Coronavirus Soon To Kill Millions Warns WHO Read in Urdu
اہم ترین - جامِ جہاں نما - اپریل 21, 2020

کورونا سے اموات اب لاکھوں میں ہوں گی، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت – ڈبلیو ایچ او ـ نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ حکومتوں کی لاپرواہی سے اب کرونا نہایت تیزی سے پھیلے گا جس میں اموات کی تعداد کئی ملین تک پہنچ جائے گی۔

وائس آف جرنمی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں پابندیاں اٹھانے سے دنیا میں وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ صحت کے عالمی ماہرین کے خدشات ایک ایسے وقت پرسامنے آرہے ہیں جب امریکا سمیت کئی یورپی ممالک نے اس ہفتے سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز کر دیا ہے۔

اس سلسے میں پیر کو امریکا کی کچھ ریاستوں میں کاروبار وصنعت کو بڑے پیمانے پر کھول دیا گیا جب کہ جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے ملکوں میں پابندیاں مرحلہ وار اور بتدریج انداز میں اٹھانے کی شروعات کر دی گئی ہيں تاہم آسٹریلیا نے کہا ہے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد قابو میں آنے کے بعد وہاں آئندہ ہفتے سے ہسپتالوں میں معمول کے آپریشن بحال کر دیے جائیں گے۔

حکومتوں کا اصرار ہے کہ جہاں جہاں بھی نقل وحرکت میں نرمی کی جا رہی ہے وہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور حفظان صحت کی ہدایات کی پاس داری کرنا ہوگی لیکن صحت کے ماہرین کو درست تشویش ہے کہ ہر جگہ اس پر عمل درآمد یقینی بنانا مشکل ہوگا۔

ان ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے میں کورونا وائرس کی دوسری لہر پھیل سکتی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو گی ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق اس کی بڑی مثال سن انیس سو اٹھارہ میں انفلوئنزا کی تباہ کن وبا ہے جس میں پانچ کروڑ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

یہ وبا بظاہر تھم جانے کی بعد بار بار پلٹ کر حملے کرتی رہی اور ہر دفعہ پہلے سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔

اسی طرح سن ستاون اور اڑسٹھ میں فلو کی وبا نے بھی متعدد مرحلوں میں انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا۔

سن دو ہزار نو میں سوائن فلو کی وبا کا آغاز امریکا جیسے ممالک میں اپریل میں ہوا لیکن اس کی دوسری لہر نے کئی ماہ بعد موسم خزاں کے دوران ایشیا کے کئی ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

صحت کے عالمی ماہرین اس وقت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کے رجحانات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے دنیا سے بھر سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایسے میں تین ممالک سنگاپور، جرمنی اور چین سے تشویش ناک رجحانات سامنے آئے ہیں کیوں کہ ان تینوں ملکوں میں کیسز کی تعداد بظاہر قابو میں آنے کے بعد پھر سے یکایک اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک کوویڈ انیس کی ویکسن ایجاد نہیں ہوتی وبا کی روک تھام کے لیے نقل وحرکت پر جلد بازی میں پابندی اٹھانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔