Buddhist Monk Predicted Covid-19 One Century Ago? | Read in Urdu

’بدھ راہب کی صدی قبل کورونا وائرس کی پیش گوئی‘

گزشتہ دنوں نیرنگ نے کوروناوائرس سے متعلق ایک دل چسپ رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ معروف ناول نگار ڈین کونٹز کے تقریباً نصف صدی قبل تحریرکردہ ناول ’دی آئیز آف ڈارکنیس‘ – تاریکی کی آنکھیں – میں چین کے شہر ووہان میں ایک تجربہ گاہ سے کوروناوائرس سے مماثل جرثومے کے فرار اور پھر دنیا میں اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذکر ملتا ہے تاہم انٹرنیٹ پر اپنی مقبولیت کے انوکھے ریکارڈ قائم کرنے والی یہ خبر محض ایک پُراسرار اتفاق ہی تھا نہ کہ پیش گوئی مگر پیرانارمل جہات میں دل چسپی رکھنے والے حلقوں کی اس وقت حیرت کی انتہاء نہ رہی جب ایک ’قدیم ترین انٹرنل بائبل‘ نامی مبینہ ’دستاویز‘ میں ایک ’ڈاکٹر‘ نے زگونگ نامی کسی بدھ بھکشو کا تحریرکردہ پیراگراف ڈھونڈ نکالا جس میں اس نے ایک صدی پہلے سالِ رواں یعنی دوہزاربیس میں چین میں پیش آنے والے ہول ناک ترین واقعات کے بارے میں ’پیش گوئی‘ کی تھی۔

کیا یہ تحریر بھی ایک اور نارمل یا پیرانارمل ’اتفاق‘ ہے جو کہتی ہے کہ سال دوہزاربیس میں تمام چین (خون کے) آنسو روئے گا . . . ؟


’سال دوہزاربیس میں اول تا آخر چین کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہیں گے۔ یہ شگون اتنا برا ہو گا کہ اس سال ملک میں سالِ نو جیسی اہم تقریب بھی نہیں منائی جائے گی۔ اس کے بعد اک ہول ناک وباء کا ظہور ہو گا۔ یہ عفریت اتنی سرعت کے ساتھ سر اٹھائے گا کہ چین کے جنگلات میں رہنے والے شیر اور بھیڑیے تک جانیں بچانے کے لیے پہاڑوں میں چھپ جائیں گے۔ پھر یہ وباء تمام چین میں پھیل جائے گی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے سائے تمام روئے ارض کو لپیٹ میں لے لیں گے۔ اس کے بعد جلد ہی چاول اتنے مہنگے ہو جائیں گے کہ ان کی خوش بو تک انسانوں کے تصور سے مٹنے لگے گی اور پھر دریا کشتیوں کو نگلنا شروع کریں گے۔ اس سال چین کے کسان صرف ابتدائی مہینوں یعنی موسمِ بہار میں چاول کی فصل اتار پائیں گے مگر اس کے بعد وہاں چاول، دالوں، گندم اور جوار کی فصلیں کا نام ونشان تک مٹ جائے گا کیوں کہ کروڑوں کی تعداد میں ٹڈیاں ملک کے طول وعرض میں فصلوں کو چٹ کر چکی ہوں گی . . .‘


اس اقتباس کو ’دی امریکن کنزرویٹو‘ نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔ اس رسالے کے ایک اعلیٰ مدیر کو ایک گم نام ’دوست‘ کی جانب سے مراسلے موصول ہوتے ہیں۔ گوکہ ’ڈاکٹر‘ کے نام سے موسوم یہ گم نام دوست امریکا کے شہر ڈلاس میں کہیں مقیم ہے مگر اس کی چینی نژاد بیوی کے قریبی رشتے دار جو چین میں رہتے ہیں اسے وہ خفیہ اطلاعات پہنچا رہے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ انہیں چین کی حکومت سختی سے سینسر کر چکی ہے۔

ڈاکٹر کے بقول اس کے سسرالی رشتے داروں کو مارشل لاء جیسی صورت حال میں چین کی حکومت نے نظربند کر رکھا ہے۔ ملک میں مرنے والے مویشیوں کی بدبو بری طرح پھیلی ہوئی ہے جب کہ فصلیں کٹائی نہ ہونے کے باعث برباد ہو رہی ہیں۔ چوں کہ لوگوں کو حکومت کے بیانات پر اعتماد نہیں اس لیے چین کے عوام کی اکثریت مجبور ہو کر ٹونے ٹوٹکوں، نام نہاد عملیات اور اسی نوعیت کے غیرسائنسی قدیم طریقہ ہائے علاج پر ٹوٹی پڑی ہے۔

ایسی ہی ایک دستاویز کو ’ڈاکٹر‘ نے ’قدیم ترین بائبل‘ کا نام دیا ہے جسے اس کے بقول ایک صدی قبل انتہائی خفیہ زبان میں تحریر کیا گیا تھا اور جس کا لفظ بہ لفظ انگریزی ترجمہ کرنا ممکن نہیں۔ مگر صرف اتنا ہی نہیں بلکہ متذکرہ بھکشو نے اس خفیہ دستاویز میں سال دوہزاربیس میں پیش آنے والی ایک اور چیز کی بھی ’پیش گوئی‘ کی ہے۔


’میرا نام زگونگ ہے اور میں پورے وثوق سے پیش گوئی کر رہا ہوں کہ سال دوہزاربیس میں چین کے آسمان سے کروڑوں ٹڈیوں کی گویا بارش ہو گی جو بالآخر اس عظیم سلطنت کی مکمل ترین تباہی پر ہی منتج ہو گی۔ اس کے بعد کھیتوں پر آگ اور دھواں برسے گا مگر کوئی بھی ٹڈیوں کے حملوں کو روک نہیں پائے گا۔ جب ٹڈیاں فصلوں کو برباد کر کے ملک سے نکل جائیں گی اور ابھی کھیتوں سے دھواں اٹھ ہی رہا ہو گا کہ یکایک دریا چین کے شہروں اور قصبوں پر چڑھ دوڑیں گے . . . ‘


جیسا کہ اس وقت سب کے علم میں ہے کہ چین کے پاکستان کے ساتھ متصل علاقوں میں ٹڈیوں نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہوا ہے اور بیجنگ کی جانب سے پاکستان کو ایک لاکھ بطخوں کی فراہمی محض ایک پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں کیوں کہ وہ علاقہ اتنا خشک ہے کہ وہاں بطخیں زندہ نہیں رہ سکتیں۔

خبررساں ادارے کے مطابق چوں کہ تاحال ’قدیم تر انٹرنل بائبل‘ کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے اور حتیٰ کہ خود ’ڈاکٹر‘ کا بھی ماننا ہے کہ تصدیق ہونے تک ہمیں اس ’پیش گوئی‘ پر یقین نہیں کرنا چاہیے مگر اس کے باوجود ’نیک دل بھکشو‘ کا سال دوہزاربیس میں لوگوں کے لیے دیا گیا پیغام نہایت دل چسپ ہے:


’میں لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ اس دوران اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کے ساتھ رہیں۔ بہتر ہو گا کہ وہ بڑی مقدار میں سونا اور غذائیں ذخیرہ کریں اور اسے کھلے دل سے لوگوں میں تقسیم کریں۔ چوروں کا خاتمہ اور اتحاد کے دشمنوں کا صفایا لازمی ہے۔ اگر آپ ایسا کرنے میں کام یاب رہے تو ممکن ہے آپ زندہ رہنے میں بھی کام یاب ہو جائیں . . . ‘


حقیقت کچھ بھی مگر موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک بہترین تذویراتی مشورہ ہے مگر اس سے ہٹ کر تھوڑی دیر کے لیے سوچیں کہ اگر جلد ہی یہ پُراسرار کتاب درحقیقت منظرِعام پر آگئی تو عالمی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونے والے ہیں؟

نیرنگ کا متذکرہ رپورٹ سے متفق ہونا لازمی نہیں –