Cai Lun By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | ساتواں باب | کائی لون

 کاغذ کے موجد کائی لون کے نام سے زیادہ تر دنیا واقف نہیں ہے کیوں کہ حیرت انگیز طور پر اس کی ایجاد کی اہمیت کے برعکس مغرب میں اسے بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ چناں چہ آج آپ کو بیش تر انسائیکلوپیڈیاز میں لون پر ایک مختصر مضمون تک نہیں ملے گا جب کہ تسلیم شدہ نصابی کتب میں اس کا نام شاذونادر ہی شامل کیا جاتا ہے۔ کاغذ کی اہمیت کے پیش نظر بطور موجد کے جس طرح لون کا نام بہت کم دکھائی دیتا ہے اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں وہ محض ایک تصوراتی وجود تو نہیں تھا، تاہم درست تحقیق سے قطعی واضح ہے کہ تاریخ کے صفحات پر لون ایک زندہ کردار ہے جو چین کے شاہی دربار میں ایک اعلیٰ افسر کے عہدے پر فائز تھا جس نے 105ء کے نزدیک شہنشاہ ہوتائی کو قرطاس کے نمونے پیش کیے تھے۔ ہن سلطنت کی سرکاری تاریخ میں موجود کائی لون کی ایجاد کے بارے میں تذکرے بالکل صاف اور قابلِ یقین ہیں اور ان میں اس بات کا شائبہ تک نہیں کہ اس ایجاد کے پیچھے ’سحر‘ یا کوئی افسانہ طرازی پوشیدہ ہے۔ اہل چین نے ہمیشہ کائی لون کو کاغذ کا موجد تسلیم کیا ہے اور دنیا کے اس خطے میں ہر کوئی اس کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ اگرچہ لون کے حالاتِ زندگی کی بابت کم ہی معلومات ہیں مگر چینی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مخنث تھا اور یہ کہ شہنشاہ چین اس کی ایجاد سے بہت خوش ہوا اور اس نے اسی وجہ سے اسے ملازمت میں ترقی دی اور شاہی خطاب تک عطا کیا جس کے بعد لون کا شمار امراء میں ہونے لگا گو کہ کائی لون بعد میں محلاتی سازشوں میں الجھ کر اپنے زوال سے دوچار ہوا۔ چینی تاریخ کے مطابق بعد از زوال لون نے نہا دھو کر بہترین لباس زیب تن کیا اور زہر پی کر جان دے دی۔ دوسری صدی عیسوی میں چین میں نہ  صرف یہ کہ کاغذ کا استعمال عام ہو گیا تھا بلکہ چند صدیوں کے اندر اندر چین دیگر ایشیائی ممالک کو کاغذ برآمد بھی کرنے لگا تھا۔ اگرچہ ایک طویل عرصے تک اہلِ چین نے کاغذ بنانے کے راز سے کسی دوسرے ملک کو آگاہ نہیں کیا، تاہم 751ء میں چب چین کے چند کاغذ ساز عربوں کی قید میں آئے تو جلد ہی ثمر قند اور بغداد میں بھی کاغذ بننا شروع ہو گیا۔ اس طرح کاغذ کی تیاری کا ہنر جلد ہی تمام عرب دنیا میں پھیل گیا جس کے بعد 12ویں صدی عیسوی میں اہلِ یورپ نے عربوں سے کاغذ سازی کا فن سیکھا۔ اس کے بعد کاغذ کا استعمال پھیلتا چلا گیا اور گٹن برگ کے جدید چھاپے خانے کی ایجاد کے بعد تو کاغذ نے مغرب میں مکمل طور پر چرمی ٹکڑوں کی جگہ لے لی۔ آج کاغذ اتنا عام ہو چکا ہے کہ ہم اسے اہمیت ہی نہیں دیتے اور یہ بات ہمارے تصور تک سے ماوراء ہے کہ کاغذ کے بغیر دنیا کا روپ کیا تھا۔ چین میں کائی لون سے پہلے زیادہ تر کتابیں بانس کی لکڑی پر لکھی جاتی تھیں۔ ان کتابوں کا وزن کتنا اور حالت کیسی ہو گی کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔ گو کہ وہاں اس دور میں کچھ کتابیں ریشم پر بھی لکھی جاتی تھیں مگر وہ عام استعمال کے لیے نہایت مہنگی تھیں۔ مغرب میں کاغذ سے قبل زیادہ تر کتابیں چرمی کاغذ یعنی بھیڑ/بچھڑے کی کھال سے تیار کردہ ٹکڑوں پر لکھی جاتی تھیں اور اس ’کاغذ‘ نے یونانیوں، رومیوں اور مصریوں کے پسندیدہ ’پیپروس‘ کی جگہ لے لی تھی مگر اس کے باوجود چرمی کاغذ اور پیپرس دونوں ہی  نہ صرف کم یاب تھے بلکہ ان کی تیاری پر لاگت بھی بہت آتی تھی۔  کتابیں اور لکھنے کا دیگر سامان جو آج نہایت سستا اور اتنی وافر مقدار میں تیار کیا جاتا ہے اس کا واحد سبب کاغذ کی ایجاد ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ اگر چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہوتا تو کاغذ کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جتنی آج ہے، تاہم یہ کہنا بھی یکساں طور پر درست ہے کہ اگر چھائی کے لیے کاغذ سستا اور وافر مقدار میں دست یاب نہیں ہوتا تو چھاپے خانے کی بھی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو آج ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کائی لون اور گٹن برگ دونوں میں کسے اولیت دی جائے؟ میری نظر میں اگر چہ دونوں کی اہمیت ایک جیسی ہے مگر میں نے درج ذیل اسباب کے باعث کائی لون کو گٹن برگ سے ذرا ہی اوپر جگہ دی ہے۔ اول، کاغذ کو تحریر کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے بلکہ در حقیقت کاغذ ایک ہمہ جہت شے ہے اور آج کاغذ بہت بڑی مقدار میں چھپائی کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی تیار کیا جاتا ہے؛ دوم، کائی لون گٹن برگ سے بہت پہلے پیدا ہوا اور کم و بیش ممکن ہے کہ اگر کاغذ پہلے سے موجود نہیں ہوتا تو شاید گٹن برگ نے سرے سے چھاپہ خانہ ایجاد ہی نہیں کیا ہوتا؛ سوم، اگر ان دونوں میں سے صرف کسی ایک کو ہی کبھی ایجاد کر لیا جاتا تو میرا خیال ہے کہ گٹن برگ سے صدیوں پہلے موجود سانچوں کی چھپائی اور کاغذ کے ذریعے اتنی زیادہ کتابیں تیار کی جا سکتی تھیں جنہں صرف متحرک چھاپے خانوں اور چرمی ٹکڑوں کے ذریعے بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ایک سوال یہ بھی اٹھ سکتا ہے کہ کیا کائی لون اور گٹن برگ دونوں کو اولین دس اہم ترین افراد کی فہرست میں جگہ دینا مناسب نہیں ہے؟ کاغذ اور چھپائی کی مکمل اہمیت کا اندازہ کرنے کے لیے لازمی ہے کہ چین اور مغرب کی باہمی ثقافتی ترقی کا تجزیہ کیا جائے۔ دوسری صدی عیسوی سے پہلے چین مغربی ممالک کی نسبت بہت کم ترقی یافتہ تھا۔ تاہم اگلے ملینیئم میں چین زیادہ تر معیارت کی رو سے دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کی صفوں میں شمار ہونے لگا اگرچہ 15ویں صدی عیسوی کے بعد مغربی یورپ نے ترقی کی اس دوڑ میں چین کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اس تبدیلی کی بابت متعدد نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ مگر زیادہ تر نظریات میں اس سبب کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو میرے خیال میں سادہ ترین ہے۔ بلا شبہ یہ کہنا درست ہے کہ زراعت اور تحریر کا ارتقاء چین سے بھی بہت پہلے مشرق وسطیٰ میں ہوا مگر صرف اس امر سے اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکتی کہ چینی تہذیب کس وجہ سے تسلسل کے ساتھ مغرب سے اتنا پیچھے رہ گئی ۔ میرے نزدیک اس کا فیصلہ کن جواب یہ ہے کہ کائی لون سے پہلے چین میں لکھائی کا کوئی مناسب سامان موجود نہیں تھا مگر اس کے برعکس مغربی دنیا کے پاس ’پیپرس‘ تھا جس پر لکھائی بانس کی لکڑی سے تیار کردہ کتابوں کی نسبت بہت باسہولت اور پختہ تھی۔ چناں چہ میرے نزدیک تحریر کے مناسب سامان کی کمی چینی ثقافت کے ارتقاء میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی کیوں کہ محض چند ایک ’کتابوں‘ کی منتقلی کے لیے ہی ایک چینی مفکر کو ایک چھکڑے کی ضرورت ہوتی تھی۔ چناں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں حکومتی انتظامات کا سنبھالنا کس قدر دشوار ہو گا مگر  کائی لون کی ایجاد یعنی کاغذ نے اس صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا۔ تحریر کے لیے کاغذ وافر مقدار میں دست یاب ہونے کے بعد چینی ثقافت کا زبردست ارتقاء ہوا اور چند ہی صدیوں میں اہلِ چین مغرب کے برابر آن کھڑے ہوئے۔ اگر چہ یورپ کا سیاسی انتشار بھی اس امر کی ایک دیگر وجہ ہے مگر اصل کہانی اس سے کوسوں دور ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں چین مغرب سے زیادہ عدم اتحاد کا شکار تھا مگر پھر بھی وہاں ثقافت نے تیزی سے ترقی کی۔ آنے والی صدیوں میں جب مغرب میں ارتقاء کی رفتار سست تھی اس وقت اہلِ چین قطب نما، بارود اور بلاک پرنٹنگ جیسی اہم ایجادات کر رہے تھے۔ چوں کہ وہاں  کاغذ چرمی ٹکڑوں کی نسبت سستا اور وافر مقدار میں دست یاب تھا اس لیے کہانی نے ایک بالکل نیا موڑ لیا۔ اسی طرح مغربی اقوام نے جب کاغذ کا استعمال شروع کیا تو وہ نہ صرف چین سے مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئے بلکہ انہوں نے اپنے تہذیبی خلاء کو پر کرنے میں بھی کام یابی کا منہ دیکھا۔ اگرچہ مارکو پولو کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ 13ویں صدی عیسوی میں چین یورپ سے کئی گنا زیادہ خوش حال تھا تو پھر مغرب کے مقابلے میں چین کے بتدریج پیچھے رہ جانے کی وجہ کیا ہوئی؟ اس ضمن میں متعدد پیچیدہ نظریات کو پیش کیا گیا ہے مگر میرے نزدیک صرف ایک تیکنکی وجہ اس سوال کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔ 15ویں صدی میں یورپ میں ایک فطین شخص گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا جس سے کتابوں کی تیزی سے تیاری ممکن ہوئی۔ یہ ہی وہ وجہ ہے جس نے اس تہذیبی دوڑ میں مغرب کو چین کے آگے لا کھڑا کیا اور وہاں ثقافت نے شان دار ترقی کی۔ چوں کہ چین کے پاس کوئی گٹن برگ نہیں تھا اس لیے اہلِ چین محض سانچوں کے ذریعے چھپائی میں الجھ کر رہ گئے جس سے ان کی تہذیبی ترقی سست رفتار ہوتی  گئی۔ اگر میرے اس نظریے کو مان لیا جائے تو کائی لون اور گٹن برگ دونوں ہی تاریخ انسانی کی مرکزی شخصیات قرار پائیں گی۔ مگر کائی لون ایک اور وجہ سے بھی دیگر موجدین پر فوقیت رکھتا ہے۔ زیادہ تر ایجادات اپنے وقت کی ضرورت کا نتیجہ ہیں اور اگر ان کا موجد نہیں ہوتا تب بھی انہوں نے کسی نہ کسی طور ایجاد ہونا ہی تھا مگر کاغذ کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ یورپی اقوام کائی لون کے ہزار سال بعد بھی کاغذ کی تیاری کے قابل نہیں تھیں اور اگر عربوں نے انہیں اس ہنر کی تعلیم نہیں دی ہوتی تو وہ کبھی بھی اس راز سے واقف نہیں ہو پاتیں۔ اسی طرح اگرچہ دیگر ایشیائی قومیں چین کے تیار کردہ کاغذ سے اچھی طرح واقف تھیں مگر وہ اسے بذات خود تیار کرنے پر قادر نہیں تھیں۔ بات یہ ہے کہ اصل کاغذ کی تیاری اتنا دشوار اور پیچیدہ عمل ہے کہ یہ کسی نسبتاً جدید تہذیب میں خود بہ خود وجود میں نہیں آ سکتا تھا بلکہ اسے تیاری کے لیے کسی نہایت فطین شخص کے ہنر ساز ہاتھ درکار تھے۔ چناں چہ چین میں کائی لون ہی ایسی شخصیت ثابت ہوا اور حیران کن امر یہ ہے کہ اٹھارویں صدی میں متعارف کردہ مشینی طریقوں کے علاوہ کائی لون کا کاغذ کی تیاری کا طریقہ آج بھی بنیادی طور پر جوں کا توں ہے۔ چناں چہ یہ ہی وہ اسباب ہیں جن کے تحت میں نے کائی لون اور گٹن برگ کو اس کتاب میں اولین دس شخصیات کی فہرست میں رکھا ہے گوکہ لون کا درجہ گٹن برگ سے ذرا ہی اوپر ہے۔