Constantine | Michael Hart | Urdu | The 100

دی ہنڈریڈ | اکیسواں باب | کانسٹینٹین

کانسٹینٹائن اعظم روم کا پہلا عیسائی حکم ران تھا۔ کانسٹینٹائن کے اس نئے مذہب (عیسائیت) کو قبول اور اس کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کرنے کے باعث عیسائی مذہب ایک معتوب مسلک سے بڑھ کر یورپ کا غالب مذہب بن گیا۔ اس تبدیلی کا تمام تر سہرا کانسٹینٹائن کے سر جاتا ہے۔ کانسٹینٹائن کی پیدائش 280ء کے قریب موجودہ یوگوسلاویہ کے قصبے نائسس – موجودہ نس – میں ہوئی۔ اس کا باپ فوج میں ایک اعلی عہدے دار تھا اور کانسٹینٹائن نے نو عمری کا دور نکومیڈیا میں گزارا جہاں شہنشاہ ڈائیوکلیٹیئَن کا دربار تھا۔ 305ء میں ڈائیوکلیٹیئن کے تخت سے دست بردار ہونے کے بعد کانسٹینٹائن کا باپ کانسٹینٹیئس سلطنت روما کے نصف مغربی حصے کا حکم ران بن گیا۔ اسی سال کانسٹینٹیئس کی موت کے بعد اس کے فوجی دستوں نے کانسٹینٹائن کو حکم ران تسلیم کر لیا مگر دیگر جنرل اس اعلان سے متفق نہیں تھے جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 312ء میں خانہ جنگی اس وقت اپنے اختتام کو پہنچی جب کانسٹینٹائن نے اپنے واحد مخالف میکسینٹائس کو روم کے نزدیک ’ملویان پل کی جنگ‘ میں شکست دے دی۔ اب کانسٹینٹائن سلطنت کے نصف مغربی حصے کا واحد خود مختار حکم ران تھا اور مشرقی نصف حصے پر جنرل لائی سینیئس کی حکومت تھی۔ 323ء میں کانسٹینٹائن نے لائی سینیئس کو بھی ایک حملے کے نتیجے میں شکست دے دی اور پھر 337ء میں اپنی موت تک وہ سلطنت روما کا واحد فرماں روا رہا۔ یہ بات واضح نہیں کہ کانسٹینٹائن نے کب عیسائی مذہب قبول کیا مگر عام قصہ یہ ہے کہ ملویان جنگ سے قبل رات میں اس نے آسامان پر ایک آتشی صلیب دیکھی جس کے ساتھ یہ الفاظ تحریر تھے کہ ’یہ علامت تیری فتح کی ہے‘۔ اس بات سے قطع نظر کہ کانسٹینٹائن نے کب عیسائیت اختیار کی اس نے اپنے آپ کو اس مذہب کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ اس سلسلے میں اس کا پہلا اقدام ’فرمان ملویان‘ تھا جس کے تحت عیسائیت قانونی اور قابلِ قبول مذہب بن گئی۔ اس فرمان کے تحت کلیسا کو گزشتہ دورِصعوبت میں چھینی گئی تمام املاک لوٹا دی گئیں اور اتوار کا دن عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا۔ اس فرمان کا محرک مذہبی رواداری کے جذبات نہیں تھے بلکہ اس کے بر عکس کانسٹینٹائن کے دورِحکومت کو یہودیوں کی سرکاری تعذیب کے آغاز کا عہد کہنا چاہیے جو عیسائی یورپ میں کئی صدیوں تک جاری رہا۔ کانسٹینٹائن نے کبھی بھی عیسائیت کو سرکاری مذہب قرار نہیں دیا مگر اپنے وضع کردہ قوانین اور دیگر اقدامات کے ذریعے اس نے عیسائییت کے فروغ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے دورِحکومت میں واضح تھا کہ عیسائیت قبول کرنے سے بلند سرکاری عہدوں تک پہنچنے کا راستہ کھلتا ہے۔ کانسٹینٹائن کے فرامین نے کلیسا کو متعدد فائدے اور مراعات بھی عطا کیں۔ اسی دوران وہاں دنیا کی مشہور ترین کلیسائی عمارات تعمیر ہوئیں جن میں بیتھیلیئم میں چرچ آف نیٹے وٹی اور یروشلم میں کلیسائے مقدس وغیرہ شامل ہیں۔ پہلے عیسائی شہنشاہ کے بطور کانسٹینٹائن کا کردار اس کتاب میں اس کے تذکرے کے لیے کافی تھا تاہم اس کے دیگر کئی اقدامات بھی دورس اثرات کے حامل ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے قدیم بازنطینی شہر کو ازسرنو تعمیر کرایا اور اس کی توسیع کی۔ اس شہر کا نام تبدیل کر کے کونسٹین ٹینی پول رکھا گیا جہاں کانسٹینٹائن نے اپنا دارالحکومت قائم کیا۔ اس شہر نے، جو آج اسنتبول کے نام سے معروف ہے دنیا کا ایک عظیم شہر بننا تھا جو 1453ء تک شرقی سلطنت روما کا اور بعد ازاں کئی صدیوں تک سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا۔ کانسٹینٹائن نے کلیسا کی داخلی تاریخ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایرئیس اور اتھانسیئس نامی متضاد خیالات رکھنے والے دو عیسائی عالموں کے تنازع کے حل کے لیے اس نے 325ء میں نیقیا کی مجلس بلائی جو کلیسا کی پہلی مجلسِ عام تھی۔ اس مجلس میں کانسٹینٹائن نے بھرپور حصہ لیا اور نیقائی عقائد اختیار کرتے ہوئے اس تنازع کا خاتمہ کر دیا جس کے بعد یہ عقیدہ چرچ کا راسخ عقیدہ بن گیا۔ اس سے بھی بڑھ کر اہم کام کانسٹینٹائن کی عوامی قانون سازی تھی۔ کانسٹینٹائن نے کچھ ایسے قوانین جاری کیے جن کے تحت بعض پیشوں مثلا قسائی اور بیکری وغیرہ کے کام کو وراثتی قرار دیا گیا۔ اس نے ایک اور قانون جاری کیا جس کی رو سے بعض مخصوص قسم کے مزارعے اپنی جگہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ جدید اصطلاحات کے مطابق، اس قانون نے مزارعوں کو جاگیردارانہ غلاموں میں تبدیل کر دیا جنہیں کبھی بھی اپنی زمین چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نوعیت کے فرامین نے یورپ میں ازمنہ وسطیٰ میں مکمل سماجی نظام کی بنیادیں فراہم کیں۔ کانسٹینٹائن نے بسترِمرگ پر اپنا بپتسمہ کرایا مگر یہ قطعی واضح ہے کہ وہ اس سے بہت پہلے عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کانسٹینٹائن عیسائیت کے روحانی پہلو سے بالکل ناواقف تھا اور حتٰی کہ اس دور کے لحاظ سے بھی اس کا شمار نہ صرف دشمنوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک نہایت ظالم اور بے رحم حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ 326ء میں نامعلوم اسباب کی بناء پر اس نے اپنے بیٹے اور بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دلیل دی جاتی ہے کہ کانسٹینٹائن کے عیسائی ہونے سے تاریخ کے دھارے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ اگر چہ شہنشاہ ڈایوکلیٹیئن -305-284ء – نے عیسائیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر شدید مظالم کیے مگر اسے اس ضمن میں مکمل نا کامی ہوئی کیوں کہ اس وقت تک عیسائیت اتنی طاقت ور ہو چکی تھی کہ سخت سے سخت ترین ظالمانہ اقدامات بھی اسے نہیں مٹا سکتے تھے۔ عیسائیت کے خاتمے کے لیے ڈایوکلیٹیئن کے ناکام اقدامات کا تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ کانسٹینٹائن کی مدد کے بناء بھی عیسائیت نے بلآخر اتنا ہی مضبوط ہو جانا تھا۔ یہ قیاسات دل چسپ مگر ادھورے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کانسٹینٹائن کے بغیر صورت حال کیا ہوتی؟ تاہم یہ بات قطعی واضح ہے کہ کانسٹینٹائن کی حوصلہ افزائی سے عیسائیت کی ترویج اور اثر میں تیزی سے اضافہ ہوا اور محض اقلیتوں کے ایک مسلک سے اٹھ کر عیسائیت صرف ایک صدی میں اس وقت روئے زمین پر سب سے طاقت ور سلطنت کا غالب اور مستحکم مذہب بن گئی۔ بلاشبہ کانسٹینٹائن یورپی تاریخ کا سب سے محوری کردار ہے۔ اس کتاب میں اس کا تذکرہ زیادہ معروف شخصیات جیسے سکندر اعظم، نپولن اور ہٹلر وغیرہ سے پہلے کیا گیا ہے جس کا سبب اس کے اقدامات کے دیرپا اثرات کے سوا کچھ دیگر نہیں۔