Charles Darwin | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | سولھواں باب | چارلس ڈارون

فطری انتخاب کے تحت نامیاتی ارتقاء کے فلسفے کا خالق چارلس ڈارون انگلینڈ کے علاقے شریوزبیری میں 12 فروری 1809ء  کو پیدا ہوا اور یہ وہی دن ہے جس روز معروف امریکی صدر ابراہام لنکن کی پیدائش ہوئی۔ سولہ سال کی عمر میں ڈارون نے یونی ورسٹی آف ایڈن برگ میں طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا تاہم طب اور علِم اجسام میں جلد ہی اس کی دل چسپی ختم ہو گئی اور کچھ عرصے بعد وہ پادریت کی تعلیم کے لیے کیمبرج چلا آیا۔ کیمبرج میں ڈارون کو گھڑ سواری اور نشانہ بازی جیسے مشاغل تعلیم سے زیادہ دل چسپ محسوس ہوئے مگر پھر بھی وہ وہاں ایک پروفیسر کو اتنا متاثر کرنے میں کام یاب ہو گیا کہ اس ںے ایچ ایم ایس بیگل نامی تحقیقی جہاز پر ماہرِ فطرت کے طور پر ڈارون کا نام آگے بڑھا دیا۔ ڈارون کے والد نے ابتدا میں اس پیش کش کی مخالفت کی کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ نوجوان ڈارون اس دورے کی آڑ لے کر مزید غیرسنجیدہ طرزِعمل کا مظاہرہ کرے گا تاہم وہ جلد ہی ڈارون کے اِس سمندری سفر پر راضی ہو گئے جو مغربی سائنس کی تاریخ میں سب سے زیادہ ’اہم‘ اور ’مفید‘ ثابت ہونے والا تھا۔ ڈارون 1831ء میں صرف 22 سال کی عمر میں اس بحری سفر پر روانہ ہوا۔ اگلے پانچ سالوں میں بیگل نے دنیا کے گرد چکر لگایا۔ بیگل سست روی کے ساتھ جنوبی امریکا کے ساحلوں کے ساتھ چلتا رہا۔ اُس نے دوردراز گالاپاگوس نامی جزائر پر تحقیقی کام کیا اور بحرالکاہل، بحرِہند اور جنوبی بحرِاوقیانوس میں مزید جزیروں کا دورہ کیا۔ اس طویل بحری سفر میں ڈارون نے متعدد فطری عجائبات کا مشاہدہ کیا، قدیم ترین قبائل کے دورے کیے، بڑی تعداد میں رکازات دریافت کیے اور پودوں اور حیوانات کی بے شمار انواع کا مطالعہ بھی کیا۔ اس دوران ڈارون نے اپنے ہر مشاہدے کو نہایت تفصیل سے قلم بند کر لیا اور دراصل یہ ہی ڈارون کے وہ مشاہدات تھے جنہوں نے اس کے آئندہ تحقیقی کام کے لیے بنیادی مواد فراہم کیا اور ان ہی سے ڈارون نے اپنے متعدد بنیادی تصورات اخذ کرنے کے علاوہ کثیر تعداد میں وہ ’شواہد‘ بھی فراہم کیے جن کے ذریعے اس نے آگے چل کر اپنے فلسفے کو دنیا سے تسلیم کروانے کی کوشش کی۔ ڈارون 1836ء میں گھر واپس لوٹا اور اگلے بیس سالوں میں اس نے متعدد کتابیں شائع کیں جنہوں نے اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ ڈاروان برطانیہ کے ممتاز ماہرینِ حیاتیات میں سے ایک تھا۔ 1837ء کے اوائل ہی میں ڈارون (اپنے طور پر) اس ’نتیجے‘ تک پہنچ گیا تھا کہ درختوں اور حیوانات کی انواع ہمیشہ سے اسی طرح نہیں تھیں بلکہ وہ لاکھوں سالوں سے ’ارتقاء‘ کے عمل سے گذر رہی تھیں تاہم اس دوران اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس ’ارتقاء‘  کا سبب کیا تھا۔ 1838ء میں اس نے تھامس مالتھوس کی تحریر ’آبادی کے اصول پر ایک مضمون‘ کا مطالعہ کیا جس سے اسے اپنے ’فلسفۂ ارتقاء‘  کی تائید میں اہم ترین ’سراغ‘ حاصل ہوا کہ فطری انتخاب جہدِ بقاء کا نتیجہ ہوتا ہے تاہم ڈارون نے فطری انتخاب کا اصول تشکیل دینے کے بعد اپنے فلسفے کی اشاعت میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا کیوں اسے اندازہ تھا کہ اس کی شدید مخالفت کی جائے گی۔ چناں چہ ڈارون نے نہایت احتیاط سے ’شواہد‘ اکٹھا کرنے اور اپنے مفروضات کے حق میں ’دلائل‘ سمیٹنے میں ایک طویل وقت صرف کیا۔ ڈارون نے 1842ء میں اپنے فلسفے کا مرکزی خیال تحریر کیا اور 1844ء میں ایک مفصّل کتاب کی تیاری پر کام شروع کر دیا تاہم جون 1858ء میں جب ڈارون اپنی کتاب میں ترمیم و اضافے کر رہا تھا اسے ویسٹ انڈیا سے ایک برطانوی ماہرِفطرت الفریڈ رسل ویلاس کا ایک مسوّدہ موصول ہوا جس میں اس نے ’ارتقاء‘ پر اپنی فکر کا بنیادی خاکہ بیان کیا تھا۔ درحقیقت ہر لحاظ سے ویلاس اور ڈارون کا فلسفہ ایک جیسا ہی تھا، تاہم ویلاس نے اپنی تھیوری مکمل طور پر خود تیار کی تھی جسے ڈارون کو بھیجنے کا مقصد اشاعت سے قبل اس مفروضے پر ڈارون جیسے ممتاز سائنس دان کی تحقیقی رائے حاصل کرنا تھا مگر ڈارون کے لیے یہ ایک نہایت ہی پریشان کن صورت حال تھی جو تیزی سے مسابقت کی لڑائی میں بدل سکتی تھی۔ پھر بھی نہ جانے کس طرح اگلے ہی مہینے ویلاس کے مقالے اور ڈارون کی کتاب کے بنیادی خاکے کو ایک مشترکہ مقالے کی شکل میں سائنس دانوں کے سامنے پیش کیا گیا اور تعجب خیز امر یہ تھا کہ ان مفروضات پر کسی بھی ممتاز سائنس دان نے نظر ڈالنے کی زحمت تک گوارا نہ کی مگر ایک بار پھر نہ جانے کس طرح جب اگلے سال ڈارون کی کتاب ’ماخذِ انواع‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تو ہر طرف ایک تہلکہ سا مچ گیا اور غالباً سائنس کی تاریخ میں شائع ہونے والی کوئی دیگر کتاب ایسی نہیں ہے جس پر عوام اور سائنس دانوں دونوں نے اتنے بڑے پیمانے پر اتنی شدّومد سے بحث کی ہو۔ 1871ء میں اس مفروضے سے متعلق دلائل کا سلسلہ جاری ہی تھا جب ڈارون نے ’ماخذِ آدم‘ اور ’انتخاب بالحاظِ جنس‘ نامی کتاب شائع کی۔ اس کتاب میں یہ (انوکھاترین) فلسفہ پیش کیا گیا تھا کہ انسان کے آباء و اجداد بن مانس سے مشابہ کوئی مخلوق تھے۔ اس تصور نے گویا جلتی پر تیل  کا کام کیا اور بحث و تمحیص کا سلسلہ آسمان کو چھونے لگا مگر ڈاروان نے اپنے پیش کردہ فلسفوں پر ہونے والی عوامی بحث و تمحیص میں کبھی بھی حصہ نہیں لیا۔ اس کی ایک وجہ طویل بحری سفر کے بعد اس کی خراب صحت تھی۔ غالباً  ’چگاس‘ نامی یہ عارضہ اسے جنوبی امریکا میں ننھے کیڑوں کے کاٹنے سے لاحق ہوا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ’نظریہ ارتقاء‘ کے حامیوں پاس تھامس ایچ ہکسلے موجود تھا جس نے نہایت مہارت سے ڈارون کے فلسفے کے حق میں تقریریں کیں۔ 1882ء میں ڈارون کی موت سے قبل (لادین) سائنس دانوں کی اکثریت نے اس کے نظریات کی ’بنیادی درستگی‘ کو تسلیم کر لیا تھا۔


اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق یہ نام نہاد فلسفہ ان لوگوں کے حق میں جاتا محسوس ہوتا تھا – نیرنگ


مگر یہ سائنس دان اُس وقت (شاید) اِس حقیقت سے واقف نہیں تھے کہ ڈارون ہی ’انواع کے ارتقاء‘ کے نظریے کا اولین خالق نہیں تھا کیوں کہ کچھ دیگر لوگ بھی اس سے قبل ان ہی مفروضات کا اظہار کر چکے تھے جن میں فرانسی ماہرِ فطرت ژاں لیمارک اور خود ڈارون کے دادا اراسمس ڈارون بھی شامل تھے مگر ان نظریات کو کبھی بھی سائنسی دنیا کی حمایت نہیں حاصل ہو سکی تھی کیوں کہ یہ لوگ ’ارتقاء‘ کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں متاثر کن وضاحت پیش کرنے میں نا کام رہے تھے۔


خیال رہے جدید تحقیقات کے مطابق ڈارون سے ہزاروں سال قبل یونانی، اہلِ چین اور حتٰی کے آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان مفکرین بھی اسی نوعیت کے فلسفے پیش کر چکے تھے جن میں أبو عثمان عمرو بن بحر الكناني البصري المعروف الجاہز کا نام سرِفہرست ہے – نیرنگ


چناں چہ ڈارون کا اصل ’کارنامہ‘ صرف اتنا تھا  کہ وہ نہ صرف فطری انتخاب کے ذریعے ’ارتقاء‘ کے وقوع پذیر ہونے کا ’سبب‘ پیش کرنے میں کام یاب رہا بلکہ اس نے اپنے فلسفوں کو ثابت کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ’دلائل‘ بھی پیش کیے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈارون کے فلسفے کی تشکیل میں ’توارثی نظریے‘ کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ بات یہاں تک ہے  کہ ڈارون کو اس بارے میں کوئی علم تک نہیں تھا اور ڈارون کے زمانے میں کوئی اس امر سے واقف نہیں تھا کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک امیتازی خواص کس طرح منتقل ہوتے ہیں۔ اگرچہ جس وقت ڈارون اپنی انقلاب انگیز کتابیں تحریر کر رہا تھا اسی دوران جارج مینڈل توارثی قوانین پر کام کرنے میں مشغول تھا۔ مینڈل کی تحقیق کو جو کلّی طور پر ڈارون کے فلسفے کے موافق ہے بیسویں صدی کے آغاز تک مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اور یہ وہ وقت تھا جب ڈارون کے فلسفے کو مکمل طو پر درست تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اس طرح ’ارتقاء‘ کے  بارے میں ہمارا جدید فہم جو فطری انتخاب کے تحت جینیاتی توراث کے قوانین پر مشتمل ہے ڈاورن کے پیش کردہ فلسفے کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہے مگر پھر بھی انسانی فکر پر ڈارون کے اثرات شدید اور ان مٹ ہیں کیوں کہ (بظاہر) خالص سائنسی فہم میں انہوں نے حیاتیات کے پورے مضمون کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ فطری انتخاب درحقیقت ایک وسیع البنیاد اصول ہے جس کا دوسرے میدانوں پر بھی اطلاق کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں مثلاً علمِ بشریات، سماجیات، پولی ٹیکل سائنس اور معیشت وغیرہ مگر یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ سماجی یا سائنسی اہمیت کی نسبت ڈارون کے فلسفے نے مذہبی فکر کو شدید متاثر کیا۔ ڈارون کے زمانے میں اور اس کے بعد کئی سالوں تک اکثر کٹّر عسائیوں کا ماننا تھا کہ ڈارون کے فلسفے پر ’ایمان‘ لانے کا مطلب اپنے ایمان کا بیڑہ غرق کرنے کے مترادف ہے۔ غالباً ان کا خوف درست تھا تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مذہبی جذبے کے عمومی زوال میں ڈاروان کے فلسفے کے علاوہ متعدد دیگر عناصر کا بھی گہرا  کردار ہے۔ ڈارون خود مذہب کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو کر لاادریت میں مبتلا ہو گیا تھا تاہم لادینی سطح پر بھی ڈارون کے فلسفے نے دنیا کے بارے میں انسانی فہم میں گہری تبدیلیاں کی ہیں۔ آج انسانی انواع کی فطری نظام میں وہ مرکزی حیثیت نہیں جو کبھی باور کی جاتی تھی۔ آج ہم اپنے آپ کو دیگر انواع کے درمیان ایک نوع شمار کرتے ہیں اور اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ممکن ہو ایک دن کوئی نوع ہماری نوع پر غالب آ جائے۔ ڈارون کی تحقیق کے نتیجے میں فلسفی ہیراکلیٹس کا نظریہ ’ثبات اک تغّیر کو ہے زمانے میں‘ مقبولِ عام ہو گیا۔ نوع انسانی کے ماخذ کی عمومی وضاحت میں فلسفۂ ارتقاء کی کام یابی نے اس عقیدے کو مضبوط تر کر دیا ہے کہ سائنس ہر طبیعاتی سوال کا جواب دے سکتی ہے اگر چہ پھر بھی حسرت اس بات پر ہے کہ یہ تمام انسانی پریشانیوں کا حل نہیں ڈھونڈ سکتی۔ آج ڈارون کی پیش کردہ اصلاحات جیسے ’جہدِ بقاء‘ اور ’بقائے بہتر تر‘ ہماری روز مرہ کی زبان پر چڑھائی جا چکی ہیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ اگر ڈارون نہیں ہوتا تب بھی کوئی دوسرا اس فلسفے کو بالضّرور پیش کر دیتا۔ درحقیقت ویلاس کی تحقیق کے تناظر میں ڈارون کے متعلق یہ بات کہنا اس کتاب میں زیرِتذکرہ کسی بھی دوسری شخصیت کی بابت زیادہ درست ہے مگر اس کے باوجود یہ ڈارون ہی کی تحریریں ہیں جنہوں نے علمِ حیاتیات اور بشریات میں انقلاب برپا کیا اور دنیا میں انسان کے مقام کے بارے میں تمام تصورات پر گہرا اثر ڈالنے کی کوشش کی۔