Coronavirus Was Brought to Earth by a Meteorite | Read in Urdu

کورونا وائرس غیر ارضی ہے، پُراسرار سائنسی ’انکشاف‘

کورونا وائرس ایک غیرارضی خُردحیاتیہ ہے جسے زمین کی فضاء میں پھیلانے کا ذمہ دار ایک شہاب ثاقب ہے نیز ایک تہلکہ انگیز سائنسی دعوے کے مطابق اس وقت بھی زمین کی بلندترین فضاء میں یہ مہلک ترین وائرس کئی کھرب کھرب کی تعداد میں موجود ہے۔

چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وباء پھوٹنے کے بعد دنیا بھر میں طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ مہلک بیماری بہت جلد تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے کیوں کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسانوں میں بغیر کوئی علامات ظاہر کیے نہایت تیزی سے منتقل ہو رہا ہے اور اسی پُراسرار رویے کے پیشِ نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ امکانی طور یہ وائرس غیرارضی ہے جو خلاء یا کائنات سے زمین تک کسی شہابِ ثاقب کے ذریعے پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ کئی عشروں سے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ خلائے بسیط میں وائرس، بیکٹریا اور ڈی این اے کی لڑیاں موجود ہیں جنہیں شہاب ثاقب اپنے ساتھ چمٹا کر کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں اور اسی طرح یہ خردحیاتیے زمین کی بالائی ترین فضاء میں بھی داخل ہو کر انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔


ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین میں پھوٹ پڑنے والی وباء محض اپنی ابتدائی شکل میں ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ وائرس مزید تبدیل ہو کر ایک ہول ناک عالمی بیماری بن جائے جس کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔


اس تناظر میں کورونا وائرس کے اچانک اور پُراسرار پھیلاؤ کے بارے میں سائنسی حلقوں میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مہلک وائرس کائنات میں کہیں اور سے گزشتہ خزاں میں چین پر ہوئی شہابیوں کی برسات کے نتیجے میں وہاں پھیلا ہے۔


ماہرین حیران ہیں کہ اس وائرس نے صرف چین ہی کے ایک مخصوص علاقے کو اپنا مرکز کیوں بنایا ہے۔


یاد رہے گزشتہ اکتوبر میں چین کے شمال مشرقی حصے میں ایک عظیم الجثہ خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر زبردست روشنی کے ساتھ وہاں گرا تھا جس میں ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی ابتدائی شکل خوابیدہ تھی جب کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ممکن ہے کہ یہ وائرس ابھی بھی زمین کی بالائی تر فضاء میں کئی کھرب کھرب کی تعداد میں موجود ہوں۔


حیرت انگیز طور پر بعض طبی ماہرین اس واقعے کو معمول کا فطری مظہر قرار دے رے ہیں۔


ان ماہرین کے مطابق وائرس خلاء میں زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ یہ زمین تک ڈی این اے کی لڑیوں کے ذریعے بھی پہنچتے ہیں۔ خیال رہے ڈی این اے کو زمین پر حیات کی بنیاد کہا جاتا ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق اس وائرس نے زمین پر پہنچنے کے بعد اپنی شکل تبدیل کر لی ہے جس کا نتیجہ چین میں تاحال ناقابلِ علاج وباء کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔

خیال رہے کہ سائنسی طور پر اس بات کی تیزی سے تصدیق ہو رہی ہے کہ ڈی این اے کی لڑیاں زمین پر خلاء سے آتی ہیں۔