Cannibals Flowers A Supernatural Tale Translated from Reddit

خون چوسنے والے غیر ارضی پھول

میری بیوی گزشتہ مہینے سینے کے سرطان کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئی اور اس کے جانے کے بعد بیٹی کی دیکھ بھال کی ساری ذمے داری میرے کاندھوں پر ہے۔ ایلی ہر رات سونے سے پہلے مجھ سے پوچھتی ہے کہ کیا ماما مجھے سونے سے پہلے دیکھنے آئیں گی اور ہر رات مجھے اسے تھپک تھپک کر سلانا پڑتا ہے۔ ایک چار سالہ بچی کو یہ بات آخر کس طرح سجھائی جا سکتی ہے کہ اب اس کی ماما کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔ میں تو ابھی تک یہ بات اپنے آپ کو بھی نہیں سمجھا سکا ہوں۔  اگر سوزن کی جگہ میں مر جاتا تو مجھے پورا یقین ہے وہ میرے بارے میں ایلی کو ہر طرح سے مطمئن کر سکتی تھی کیوں کہ موت اس کے لیے کوئی پر اسرار معمہ نہیں تھی۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ مرنے کے بعد کسی مرنے والے کی زندگی کی توانائی کبھی بھی دنیا سے ختم نہیں ہوتی البتہ اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ مگر مجھے بہت برا لگتا تھا جب وہ موت کے بارے میں اتنے آرام سے بات کرتی تھی مگر وہ ایک دھمیے مزاج کی نرم لہجے والی عورت تھی۔ حتیٰ کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو رہی تھی تب بھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اب بھی اس نے ہی میرا خیال رکھنا اور مجھے سنبھالنا ہے۔  ’تم یہ بات میرے جانے کے بعد سمجھو گے‘ سوزن نے ایک دن مجھ سے کہا۔ وہ میرے سینے کا سہارا لے کر اسپتال کے بستر پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے کہا کچھ پھول ایسے ہوتے ہیں جو صرف موت کی آغوش میں کھلتے ہیں اور جب تم انہیں دیکھو گے تم جان جائو گے کہ میں اب بھی تمہارے ساتھ ہوں۔  اس رات وہ ہمیشہ کے لیے سو گئی، مگر اس کے کہے ہوئے الفاظ بار بار دہرانے کے با وجود میں اس کی موجودگی کو محسوس نہیں کر پایا البتہ میں نے ایلی سے کہا کہ تمہاری ماما اب ایک پھول بن گئی ہے اور اس نے مجھ سے پوچھا کون سا پھول ۔ ۔ ۔  ماما اب ہر پھول میں ہے میں نے کہا۔ وہ اس دنیا کی سب سے خوب صورت چیز ہے میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ یہ بات نہیں سمجھ پائی کہ میری آنکھیں کیوں بھیگ رہی تھیں تاہم وہ اس وقت تک مجھ سے لپٹی رہی جب تک اس کی آنکھیں نیند سے بند نہیں ہو گئیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ اپنی ماں کی طرح مجھے سنبھال رہی ہو۔  میرا خیال تھا کہ پھول دنیا میں نیکی کا ابدی استعارہ تھے مگر میری اس سوچ کو اس وقت ٹھوکر لگی جب اگلے روز مجھے اسپتال سے کال آئی۔ ڈاکٹروں نے مجھ سے مرنے سے قبل سوزن کی دماغی حالت کے بارے میں سوال کیے اور میں نے ان سے کہا کہ اس کی دماغی حالت مکمل طور پر درست تھی۔ ڈاکٹروں کے سوالات نے مجھے غصہ دلا دیا اور میں ان پر چیخ پڑا۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دراصل پوسٹ مارٹم کے دوران سوزن کے تمام جسم پر گومڑے پائے گئے ہیں اور وہ اس بات کا راز جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے اس کے جسم پر چاقو سے چرکے لگائے، ہر چرکے کے اندر ایک بیج رکھا اور پھر زخم کو سی دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سوزن کے جسم پر ایسے سینکڑوں زخم لگے ہوئے ہیں۔  ’کچھ پھول صرف موت کی آغوش میں کھلتے ہیں۔‘ ہو سکتا ہے سوزن کے نزدیک یہ ایک علامتی پیغام ہو مگر میرے لیے یہ خیال نہایت مکروہ تھا۔ جب میں نے تصور کیا کہ وہ اسپتال میں تنہا بیٹھی اپنے جسم میں بیج بو رہی ہے تو میرا دل متلانے لگا۔ ڈاکٹروں نے مجھ سے پوچھا کیا ان بیجوں کو دفنانے سے پہلے اس کے جسم سے نکال لیا جائے۔ ظاہر ہے میرا جواب ہاں میں تھا۔  تدفین کے بعد گورکن نے مجھے بیجوں سے بھری چھوٹی سی تھیلی تھمائی۔ میں اسے پھینکنے ہی والا تھا مگر ایلی نے مجھے روک لیا۔  اس نے مچلتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں بوئیں گے مگر میں اسے یہ بتانے کی جرات نہیں کر پایا کہ یہ بیچ کہاں سے آئے تھے۔ میں انہیں پھر بھی پھینکنا چاہتا تھا مگر ایلی نے کہا کہ ہو سکتا ہے جب یہ بڑے ہوں تو ماما انہیں دیکھنے آئیں۔  میں نے اور ایلی نے مل کر ان تمام بیجوں کو گھر کے پچھلے حصے میں بو دیا۔ گو کہ میرے لیے یہ نہایت تکلیف دہ امر تھا مگر میں نے سوچا اس طرح ایلی کا ذہن اپنی ماں کی یادوں سے تھوڑا ہٹ جائے گا اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگے گی۔  میں نے ایلی سے کہا کہ ماما اب پھول بن گئی ہیں اور دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جلد یہ بدیر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی کم زور وضاحت تھی مگر میری بیٹی نے اسے زندگی کا سچ جان کر تسلیم کر لیا۔  مگر ان بیجوں سے اگنے والے پھولوں نے مجھے حیران کر دیا کیوں کہ میں نے کبھی اس طرح کے پھول نہیں دیکھے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے نیلے رنگ کی کہکشائیں کھل رہی ہوں جب کہ ان پھولوں کی پتیاں بھڑکتے ہوئے شعلے کی طرح چمک دار تھیں۔ ان کے بڑھنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ پہلے ہفتے میں ان کا قد تین انچ تھا مگر اگلے ہفتے تک یہ پودے ایک فٹ لمبے ہو چکے تھے۔  ایلی انہیں دیکھ کر چلائی ’یہ تو ماما ہیں۔ دیکھیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ واپس آ گئی ہوں۔‘  ایلی انہیں دیکھ دیکھ کر خوشی سے کھلی پڑ رہی تھی۔ مجھے پتہ تھا ایک روز مجھے اسے حقیقت سے آگاہ کرنا ہے مگر اس وقت تک یہ پھول ایلی کے لیے امید کے ستارے تھے۔  ایلی کا خیال تھا کہ ایک پھول پر اس کی ماما کی طرح کے بال ہیں جب کہ ایک دوسرا پھول اسے اپنی ماں کی طرح مسکراتا ہوا لگتا تھا۔  تیسرے ہفتے تک ان پودوں میں بال اور دانت اگنا شروع ہو گئے تھے۔ ۔ ۔   میں نے شروع میں سوچا شاید یہ کانٹے وغیرہ ہیں مگر جلد ہی میری بیوی کے رنگ کے بھورے بال ایک پودے پر لگے پھول کی گردن سے نیچے لٹک رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک شیر یا گھوڑے کی گردن پر ایال ہوتی ہے۔ مگر دانت سب سے عجیب تھے ۔ ۔ ۔  یہ شروع میں کسی بچے کے دانتوں کی طرح چھوٹے تھے مگر جلد ہی وہ بڑھ کر ایک بالغ انسانوں کی پوری بتیسی میں تبدیل ہو گئے ۔ ۔ ۔ مگر عجیب تر بات یہ تھی کہ وہ ابھی بھی بڑھ رہے تھے۔  کچھ عرصے بعد انگلیاں نکلنا شروع ہوئیں جن کے اندر ہڈیاں بھی تھیں اور اس کے بعد ایک شاخ سے ایک مکمل دل کسی پھل کی طرح پک کر لٹک رہا تھا مگر یہ ساکت نہیں تھا اس میں با قاعدہ دھڑکن موجود تھی۔ ۔ ۔ ہر پودے کی شاخوں میں الگ الگ انسانی عضو نمو پا رہے تھے۔ شروع میں بچے کی طرح چھوٹے اور بعد میں بالغ انسان کی طرح مکمل اعضا۔ دہشت میرے رگ و پے میں سما چکی تھی مگر ایلی کا خوشی سے برا حال تھا۔ وہ ہر صبح بستر سے اتر کر باغیچے کی جانب یہ دیکھنے کے لیے دوڑ لگاتی تھی کہ پودے کتنے بڑے ہو گئے ہیں اور ہر رات سونے سے پہلے وہ اس طرح ان پودوں سے باتیں کرتی تھی جیسے وہ اس کی ماں ہیں۔  میں ان پودوں کو کاٹ کر پھینک دینا چاہتا تھا مگر ایلی یہ سن کر اس طرح چیختی تھی گویا میں کسی کے قتل کی سازش کر رہا ہوں۔ میری سمجھ سے باہر تھا میں کیا کروں اور کس سے اس بارے میں بات کروں ۔ ۔ ۔ سچ یہ ہے میرے وجود میں بھی کہیں اندر یہ خواہش نہاں تھی کہ ایلی کی بات پر یقین کر لوں ۔ ۔ ۔ کائنات میں میرے لیے ایک معجزہ رو نما ہو رہا تھا اور میں کون تھا جو اسے روکنے کی جرات کرتا ۔ ۔ ۔ ۔  امید کی کرنیں یاسیت کی تاریکی سے زیادہ انسان کی بصارت کو مفلوج کر دیتی ہیں اور گزشتہ رات تک مجھے بھی اپنی غلطی کا اندازہ نہیں ہوا۔ رات میں کسی وقت میں باتھ روم جانے کے لیے بیدار ہوا اور جب میں ایلی کے کمرے کے پاس سے گزرا تو میں دیکھا کہ اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ایلی کمرے میں نہیں تھی، مگر باغیچے سے آتی ہوئی ایک لمبی بیل اس کے خالی بستر کے گرد سانپ کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔  ایک لمحے میں میری آنکھوں سے نیند غائب ہو گئی اور میں گرتا پڑتا باغیچے کی جانب دوڑا۔ گھر کا بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا اور خون کی طرح سرخ پھول دروازے کے ہینڈل سے ناگن کی طرح لپٹے ہوئے تھے۔ چاند کی روشنی میں ان سے ٹپکتا خون نہایت دہشت ناک تھا۔ نوک دار ٹہنیاں ایلی کے کپڑے اور روئی سے بنے بھالو میں پیوست تھیں۔  صحن کے عقبی حصے میں ایک نوعیت کی شیطانی زندگی پھیلی ہوئی تھی۔ زمین کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے کوئی سمندر کسی طوفان میں لہریں لے رہا ہوں جہاں مٹی میں پوشیدہ جڑیں اژدھوں کی طرح کلبلا رہی تھیں۔ ۔ ۔ تمام پودے ایک مخصوص مقام پر ایک دوسرے سے آ کر مل گئے تھے اور ان کے ملنے سے ایک بہت بڑی کلی وجود میں آئی تھی جس میں زندگی کی نبضیں تھرک رہی تھیں۔  میں ایلی کا نام لے کر بری طرح چلایا اور پودوں کی طرف دوڑا۔ مگر اس سے پہلے میں آ گے بڑھتا کسی ہاتھ نے آگے بڑھ کر مجھے کلائی سے تھام لیا۔ ۔ ۔ یہ سوزن کا ہاتھ تھا ۔ ۔ ۔ مگر وہ مجھے ایلی کے پاس جانے سے کبھی نہیں روکتی ۔ ۔ ۔ میں نے اس ہاتھ کو کھینچا اور وہ پودے سے ٹوٹ کر میرے ہاتھ میں آ گیا۔ اس دوران وہ زندہ جڑیں میرے قدموں کو جکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر میں نے انہیں پیروں سے کچل کچل کر خود سے دور رکھا۔  میرے ذہن میں پھائوڑے کا خیال آیا اور میں اچھل کر گھر کی طرف بھاگا۔ اس دوران پودے مجھے بھول کر لمحاتی طور پر دوبارہ اس کسمساتی ہوئی کلی کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ میں دوڑتا ہوا پھائوڑا لے کر واپس آیا اور جڑوں، تنوں، انگلیوں اور بازئوں کو اس کے دھار دار بلیڈ سے کچلنا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ کائنات کی کوئی طاقت مجھے میری بیٹی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی تھی۔ میرا پورا جسم خون میں شرابور ہو رہا تھا مگر یہ خون میرا نہیں تھا۔ ۔ ۔ پودوں کی رگوں سے خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔  جب میں نے ایلی کو دیکھا تو مجھے ایسا لگا جیسے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہ اس طرح ساکت اور سکون سے لیٹی ہوئی تھی جیسے گہری نیند میں ہو مگر اس کے جسم میں ہر جگہ سینکڑوں کانٹے پیوست تھے۔ اس کا چہرہ اتنا ہی پر سکون تھا جتنا مرنے سے ذرا پہلے سوزن کا تھا۔ مگر ایلی تو زندہ تھی۔ وہ کس طرح مر سکتی تھی ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے تمام بیلوں کو پھائوڑے سے کاٹ کر ایلی کو باہر نکال لیا اور اسے بازئوں میں اٹھائے وہاں سے گھر کی طرف بھاگا۔ ایلی کے پھول سے بدن سے خون کے گرم قطرے ٹپک رہے تھے۔ ان پودوں کو اگنے کے لیے ایک مردہ جسم در کار تھا اور سوزن کا جسم استعمال کرنے کے بعد انہوں نے اپنی بقا کے لیے ایلی کا جسم تلاش کر لیا تھا۔  ایلی کی سانسیں اور دل کی دھڑکن تھم چکی تھی۔ اس کے جسم پر لگے سینکڑوں زخموں میں ایک ایک بیج نہایت احتیاط سے رکھا ہوا تھا مگر صبح تک تمام باغیچہ ختم ہو چکا تھا۔ ان شیطانی پودوں کو زندگی کے لیے ایک مردہ جسم چاہیے تھا اور ایلی کے جسم کے بغیر وہ اس طرح سوکھ گئے تھے جیسے بارش کے بغیر کھیت دھوپ میں جل جاتے ہیں۔  میری بیٹی بھی اس رات زندگی کی بازی ہار گئی مگر مجھے پتہ ہے وہ اس جہاں سے گئی نہیں ہے۔ اگرچہ ایسا لگتا ہے جیسے موت ہر چیز کا اختتام ہے مگر میں اب جان گیا ہوں کہ موت صرف ایک تبدیلی کا نام ہے۔ میں نے ایلی کے مردہ جسم اور بیجوں کو باغیچے میں دفنا دیا ہے تا کہ اس بار اپنی نشونما کے لیے ان کے پاس ایک مردہ جسم ہو۔  اگر میں نے ایلی کی موت کے صدمے کو برداشت کر لیا اور ان پودوں کی اس طرح پرورش کی جیس وہ میرے بچے ہوں تو ان بیجوں سے بہت جلد ایک نئی زندگی کا چشمہ پھوٹ پڑے گا ۔ ۔ ۔  بہت جلد ایک اور ایلی میرے بازؤں میں ہو گی ۔ ۔ ۔  

 

ختم شد