گھر پر ہیں اور دروازہ حسب معمول کھلا ہوا ہو گا۔ نانی ہمیشہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھتی تھیں اور مائک اور ٹامی کو پتہ نہیں تھا کہ مما نے گھر کو ’قلعہ بند‘ کیا ہوا ہے۔ ٹامی ایک جوان لڑکا تھا اور وہ مجھے خود سے بہت بڑا لگتا تھا۔ اس کی عادت زیادہ تر خاموش رہنے کی تھی؛ مگر وہ ایک نفسیاتی عارضے ’ڈائون سنڈروم‘ میں مبتلا تھا اور اندر سے اس کا ذہن میرے جتنا ہی تھا۔ چناں جب یہاں آنے پر اسے خلاف معمول دروازہ بند ملا تو وہ بری طرح گھبرایا گیا اور کچھ نہ سمجھ آنے پر اس نے بے طرح دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ ایک بے ضرر سی غلط فہمی تھی اور ساری بات جان کر مما کی جان میں جان آئی۔  میں اور میری بہن کلوزیٹ سے باہر آئے اور مما نے مائک اور ٹامی کو بتایا کہ نانی کل تک کے لیے قصبے سے باہر گئی ہوئیں ہیں۔ اس کے بعد مما نے انہیں ڈنر کرایا اور ہم دونوں بہنوں سے جا کر دوبارہ سونے کا کہا؛ مگر ہم دونوں نے تاریک کمرے میں اس صلیب کے ساتھ سونے سے صاف انکار کر دیا، چناں چہ ماں نے مجبوراً ہم دونوں کو مائک اور ٹامی کے واپس جانے تک جاگنے دیا۔ ان دونوں کے جانے کے بعد ہم دونوں بہنیں مما کے ساتھ بستر میں لیٹ گئیں اور حیرت انگیز طور پر ہمیں فوراً نیند آ گئی۔ اس بار ہم کافی دیر تک اپنے خوابوں میں کھوئے رہے؍ مگر ہمیں ذرا پتہ نہیں تھا کہ اصل بھیانک خواب شروع ہونے والا ہے۔  ’اٹھو لڑکیوں اٹھو ۔ ۔ ۔ ! مما ہمیں بری طرح ہلاتے ہوئے نیند سے بیدار کر رہی تھیں۔ ’کوئی دروازے پر ہے ۔ ۔ ۔ ! ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔  ’شاید مائک اور ٹامی دوبارہ آ گئے ہیں۔‘ میں نے ایک جماہی لیتے ہوئے مما کو تسلی دی۔  ’یہ دھواں ہے؟ اوہ میرے خدا۔ یہ دھواں ہی ہے۔ اٹھو اٹھو۔ فوراً اٹھو۔‘ مما نے ہمارے اوپر سے باریک چادر کھینچی؍ اور ہمیں کمرے سے باہر لے آئیں۔ ہال کمرے میں گاڑھا گاڑھا دھواں بھر چکا تھا؍ جو چھت تلے موت کے کمبل کی طرح ہمارے سروں پر تن رہا تھا۔ میں اور میری بہن نے ایک چیخ ماری اور ہم دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ کچن میں یہاں سے بھی زیادہ گاڑھا دھواں بھرا ہوا تھا اور ہم دونوں جس کمرے میں روزانہ سوتے تھے وہاں سے مکروہ سرخ روشنی کی لپٹیں سی اٹھتی دکھائی دے رہی تھیں۔ میری چھوٹی بہن اور دونوں کزن اس کمرے میں سو رہے تھے۔ بھوکے دہکتے ہوئے شعلے اس کمرے کے دروازے پر سانپوں کی طرح لہرا رہے تھے اور ان کی آسیب زدہ پیاسی زبانوں نے بری طرح چھت کو چاٹنا شروع کر دیا تھا۔  ’اوہ میرے خدا رحم ۔ ۔ ۔ ! مما چلائیں اور ہم دونوں سے وہیں رکنے کو کہا۔ پھر وہ تیر کی طرح شعلوں کی طرف دوڑ گئیں۔ ہم دونوں بہنیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اپنی جگہ پر پتھر کے بتوں کی طرح ساکت کھڑے تھے۔ اس وقت ہم نے دروازے پر دھڑدھڑاہٹ سنی۔ یہ پہلے کی طرح شدید نہیں تھی؍ مگر اس میں ایک نوع کی یاسیت پنہاں تھی جیسے سمندر میں ڈوبتا کوئی دور کسی کشتی کی طرف بے صبری سے ہاتھ بڑھا رہا ہو۔ ہم دونوں بہنوں میں خوف کی وجہ سے ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ ’کیا خبر اس بار دروازے پر واقعی ہمارا سوتیلا باپ کھڑا ہو؟‘ ہم دونوں کے ذہن میں اس وقت صرف یہ ہی اندیشہ تھا۔  ہال کمرے میں شعلوں کی علاوہ ہلکی نیلی سی روشنی وہاں رکھے فش ٹینک سے آ رہی تھی اور اب یہ بھی دم توڑ رہی تھی۔ کمرے میں دھواں مزید گاڑھا ہو گیا تھا اور ہمارا دم گھوٹے دے رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہمارے حلق میں کانٹے اگ آئے ہوں اور آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئی تھیں۔  ’نہیں ۔ ۔ ۔ ‘ میں نے اپنی ماں کو چیختے سنا اور وہ ہال کمرے میں خالی ہاتھ دوڑتی ہوئی واپس آئی۔ دھوئیں کی مکروہ زبانیں مما کے بازو سے لپٹ رہی تھیں اور فش ٹینک کی نیلی روشنی سے ان کے چہرے پر کھدے دہشت اور پریشانی کے گہرے نقوش واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔  ’وہاں کمرے میں کوئی بھی نہیں ہے۔ کمرا بالکل خالی پڑا ہے۔‘ مما نے چیخ کر کہا اور پھر وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ جب وہ وہاں سے واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں جھاڑو کا ٹوٹا ہوا ڈنڈا تھا۔ انہوں نے چیخ کر مجھ سے کہا کہ میں کسی بھی صورت میں اپنی بہن کا ہاتھ نہیں چھوڑوں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے ہمیں فرار کے واحد راستے پر کھینچ لیا۔ گھر کے بیرونی دروازے کی طرف جہاں اب بھی تیز دستک ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا وہاں کون ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے وہاں جو عفریت کھڑا ہے وہ اس آگ سے بھی زیادہ خطرناک ہو؟ یک لخت مما نے دروازے کو کھینچ کر کھول دیا اور اس دوران وہ لکڑی کے ڈنڈے کو اپنے ہاتھ میں کسی ہتھیار کی طرح اٹھائے ہوئے تھیں ۔ ۔ ۔ مگر وہاں ہماری ہی طرح تین دہشت زدہ چہرے ہمارا منہ تک رہے تھے۔  برانڈن اور جان۔ برانڈن نے مورگن کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جب کہ اس کا بھائی جان اس کے برابر کھڑا تھا۔ وہ تنیوں بری طرح خوف زدہ تھے۔ مما نے سکون کی ایک سانس لی اور ڈنڈے کو زمین پر پھینک دیا۔ پھر انہوں نے مورگن کو گود میں لیا اور ہم بھڑکتے ہوئے شعلوں کی زد سے دور ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچے جا کھڑے ہوئے جس کے بعد مما پڑوس کے گھر میں 911 ڈائل کرنے کے لیے بھاگیں۔ ہمارے کپڑے دھویں سے سیاہ ہو رہے تھے اور آنکھیں آنسوئوں سے لبریز تھیں۔ جلد ہی ساری گلی آگ کے شعلوں سے روشن ہو گئی۔  ہم لا چارگی سے کھڑے اپنی آنکھوں سے اپنا ہی گھر جلتے دیکھ رہے تھے، مگر ہم انتہائی خوش نصیب بھی تھے۔ برانڈن کی شعلوں کو دیکھتے ہی آنکھ کھل گئی تھی اور اس نے نہایت عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجائے گھر کے اندر دوڑنے کے کمرے کی پچھلی کھڑکی سے مورگن اور اپنے بھائی کو ساتھ لے کر باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ دونوں بھاگتے ہوئے گھر کے پیچھے سے گھوم کر دروازے پر آئے اور اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ اگر انہوں نے دروازے کو نہیں پیٹا ہوتا تو ہماری اور مما کی آنکھ کبھی نہیں کھلتی اور ہم جل کر بھسم ہو چکے ہوتے۔ برانڈن نے ہم سب کی زندگیاں بچائی تھیں اور میں اس بات کے لیے ہمیشہ اس کی ممنون رہوں گی۔  بعد میں پتہ چلا کہ یہ آگ گھر میں بجلی کے خراب تاروں کی وجہ سے لگی تھی اور یہ میرے سوتیلے باپ نے نہیں سلگائی تھی۔  اگر چہ اس حادثے میں ہماری جانیں بچ گئیں؍ مگر ہمارے پاس اور کچھ نہیں بچا۔ اس آگ میں کانسی کی وہ صلیب بھی پگھل کر ختم ہو گئی۔ ہم نے کسی سے بھی اس رات صلیب گرنے والے واقعے کا تذکرہ نہیں کرا۔ مگر آج میں اس بارے میں بار بار سوچتی ہوں۔ کیا اس صلیب کا گرنا ہمارے لیے کوئی اشارہ تھا؟ کیا یہ اس بات کی گواہی تھی کہ اس کائنات میں اس دنیا کے علاوہ بھی ایک ما فوق الفطرت دنیا ہے؟ کیا یہ آگ کسی شیطان روح نے لگائی تھی یا پھر یہ محض ایک اتفاق تھا کہ وہ کانسی کی صلیب اسی رات دیوار سے زمین پر گری؛ جس رات بجلی کے تاروں نے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بھڑک اٹھنا تھا؟  آج میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس بارے میں کچھ سوچنے کی کوشش نہ کروں اور خاص طور پر ایک ڈرائونی فلم دیکھنے کے بعد ۔ ۔ ۔  میں اب بھی کوئی خاص مذہبی نہیں ہوں؍ مگر اب میرے گلے اور کمرے میں ہمیشہ ایک کانسی کی صلیب ٹنگی رہتی ہے۔  

ختم شد