Chinese Restaurant Weighing Patrons Before Serving Food
جامِ جہاں نما - اگست 16, 2020

کھانے سے پہلے وزن کراؤ، چینی ہوٹل کی نئی پالیسی

قومی مہم کے تناظر میں ایک ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوں کے لیے قدرے حیران کن اور متنازعہ پالیسی اپنائی ہے۔ اس کے تحت ریسٹورنٹ میں داخل ہونے والے ہر کسٹمر کو اپنا وزن کرانا ہوتا ہے۔

چین کی حکومت نے خوراک کو ضائع کرنے کے خلاف ایک قومی مہم شروع کر رکھی ہے اور اس میں خاص طور پر ملکی ہوٹلوں اور ریستورانوں کو بھی متحرک کیا ہے۔ خوراک کے ضیاع کو روکنے کے حوالے سے مختلف ہوٹلز اور ریسٹورنٹس نے مختلف پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔

اس قومی مہم کے تناظر میں ایک ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوں کے لیے قدرے حیران کن اور متنازعہ پالیسی اپنائی ہے۔ اس کے تحت ریسٹورنٹ میں داخل ہونے والے ہر کسٹمر کو اپنا وزن کرانا ہوتا ہے۔ اس پالیسی کے خلاف کسٹمرز نے خاصی خفگی کا اظہار کیا ہے۔ اس ناراضی پر ریسٹورانٹ کی انتظامیہ نے معذرت پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ایپ کی تنصیب کا اولین مقصد خوراک کے ضیاع کو محدود کرنا ہے۔ اس وضاحت کے باوجود صارفین کا غصہ کم نہیں ہوا ہے۔

یہ ریسٹورنٹ چین کے وسطی شہر چانگشا میں واقع ہے۔ اس کی وجہ مقبولیت گوشت کی ڈشز ہیں۔ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے وقت کسٹمرز کو ایک خاص مشین کے سامنے کھڑا ہونا ہوتا ہے جو ان کا وزن کرنے کے بعد انہیں گوشت کی مختلف ڈشز تجویز کرتی ہے۔ ایک کمپیوٹر ایپ کی یہ تجاویز صارف کے وزن اور درکار کیلوریز کے مطابق ہوتی ہیں۔ چانگشا کے اس مقبول ریسٹورنٹ نے اپنی یہ ‘باڈی فرینڈلی‘ مگر متنازعہ پالیسی ابھی جمعہ 14 اگست کو ہی متعارف کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سعودی عرب میں خوراک کا فی کس سالانہ ضیاع عالمی اوسط کے دو گنا سے بھی زیادہ

دنیا بھر میں ہر سال 20 ملین ٹن غذا کا ضیاع

چانگشا شہر کے اس ریسٹورنٹ کو سوشل میڈیا پر اپنی متنازعہ پالیسی کی وجہ سے صارفین کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معذرت کے باوجود صارفین کا غصہ ابھی ٹھنڈا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تقریباً تین سو ملین افراد نے ریسٹورنٹ کی پالیسی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

شکر کا بائیکاٹ، جو سن 1791 میں شروع کیا گیا تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ صارفین کی جانب سے یہ تاریخ کا پہلا بائیکاٹ تھا۔ اس وقت شکر انگریزوں کے غلاموں کی تجارت کی ایک علامت بن چکی تھی۔ اس تصویر میں، کارٹونسٹ آئزک کروکشانک نے اس وقت کے اُن رئیسوں کا مذاق اڑایا تھا، جو خود کو فریڈم فائٹر کہتے تھے لیکن ان کی میٹھی چائے کسی کے لیے ماتم کا سبب تھی۔دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے اسی ہفتے کے دوران اپنی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک ضائع کرنے سے اجتناب کریں۔ ملک گیر مہم کا نام ‘آپریشن خالی پلیٹس‘ تجویز کیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ چینی صدر کی یہ اپیل کورونا وائرس کی وبا اور شدید سیلاب سے پیدا ہونے والی اقتصادی گراوٹ کے نتیجے میں ہوٹلوں اور ریستورانوں میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں ہے۔

ملکی صدر کی اپیل کی حمایت میں مختلف چینی علاقوں میں خوراک فراہم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کو تلقین کی ہے کہ کھانا کھانے کے لیے آرڈرز اعتدال سے تجویز کریں اور میز پر بیٹھے مجموعی افراد سے ایک ڈش کم منگوائیں۔ اس مشورے یا ہدایت کے حوالے سے سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گروپ کی شکل میں کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے اور ایک ڈش کم منگانے سے پیسے کی بچت اور خوراک کا ضیاع نہیں ہو گا۔

دیگر بہت سے ممالک کی طرح جرمن شہری بھی بار بی کیو کے مزے لیتے ہیں۔ ظاہر ہے، سوسیج کو تو گرل کیا ہی جا سکتا ہے گوشت کی طرح، مگر سبزیاں اور ترک پنیر گرل پر اپنی خوشبو اڑاتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے جرمنوں کے پسندیدہ اب بھی روایتی کوئلے والے گرل ہیں۔ شہریوں میں کئی پبلک پارکس میں بھی لوگ بار بی کیو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔