Confucius By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | پانچواں باب | کنفیوشس

 کنفیوشس وہ پہلا چینی فلسفی تھا جس نے مذہبی و اخلاقی نظریات کے ایک نظام کو تشکیل دے کر اہل چین کے مرکزی عقائد  کو نیا روپ دیا۔ کنفیوشس کے فلسفے نے جس کی بنیاد ذاتی اخلاقیات اور ایک ایسی حکومت کے تصور پر مبنی تھی جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہنے کے ساتھ بہترین طرز حکومت کی اخلاقی مثال بھی قائم کرے قریب بیس صدیوں تک اہل چین کے دلوں اور ثقافت پر اثرات قائم رکھے اور دیگر دنیا کے ایک بڑے حصے کو بھی متاثر کیا۔ کنفیوشس کی پیدائش تقریباً 551 قبل مسیح میں لو نامی ایک چھوٹی سی ریاست میں ہوئی جو آج شمال مشرقی چین کے ژان تنگ صوبے میں واقع ہے۔ کنفیوشس کے بچپن ہی میں اس کے باپ کا انتقال ہو گیا چناں چہ اس نے اور اس کی ماں نے نہایت تنگ دستی میں زندگی گزاری۔ جوان ہونے پر مستقبل کے اس عظیم فلسفی نے اپنی عملی زندگی کی ابتدا ایک معمولی سے سرکاری ملازم کے طور پر کی تاہم کچھ سالوں بعد اس نے اس نوکری کو بھی چھوڑ دیا۔ کنفیوشس نے اگلے 16 سال تعلیم دینے میں گزارے اور اپنے فلسفے کے مانے والے بے شمار افراد اپنے گرد اکٹھے کر لیے۔ جب کنفیوشس کی عمر 50 سال تھی اسے ریاست لو کی حکومت میں ایک بہت اونچا عہدہ دیا گیا مگر تقریبا 4 سال بعد دربار میں اس کے حاسدوں نے اسے عہدے سے بر طرف کرا دیا جس کے بعد کنفیوشس کو وطن بھی چھوڑنا پڑا۔اس عرصے میں کنفیوشس نے اگلے 13 سالوں تک گھوم پھر کر لوگوں کو تعلیم دی اور اس کے بعد وہ چین لوٹ آیا جہاں صرف 5 سال بعد 479 قبل مسیح میں اسے موت نے آلیا۔  کنفیوشس کو عام طور پر ایک مذہب کا بانی قرار دیا جاتا ہے مگر یہ بات صحیح نہیں کیوں کہ اس نے بہت کم کسی غیبی طاقت کی بات کی، آخرت پر زبان کھولنے سے انکار کیا اور ہر قسم کے مابعد از طبیعات اندازوں سے بھی گریز کیا۔ کنفیوشس دراصل بنیادی طور پر ایک سیکولر فلسفی تھا جس کی اصل دل چسپی ذاتی اور سیاسی اخلاقی طرز عمل میں تھی۔ کنفیوشس کے مطابق انسانوں کے لیے دو اہم خصوصیات ’جین‘ اور ’لی‘ ہیں اور بلند فطرنت انسان ان ہی سے اپنے طرز عمل کا تعین کرتے ہیں۔ جین کا عام طور پر ترجمہ ’محبت‘ کیا جاتا ہے مگر اس کی قریب ترین تشریح ’انسانوں کے بارے میں مشفقانہ تفکر‘ کی ہے جب کہ ’لی‘ سے آداب، رسومات، اطوار، رواج اور خوش دلی مراد ہیں۔ چینی مذہب میں آباواجداد کی پرستش کو کنفیوشس کی اس گہری تبلیغ سے  عروج نو حاصل ہوا جو وہ خاندانی وفاداری اور والدین کے احترام کے بارے میں کرتا رہتا تھا۔ کنفیوشس نے اس بات کی بھی تعلیم دی کہ عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کے ساتھ اور اسی طرح رعایا پر لازم ہے کہ وہ حکام کے ساتھ احترام اور تابع داری کا رویہ اختیار کریں تاہم اس نے ظلم و ستم کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ اس کا ماننا تھا کہ ریاست کا وجود لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اس کے برعکس اور اس نے بارہا تاکیداً کہا  کہ ایک بادشاہ کو طاقت کے بجائے اخلاقی اصولوں کے ذریعے حکومت کرنی چاہیے۔ کنفیوشس کا ایک اور نظریہ ’سنہری اصول‘ سے بہت مطابقت رکھتا ہے، جس کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے کہ جو تم اپنے ساتھ نہیں کرتے وہ دوسروں کے ساتھ بھی نہیں کرو۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ  کنفیوشس کے خیالات نہایت قدامت پسندانہ اور سخت گیر تھے۔ اس کا ماننا تھا کہ ’سنہری دور‘ ماضی میں گزر چکا ہے چناں چہ اس نے عوام اور بادشاہوں دونوں کو قدیم اخلاقی معیارات کی طرف پلٹنے کی تلقین کی۔ مگر سچ یہ ہی ہے کہ کنفیوشس کے اخلاقی طرز حکمرانی کے تصور کو قدیم تاریخ میں کوئی غلبہ حاصل نہیں تھا اور وہ اس سے کہیں زیادہ روشن خیال مصلح تھا جتنا اس کا اپنے بارے میں خیال تھا۔ کنفیوشس کے دور میں چین پر چائو خاندان کی حکومت تھی اور یہ وہ دور تھا جب چین کو بڑے پیمانے پر فکری عروج حاصل ہوا۔ اگرچہ کنفیوشس کے ہم عصر حکمرانوں  نے اس کے نظریات کو قبول نہیں کیا مگر اس کی موت کے بعد اس کے نظریات چین میں عام ہو گئے۔ مگر 221 قبل مسیح میں وہاں چی ان خاندان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد کنفیوشس ازم کے برے دن شروع ہو ئے۔ چی ان خاندان کا اولین شہنشاہ شی ہوانگ ملک بھر سے کنفیوشس کی تعلیمات کو جڑ سے اکھاڑنے کے درپے آزار ہو گیا اور ماضی کی ہر نشانی کو ختم کرنے کے لیے اس نے کنفیوشس کی تعلیمات کو دبانے اور اس کے تمام کتابیں نذرِ آتش کرنے کا حکم دیا۔ تاہم ہوانگ کی کوششیں ناکام رہیں اور جب چند سالوں بعد چی ان شہنشایت کا خاتمہ ہوا تو کنفیوشس کے ماننے والے فلسفی اپنے نظریات اور عقائد کی ترویج و تبیلغ  میں ایک بار پھر مکمل طور پر آزاد ہو گئے۔ چین کا اگلا شہنشاہ ہان تھا جس کے دور حکومت میں کنفیوشس کی تعلیمات کو ملک کے سرکاری فلسفے کا درجہ ملا۔ ہان دور حکومت سے چینی حکم رانوں نے بتدریج سول سروس امتحانات کے تحت سرکاری افسروں کی تقرری کا سلسلہ شروع کیا مگر گزرتے وقت کے ساتھ اس امتحان کا نصاب بڑی حد تک کنفیوشس کی روایتی تعلیمات میں ڈھل گیا۔ چوں کہ اس وقت چین میں مالی کام یابی اور بلند سماجی مقام کا راستہ افسر شاہی میں شمولیت سے شروع ہوتا تھا اس لیے سول سروس کے امتحانات نہایت دشوار اور شدید مسابقت سے پر ہوا کرتے تھے۔


اس کیفیت کا اندازہ ہندوستان میں انگریزوں کے دور میں آئی سی ایس کے امتحانات اور کام یابی کے بعد ملنے والے سرکاری عہدوں سے وابستہ شاہانہ شوکت سے بخوبی کیا جا سکتا ہے – نیرنگ


اس لیے صدیوں تک چین کے انتہائی ذہین اور پرجوش نوجوانوں نے اپنی زندگی کے متعدد قیمتی سال کنفیوشس کے روایتی فلسفے کے گہرے مطالعے میں صرف کیے اور نتیجتاً صدیوں تک چینی افسر شاہی ایسے افسران پر مبنی رہی جن کی ذہنیت قطعی طور پر کنفیوشس کے فلسفے سے متاثر تھی۔ تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ یہ نظام چین میں دو ہزار سالوں تک جاری رہا یعنی ایک سو قبل مسیح سے لے کر انیس سو قبل مسیح تک۔ مگر کنفیوشس مت صرف چینی انتظامیہ ہی کا سرکاری فلسفہ نہیں تھا بلکہ چینی عوام کی اکثریت بھی بڑے پیمانے پر ان تعلیمات پر عمل پیرا رہی جس نے کم و بیش بیس صدیوں تک ان کی زندگی اور فکر کو گہرے طور پر متاثر کیے رکھا۔ چین میں کنفیوشس کی مقبولیت کے کئی اسباب تھے۔ اول، اس کی ذات کے خلوص اور سالمیت پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکا۔ دوم، وہ ایک روشن خیال اور عملی انسان تھا جس نے انسانوں سے کبھی بھی ایسے طرز عمل کا مطالبہ نہیں کیا جو ان کی استطاعت سے باہر ہوتا چناں چہ اگر اس نے لوگوں سے عزت مند ہونے کا کہا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ اس نے انہیں درویش یا ولی بن جانے کی تبلیغ کی۔ کنفیوشس نے اپنے فلسفے میں اہل چین کے عملی مزاج کو منعکس کیا اور غالباً یہ ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کے باعث اس کے تصورات چین میں خوب پھلے پھولے۔ کنفیوشس نے اہل چین سے ان کے بنیادی عقائد میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس نے زیادہ صاف انداز میں وضاحت کی کہ چین کے روایتی بنیادی عقائد کیا ہیں۔ شاید تاریخ میں کوئی دوسرا فلسفی عوام کے بنیادی تصوارت سے اتنا قریب نہیں ہے جتنا کنفیوشس تھا۔ کنفیوشس ازم جو کسی فرد کے حقوق سے زیادہ اس کے فرائض پر زور دیتا ہے موجودہ مغربی معیار کے تحت وزنی اور غیر پرکشش ہو سکتا ہے مگر ایک حکومتی فلسفے کے طور پر اس نے زبردست عملی کام یابی حاصل کی۔ اگر داخلی امن اور خوش حالی کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو چین دو ہزار سال تک بہترین طرز حکم رانی کے لحاظ سے اوسطاً دنیا کا بہترین خطہ ثابت ہوا۔ تاہم چین کی ثقافت میں گندھی کنفیوشس کی فکر اور تعلیمات کو مشرقی ایشیا سے باہر کوئی اثر حاصل نہیں ہوا سوائے جاپان اور کوریا کے مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ ان دونوں ممالک کی ثقافت نے چین کی قدیم ثقافت سے ہی جنم لیا ہے۔ آج چین میں کنفیوشس مت تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کمیونسٹ چین نے ماضی سے ہر رشتے توڑنے کے جنون میں کنفیوشس اور اس کے عقائد و تعلیمات کو بری طرح نشانہ بنایا ہوا ہے اور صاف لگ رہا ہے کہ وہاں کنفیوشس اور اس کی تعلیمات کے اثرات حالت نزع میں ہیں تاہم اس کے باوجود چین کی ثقافت و تہذیب میں کنفیوشس کی تعلیمات کی جڑیں اتنی گہرائی میں پیوست ہیں کہ اگر آئندہ صدی میں وہاں ایک بار پھر اس عظیم فلسفی کی فکر و تصورات ایک بار پھر غلبہ پا لیں تو اس میں کسی کو چنداں حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔