Covid-19 Now Spreading Due To Young Citizens

’کوڈ انیس اب 20 تا 25 سال کے لوگ پھیلا رہے ہیں‘

عالمی ادارہ صحت نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بیس سے انچاس سال کی درمیانی عمر کے افراد بن رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے بحران کی شروعات سے لے کر اب تک عام طور سے یہی سمجھا جا رہا تھا کہ یہمہلک وائرس معمر افراد کو متاثر کرتا ہے اور انہی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کےتازہ ترین بیان میں تنبیہ کی گئی ہے کہ بیس سے لے کر انچاس سال کی عمر تک کے انسانوں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس عمرکے افراد میں مہلک بیماری کووڈ 19 کی موجودگی کے باوجود انہیں اس کا علم نہیں ہوتا کیونہ انمیں اس بیماری کی علامات یا تو ہوتی ہی نہیں یا پھر بہت ہلکی ہوتی ہیں۔ منیلا میں قائم ڈبلیو ایچاو کے ریجنل ڈائریکٹر تاکیشی کاسائی نے اس بارے میں کہا،”اس کی وجہ سے کورونا وائرس کیمنتقلی کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور سے ضعیف، کمزور اور پہلے سے بیمار افراد جوگنجان آبادی والے شہری اور پسماندہ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، انہیں سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

صورتحال سے کیسے نمٹا جائے؟

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کووڈ انیس سے بچاؤ کے لیے تاحال کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر تاکیشی کاسائی کے بقول،” ہمیں معاشروں کے کمزوراور پہلے سے بیمار طبقوں میں وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا ہوگا۔‘‘

بحران کا ایک نیا دور

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایشیا بحرالکاہل کے ممالک کورونا بحران کے ایک نئے دور سے گزر رہے ہیں۔تاکیشی کاسائی نے کہا کہ ان ملکوں کی حکومتیں کووڈ انیس سے نمٹنے کے لیے ایسی نئی تدابیراور حکمت عملی اپنا رہی ہیں جن سے عوامی زندگی اور معیشتوں کو بڑی تباہیوں اور رکاوٹوں سےکم سے کم متاثر ہونا پڑے۔ کاسائی کے بقول،” بہت سے ممالک اب وبا کے پھوٹنے کا پتا پہلے ہی لگارہے ہیں اور ان کے خلاف جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔ نئی حکمت عملی میں وائرس کے پھیلاؤ کیروک تھام کے ہدف کے تعین کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ کوشش بھی کی جا رہیہے کہ معاشروں اور معیشتوں کو دوبارہ مستحکم بنایا جا سکے۔‘‘

عوامی رویے کی اہمیت

اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او نے ایشیاء بحرالکاہل کے ممالک میں عوامی رویے میں ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ان معاشروں میں ماسک پہننا، جسمانی فاصلہ اور حفظان صحت کےاصولوں کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر تاکیشیکاسائی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عوامی رویوں کی یہ تبدیلیاں قلیل المدتی بھی ہو سکتی ہیں۔کاسائی نے اس امر کا اعتراف کیا کہ ان رویوں پر پابند رہنا آسان نہیں،”ہمیں معلوم ہے کہ ان سبکو برقرار رکھنا آسان نہیں کیونکہ بہت سے لوگ اب تھک چُکے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عوام انضوابط پر قائم رہیں اور اپنے لیے اس مثبت رویے کا ہی انتخاب کریں کیونکہ اس طرح یہ اپنی اوراپنی برادری کو تحفظ دے سکیں گے۔‘‘

ایک ایسے وقت میں جبکہ کورونا کے خلاف ویکسین کی تیاری کی کوششیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہیں، عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کیاجانا چاہیے۔ کاسائی نے کہا، ”اہم بات یہ ہے کہ وبا کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم اپنے رویوں کوبہتر بنائیں نا کہ صرف اور صرف ویکسین کی امید میں بیٹھے رہیں۔‘‘ تاکیشی کاسائی نے کہا ہےکہ عالمی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے کہ ویکسین کی دستیابی کے بعد تمام ممالک میں اس کیرسائی کو منصفانہ طریقے سے ممکن بنایا جائے۔ ” جب تک تمام ممالک محفوظ نہیں ، کوئی ایک ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔‘‘