Coronavirus's next target is Africa
اہم ترین - جامِ جہاں نما - اپریل 12, 2020

کورونا وباء کا بدترین نشانہ اب افریقا ہے – ڈبلیو ایچ او

کورونا وباء کا عفریت اب نہایت تیزی سے افریقا کی جانب بڑھ رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ افریقا کے دیہی علاقوں میں کورونا وائرس کی وباء کروڑوں جانیں تلف کرسکتی ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر براعظم افریقا کے کم زور اور خستہ صحت کے نظام پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید ابتر ہو جائیں گے۔

صحت کے عالمی ادارے نے تصدیق کی ہے افریقا میں اب تک کورونا کے ساڑھے 8 ہزار کیس رجسٹر ہو چکے ہیں جب 4 سو کے قریب اموات ہوئی ہیں۔

اگرچہ اب تک دنیا میں جس بڑی تعداد میں کورونا پھیلا ہے اس کے مقابلے میں یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ وائرس اس علاقے کو اپنے چنگل میں لے سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ٹیڈروس نے خبردار کیا ہے کہ اگر افریقی ملکوں کو بر وقت بین الاقوامی مدد فراہم نہ کی گئی تو افریقا میں یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 16 افریقی ملکوں کے الگ الگ حصوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ملی ہیں۔


’خاص طور پر دیہی علاقوں کے بارے میں ہمیں زیادہ فکر ہے کیوں کہ وہاں صحت کا نظام پہلے ہی ناکافی اور کمزور ہے جیسا کہ شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقے ضروری طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔‘


تاہم عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ یورپ میں جس شدت سے اس وائرس نے حملہ کیا تھا اس میں اب جزوی کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے الگ تھلگ رہنے اور سماجی فاصلے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا اور اس طرح انہوں وائرس کو ایک دوسرے منتقل ہونے نہیں دیا۔

ٹیڈروس کے مطابق ان اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں تاہم انہوں اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ملک ان پابندیوں کو نرم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ان کا ادارہ بھی ان پابندیوں کو ختم کرنے کے حق میں ہے لیکن قبل از وقت ایسا کرنے سے اس وباء کا دوسرا ریلا سخت ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے کہا کہ پابندیوں کو ہٹانے سے قبل مغربی ملکوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وباء پر مکمل طور سے قابو پا لیا گیا ہے؛ اس کے انسداد کے لیے مناسب طبی سہولتیں موجود ہیں اور نرسنگ ہومز جیسے خصوصی مقامات میں اس وباء کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہو گئے ہیں۔

ٹیڈروس نے مزید کہا اس عالم گیر وباء کو پھیلنے سے روکنے میں دنیا کے ہر فرد کا کردار ہے اور حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں اس مرض سے بچنے کے بارے میں زیادہ زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کریں۔