Coronavirus Good For Environment In Urdu
جامِ جہاں نما - اہم ترین - اپریل 23, 2020

کرونا وائرس کرۂ ارض کے لیے بہت صحت بخش ثابت

اگرچہ حالیہ کرونا وبا کے باعث دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک جب کہ کئی ملین متاثر ہوئے ہیں مگر اس مہلک وبا نے حیرت انگیز طور پر ہماری زمین کی صحت یابی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے جس میں سرفہرست آلودگی کا خاتمہ ہے۔

ریڈیو وائس آف امریکا کے مطابق دنیا بھر میں بدھ کو زمین کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1970 میں ہوا تھا۔ ان 50 برسوں میں کبھی زمین کا ماحول اس قدر بہتر نہیں تھا، ہوا اتنی صاف نہیں تھی، بہتا ہوا پانی اتنا اجلا نہیں تھا، جتنا اس بار ہے اور اس کا سہرا کرونا وائرس کے سر ہے جس نے اربوں انسانوں کو گھر بٹھا رکھا ہے۔

چناں چہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے اسموگ غائب ہوگئی ہے۔ شمال مشرقی امریکہ میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ 30 فیصد کم ہے۔ اٹلی کی فضا گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد صاف ہے۔ رات کو آسمان پر ستارے بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ان مقامات اور اوقات میں جنگلی جانور دکھائی دے رہے ہیں جہاں وہ عام طور پر نظر نہیں آتے تھے۔

امریکی بھیڑیے کویوٹی شکاگو کی مشی گن ایونیو اور سان فرانسکو کے گولڈن گیٹ برج کے قریب گھمتے پھرتے دیکھے جا رہے ہیں۔

سان تیاگو کی گلیوں میں پوما آوارہ گردی میں مصروف پایا گیا ہے۔ ویلز میں پہاڑی بکریوں نے ہلہ بول دیا ہے۔ اور بھارت میں بندر معمول سے زیادہ بہادری دکھاتے ہوئے گھروں میں گھس رہے ہیں تاکہ کچھ کھانے پینے کو مل جائے۔

ڈیوک یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات اسٹوارٹ پم نے اس صورتحال پر کہا کہ اس بحران نے یہ جاننے کا غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے کہ ہم انسانوں نے اپنے خوبصورت سیارے کا کیا حشر کر دیا ہے۔ ہمیں طلسماتی منظر دیکھنے کو ملا ہے کہ اسے کتنا زیادہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ماحولیات سے متعلق اسٹین فورڈ ووڈز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرس فیلڈ نے سائنس دانوں کو اکٹھا کیا ہے، تاکہ انسانوں کے گھر پر رہنے سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔

سائنس دان اگرچہ خود بھی گھروں میں بند ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ نباتیات، حشرات، موسم، شور اور روشنی کی آلودگی میں تبدیلیوں کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

اطالوی حکومت ایک سمندری مہم پر کام کر رہی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ انسانوں کے نہ ہونے سے سمندر پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے فضا میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ، اسموگ اور چھوٹے ذرات میں ڈرامائی کمی کا پتا لگایا ہے۔ ہیلتھ افیکٹس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس فضائی آلودگی سے دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ناسا نے 2005 میں ایک مواصلاتی سیارہ خلا میں بھیجا تھا تاکہ زمین کی فضا میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی شرح معلوم کی جا سکے۔ اس کے مطابق بوسٹن سے واشنگٹن ڈی سی تک 15 سال میں ہوا کبھی شفاف نہیں تھی جتنی اب ہے۔

گزشتہ 5 سال کا ڈیٹا دیکھیں تو مارچ کے مہینے میں پیرس کی فضا میں آلودگی 46 فیصد، بنگلور میں 35 فیصد، سڈنی میں 38 فیصد، لاس اینجلس میں 29 فیصد اور ریو ڈی جنیرو میں 26 فیصد کم تھی۔

شفاف فضاء سب سے زیادہ چین اور بھارت میں محسوس کی جارہی ہے جن کے شہر دنیا کے آلودہ ترین مقامات بن چکے تھے جب کہ بھارتی شہر جالندھر کے شہریوں نے کئی عشروں بعد اس ماہ 100 میل سے زیادہ فاصلے پر برف سے ڈھکی ہمالیہ کی چوٹیاں دیکھی ہیں۔