وحشیانہ لوٹ مار کے بعد ۴۰ امریکی شہروں میں کرفیو

امریکہ میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں پرتشدد احتجاج اور لوٹ مار کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا۔ حکام نے حالات کی سنگینی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن اور دیگر کئی اہم شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

اتوار کو ایک مرتبہ پھر میناپولس، لاس اینجلس، واشنگٹن سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد احتجاج کے دوران دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح نیویارک اور میامی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے جب کہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ پارک میں مظاہرین کی موجودگی کے بعد مظاہرین سے نمٹنے والی فورس کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور نیشنل گارڈز کو مظاہروں کے مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔

حکام نے بدامنی کا مرکز بننے والے شہروں واشنگٹن، ہیوسٹن، میناپولس اور لاس اینجلس میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

واشنگٹن کے میئر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کا نفاذ رات گیارہ بجے سے صبح چھ بجے تک کے لیے ہو گا۔

مقامی رہنماؤں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاہ فام شخص جارج فلائڈ کی موت پر تشدد کے بجائے اپنے مطالبات حکام کے سامنے رکھیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق شدید احتجاج کے بعد سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں زیرِ زمین بنکر میں منتقل کر دیا تھا۔

حکام کی جانب سے پرتشدد مظاہرین سے مسلسل پرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ 25 مئی کو ایک پولیس افسر نے افریقی امریکی شخص جارج فلائڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے ہتھ کڑیاں لگائیں۔ زیرِ حراست شخص بعدازاں دم توڑ گیا تھا۔

واقعے کے خلاف امریکہ کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے جب کہ واقعے کو ​اقدامِ قتل قرار دے کر مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے۔