Coronavirus and Fake Health Advice Urdu
اہم ترین - جامِ جہاں نما - اپریل 27, 2020

کرونا کا ’کرشماتی علاج‘ وائرس سے بھی خطرناک ہے

کئی لوگ ان دنوں کورونا وائرس کے مرض کے ’کرشمائی علاج‘ کے طور پر متنازع کیمیائی مادے کلورین ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے لگے ہیں۔

ایک زمانے سے لوگ ملیریا، ذیابیطس، دمہ، آٹزم اور یہاں تک کہ کینسر جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے کلورین ڈائی آکسائیڈ کی تشہیر کرتے رہے ہیں اور اب اسے ‘میریکل منرل سپلیمنٹ’ یعنی ایک کرشمائی معدنیاتی مرکب کے طور پر بھی جانا جانے لگا ہے۔

لیکن اب، جب کہ پوری دنیا کووڈ 19 کی وبا کا سامنا کر رہی ہے، تو لوگ ایک بار پھر اس کیمیکل کو وائرس کے علاج کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔

تاہم برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کسی بھی صحت کی تنظیم نے کلورین ڈائی آکسائیڈ کو دوا کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے اور سپین، فرانس، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک نے کلورین ڈائی آکسائیڈ کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس کیمیکل سے وابستہ خطرات کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور متعدد تنظیموں نے اس کے استعمال سے متعلق سخت انتباہ جاری کر رکھا ہے۔کلورین ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کے بعد مریضوں کی صحت پر سنگین اثرات سامنے آتے ہیں۔

امریکی محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کیمیکل سے جسم کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور جگر کام کرنا بند کر دیتا ہے۔

بعض مریضوں کی دل کی دھڑکن اس حد تک غیر معمولی ہو جاتی ہیں کہ مریض کی جان جانے کی نوبت آ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ خون کے سرخ خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور قے و دست کی شدت بھی دیکھی گئی ہے۔

امریکی ادارے ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ اگر کلورین ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کے بعد طبی مدد لینے میں تاخیر کی جائے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔