Christopher Columbus By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | نواں باب | کرسٹوفر کولمبس | نئی قسط

کولمبس نے یورپ سے مشرق جانے کے لیے مغربی طرف راہ ڈھونڈنے کی کوشش میں بلاارادہ امریکا دریافت کیا اور یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اس کا کردار اس سے کہیں اہم ہے جتنا اس نے کبھی اپنے بارے میں سوچا بھی نہیں ہو گا۔ کولمبس کی دریافت کے بعد نئی دنیا یعنی امریکا میں دریافتوں اور کالونیاں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جو تاریخ عالم میں فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکا کی دریافت نے اہلِ یورپ کو بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر آبادکاری کے لیے دو نئے بر اعظم کی راہ دکھائی اور معدنیاتی دولت اور خام مال کے وہ ذرائع فراہم کیے جنہوں نے یورپ کی معیشت کا رخ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مگر ساتھ ہی کولمبس کی دریافت نے امریکا میں مقامی  تہذیب کا قلع قمع کیا اور دنیا کے مغربی گوشے میں اقوام کے ایک نئے گروپ کی تشکیل کی راہ بھی ہم وار کی جو وہاں ہزاروں سال سے آباد انڈینز سے کلّی طور پر مختلف تھا اور جس نے دنیائے قدیم پر عظیم اثرات مرتب کیے۔ کولمبس کی کہانی سے کم و بیش ہر کوئی واقف ہے۔ وہ اٹلی کے شہر جینوا میں 1451ء میں پیدا ہوا۔ جوان ہونے کے بعد وہ ایک جہاز کا کپتان بن گیا۔ اس کے اصل جوہر سمندر میں سمت کا تعین کرنے میں پوشیدہ تھے۔ اسے بتدریج یقین ہو چلا تھا کہ بحرِاوقیانوس میں مغرب کی جانب سفر کرنے سے ایشیاء تک پہنچنے کا راستہ ممکن ہے۔



کولمبس نے اپنے اس تصور کو عملی معنی دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور بلاخر اس نے کاسٹائل کی ملکہ ازابیلا اول کو اپنے اس بحری سفر کے اخراجات اٹھانے پر آمادہ کر ہی لیا۔ کولمبس کا جہاز 3 اگست 1492ء کو اسپین کے ساحل سے روانہ ہوا جس کا پہلا قیام افریقہ کے ساحل سے پرے جزائز کینری پر ہوا۔ جس کے بعد وہ جزائز کینری سے 6 ستمبر کو روانہ ہوا اور اس کا رخ مغرب کی جانب تھا۔ یہ ایک بہت طویل سفر تھا جس سے ملّاح خوف زدہ ہو کر واپسی کے لیے اصرار کرنے لگے۔ تاہم کولمبس نے سفر جاری رکھنے پر زور دیا اور بالاخر 12 اکتوبر 1492ء کو انہیں نئی دنیا دکھائی دی۔ مارچ کے مہینے میں کولمبس اسپین واپس آیا جہاں اس فاتح مہم جو کا نہایت عزت و احترام کے ساتھ اسقبال ہوا۔ بعدازاں کولمبس نے بحرِاوقیانوس کے پار چین یا جاپان تک براہِ راست راستہ ڈھونڈنے کی خواہش میں تین ناکام سفر کیے۔ کولمبس مصر تھا کہ اس نے مشرقِ ایشیاء تک پہنچے کا راستہ پا لیا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ لوگ اسے طویل عرصے تک غلط سمجھتے رہے اس نے اپنا ذہن تبدیل نہیں کیا۔ ملکہ ازابیلا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے کسی بھی نویافتہ زمین کا گورنر بنا دیا جائے گا تاہم وہ بطور منتظم اتنا ناکام ثابت ہوا کہ اسے بتدریج عہدے سے فارغ کر کے زنجیروں میں جکڑ کر اسپین واپس بھیج دیا گیا۔ اگر چہ اسے وہاں فوری طور پر آزاد کر دیا گیا مگر اسے بعد میں کبھی بھی کوئی انتظامی عہدہ نہیں دیا گیا اور یہ صرف ایک افواہ ہے کہ اس نے نہایت غربت کی حالت میں جان دی۔ در حقیقت 1506ء میں اپنی موت کے وقت کولمبس ٹھیک ٹھاک امیر تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ کولمبس کا پہلا سفر یورپی تاریخ میں انقلابی اثر رکھتا ہے بلکہ اس کے اثرات یورپ پر امریکا سے بھی زیادہ ہیں۔ 1492ء وہ تاریخ ہے جس سے اسکول جانے والا ہر بچہ اچھی طرح واقف ہے مگر اس کے باوجود متعدد ممکنہ اعتراضات ہیں جو کولمبس کو اس کتاب میں اتنے بلند درجے پر رکھنے میں مانع ہیں۔ پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ کولمبس وہ پہلا یورپی فرد نہیں تھا جس نے نئی دنیا دریافت کی۔ ایک وائکنگ ملاح لیف ایرکسن کولمبس سے صدیوں پہلے امریکا پہنچ چکا تھا اور یہ بات معقول ہے کہ اس عرصے کے دوران متعدد مہم جو یورپی ملّاحوں نے ’نئی دنیا‘ کو دریافت کرنے کے لیے اوقیانوس ضرور پار کیا ہو گا۔ تاریخی اعتبار سے اگرچہ لیف ایرکسن ایک غیر اہم شخص ہے۔ اس کی دریافتوں کے بارے میں کبھی کچھ سامنے نہیں آیا اور نہ اس نے یورپ اور امریکا میں عظیم تبدیلیوں کی راہ ہم وار کی جب کہ دوسری طرف کولمبس کی دریافتوں کی خبریں تمام یورپ میں بہت تیزی سے پھیل گئیں اور اس کی واپسی کے چند سالوں کے اندر اندر نئی دنیا کی جانب متعد مہم جو روانہ ہوئے جو اس کی دریافت کا براہ راست نتیجہ تھا جس سے فتوحات اور نوآبادیوں کا ایک بالکل نیا باب کھلا۔ اس کتاب میں مندرج دیگر شخصیات کی طرح کولمبس کی بابت بھی کہا جاتا ہے کہ اگر اس نے امریکا دریافت نہیں کیا ہوتا تب بھی اس خطے کو کوئی نہ کوئی دریافت کر ہی لیتا۔ 15ویں صدی کا یورپ پہلے ہی احیاء سے گزر رہا تھا۔ وہاں معیشت پھیل رہی تھی اور ایسی سیاحتی مہمات ناگزیر تھیں۔ در اصل کولمبس سے بہت پہلے پرتگالی انڈیا تک پہنچنے کا نیا راستہ کھوجنے میں جتّے ہوئے تھے۔ چناں یہ کہنا معقول ہے کہ جلد یا بدیر یورپیوں نے امریکا کو دریافت کر ہی لینا تھا اور حتٰی کہ یہاں تک ممکن ہے کہ کولمبس کی زندگی میں ہی ایسا ہو جاتا۔ تاہم اگر 1492ء کے بجائے کسی فرانسیسی یا انگریز مہم جو نے 1510ء میں قطعی طور پر امریکا کو دریافت کیا ہوتا تو بعد ازاں پھوٹنے والے ترقی کے دھارے کا رخ وہ نہیں ہوتا جو آج ہے۔ چناں چہ بات کچھ بھی ہو کولمبس ہی دراصل وہ شخص ہے جس نے حقیقی طور پر امریکا کو دریافت کیا۔ تیسرا ممکنہ اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ کولمبس کے بحری سفروں سے بہت پہلے 15ویں صدی میں یورپی اقوام اس حقیقت سے باخبر تھیں کہ دنیا گول ہے کیوں کہ یہ نظریہ یونانیوں نے صدیوں قبل پیش کیا تھا اور محض ارسطو کی جانب سے اس نظریے کی توثیق 14ویں صدی میں تعلیم یافتہ یورپ کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے کافی تھی۔ تاہم کولمبس کی وجۂ شہرت یہ نہیں کہ اس نے دنیا کو گول ثابت کر دکھایا بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کرنے میں قطعی ناکام رہا۔ اس کی وجہ شہرت نئی دنیا کی دریافت ہے اور 15ویں صدی کا یورپ اور نہ ہی ارسطو اس حقیقت سے واقف تھے کہ براعظم امریکا اس دنیا میں اپنا وجود رکھتا ہے۔ کولمبس کا کردار مکمل طور پر قابلِ تعریف نہیں ہے۔ وہ انتہائی لالچی شخص تھا۔ در حقیقت کولمبس کو ملکہ ازابیلا کو سفری خرچ فراہم کے لیے آمادہ کرنے میں جن شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے نہایت بھاری رقم طلب کی تھی۔ اگرچہ اس بات کا آج کے اخلاقی معیارات سے موازنہ مناسب نہیں ہو گا مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ اس نے مقامی آبادی کے ساتھ نہایت بے رحم اور ظالمانہ سلوک کیا۔ مگر چوں کہ اس کتاب میں دنیا کے نفیس ترین افراد کا تذکرہ ہمارے مقصد سے ماوراء ہے کیوں کہ یہاں ہم دنیا کے پُراثر ترین افراد کی درجہ بندی کر رہے ہیں اور یہ ہی وہ نکتہ نظر ہے جس کی رو سے کولمبس کا تذکرہ اس کتاب میں اوپر کے درجوں میں کیا گیا ہے۔